بھارت کے دفاعی بجٹ میں اضافے کے منفی اثرات

جنوبی ایشیا کے خطے میں امن،یہاں رہنے والوں کے لئے خوشحالی اور بہتر معیار زندگی کا ذمہ دار اسی خطے کی دو جوہری ریاستوں کو گردانا جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات اس پورے خطے پر بالواسطہ اور بلا واسطہ نہ صرف اثرانداز ہوتے ہیں بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی، ہم اور ہمارے مشرقی پڑوسی پر منحصر ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویدار بھارت اپنی آبادی اور رقبے کی نسبت سے عسکری میدان میں عددی لحاظ سے آگے ضرور ہے لیکن اس عددی برتری کے باوجود وہ دل، وہ جذبہ، وہ جرأت، وہ بہادری ندارد ہے جو ہمیں تو کیا کسی دور دراز کے رہنے والوں کو بھی دھمکا سکے۔ ایسی دکھاوے کی طاقت کے لئے آسان کام یہی ہے کہ ایک مقبوضہ وادی میں سات لاکھ فوج بھیج دے اور وہاں کے معصوم شہریوں پر مذہب کی بنیاد پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ نام نہاد سیکولر ہونے کے باوجود اقلیتوں پر اپنی زمین تنگ کرے۔ سرحد پار اپنے پڑوسیوں پر رات کے اندھیرے میں فائرنگ اور گولہ باری کرے اور بعض اوقات اس فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیک کا نام دے کر جعلی دھاک بٹھانے کی کوشش کرے۔ توکبھی اپنے پڑوسی ملک کے سفارتکاروں کو، جنہیں، دنیا کے مانے ہوئے قانون کے تحت تحفظ حاصل ہوتا ہے، بچگانہ حرکتوں کے ذریعے ہراساں کرے۔ قانونی سفری دستاویزات اور اجازت نامے کے حامل پاکستانیوں کو ہتک آمیز انداز میں ڈی پورٹ کرنے جیسی یہ تمام مکاریاں اور چھوٹی حرکتیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔لڑنے کے جذبے سے عاری یہ قوم پھر بھی خطے میں اسلحے کی دوڑ جاری رکھے ہوئے ہے۔بھارت کی جانب سے رواں مالی سال کے لئے دفاعی بجٹ میں آٹھ فیصد اضافہ کیا گیا تھا اور ان کا دفاعی بجٹ باون اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی ریکارڈ حد کو چھو گیا جس کے بعد دنیا بھر میں انڈیا سب سے زیادہ دفاعی بجٹ مختص کرنے والا پانچواں ملک بن گیا۔ اس نے برطانیہ کا ریکارڈ بھی توڑ دیا جس کا دفاعی بجٹ باون اعشایہ پانچ ارب ڈالر سے کم ہو کر  پچاس اعشاریہ سات ارب ڈالر پر آ گیا تھا۔پاکستان کے مقابلے میں انڈیا کا دفاعی بجٹ چھ گنا زیادہ ہے۔ پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں انیس اعشاریہ چھ فیصد اضافہ کیا ہے۔یہ اضافہ ایک سو اسی ارب روپے کا ہے جس کے بعد منظور کئے جانے والے سالانہ دفاعی بجٹ کا حجم تقریباً گیارہ بلین ڈالر بنتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق علاقے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کو دیکھا جائے توپورے خطے میں یہ بجٹ انتہائی کم ہے۔کیونکہ مشرقی سرحدوں پر بھارتی افواج کی غیر ضروری موجودگی ان کی جانب سے بلا شتعال فائرنگ، ترقی یافتہ ممالک سے اسلحے خریداری کے معاہدے، پاکستان کو جنگ کی گیدڑ بھبکیاں، پاکستان میں بلوچستان، قبائلی علاقوں اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے شواہد (جو کہ ڈوزیئر کی صورت میں اقوام متحدہ کو بھی فراہم کئے جا چکے ہیں) ایسے عوامل ہیں جوہماری عسکری طاقت کو بڑھانے کا جواز ہیں جس کے لئے ہر سال دفاعی بجٹ میں اضافہ بھی نا گزیر ہو جاتا ہے کہ کسی بزدل کو  اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دینا بھی بزدلی ہی شمار ہوتا ہے۔

 

بھارت کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافہ اور شروع کی گئی اسلحے کی یہ  دوڑ اگر اس تناظر میں دیکھی جائے کہ بھارت میں غربت کا تناسب خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد غربت کی سطح سے نیچے ہی نہیں بلکہ بہت نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے ملک کی جانب سے دفاعی بجٹ کو بڑھا کر اسلحے کی دوڑ، نہ تو ہندوستان کے رہنے والوں کے لئے سود مند ہے اور نہ ہی خطے کے امن کے لئے۔ یہ درست پالیسی ہے کہ جنگ کی تیاری ہی امن کا پیش خیمہ ہوتی ہے لیکن جس عوام کی حفاظت کو بنیاد بنا کر اسلحہ اکٹھے کرنے کا جنون اپنایا گیا ہو، اس عوام کو بھوکا اور ننگا رکھنا انہیں صحت،تعلیم،تربیت،  روزگار، خوراک، صاف پانی اور سر چھپانے کے لئے رہائش جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنا کسی طور مجموعی دانش کی پرکھ پہ پورا نہیں اترتا۔ پاکستان کی مجبوری ہے کہ اسے کم از کم جوابی کارروائی کے لئے اس دوڑ میں شامل ہونا پڑتا ہے۔ اپنے دفاع کے لئے بھی اتنی ہی لاگت لگانی پڑتی ہے جتنی کہ پڑوس میں ہوتی ہے، طاقت کا توازن برقرار رکھنے کا یہ واحد ذریعہ ہے۔

 

اس دوڑ کو تاریخی تناظر میں دیکھیں تو بھارت ہمیشہ ہی سے نام نہاد جنگ کے جنون میںمبتلا نظر آئے گا۔ پہل کرتے  ہیں پھر منہ کی کھاتے ہیں۔ پھر بھی باز نہیں آتے۔پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت تھی لیکن ایٹمی دھماکوں کی نوبت تبھی آئی جب انڈیا نے پوکھران میں ایٹمی دھماکے کئے اور ہم نے چاغی میں جواب دیا۔ کیوں نہ کرتے صلاحیت موجود ہو تو پھر زور آور کو  اپنا زور بازو نہ دکھانا بے وقوفی شمار ہوتا ہے۔ بس یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے مابین لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پربھارتی افواج کی غیر ضروری موجودگی اور ہمہ وقت سرحد پار سے شرارتوں کا خطرہ، ویزوں کے اجراء کے لئے باہمی طے کردہ شرائط کے باوجود ویزوں سے انکار، دونوں ممالک کی جیلوں میں موجود قیدی،مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، کشمیریوں پرمذہب کے نام پر ظلم و ستم، ایک دوسرے پر دہشتگردی کے الزامات،دو طرفہ معاملات پر عدم تعاون اور اشتعال انگیز بیان بازی وہ بنیادی محرکات ہیں جن سے ہتھیاروں کی دوڑ جنم لیتی ہے اور دفاعی بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔

 

یہ الگ بات کہ دونوں جانب سے ہمیشہ تعلقات کو نارمل اور برابری کی سطح پر لانے کی بات کی جاتی ہے۔ دو طرفہ دوستی کی خواہش بھی کی جاتی ہے لیکن ''بغل میں چھری اور منہ میں رام رام'' کے مصداق انڈیا نے کبھی بھی پاکستان کی مثبت کوششوں کا مثبت جواب نہیں دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات نارمل سطح پر لانے کے لئے ہر اقدام کو سبو تاژ کیا۔ پاکستان  کی جانب سے دوستی پر مبنی اقدامات بھی بھارت کی چالبازیوں کی نذر ہوئے۔دس سال پہلے ایک بھارتی قیدی کشمیر سنگھ جسے جاسوس ہونے کی بنا پر فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی،  اس قیدی کو خالص انسانی بنیادوں پر رہائی دی گئی۔ اس وقت کے صدر مملکت نے رعایت دی اور کشمیر سنگھ کو  تحفے تحائف اور پھولوں کے گجروں میں لاد کر نیک خواہشات کے ساتھ انڈیا بھیجا گیا۔ پینتیس سال تک وہ پاکستان کی جیل میں رہا، ہمیشہ ہی معصومیت کا راگ الاپتا رہا  لیکن عرصۂ دراز بعد جوںہی اپنی سر زمین پر قدم رکھا تو فوری طور پر پاکستان کے انسانی ہمدردی کے اقدامات پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیا کہ میں تو پاکستان میں جاسوس تھا اور ایک عرصہ تک میں پاکستانیوں سے اپنی معصومیت کاجھوٹ بولتا رہا۔ بھارتی مداخلت، ہٹ دھرمی اور برے عزائم کی یہ صرف ایک مثال ہے جبکہ اسی سلسلے میں تازہ ترین مثال کلبھوشن یادیو کی ہے جو نہ صرف جاسوسی کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا بلکہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتیں کرانے کا اعتراف بھی کر لیا۔ اس کے ہاتھ معصوم پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہیں۔ فوجی عدالت اسے سزائے موت سنا چکی ہے لیکن بھارت اپنے اس دہشت گرد کو بھی عالمی عدالت انصاف میں معصوم ثابت کرنے پر تلا ہے۔ یہ ہے وہ رویہ جس کے باعث امن کے حصول میں مشکلات حائل ہیں۔


مضمون نگار ایک نجی ٹی ۔وی چینل سے وابستہ ہیں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگرام کے میزبان ہیں۔

kamran.khan@neonetwork.pk

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP