توانائی کا بدترین بحران اور ہماری ذمہ داری

پاکستان کم و بیش دس سال سے توانائی کے بدترین بحران کا سامنا کررہا ہے۔ رسد اور طلب کے بگڑتے ہوئے اعداد و شمار نے جہاں گھریلو صارفین کی زندگی اجیرن کررکھی ہے وہیں صنعتوں کا پہیہ جام کرکے ملکی معیشت کو دھچکا پہنچا دیا ہے۔ گھروں میں بچے، بوڑھے اور بیمار طویل لوڈشیڈنگ کا عذاب بھگت رہے ہیں اور شدید گرم موسم میں جنریٹر اور یو پی ایس کے سہارے روزمرہ مشاغل میں مصروف ہیں اور جو ان اضافی اخراجات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے وہ خدا پر توکل کئے بیٹھے ہیں۔ جو لوگ صنعتی شعبے سے وابستہ ہیں وہ پیداوار نہ ہونے کے سبب مقررہ مدت میں بین الاقوامی آرڈرز کو پورا کرنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے یا تو آرڈرمنسوخ ہوجاتے ہیں یا صنعتکار سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے کیونکہ وہ ٹیکس،ڈیوٹی، تنخواہ، توانائی کے متبادل ذرائع اور پیداواری لاگت میں توازن قائم نہیں رکھ پا تا۔ پاکستان اپنے ٹیکسٹائل کے شعبے کی کارکردگی اوراعلیٰ معیار کے باعث پوری دنیا میں مشہور ہوا کرتا تھا لیکن بجلی اور گیس کے بحران نے پاکستان سے انٹرنیشنل مارکیٹ چھین کر بھارت کی جھولی میں ڈال دی۔ ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر زیادہ تر بنگلہ دیش منتقل ہوگیا ہے باقی دبئی کی طرف منہ کر گیا جہاں نسبتا کم لاگت میں مطلوبہ مصنوعات تیار ہوجاتی ہیں۔ بعد میں وہی مصنوعات مہنگے داموں پاکستانی صارف تک پہنچتی ہیں۔ اس طرح ملکی سرمایہ کا نقصان تو ہوا ہی ساتھ میں ان ملز اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور بیروزگار ہوگئے، سامان کی ترسیل، خام مال، وغیرہ کی مد میں جونقصان ہوا وہ الگ۔ یوں ایک چین ری ایکشن کی طرح انرجی کرائسسز ہماری معیشت کو کھا رہا ہے۔

 

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق پاکستان میں اگلے پانچ سات سالوں میں توانائی کی طلب 49000 میگاواٹ سے تجاوز کر جائے گی۔ کیا پاکستان اس طلب کو پورا کرنے کے لئے تیار ہے آئیں مل کر جائزہ لیتے ہیں۔

پاکستان میں موجودہ اور مستقبل میں بننے والے آبی اور توانائی کے منصوبوں پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس بحران کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ ہم نے توانائی کے حصول اور ذرائع پر توجہ نہیں دی۔ ہم نے پانی بجلی اور توانائی کے دیگر ذرائع میں توازن نہیں رکھا۔ ہم نے 1960 کی دہائی کے بعد کوئی ڈیم کوئی منصوبہ شروع کرنے کی زحمت ہی نہیں کی حالانکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہمیں ہر دس سال میں پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے بنانے تھے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کسی حکومت نے اس پر کام تو کجا اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔ یوں لگتا ہے جیسے حکومتیں روزانہ کی بنیاد پر پلاننگ کرکے اپنے امور انجام دیتی رہیں اور مستقبل کی طرف نگاہ ہی نہیں کی۔ کسی نے سوچا ہی نہیں کہ کل کو دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہوگئی تو کیا ہوگا؟ یا بھارت نے اپنے ڈیموں کی تعداد بڑھانی شروع کی تو ہمارا کیا بنے گا؟ اور یہ ہی ہوا۔ موسمیاتی تغیرات نے ہمارا انحصار بھارت کی طرف سے چھوڑے جانے والے پانی پر بڑھادیا۔ بھارت نے ہماری غفلت اور موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے دریاؤں کا پانی روکنا شروع کردیا اور اپنے ملک میں پانی کے ذخائر بڑھانے کے لئے ڈیمز تعمیر کرنے شروع کردئیے۔ نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ہم پانی اوربجلی کے ایسے بحران کا سامنا کررہے ہیں جو ہمارا مستقبل نگلنے کو تیار بیٹھا ہے۔

 

پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان 2025 تک مکمل خشک ہوجا ئے گا۔ اب بھی ہماری آنکھیں بند ہیں اور توجہ کہیں اور ہی ہے۔

ایک استاد ہونے کے ناتے راقم کو اس وقت شدید دقت کا سامنا کرنا پڑا جب ایک دن سندھ طاس معاہدہ پڑھاتے ہوئے طالب علموں نے یہ پوچھنا شروع کیا کہ ہمارے ارباب اختیار نے کیوں واٹر ریزروائرز نہیں بنائے؟ کیوں ہمارا واٹر کمیشن سوتا رہا اور بھارت بگلیہار ڈیم اور کشن گنگا منصوبے بناتا رہا؟ کیوں ہم پورا بل دینے کے باوجود لوڈشیڈنگ بھگت رہے ہیں؟ کیوں ہمارے ملک میں کالا باغ ڈیم پر اتنی لے دے ہوتی ہے؟ اگلے کچھ سالوں میں ہم کیا کریں گے؟ ہماری کتابیں ہمیں سکھاتی ہیں کہ قدرت نے پاکستان کو قدرتی وسائل وافر مقدار میں دئیے ہیں تو پھر کیوں ہم قرضوں پر قرضے چڑھائے جاتے ہیں؟میرے پاس مستقبل کے ان معماروں کے سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ کیونکہ عقل اور تاریخ جو جواب دیتی ہے وہ طالب علم کے ذہن کو پراگندہ کرنے کے مترادف ہے جبکہ جھوٹ ویسے ہی نقصان دہ ہے۔ میں نے درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے مناسب الفاظ میں محدود پیمانے پر وقتی طور پر تو انہیں مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن آج کے بچے بہت باخبر اور با شعور ہیں وہ ملک کے سسٹم پر بھی بات کرتے ہیں اور مبینہ کرپشن کی کہانیوں پر بھی۔ انہیں لاروں اوروعدوں سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ہم سے اپنے خدشات میں گھرے مستقبل کی بازپرس کرتے ہیں جس کا جواب میرے جیسا عام آدمی کیا دے گا اور جن کو جواب دینا چاہئیے اور شاید کبھی جواب دہ ہونا پڑے بھی، وہ الگ دنیا بسائے اپنے ہی جوڑ توڑ میں مگن ہیں۔

 

 اگرچہ اس وقت بجلی بنانے کے منصوبوں پر کام ہورہا ہے لیکن وہ ضرورت کے حساب سے بہت کم ہے اوپر سے مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اکثر منصوبے مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہورہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں وقت کی رفتار سے تیز بھاگنا ہوگا کیونکہ پاکستان میں توانائی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ہماری طلب 21000 میگا واٹ کے لگ بھگ ہے جبکہ رسد 15000 میگا واٹ پر کھڑی ہے۔ اس گیپ کوپاٹنا اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔ اسی لئے لوڈ شیڈنگ کرکے طلب اور رسد میں مصنوعی توازن قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ معاملہ کب تک چل سکتا ہے۔ ہم نے رینٹل پاور پلانٹ کا تجربہ کرکے دیکھا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا ہماری نااہلی پر ہنستی ہے۔ پاکستان کی توانائی کی بڑھتی ضروریات متقاضی ہیں کہ معاملات کو سنجیدگی سے سنبھالا جائے- ہمیں پائیدار اور دیرپا حل تلاش کرنا ہوں گے۔ ہمیں بجلی کی ترسیل میں بے قاعدگیوں پر قابو پانا ہوگا اور توانائی کے ذرائع کی نا منصفانہ تقسیم اور ترتیب کو نظرمیں رکھنا ہوگا۔ پاور سیکٹر کے اربوں روپے کے گردشی قرضوں کی کہانیوں میں سے حقائق کو الگ کرنا ہوگا۔اس وقت ملک میں نگران حکومت ہے الیکشن کے بعد نئی آنے والی حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ ہی انرجی کرائسسز اور پانی ہوگا۔ خواہ کوئی تجربہ کار جماعت حکومت بنائے یا کوئی پہلی بار مسند اقتدار پر براجمان ہو، اسے پوری دانش مندی اور خلوص کے ساتھ اس معاملے کو ترجیح دینی ہوگی ۔

 

پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان کثیر المقاصد ڈیموں کے نہ بنانے سے اٹھایا ہے۔ اب بھی ہم ایسے بڑے ڈیم بنا کر آب پاشی کے مطلوبہ اہداف حاصل کرسکتے ہیں، پانی کا ذخیرہ کرکے پانی کی کمی کا تدارک کرسکتے ہیں اور بجلی بنا کر مزید خوف ناک نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے موجودہ گنتی کے چند ڈیموں کی استعداد بڑھانی ہوگی۔ ہم زیر تعمیر ڈیم جلد از جلد مکمل کریں اور جگہ جگہ چھوٹے ڈیم ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کریں اور ہنوز فائلوں میں بند منصوبوں کی گرد جھاڑ کر انہیں فوراً شروع کریں۔ اس سے پہلے کہ بھارت ہمیں مکمل قحط اور خشک سالی کی طرف دھکیل دے ہمیں پانی ذخیرہ کرنا ہوگا تاکہ ہماری زراعت جو ملک کی ستر فیصد آبادی کا ذریعہ معاش ہے، اسے بچایا جاسکے اور اسی پانی سے بجلی پیدا کرکے توانائی کی بڑھتی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

 

ہم ہائیڈرو پاور جنریشن سے مکمل استفادہ کرسکتے ہیں۔ ہم اپنے زیادہ سے زیادہ دریائوں اور کینال پر چھوٹے بڑے پلانٹ لگا کر ہائیڈرو پاور پیدا کرسکتے ہیں۔ اس وقت بہت سے دریائوں پر ہائیڈرو پاور جنریشن پلانٹ کام کررہے ہیں اور کئی زیر تکمیل ہیں لیکن ان کے بننے کی رفتار تیزی سے بڑھتی طلب کے مقابلے میں سست ہے۔ اس وقت پاکستان میں پانی سے29 فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔آنے والی حکومت کو ان منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنا کران کا دائرہ کار پورے ملک میں پہنچانا ہو گا۔ ہم ہوا سے زیادہ سے زیادہ بجلی بنا سکتے ہیں۔ جھمپیر میں ملک کا پہلا ونڈ پاور پلانٹ 2002 سے کام کررہا ہے۔ مزید منصوبے بھی بن رہے ہیں، ہم پاکستان کی 1100 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر ہوا سے توانائی حاصل کرکے حالات بہتر بنا سکتے ہیں اورنیشنل گرڈ میں بجلی شامل کرسکتے ہیں۔ ہم سورج کی توانائی کو استعمال کر کے اپنے لئے سہولت پیدا کررہے ہیں لیکن تاخیر اور سست روی دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ استعمال ہونے والی توانائی کے اس ذریعے کی راہ میں حائل ہے۔ یہ ذرائع اس وقت کل ملا کر تقریبا 6 فیصد بجلی پیدا کررہے ہیں۔ حالانکہ دیگر ممالک ہائیڈرو پاور کے ساتھ ساتھ توانائی کے حصول کا انحصار ونڈ، سولر اور نیوکلیئرر ذرائع پر بڑھا رہے ہیں۔

 

پاکستان محض 5 فیصد نیوکلیئر انرجی پر انحصار کرتا ہے۔ اور 2050 تک بتیس نیوکلیئر پاور پلانٹس لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پاکستان نے چونکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں لہٰذا پاکستان کے مطلوبہ نیوکلیئر مواد دنیا سے خریدنے پر پابندی ہے۔ ہمارا بہترین دوست چین اس سلسلے میں ہماری مدد کررہا ہے اور پرامن مقاصد کے لئے پاکستان میں موجودہ پلانٹس کے علاوہ مزید نئے نیوکلیئر پاور پلانٹس لگائے جائیں گے۔اس وقت کینوپ 1 کے مزید توسیعی منصوبے کینوپ 2اور کینوپ 3 زیر تعمیر ہیں جو بجلی کی پیداوار میں معاون ثابت ہوں گے۔ اسی طرح چشمہ نیوکلیئر پاورپلانٹس میں پانچویں پلانٹ کا اضافہ بھی اگلے سال تک متوقع ہے۔ اس طرح پاکستان سستی بجلی کے حصول کی طرف مزید چند قدم بڑھاسکے گا۔

 

پاکستان میں کوئلے اورتیل سے بھی انرجی حاصل کی جاتی ہے۔ اس وقت پاکستان تیل سے 32 فیصد توانائی حاصل کررہا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے تیل کے ذخائر 15 فیصد ضروریات پوری کرتے ہیں باقی اپنی ضرورت کا 85 فیصد تیل پاکستان درآمد کرتا ہے۔ اسی طرح گیس سے 29 فیصد توانائی کشید کی جارہی ہے- دوسرے ممالک سے بھی بجلی خریدی جارہی ہے۔ ان ملکوں میں بھارت بھی شامل ہے جس سے بجلی خریدنے کی منصوبہ بندی کاغذوں کی حد تک تو مکمل ہے۔ لیکن کیا ازلی دشمن کے ہاتھ میں اپنے ملک کی توانائی کا حصہ دے دینا مناسب ہوگا۔ جب کہ پاکستان پہلے ہی دریائوں کے پانی کی کٹوتی کی صورت میں انڈیا کی آبی جارحیت کا شکار ہے۔

 

یہ تمام تو وہ منصوبے ہیں جو بجلی پیدا کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہورہے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔ لیکن کچھ منصوبہ بندی عوامی سطح پر بھی وقت کی متقا ضی ہے۔ پاکستان میں گرمیوں کے موسم کا دورانیہ زیادہ ہے جب سورج پوری آب وتاب کے ساتھ آسمان پر موجود رہتا ہے۔ ہمیں اپنے کام کے اوقات کار تبدیل کرکے شمسی توانائی سے فائدہ اٹھانا چاہیئے جیسے تہذیب یافتہ ممالک کرتے ہیں۔ گو کہ یہ تجربہ پہلے بھی کیا جاچکا ہے لیکن اب ہمیں اپنی تساہل پسندی چھوڑنی ہوگی۔ گھڑیاں آگے نہیں کرنی نہ کریں صرف درست اور منظم  ٹائم ٹیبل کی پاسداری کریں۔ ساری دنیا میں آفس ٹائمنگ نو تا پانچ ہوتی ہے،ایک ہم جگ سے نرالے ہیں جوصبح دس گیارہ بجے دفاتر میں حاضر ہوتے ہیں اور شام چھ ساڑھے چھ بجے تک دفتروں میں موجود رہتے ہیں۔ اگر دفتری اوقات صبح نو تا شام پانچ ہوجائیں تو ہم پورے ملک میں دفاتر میں چلنے والے لائٹ، پنکھے، اے سی، کمپیوٹر، پرنٹر، ایل ای ڈی اسکرین، واٹر ڈسپنسرز، چارجرز وغیرہ کی مد میں استعمال ہونے والی کئی گنا توانائی کی بچت کرسکتے ہیں۔ سکول صبح ساڑھے سات بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک کھولے جائیں اور اسکے بعد کلاس روم، سٹاف روم، لیب اور لائبریری کی لائٹس جلتی نہ چھوڑی جائیں۔ راقم کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ چھٹی کے بعد اساتذہ کو بے مقصد سکولوں میں روکا جاتا ہے اور ٹیچرز ٹولیوں کی شکل میں سٹاف روم، کلاس روم، لائبریری میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ سکول انتظامیہ کو پابند کیا جائے کہ چھٹی کے بعد سکول بلڈنگ میں بجلی ضائع نہ ہونے پائے۔

 

اسی طرح مارکیٹیں ہر صورت میں رات نو بجے بند کی جائیں۔ تاجر برادری کو اس ضمن میں احتجاج کرنے کے بجائے قومی مفاد کو سامنے رکھنا چاہئے۔ پہلے بھی ایک بار ایسی تجویز دی گئی تھی جو تاجروں کے عدم تعاون اور احتجاج کی نظر ہوگئی تھی۔

 رمضان میں شاپنگ مالز اور سپر مارکیٹس تین چار بجے رات تک کھلی رہتی ہیں۔ ان تجارتی مراکز کے باہر فینسی لائٹیں بھی لگی رہتی ہیں جو شام سے ہی چلنا شروع کردیتی ہیں۔ کمرشل ازم، کنزیومرازم اور بزنس اپنی جگہ لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ توانائی کے اس ضیاع کا خمیازہ ہم ہی نے بھگتنا ہے۔موجودہ صورتحال میں قانون پاس کرکے تجارتی مراکز کو رات نو بجے بند کروایا جائے، قانون شکنی کی صورت میں سزا اور جرمانہ عائد کیا جائے۔ جب ہم دوسرے ممالک میں جاکر ان کے قوانین کے احترام میں رات کی اوائل گھڑیوں میں شاپنگ سے فارغ ہوسکتے ہیں تو اپنے گھر کو لوڈ شیڈنگ سے محفوظ رکھنے کے لئے کیوں نہیں نو بجے تک دکانیں اورشاپنگ مالز بند کرسکتے۔ اسی طرح ریستوران بھی گیارہ بارہ بجے رات تک کھولنے کی اجازت نہ دی جائے۔ نہ ہی شادی ہال اور شادی لان رات دس بجے کے بعد کھلے رکھے جائیں۔ ان سب کے لئے قانون سازی کی جائے اور اس پر سختی سے عمل کروایا جائے تاکہ بجلی اور گیس کی بچت ہوسکے۔

 

 ہر طرح کے برقی قمقموں اور سجاوٹ کے سامان پر پابندی عائد کی جائے، شادی بیاہ، تقریبات اور تہواروں پر سرکاری اور نجی عمارتوں کے سجانے کے خلاف قانون بنایا جائے۔ تفریحی مقامات کے اوقات کار بھی رات نو کے بعد نہیں ہونے چاہئے۔سٹریٹ لائٹس مغرب کے وقت ہی جلائی جائیں اور دن کی روشنی پھیلتے ہی بند کی جائیں ۔کئی لوگ اپنے گھروں کے گیٹ پر لگے لیمپ اور آرائشی لائٹیں سر شام جلا دیتے ہیں جو صبح تک جلتی رہتی ہیں، ان پر بھی سخت پابندی ہونی چاہئے۔ الیکٹرک کیٹل، ہیٹر، استری، چارجر کے پلگ کو نکالنے کے ساتھ ساتھ سوئچ کو بھی بند کرنے کی عادت ڈالی جائے۔ گھروں میں بے جا لائٹیں، پنکھے اور اے سی چلانے سے گریز کیا جائے۔ اس طرح ہم گھریلو صارفین بھی کئی میگاواٹ بجلی بچا کر خود کو اندھیروں سے بچا سکتے ہیں۔ بلب اور ٹیوب لائٹ کی جگہ انرجی سیورز اور ایل ای ڈی لائٹیں استعمال کی جائیں۔ مائیکرو ویو اوون کا استعمال کم کیا جائے۔ بچوں کو کئی کئی گھنٹے کمپیوٹر گیم میں الجھانے کے بجائے انہیں کھیل کود کی صحت مندانہ سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے۔ دن کے اوقات میں لائٹ جلانے کے بجائے کھڑکیوں اور دروازوں سے اندر آتی سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھائیں۔ جنریٹرز، گیس ہیٹرز اور چولہوں کو بلا ضرورت جلتا نہ چھوڑیں۔ اکثر لوگ لوڈ شیڈنگ کے وقت سے پہلے ہی جنریٹر آن کردیتے ہیں اور لائٹ آنے کے کافی دیر بعد تک جنریٹر فضول چلتے رہتے ہیں۔ ہم گیس کو سستا سمجھ کر جنریٹر اس پر چلاتے ہیں لیکن سستی یا آرام طلبی کی عادت کے باعث اس قدرتی اور قومی وسیلے کا نقصان کرجاتے ہیں۔ ہمیں اپنے طرز زندگی کو بدل کر توانائی بچا کر اس کے حصول پر سے بوجھ ہٹانا ہوگا۔ان مقاصد کے حصول کے لئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں جامع مہم چلائی جائے تاکہ لوگوں میں توانائی کی ضرورت اور بچت کے متعلق آگاہی پیدا کی جاسکے۔

 

ہمیں بطور معاشرہ اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ ہمیں ارباب اختیار کی کرپشن کے ساتھ اپنی کرپشن کا ذکر بھی کرنا ہوگا۔ ہم بجلی چوری کرکے وقتی فائدہ اٹھاکر سکون سے سوتے ہیں۔ ہمیں یہ روش ترک کرنی ہوگی، ہم اپنے گھر کی آسائش کے لئے یا کمرشل مفاد کی خاطر بجلی کی مین سپلائی کیبلز میں کنڈے ڈال کر مزے سے ائر کنڈیشنر، ڈیپ فریزر، الیکٹرک فرائر اور زیادہ بجلی کھینچنے والے آلات اور بڑی مشینری چلاتے ہیں جس کا بوجھ دوسرے صارفین پر پڑتا ہے۔ ہم گھروں میں چھپا کر کڑھائی سلائی وغیرہ کی چھوٹی مشینیں بنا پرمٹ کے چلاتے ہیں تاکہ بل اور ٹیکس رہائشی حساب سے ہی دیں اور فائدہ صنعتی پیداوار کا اٹھائیں۔ یہ ناجائز کام کرکے ہم قانون شکنی کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔ لیکن برسہا برس سے جاری اس چوری پر نہ پکڑے جانے کی وجہ سے اب ہمیں کوئی خوف نہیں رہا ۔ ہم چند ہزار خرچ کرکے لائن مین یا الیکٹریشن کے ذریعے اپنے بجلی کے میٹر سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور اسے ایڈجسٹ کروالیتے ہیں اس طرح ہم غیر قانونی طریقے سے بجلی استعمال کرتے رہتے ہیں اور جب لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے تو حکومت وقت اور حکام کو گالیاں دینا شروع کردیتے ہیں۔ ہم کیوں اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے کہ ہم نے بجلی چوری کرکے لائن لاسز مقررہ ہدف سے کئی فیصد بڑھا دئیے ہیںاس لئے یہ تکلیف اب جائز اور ہمارا خود کا لکھا ہوا مقدر ہے ۔

 

 ہماری اپنی ناعاقبت اندیشی اور کاسہ لیسی نے ہمیں اس دہری مشکل میں ڈالا ہے جہاں ہمارے دریا خشک ہورہے ہیں اور ہم ڈیم کو دیوانے کا خواب بنائے بیٹھے ہیں۔ ہم پانی سے بجلی نہ بنانے کی کئی دہائیوں پر محیط کوتاہی کا ازالہ کرنے میں جگہ جگہ کی خاک چھانتے پھر رہے ہیں۔ حالانکہ ہمارے ملک میں ہر سال سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے اور سارا پانی کھڑی فصلوں اور لائیو اسٹاک کو تباہ کرتا ہوا سمندر میں جاگرتا ہے۔ ہمارے ملک میں بجلی ناپید ہوتی جارہی ہے اور ہم متبادل ذرائع سے توانائی حاصل کرکے ملکی معیشت، خزانے اور صارف پر بوجھ بڑھائے جارہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے پاس کوئلے کے ذخائر دنیا میں چھٹے نمبر پر ہیں مگر ہم اس سے مستفید ہونے کے بجائے باہر سے مہنگے داموں تیل خرید کر انرجی بنارہے ہیں اور 2030 تک ملک کی انرجی کی پیداوار کو اسی درآمد شدہ تیل پر 50 فیصد تک لے جانے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھے ہیں۔ ابھی تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں ہیں اب فی یونٹ بجلی مہنگی کرکے اس خسارے کو پورا کیا جائے گا۔ ہمارے گیس کے ذخائر کم ہورہے ہیں جو دس پندرہ سال تک ہی ضروریات پوری کرپائیں گے۔اسی لئے پاکستان ایران گیس پائپ لائن، تاپی گیس پائپ لائن منصوبوں پر کام ہورہا ہے تاکہ گیس کی قلت سے بچا جاسکے۔

 

اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مسائل نے پاکستان کے وسائل کو مات دینی شروع کردی ہے۔ ہمیں اپنی چادر دیکھ کر پائوں پھیلانے ہوں گے۔ ہمیں آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا کیونکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کئی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ ترقی اور خوشحالی کے لئے ہمیں آبادی کے بم کو پھٹنے سے روکنا ہوگا۔ عوام میں فیملی پلاننگ کے متعلق شعور پیدا کرنا پڑے گا۔ عوام کو سمجھنا ہوگا کہ ملکی مسائل کا حل مل جل کر ہی نکلتا ہے ۔ اس کے لئے حکومت اور عوام میں تعاون اور ملکی مفاد کا جذبہ کارگر رہنا چاہئے۔ اگرحکومت کی ذمہ داری عوام کو سہولیات پہنچانے کی ہے تو عوام کی بھی یہ     ذمہ داری ہے کہ وہ سہولیات کے بے جا اور بے دریغ استعمال سے گریز کرے تاکہ مستقبل میں پیش آنے والی پریشانیوں سے بچا جا سکے۔


[email protected]

 

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP