بارسلوناکنارے شام

سپین کی ہائی ویز، فرانس سے زیادہ کشادہ پائیں۔ فرانس نزاکت میں بے مثال لگا اور سپین وسعت میں۔ سرزمین سے لے کر سرزمین پر آباد لوگوں کے دلوں تک وسعت۔ اور اسی طرح انفرادی اور قومی تعمیرات تک۔ انسانی دلوں میں وسعت کا پہلو، فرانس کے یورپین لوگوں سے مختلف اور مشرقی لوگوں کے قریب محسوس کیا۔ مغرب کے صحارا کی طرح وسیع۔ یہ صفت یقینا انہیں جبرالٹر کے پار صحارا کے صحرائی لوگوں کے سبب ملی ہوگی۔ اُن کی ہم عصر تہذیب وتمدن اور رہن سہن تک وسعت، کھانے کے دسترخوان سے ملنساری تک۔ لاتعداد یورپی اقدار کے ساتھ ساتھ جبرالٹر پار کے مشرقی انداز کی آمیزش۔

 

ہائی ویز پر تیزرفتاری سے دوڑتی میری ہمسفر کیتھرین کی سرخ کار۔ کبھی کبھی غنودگی ہونے لگتی تو کیتھرین فرانسیسی لہجے میں پنجابی میں کہتی، ''اٹھ اوئے'' (اٹھو)۔ اس نے متعدد پنجابی الفاظ اپنے لاہور کے سفروں میں سیکھ لئے تھے۔ ہمارے ایک دوست سعید فارانی نے تو پوری تحقیق سے سیکڑوں پنجابی الفاظ فرانسیسی زبان میں تلاش کررکھے ہیں۔

 

دیہات، قصبے اور چند چھوٹے شہروں کو ہم نے ''نان سٹاپ'' بس کی طرح عبور کیا۔ چوںکہ ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آج بارسلونا میں رات کہاں گزارنی ہے، بس یہ طے تھا کہ سمندر کنارے کسی کیمپنگ کی جگہ۔ ہمارے پاس دو خیمے تھے، ایک میرا اور دوسرا کیتھرین کا۔ زنانہ، مردانہ خیمے۔ ہمیں جلدسے جلد کسی کیمپنگ سائٹ پہنچنا تھا تاکہ اپنا اپنا خیمہ تان کر سوجائیں اور طویل سفر کی تھکن اترے۔ یورپ میں کیمپنگ سائٹس کو تلاش کرنا بہت آسان ہے۔ سفری کتاب نہ بھی ہوتو سڑکوں پر کیمپنگ سائٹس کے بورڈ آویزاں ہوتے ہیں۔ آپ ان بورڈز کو فالو کرتے جائیں اور آگے بڑھتے جائیں۔ ہم سفر کو ساحل سمندر کے قریب قیام کا اس لئے بھی شوق تھا کہ یورپی لوگ گرمیوں میں اپنی تعطیلات سمندروں کے ساحلوں پر ہی گزارتے ہیں۔ بارسلونا شہر میں داخل ہوئے تو روشنیوں کی بہتات آبادی کی کثرت کا اظہار کررہی تھی۔ بارسلونا، یورپ کی تاریخ میں نمایاں ترین شہرہے۔ دستکاری، آرٹ، فیشن اور عالمی شہرت یافتہ ہسپانوی کھانوں کے ریستوران اور طویل ساحل سمندر اس شہر کا بنیادی حُسن ہیں اور وجہ ٔ شہرت بھی ہیں۔

 

کیتھرین سڑک کنارے آویزاں بورڈوں کی رہنمائی میں ساحل سمندر کی طرف گاڑی دوڑاتی جا رہی تھی۔ بائی پاس روڈ سے ہم نے شہر کو پیچھے چھوڑنا شروع کیا تاکہ سمندر کنارے اپنی قیام گاہ کو تلاش کیا جاسکے۔ بارسلونا کی کیمپنگ سائٹس شہر سے کافی دور واقع ہیں۔ سڑک کنارے لگے بورڈوں سے ہم ایک کیمپنگ سائٹ پر پہنچے، اب سفر کی رہبری کیتھرین کے ذمے تھی۔ راستے اور کیمپنگ کا فیصلہ اُسی کے ہاتھوں میں تھا۔ سفر میں دس لوگ ہوں، سو ہوں یا دو، میرا تجربہ ہے کہ میرِ کارواں ایک ہو تو بہتر ہوتا ہے۔

 

کیمپنگ سائٹ کیا تھی، پورا شہر آباد تھا۔ لکڑی کے بنے کمرے، کاروان پارک کرکے رہنے والا حصہ، بڑے خیمے لگا کر قیام کرنے کے اے، بی اور سی کلاس حصے۔ چھوٹی بڑی سڑکیں، دکانیں اور کیفے۔ بچوں اور بڑوں کے کھیلنے کے پارک اور سب سے آخر میں ہم جیسے پرولتاری لوگوں کی خیمہ زنی کرنے کا مقام۔ یقینا معیار قیمت کے مطابق ہی ہونا چاہئے تھا۔ مگر میرے جیسے تیسری دنیا کے باشندے نے کیمپنگ کا یہ حصہ بھی لاہور کے لارنس گارڈن سے زیادہ صاف اور نفیس پایا۔

 

کیمپنگ سائٹ میں داخل ہوتے ہی کائونٹر پر اپنی رجسٹریشن کروائی۔ کوئی ایڈوانس نہیں۔ استقبالیہ کلرک ہسپانوی لڑکی نے ہمارے ہاتھوں میں کیمپنگ سائٹ کا نقشہ تھما دیا۔ نقشے پر واش رومز اور باتھ رومز پر سرخ نشانات لگا دئیے اور ساتھ ہی پورے ہفتے میں کیمپنگ میں 'برپا' ہونے والی تقریبات سے بھی آگاہ کردیا۔ ہرروز شام کو جادو کا کھیل اور کھلے آسمان تلے رات کو سینما۔ جواخانہ، بار، کیفے اور نائٹ کلب کے اوقاتِ کار، سب زبانی بتائے اور نقشے پر بھی رہنمائی کردی۔ کیمپنگ کے پرولتاری حصے تک پہنچنے میں گاڑی کو اتنا ہی وقت لگا جتنا گلبرگ کی مین مارکیٹ سے لبرٹی تک۔ مگر خدا ہم جیسے غریبوں کا خاص خیال رکھتا ہے۔ ہماری کیمپنگ کی جگہ کے بالکل سامنے ساحلِ سمندر تھا۔ قدرت اور انسانوں کے نظارے ہی نظارے۔زیادہ تر سیاح فرانسیسی تھے۔ اپنی فیملیوں کے ہمراہ، سیاحت کرتے ہوئے جو سب سے دلچسپ، پُرلطف اور منفرد وقت ہوتا ہے کہ جب آپ کسی ایسی جگہ گھوم رہے ہوں اور وہاں دنیا بھر سے آئے بھانت بھانت کے لوگ اپنی زبانوں میں بات کررہے ہوتے ہیں۔ یعنی ایک ہی مقام پر بہ یک وقت کئی زبانوں کو سننے کا تجربہ، مجھے جہاں گردی کے علاوہ کہیں نہیں ہوا۔ کان میں ایک آواز چینی تو دوسری فرانسیسی اور تیسری عربی یا انگریزی ، ایسے میں اگر اردو یا پنجابی آواز کان میں پڑ جائے تو کان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کیمپنگ میں زیادہ تر فرانسیسی، اطالوی، انگریزی، ہسپانوی اور عربی زبانیں نمایاں طور پر سماعت کو چھو رہی تھیں۔

 

گاڑی پارک کی۔ اب خیمہ زنی کا مجھے خاصا تجربہ ہوچکا تھا۔ جب سے پیرس سے نکلے تھے، اب تک ہماری کیمپنگ میں یہ چھٹی یا ساتویں رات تھی۔ خیمہ زنی بھی ایک فن اور تربیت ہے کہ کیسے اپنا گھر آسمان تلے خود بنایا جائے۔ اردو میں پیش خیمہ کا جو لفظ ہم استعمال کرتے ہیں، اس کا تعلق جنگ سے ہے۔ حملہ آور سپہ سالار اور بادشاہ حملہ کرنے سے پہلے جن لوگوں کو اپنے آگے بھیجتے تھے تاکہ موسم، ملک اور دشمن کے جنگی انتظامات کی سُو(کھوج) لگائی جاسکے۔ پیش خیمہ۔ یعنی پیش قدمی کرنے والوں سے پہلے۔ مگر جہاں گردی میں پیش خیمہ نہیں بلکہ پس خیمہ لگا یعنی پہنچنے کے بعد خیمہ۔

 

بحیرۂ روم کنارے ساحلِ سمندر پر رات کو اُچھلتی لہریں  ایک خاص موسیقی کو جنم دے رہی تھیں۔ لہروں کے اچھلنے سے بنے گیت نے لوری کا کام کیا۔ گھاس پر تانے خیمے میں نیند، لاہور کی کسی جدید بستی کے بیڈروم سے کہیں زیادہ گہری آغوش میں لے گئی۔

 

صبح ہوئی تو سورج کی کرنیں بحیرۂ روم کو جس طرح بے نقاب کررہی تھیں اور اس کی وسعت کو ظاہرکررہی تھیں، میرے جیسے پنجاب کے میدانی علاقوں میں جنم لینے والے کے لئے اس کی وسعت سے مرعوب ہونے کو کافی تھیں۔ ریتلا ساحل، یورپ میں قدرت کی اہم ترین نعمت سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے یورپ کے بحیرۂ روم کنارے ملکوں کے ساحل یورپ کی سیاحت کی صنعت میں اہم ترین شمارکئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں تعطیلات گھروں میں بند ہوکر گزاری جاتی ہیں جبکہ سرد ممالک کے لوگ ریتلے ساحل سمندروں کی جانب یوں جاتے ہیں کہ لگتا ہے کوئی بڑی انسانی نقل مکانی ہورہی ہے۔مرد، خواتین، بچے، جوان۔ یورپ کی طرح ترکی بھی اُن ممالک میں سرفہرست ہے جہاں لوگ گرمیوں میں تعطیلات  منانے کی خاطر سمندروں کی طرف نقل مکانی کرجاتے ہیں۔

 

بارسلونا، بحیرۂ روم کنارے اپنی ایک اہمیت رکھتا ہے۔ 1992ء میں یہاں عالمی اولمپکس منعقد ہوئے۔ مگر ایک پاکستانی جس کی چڑھتی جوانی میں کرکٹ کے ساتھ ساتھ ہاکی ایک مقبول کھیل تھا، اس کے نزدیک بارسلونا، ہاکی کے حوالے سے اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ ورلڈکپ ہاکی کا آغاز 1971ء سے کیا گیا۔ اسے پاکستان میں منعقد ہونا تھا لیکن مشرقی پاکستان کے حالات کی خرابی کے سبب اس کا انعقاد بارسلونا میں کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اس ورلڈ کپ کے بانیوں میں شمار ہوتا ہے جس میں سابق ایئرمارشل نور خان کا بنیادی کردار تھا۔ ہاکی ورلڈ کپ، پاکستان کے بشیر مجید نے ڈیزائن کیا اور پاکستان آرمی نے ہاکی ورلڈکپ تیار کیا۔ 27مارچ 1971ء کو پاکستان کے بیلجیم میں متعین سفیر نے یہ ورلڈکپ، فیڈریشن آف انٹرنیشنل ہاکی کے صدر رینے فرینک کو پیش کیا اور پھر اس ورلڈ کپ کو پاکستان کے ہونہار کھلاڑیوں نے بارسلونا کے میدان میں ٹیم کے کپتان خالد محمود کی قیادت میں جیت کر پاکستان کا نام ہاکی کی دنیا میں سربلند کردیا۔ میرا بارسلونا، یہیں سے شروع ہوتا ہے۔

 

ساحل سمندر کنارے اپنے خیمے میں بیدار ہوتے ہی میرے ذہن کو اس خیال نے عجب کیفیت میں مبتلا کردیا۔ جبل الطارق، غرناطہ، اندلس  اور بارسلونا... میں ہسپانیہ میں ہوں۔ یہ تصور ہی عجیب تھا۔ قرونِ اولیٰ کی تاریخ سے ہمعصر تاریخ تک۔ جبکہ میری ہمسفر کے ذہن پر بُل فائٹنگ سوار تھی۔ وہ ہر سال اپنی فرانسیسی دوستوں کے ہمراہ بُل فائٹنگ دیکھنے سپین آتی تھی۔

 

سمندر کنارے ساحل خاموش تھا۔ کیمپنگ سائٹ میں لوگ ابھی صبح کے ناشتے کے لئے رواں دواں تھے، مگر کچھ دیر بعد یہاں ریت کنارے اور پانی کے اندر دنیا جہان سے آئے سیاحوں نے جو اُچھل کود کرنا تھی، یہ وہی جہاںگرد جانتا ہے جو بحیرۂ روم سے کریبین کے ساحلوں تک خاک چھانتے چھانتے ریت اور پانی کے کھیل سے آشنا ہو جاتا ہے۔

 

میری ہمسفر کے لئے سورج کی کرنیں اور موسم گرما رومانوی موسم تھا اور میرے جیسے گرم علاقوں کے باسی کے لئے بارش۔ بارش یورپ والوں کے رومانوی موڈ کو غارت کردیتی ہے۔ ہمارے شاعروں اور ادیبوں کے لئے برسات رومانوی جبکہ یورپ کے شاعروں اور ادیبوں کے لئے سورج اور اس کی کرنیں۔

 

کیتھرین بے چین تھی کہ ناشتہ کرکے پہلے ساحل سمندر کا لطف اٹھایا جائے۔ وہ کسی مچھلی کی طرح تیراکی کرتی تھی اور میں پنجاب کا باسی جسے دیہات میں پانی کے چھپڑ دیکھ کرہی خوف آنے لگتا ہے، اور کہاں یہ بحیرۂ روم... میرے لئے سمندر میں نہانے کا تصور ہی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ کھالوں، نہروں اور دریا کنارے نہانے والی قوم سے میرا تعلق ہے۔ کراچی میں سمندر کنارے ہمارے لوگ اپنی شلواروں کو گوڈوں(گھٹنوں) تک چڑھا کر سمندر کے پانی کوچھو لینے سے ہی لطف اٹھاتے ہیں۔

 

کیمپنگ کا شہر، کیا ہی بستی ہوتی ہے! موسم گرما میں آباد اور سرما میں یقینا

Ghost City

لگتی ہوں گی یہ کیمپنگ سائٹس۔ سیکڑوں نہیں، ہزاروں لوگ تھے۔ ناشتے کے بعد میری ہمسفر بحیرۂ روم کے کناروں پر ریت پر چلتے چلتے پانی کو چھُونے لگی، ہنگامہ برپا تھا، بچوں، خواتین اور مردوں کی آوازیں اور اچھلتی لہروں کا شور۔ میدانوں میں جنم لینے والا پنجابی حیران تھا کہ ان عورتوں اور بچوں کو سمندر کی وسعت اور پانی سے خوف نہیں آرہا۔ ہمسفر ریت پر دوڑتی دوڑتی یکدم پانی کے اندر داخل ہوگئی اور پھر ایک لمبا غوطہ لگا اور یکایک پانی کی تہہ میں گم ہوگئی۔

بارسلونا کے سمندری ساحل پر میلہ لگا تھا۔ جوں جوں سورج ڈھلنے لگا، توں توں لوگوں کا ہجوم سکڑنے لگا۔

کیتھرین نے پوچھا، ''او تاریخ کے مسافر، جہاںگرد۔ اب شام ڈھلے کوئی منصوبہ ہے خاک چھاننے کا؟''

''ہاں ہاں، الحمبرا سٹریٹ۔''

یہ الحمبرا اُن کا انارکلی بازار ہے۔ کبھی لاہور نامکمل ہوتا تھا، انارکلی کے بغیر۔ جو بھی لاہور آتا، قلعہ، شاہی مسجد، شالامار باغ اور مال روڈ کے بعد انارکلی دیکھنا لازمی تھا۔ اسی طرح  الحمبرا دیکھے بغیر بارسلونا نامکمل۔ سیاحوں کے غول اور مقامی لوگ۔ اگر یہ کہیں کہ یہ گلی عالمی گلی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ شان دار مال سے بھری دکانیں اور دکانوں کے آگے مختلف سٹنٹ کرتے ہسپانوی نوجوان اور گلیوں کے گلوکار وموسیقار۔ اور الحمبرا سٹریٹ کے اندر سے نکلتی مزید گلیاں، جس کسی گلی میں نکل جائو آگے ایک پُرسکون چوک ملے گا۔ اور اس چوک کے گرداگرد کوئی شاہی محل۔ ایسے چوک ہمارے ہاں بھی ایک شہر میں موجود ہیں۔ مگر اُن کے گرد سات سات مرلے کے تین تین منزلہ مکان ہیں۔ اور زیادہ مکانات 1940ء میں تعمیر ہوئے۔ سرگودھا کے بلاکس جو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنے، سرگودھا چوںکہ شہری منصوبہ بندی کے تحت آباد ہوا تھا، اس لئے ابتدائی تئیس بلاکس درحقیقت اسی ہسپانوی طرزِتعمیر سے متاثر ہوکر بنائے گئے تھے۔ میرا جنم بھی سرگودھا کے ایسے ہی ایک بلاک میں ہوا تھا۔

الحمبرا سٹریٹ میں انسانوں کا ایک اور میلہ دیکھا۔ ساحلی میلے کے بعد۔ یہاں لاتعداد دکانیں سوینئرز کی تھیں۔ مختلف ہسپانوی سیاحتی تحائف۔ سپین کی تاریخی عمارات کی تصاویر سے سجے چائے پینے والے مگ، چابیوں کے چھلے اور دیگر مصنوعات۔ سب سے زیادہ ٹی شرٹس فروخت ہورہی تھیں اور کچھ پر بُل فائٹنگ کے مناظر پرنٹ تھے۔

میں نے کیتھرین سے کہا، ''دیکھو، تحائف ہسپانوی، بیچنے والے پاکستانی۔''

زیادہ تر پاکستانی نوجوان ٹی شرٹس بیچ رہے تھے۔ ایک دکان پر رک کر میری ہمسفر نے ٹی شرٹس دیکھنا شروع کیں۔ وہ اُن کے معیار کو دیکھ کرعش عش کرنے لگی۔ ''فرخ، تم نے دیکھی کتنی معیاری ہیں یہ ٹی شرٹس۔ ''

میں نے فوراً جواب دیا، ''ہاں بہت معیاری ہیں یہ پاکستانی ٹی شرٹس۔''

کہنے لگی، ''تمہیں تو ہر چیز میں پاکستان نظر آتا ہے۔ بھلا سپین کے ان سیاحتی تحائف کا پاکستان سے کیا تعلق؟''

''کیتھرین، تم جہاں گرد نہیں، پوچھ کر دیکھ لو۔''

''نہیں نہیں، یہ ممکن ہی نہیں۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہسپانوی تحائف پاکستانی ہوں۔''

''ہاں، بالکل ایسا ہی ہے۔ بلکہ پیرس میں مومارتر کے گرجے کے گرد ہزاروں سیاحوں کو بکنے والی اور یہاں الحمبرا سٹریٹ میں سیاحتی تحائف کے طورپر بکنے والی یہ تمام ٹی شرٹس پاکستان میں تیار ہوکر یہاں آتی ہیں۔ ''

اس نے پورے غرور سے کہا، ''لگی شرط؟''

''ہاں منظور ہے۔ اگر تم شرط ہار گئیں تو رات کا کھانا تمہارے ذمے۔''

''ہاں، منظور ہے۔''

چند دکانیں چھوڑ کر ایک بہت بڑی دکان میں داخل ہوئے، الماریوں سے ہینگروں تک مختلف اقسام کی ہسپانیہ کی عمارات اور مقامات کی تصاویر والی ٹی شرٹس لدی تھیں اور ملک ملک کا سیاح بھائو تائو کررہا تھا، اپنے پیاروں کے لئے الحمبرا سٹریٹ سے ٹی شرٹ کا تحفہ خریدنے کے لئے۔ میں نے ایک دو کو ہاتھ لگاکر پنجابی میں قیمت پوچھی اور ساتھ ہی یہ بھی پوچھا کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟

 ''گجرات کا جناب۔''اس نوجوان نے خوشی سے جواب دیا۔اس نے پوچھا، ''آپ لندن سے یہاں سیاحت کرنے آئے ہیں؟'' جواب دیتے ہوئے اس کی نظر میری ہمسفر پر تھی جس سے وہ اپنے بیان کی خود ہی تصدیق کررہا تھا۔

''نہیں، میں لاہور سے آیا ہوں۔ ''

اس نوجوان نے کہا، ''پاکستانی سیاحت کرنے والے زیادہ تر لندن سے یہاں آتے ہیں۔ پہلی مرتبہ ملا ہوں پاکستان ہی سے آئے کسی سیاح سے۔'' ایک دو سوالات کے بعد میں نے پوچھا، ''کاروبار کیسا چل رہا ہے؟''

'' اللہ کا بڑا کرم ہے۔ خالی ہاتھ آیا تھا۔ اب تین ایسی ہی دکانیں ہیں اور چاروں بھائی سپین لے آیا ہوں۔ اور ماں باپ کو بھی۔ کہ اس طرح اُن کی خدمت کرنے کا موقع ملے گا۔ خدا کا جتنا شکر ادا کروں، کم ہے۔ ''

''اور یہ مال کیسے منگواتے ہو پاکستان سے؟''میرا سوال تھا۔

''اس کے لئے ایک بھائی نے پاکستان میں دفتر بنا لیا ہے۔ وہ مجھے بھی ایکسپورٹ کرتا ہے اور مزید دکانوں کے آرڈر بھی لے لیتا ہوںبس مجھے سپین کے مختلف ڈیزائن بنوانے ہوتے ہیں۔ وہ بھی میں ہی طے کرتا ہوں۔''

جب کیتھرین نے یہ ''داستانِ صنعت وتجارت'' سنی تو اس کا یورپی غرور منوں مٹی تلے دفن ہوچکا تھا۔ میں اپنے تنے سر کے ساتھ دکان سے باہر نکلا اور اسے کہنے لگا، ''جب لنکاشائر میں ابھی ٹیکسٹائل کا آغاز بھی نہیں ہو اتھا، تب بھی ہماری ٹیکسٹائل یورپ سے آگے تھی۔ پہلے اسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے لوٹا اور پھر خوب فروخت کیا، اب اسے گلوبلائزیشن نے لوٹنا شروع کردیا ہے۔ ''

میری ہمسفر شرط بری طرح ہارچکی تھی۔ مگر اس کے اندر ایک طاقتور سوشلسٹ بھی تو موجود تھا، جس نے اُس کو ایک ملک کی سرحد سے نکال کر انٹرنیشنلسٹ ہونے کا درس دیا تھا۔ اپنے آپ کو سارے جہان کا شہری ہونے کا فلسفہ۔ اب وہ مجھ سے زیادہ پاکستانیوں کی کارکردگی اور سرمایہ دار دنیا کی لوٹ کھسوٹ پر تقریر جھاڑنے لگی۔ سوشلسٹ کیتھرین نے کہا، ''پیرس کی ہاری یہ ہمسفر اپنی شرط پوری کرنے کے لئے آج شہر کے بڑے ریستوران سے کھانے کی میزبان ہوگی۔ پرولتاری کھانا نہیں، بورژوا کھانا۔ روکھی سوکھی نہیں، بہت اعلیٰ اور قیمتی ڈش۔ شاید اس طرح تیسری دنیا کے استحصال کا کچھ ازالہ کرسکوں۔''

سورج ڈھل چکا تھا،اور بھوک چمکنے لگی تھی۔

لاٹیورنا ڈیل کلینک، یہ ایک ریستوران کا نام ہے، کسی کلینک کا نہیں۔ بارسلونا شہر کا ایک معروف ریستوران، جہان کیتالونیہ کی مشہور ڈشز دستیاب ہوتی ہیں۔ اندر داخل ہوئے تو ایک میلہ لگا ہوا تھا کھانے والوں کا۔ شام ڈھلے ہی ریستوران یوں بھر جاتا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی۔ پہلے بکنگ کروانی پڑتی ہے۔ خوش قسمتی سے ایک میز دستیاب تھی۔ کیتالونین خوراک اور وہ بھی ایک قیمتی ریستوران سے، میرے جیسے جہان جہان کی خاک اڑانے والے جہاںگرد کے لئے من وسلویٰ سے کم نہ تھی۔

کیتھرین نے کہا، ''آرڈر تم دوگے۔ تم خوراک کے اچھے

Spokesman

ہو۔ ''

مینو سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر سمندری خوراک دیکھی  اور کیتلونین خاتون ویٹر کو اپنے حلال خوراک کھانے کی خبر سے مطلع کیا۔ ایمان داری مغرب پر ختم ہے جوکہہ دیا، وہ کبھی غلط نہیں۔ جی بالکل بالکل ہمارے ریستوران پر آپ کی خواہش کا احترام کرنا لازمی ہے۔جو ڈشز آپ نے آرڈر کی ہیں، سب حلال ہیں۔بارسلونا اور ریستوران میں کھانا۔ کئی روز بعد باقاعدہ میز پر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ وگرنہ زیادہ تر ابلے انڈوں اور ٹماٹروںپر ہی گزارا ہورہا تھا۔ کیتالونین خوراک میں عرب ذائقہ، مسلم ہسپانوی تاریخ کی خبر دے رہا تھا۔


مضمون نگار معروف صحافی ' کالم نگار اور متعدد کتابوںکے    

مصنف ہیں۔[email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP