تاریخی ورثے کا ایک نادر نمونہ

سکردو میں قائم ،حسین آبادی کا  بلتستان میوزیم،تاریخ اور تہذیب و تمدن کو محفوظ بنانے کی ایک بہترین کاوش

 

تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں قوموں کے ماضی کی تہذیب و تمدّن اور عروج و زوال کا عکس نظر آتا ہے۔ یہ انسانی زندگی کا وہ علم ہے جو ماضی کے حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر مستقبل کی راہیں متعین کرتا ہے۔ چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ علم تاریخ، انسانی زندگی کی شاہراہ پر چلنے والی وہ گاڑی ہے جو مختلف زمانوں کی تہذیبوں کے راستوں سے گزرتی ہوئی ان کی ابتداء و انتہا اور ارتقاء سے آگاہ کرتی ہے۔ اگر کسی قوم کی تاریخ گم ہو جائے تو وہ خود کو نہ صرف بے سہارا اور تنہا محسوس کرتی ہے بلکہ اس کا مستقبل بھی اس کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوتا ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ کسی قوم کی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لئے تین قسم کے آثار درکار ہوتے ہیں۔ (١) مادی آثار (تعمیرات و نوادرات) (٢) غیر مادی آثار (رسوم و روایات، عقائد، نظریات، اخلاقی اصول و ضوابط وغیرہ) اور (٣) تحریری آثار۔(مخطوطات و کتب وغیرہ)

پاکستان کے شمال میں واقع خطۂ  بلتستان درخشاں ماضی اور زرخیز تہذیب و تمدّن کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں پہلے بون مت اور بدھ مت جیسے مذاہب یکے بعد دیگرے رائج رہے، پھر چودھویں صدی عیسوی میں ایرانی مبلغین کے ہاتھوں اسلام کی شمع فروزاں ہوئی۔ دین مبین کی اشاعت و ترویج کے لئے آنے والے بہت سے صوفیائے کرام اور علمائے عظام نے یہاں تہذیب و تمدّن کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ علاوہ ازیں  بلتستان کے راجائوں کے تعلقات ایک طرف ایران کے صفوی بادشاہوں سے قائم تھے جبکہ دوسری طرف مغلیہ بادشاہوں کے ساتھ ازدواجی رشتے بھی استوار ہوئے۔ نیز تبت و لداخ، کشمیر اور یارقند و کاشغر کے ساتھ بھی تاریخی، تہذیبی اور تجارتی تعلقات تھے۔ یوں اس علاقے کی تاریخ اور تہذیب و تمدّن پر ان ملکوں اور علاقوں کے اثرات مرتب ہوتے رہے اور یہاں ایک نئی تہذیب اور نیا تمدّن وجود میں آیا۔ اگرچہ  بلتستان دنیا کے ترقی یافتہ علاقوں سے دور اور آمدورفت کی مشکلات کے باعث صدیوں پسماندگی کے دبیز پردے میں چھپا رہا تاہم اردو زبان کا مقولہ ''ضرورت ایجاد کی ماں ہے'' کے تحت یہاں کے باسی صدیوں سے اپنی ضروریات زندگی خود اپنے ہاتھوں سے پوری کرتے رہے۔ پتھر، مٹی، جانوروں کے سینگ، چمڑے، لکڑی، اون، بکری و یاک کے بال، درختوں کی چھال اور لوہے سے مختلف قسم کے اوزار، گھریلو ظروف، آلات حرب، آلات موسیقی، لباس اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء یہاں کے لوگ مقامی طور پر بناتے اور استعمال کرتے رہے۔ اس پسماندہ زمانے کے چند نوادرات دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور میں بھی یہاں کے لوگوں کی  ذہانت و فطانت کسی سے کم نہ تھی۔

قیامِ پاکستان اور  بلتستان کی آزادی کے بعد 1949ء سے بذریعہ ہوائی جہاز اور پھر ١٩٦٣ء سے سڑک کے ذریعے پاکستان کے دیگر شہروں کے ساتھ جب اس علاقے کا رابطہ ممکن ہوا تو  بلتستان کی معاشرتی، معاشی اور تمدّنی زندگی میں بے پناہ تبدیلیاں آئیں۔ یوں جدید آسائشوں کے سامان جب یہاں پہنچنے لگے تو پرانی چیزیں رفتہ رفتہ متروک ہونا شروع ہوگئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ روز مرہ استعمال کی چیزیں نوادرات میں شامل ہوتی گئیں لیکن عوامی سطح پر ان نوادرات کی اہمیت کا ادراک و شعور ہرگز نہ تھا۔ جیسا کہ مقپون راجائوں کی چودہ مہریں ،پچاس کی دہائی میں راجہ محمد علی شاہ بیدل سے اس وقت کا اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ حکیم محمد لطیف لے گیا اور  بلتستان کی تاریخ کا یہ اہم اثاثہ قعر گمنامی میں ڈوب گیا جس کا افسوس یہاں کے ہر باشعور کو ہے۔ اسی طرح ملک کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے تجارت پیشہ افراد قریہ قریہ، گائوں گائوں اور گھر گھر پلاسٹک کے لوٹوں، چھابڑوں اور مگوں کے عوض یہاں کے قیمتی نوادرات سمیٹنے میں کامیاب ہوئے۔ یوں کم و بیش 2000ء تک  بلتستان کے بہت سی بیش بہا نوادرات سمگل ہو چکے تھے۔ خپلو محل کی ملکیت شاہنامۂ فردوسی کے ایک منقش قلمی نسخے کے بارے میں  بلتستان کے اہل علم اب بھی افسوس کرتے ہیں جو معمولی قیمت پر حاصل کرکے کسی تاجر نے اسے کروڑوں روپے  میں یورپی سیاح کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اس طرح کے بہت سے اہم قلمی نسخوں اور نوادرات سے یہ علاقہ چشم زدن میں محروم ہوگیا۔ سکردو میں سب سے پہلے 2000ء میں تنظیم النصرت سندوس نے اس بات کا احساس کرتے ہوئے نوادرات جمع کرنے کا سلسلہ شروع کیا اور ایک چھوٹا سا میوزیم قائم کیا۔ یہ اس شعبے میں محض ابتدائی کام تھا لیکن مالی وسائل نہ ہونے کے باعث یہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔ محکمہ سیاحت سکردو نے بھی اس شعبے میں کام کرنے کی ابتدائی کوشش کی لیکن یہ سرکاری ادارہ بھی 'وسائل ہونے کے باوجود' آگے بڑھنے سے قاصر رہا۔ شگر میں ڈاکٹر حسن خان اماچا نے اپنے خاندانی ورثے میں آنے والی نادر اشیاء کا ایک مختصر سا میوزیم قائم کیا ہے۔ لیکن مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ  بلتستان کے نامور مؤرخ و دانشور محمد یوسف حسین آبادی نے اس علاقے کی تاریخ اور تہذیب و تمدّن کو محفوظ کرنے کے لئے علم تاریخ کے لئے درکار تینوں حصوں یعنی (١) مادی آثار (نوادرات) (٢) غیر مادی آثار (رسوم و روایات، عقائد و نظریات وغیرہ) اور (٣) تحریری آثار کو وسیع تر اندازمیں محفوظ اور مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے پہلے  بلتستان کی تاریخ لکھی، پھر قرآن مجید کا بلتی میں ترجمہ کیا اور اب  بلتستان میوزیم قائم کرکے نوادرات کا ایک بہت بڑا خزانہ جمع کیا ہے بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ صاحب موصوف نے اس شعبے میں وہ کام کیا جو سرکاری و نجی سطح پر قائم بڑے بڑے ادارے بھی نہ کر سکے۔ جناب محمدیوسف حسین آبادی نے اس میوزیم کے لئے نوادرات جمع کرنے کا آغاز14  اگست 2007ء سے کیا اور اب 25ستمبر2018ء تک  بلتستان کے طول و عرض سے چار ہزار دو سو سے زائد نوادرات جمع کر چکے ہیں۔ ان میں پتھر، مٹی، چمڑے، لکڑی، جانوروں کے سینگ، درختوں کی چھال، اون اور بکری ویاک کے بال، تانبے اور چاندی کے بنے ہوئے زیورات، آلات حر ب و ضرب، آلات کشاورزی، آلات موسیقی، گھریلو ظروف اور روایتی پوشاک سب شامل ہیں۔

 بلتستان میں پہنچنے والی مشینوں کے اولین نمونے بھی اس میوزیم کی     زیب و زینت ہیں۔ ان میں سکردو پہنچنے والا پہلا ٹائپ رائٹر، پہلا پٹرومیکس گیس، پہلا کیمرہ، پہلا گرامو فو ن باجا، پہلا ہارمونیم اور پہلا فلم پروجیکٹر وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

اس میوزیم میں مٹی، پتھر، تانبے کے مختلف سائز کے بنے ہوئے چراغ، شمع دان اور لالٹین وغیرہ کی تعداد سوسے زیادہ ہے جو مختلف ادوار میں  بلتستان کے گھروں میں روشنی فراہم کرنے کے ذرائع تھے۔

پاکستانی سکّوں میں پائی، پیسہ، ٹکہ، آنہ، دوآنہ، چار آنہ، آٹھ آنہ اور روپیہ کے اب تک کے سارے نمونے موجود ہیں جن میں ایک سوراخ والا پیسہ بھی ہے۔ نیز نانک شاہی دور کا وہ تاریخی سکّہ بھی ہے جس کے پچہتر لاکھ سکّوں کے عوض جنت نظیر کشمیر فروخت ہوا تھا۔

یہاں سماوار اور طبریل کی درجنوں اقسام دیکھنے کو ملتی ہیں جو شاہی درباروں اور نجی محفلوں میں بلتی نمکین چائے کے لئے استعمال کی جاتی رہی تھیں۔ ان سماواروں کے پیندوں پر خوبصورت بیل بوٹے منقش ہیں۔ بعض سماوار کے دستے مینڈھے کے سینگ اور چائے اُنڈیلنے کی جگہ مرغے کی چونچ کی مانند ہیں جبکہ بعض سماوار پر اشعار بھی کندہ ہیں۔ سماوار اور طبریل کے وسط میں آتش خانہ ہوتا ہے اور آگ کے انگاروں کو ہوا دینے کے لئے نیچے خوبصورت جالیاں بنی ہوتی ہیں۔ ان نوادرات میں سکردو کے آخری تاجدار راجہ احمد شاہ کی بیگم دولت خاتون کی چائے دانی ''چہ غون'' بھی شامل ہے۔

درجنوں اقسام کے صدیوں پرانے حقے  بلتستان میوزیم کی زیب و زینت ہیں۔ ان میں مقامی طور پر یاک کے سینگ سے بنے ہوئے قدیم حقے بھی ہیں اور بعد ازاں ہندوستان و پاکستان کے مختلف شہروں سے در آمد کردہ پیتل کے جاجر حقے بھی شامل ہیں۔ان میں سکردو کے راجہ احمد شاہ (1800ء تا 1940ئ) کے زیر استعمال سفید یاک کے سینگ سے بنا ہوا تاریخی حقّہ بھی ہے جس کے اوپر پیتل کی نفیس گلکاری کی ہوئی ہے۔ ان حقّوں کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ  بلتستان میں عہد وسطیٰ کے دوران تمباکو نوشی کا رجحان کس حد تک زوروں پر تھا اور لوگوں میں کس حد تک ذوق پایا جاتا تھا۔سینگ سے بنے ہوئے اس ساخت کے حقے ان علاقوں کے علاوہ کہیں اور نہیں پائے جاتے۔

زیر تبصرہ میوزیم میں لکڑی اور لوہے کے تالوں کی کئی درجن قسمیں موجود ہیں جن میں لکڑی کے تالے تو  بلتستان سے لے کر لداخ و تبت تک کے علاقے میں قدیم زمانے سے رائج رہے ہیں۔ بعد ازاں لوہے کے تالے بنانے کا رجحان آگیا۔ یہ تالے مقامی لوہار بھی تیار کرتے اور بڑے شہروں سے بھی لائے جاتے تھے۔

سنگ خارا کی بنی ہوئی مختلف النّوع ہانڈیاں''کورومبو'' اور ''کوات'' اس میوزیم کا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔ ان میں مقامی ڈش ''کاچی'' بنانے کی ایک ''کوات'' یعنی ہانڈی اتنی بڑی ہے جس میں کم از کم دو سو لوگوں کے لئے بہ یک وقت کھانا پکایا جاسکتا ہے۔ یہ غالباً راجائوں کی تقریبات اور مذہبی رسومات کے موقعوں پر استعمال میں لائی جاتی تھی۔ ان میں کئی کئی خانوں والی ہانڈیاں بھی موجود ہیں اور ان چیزوں کو دیکھ کرنہ صرف آج کا انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے بلکہ مقامی کاریگروں کے ذوق تخلیق اور محنت کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے۔

پتھر اور لکڑی سے مقامی طور پر تیار کردہ بہت سارے چوہے دان بھی اس میوزیم کا حصّہ ہیں جو میٹیرئیل اور ہیئت دونوں اعتبار سے متنوع ہیں۔ انہیں دیکھ کر بندہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بنی نوع انسان اپنے مخالف اور  نقصان دہ جانوروں کو دام فریب میں پھنسانے کے لئے کیسی کیسی تدبیریں کرتا رہا ہے۔

لکڑی کے نوادرات میں گندم و آٹا رکھنے کا بڑا صندوق'' رگوم'' جبکہ سائز میں چھوٹے صندوق ''رگوم فرو'' اور ہاٹ پاٹ کے طور پر ''رینگ سکور'' کے نمونے بھی اس میوزیم میں قابل دید ہیں۔ لکڑی کے ان صندوقوں میں سے بعض کے تالے کی جگہ تعویذ کے طور پر ''یونگ درونگ'' یعنی سواستیکا نشان کندہ ہیں۔ بدھ مت عقیدہ کے تحت صندوق کے تالے کی جگہ سواستیکا نشان کندہ کرنا چوری سے محفوظ رکھنے کے لئے مقفل ہونے کا ضامن سمجھا جاتا تھا۔

لکڑی پر خوبصورت کندہ کاری سے مزین کھرمنگ کے پانچ سو سال سے زائد قدیم تاریخی محل ''انٹھوک کھر'' کا دروازہ اس میوزیم کا قیمتی اثاثہ ہے۔ اس دروازے کی چوکھٹ پر نفیس نقش و نگار عظمت رفتہ کی یاد دلاتے ہیں جو مقامی کاریگروں کے حسنِ کارکردگی کا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ مکھن و دیگر چیزیں ڈالنے کا برتن ''کسے''،''ژھہ پور'' اور ''چڑی'' سٹور سے آٹا لانے کا برتن ''کہ چو'' نمکین چائے بلونے کا آلہ ''چہ دونگ'' کپڑے دھونے کا ٹب ''ہوکول'' کاچی ڈالنے کا لمبا ظرف ''جونگ ٹھہ لو'' اور مقامی پکوان ''اذوق'' کو منقش بنانے کے لئے استعمال میں لانے والا ''اینزے''سارے لکڑی سے تیار کردہ اس میوزیم میں دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

حقّوں کے علاوہ سینگ سے دیگر کئی چیزیں بھی بنائی جاتی تھیں جن میں اس میوزیم میں موجود یاک کے سینگ کا بگل قابل ذکر ہے۔ ماضی میں خونخوار درندوں کو بھگانے کے لئے ہر چرواہے کے ساتھ سینگ کے بگل کا ہونا لازمی تھا۔ یہ جنگی آلات کا حصّہ بھی رہا ہے اور مختلف مواقع پر لوگوں کو کسی اہم مہم سے آگاہ کرنے کا سامان بھی۔

حسین آبادی کے  بلتستان میوزیم میں مبلغین اسلام امیر کبیر سید علی ہمدانی اور سید علی طوسی کی تاریخی عصائیں بھی محفوظ ہیں۔ یہاں ایک عصا اور بھی موجود ہے جس سے یہاں کے عامل علم رمل کے ذریعے جن نکالنے کا کام لیتے تھے۔ اس عصا کے سرے پر تعویذ رکھنے کے لئے جگہ کندہ ہے۔

یہاں قدیم تبتی ترازو''سترانگ'' کی مختلف قسمیں بھی رکھی ہوئی ہیں جو  بلتستان سے لے کر لداخ و تبت تک کے وسیع و عریض خطے میں صدیوں رائج رہا تھا۔ اس کے پیمانے بھی مقامی طور پر وضع کردہ ہیں۔ اس کے علاوہ گندم، آٹا، گیری اور خشک خوبانی تولنے کا ٹوپہ (برے) بھی لکڑی اور تانبے کا بنا ہوا موجود ہے جو کسی زمانے میں ہر گھر کی ضرورت ہوتی تھی۔

آلات حرب میں تلوار، ٹوپی دار و ماشہ دار بندوقیں، پسٹل (فوتونگ تواق)، ڈھال (پھلی)، آہنی ٹوپی،(گوہرموق)، زیرہ (کھڑب) اور     دور بین وغیرہ کی بھی کئی کئی قسمیں یہاں دستیاب ہیں۔ ایک گرز (ڈوپوس) بھی ہے جسے تلوار کی طرح دو بدو جنگ میں استعمال کیا جاتا تھا۔ کمان اور تیر بھی ہیں جو کبھی اس علاقے کے جنگی ہتھیار کا اہم حصہ تھے۔

سکردو مقپون راجائوں کے باغ میں پانی لے جانے کے لئے بچھی ہوئی مٹی کی نالیاں، سنگ مرمر کی ٹی ساکٹ اور فوارے کا بنیادی حصہ بھی  بلتستان میوزیم میں دست بُردِ زمانہ سے بچا کر محفوظ کیئے ہوئے ہیں۔ صدیوں قبل اس طرح کی آب رسانی کا مضبوط نظام نہ صرف شاہانہ عظمت کی دلیل ہے بلکہ آج اس شعبے میں کام کرنے والے ماہرین کے لئے بہت بڑا چیلینج بھی ہے۔ راجہ سکردو کے باغ میں اس آبی نظام کا ذکر1847ء میں آنے والے یورپی سیاح ڈاکٹر تھامسن نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔

روایتی آلات موسیقی میں شہنائی (خلینگبو)، سرنائی (سرنہ)، ڈھول (ڈیانگ) اور ڈھولک (ڈیامن) اس میوزیم میں شامل ہیں۔ موسیقی کے ان سادہ آلات سے کئی درجن راگ اور دھنوں کے سازو آہنگ سے دلوں کو مسحور کرنا  بلتستان کے ان فنکاروں کا کمال تھا۔ ان میں ایک کرنائی (پورغو) اس میوزیم کی قیمتی شئے ہے جسے خصوصی طور پر جنگوں میں استعمال کیا جاتا تھا۔

یہ میوزیم ماضی میں استعمال ہونے والے گھوڑے کے اسباب و سامان سے بھرا ہوا ہے جن میں زین (زگہ)، رکاب (ایب چن)، چابک (تھر) نکتہ (گوتھُر) اور مہار (کھہ مُر) وغیرہ شامل ہیں یہ سامان مقامی طور پر بھی بنائے جاتے تھے اور یارقند و کاشغر یا بدخشان سے بھی لائے جاتے تھے۔

اس میوزیم میں ایک قیمتی چیز پتھر کے دروازے کا فریم ہے جو کسی زمانے میں سکردو میں قائم بدھ گومپہ (خانقاہ) میں لگا ہوا تھا۔ اس پتھر پر تبتی رسم الخط ''اگے'' میں اس وقت کے راجہ کا شکریہ ادا کیا ہوا ہے جس نے مذکورہ گومپہ تعمیر کرنے میں مدد اور سرپرستی کی تھی۔ اس کے علاوہ کئی مجسمے و مورتیاں اور بدھی آثار بھی اس میوزیم کا حصہ ہیں۔ بدھی عبادت بجا لانے کے لئے ''اوم منی پدمے ہم'' کہتے ہوئے بجائے جانے والی گھنٹی بھی یہاں دستیاب ہے۔

اس میوزیم میں اون کاتنے، دھاگہ باٹنے، پٹو بننے اور بکری کے بالوں سے بچھونے ''چھرا'' وغیرہ تیار کرنے کے آلات بھی ہیں۔ مقامی طور پر استعمال ہونے والے اونی لباس، کاشتکاری کے کام آنے والے سامان میں ہل (خشول)، جوا (سنیا شِنگ) اور اس سے متعلق دیگر چیزیں جیسے پنج انگلی   (کھہ ژے)، سہاگہ (براشینگ) اور لکڑی کا ہک (کھڑوی) وغیرہ سبھی محفوظ کر دیئے گئے ہیں۔

تبتی طریقۂ علاج کے اسباب یعنی سوراخ والی سینگی (روا)، نشتر     (مے ختر)، آگ کی چنگاری پیدا کرنے والا چقماق اور چنگاری سے آگ اٹھانے والی مخصوص بوٹی (ژہ)بھی میوزیم میں محفوظ ہیں۔سینگی کھینچنا اور نشتر لگانا فسادخون سے نجات دلانے کا علاج تھا جبکہ یرقان اور جوڑوں کے پھسلنے کی صورت میں آگ سے داغا جاتا تھا۔

مٹی کے گھڑے، لسی بلونے والی لکڑی کا مٹکہ، پتھر کے توے، لکڑی کی پرات (ٹھالو)، لکڑی کے چھاج (پھیالو) سب اس میوزیم میں دیکھنے کو ملتے ہیں جو  بلتستان کے عہد رفتہ کی یادگار ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ بلند و بالا پہاڑی حصار میں بند اس علاقے کے لوگوں کی زندگی کیسے گزرتی تھی۔

یوسف حسین آبادی کے قائم کردہ  بلتستان میوزیم میں سنگ مرمر اور دیگر عام قسم کے چودہ ایسے پتھر بھی شامل ہوگئے ہیں جو ڈوگرہ دور میں چھائونی کے ساتھ تعمیر شدہ مندر کی زینت تھے۔ جنگ آزادی کے دوران مندر کے انہدام کے بعد سارے پتھر ایک شخص اپنے گھر لے گیا تھا۔ جن کو حال ہی میں بلتی میوزیم کے لئے حاصل کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض پتھروں پر ہندی و فارسی زبان میں کچھ عبارتیں تحریر ہیں۔ یہ پتھر پورے ایک عہد کی تاریخ کا سنگ میل ہیں۔

بلتستان کی تاریخ، ثقافت اور تہذیب و تمدّن سے متعلق کوئی چیز ایسی نہیں جس نے اس میوزیم میں جگہ نہ پائی ہو۔ اس کے علاوہ یوسف حسین آبادی کی ایک میوزیم لائبریری بھی قائم ہے جس میں نایاب مخطوطات، نادر تصویریں اور گلگت  بلتستان سے متعلق ساری کتابیں موجود ہیں لیکن یہ مقالہ اس لائبریری کی تفصیلات کا متحمل نہیں۔

 گویا یوسف حسین آبادی کی گزشتہ گیارہ سالہ شبانہ روز محنت اور کثیر سرمایہ خرچ کرنے کے بعد قائم ہونے والا یہ میوزیم  بلتستان کے عہد وسطیٰ اور گزشتہ پچاس ساٹھ سال کی معاشرتی، ثقافتی اور تمدّنی زندگی کا بھرپور عکس پیش کرتا ہے۔ بلا شبہ یہ میوزیم نجی سطح پر قائم ہونے والا اہم ترین منصوبہ ہے۔

یہ میوزیم اگرچہ عام لوگوں کے لئے ابھی نہیں کھلا البتہ محمد یوسف حسین آبادی وقتاً فوقتاً اہم شخصیات کو دیکھنے کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے طول و عرض سے آنے والے متعدد اہل علم اور اہم عہدوں پر براجمان    سول و فوجی آفیسروں نے اس میوزیم کادورہ کرنے کے بعد مہمانوں کی کتاب میں تاثرات قلمبند کرتے ہوئے یوسف حسین آبادی کی خدمات کو سراہا ہے اور اسے ایک زندہ تاریخ سے تعبیر کرتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ بالخصوص  بلتستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمحمد نعیم خان نے جولائی 2018ء میں اس میوزیم کے پہلے دورے کے موقع پر جناب محمد یوسف حسین آبادی کو ان کی بے پایاں قومی خدمات کے عوضاعزازی طور پر  یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ، ثقافت، زبان اور آثار قدیمہ کے پروفیسر ایمریطس کا عہدہ عطا کیا ہے۔نیز حکومت پاکستان نے محمد یوسف حسین آبادی کو ان کی ادبی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو 2016ء میں ادب کے شعبے میں صدارتی اعزاز برائے حُسنِ کاکردگی سے بھی نوازا ہے۔

اس میوزیم کے لئے نوادرات جمع کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور ان کی نمودونمائش کے لئے سکردو شہر میں مناسب جگہ پر میوزیم کا قیام مستقبل کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جناب یوسف حسین آبادی کا ذوق و شوق، جذبۂ تجسس، انتھک محنت اور ان کی خریداری پر زرکثیر اخراجات واقعی قابل داد و تحسین ہیں۔ معلوم نہیں وہ یہ سارے تاریخی و ثقافتی اثاثے کہاں کہاں سے ڈھونڈ کے لائے ہیں۔


مضمون نگار معروف نژر نگار ہیں اور پرائڈآف پرفامنس حاصل کر چکے ہیں۔

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP