ایڈیٹڈ اینڈ اپڈیٹڈ تاریخ فرام انڈیا

انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے طاقت ور کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ یہ آج کے دور میں نہ صرف معلومات تک فوری رسائی کا ذریعہ ہیں بلکہ کسی بھی معاملے میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے بھی سب سے مؤثر ہتھیار بن چکے ہیں۔ اب لوگ کتاب کم پڑھتے ہیں اور ویب سائٹس کو وزٹ زیادہ کرتے ہیں، سمارٹ فون نے تو دنیا جیب میں ڈال دی ہے، بچے بچے کے ہاتھ میں فون ہے جس کے ذریعے وہ ہمہ وقت لوگوں سے رابطے میں ہے- ہر طرح کی خبر اورعلم بغیر کسی رکاوٹ کے اس تک پہنچ رہا ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں نئے پرانے حالات، واقعات، ماضی حال مستقبل کا احوال چند سیکنڈ میں ہمارے سامنے آنے کے لئے ہماری انگلی کی صرف ایک حرکت کا منتظر ہے۔

 

ایسے میں اگرصحیح، غلط، سچ، جھوٹ کی پہچان مشکل ہے تو درست معلومات کا میسر ہونا بھی اتنا ہی مشکل کام ہے کیونکہ بھانت بھانت کی ویب سائٹس بغیر تحقیق ہر طرح کا مواد اپ لوڈ کرتی رہتی ہیں جو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے تک ہوتے ہوئے مسلمہ حقیقت کا روپ دھار کر سب جگہ پھیل جاتا ہے۔ خبر یا معلومات سچ تھی یا جھوٹ اس کا تعین ہوتے ہوتے بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ایسا ہی حال تاریخی واقعات اور کرداروں کا ہوتا ہے۔ جس کے دل میںجو آتا ہے وہ اس کو تاریخ کا حصہ بنانے پر تل جاتا ہے اور انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی ناقص معلومات کو دنیا کے سامنے پیش کردیتا ہے۔ لیکن بعض دفعہ ایسا جان بوجھ کر بھی کیا جاتا ہے جس کا مقصد کسی کی تضحیک اور اپنی بڑائی یا پروپیگنڈا ہوتا ہے۔یہ انفرادی فعل بھی ہوسکتا ہے اور اجتماعی بھی۔ ایسا کرتے ہوئے یا تو پس پردہ کوئی قوت جان بوجھ کر کسی خاص مقصد کے حصول کے لئے لغو مواد پھیلاتی ہے یاپھر اپنا جھنڈا اونچا رکھنے کے لئے ریاستی پالیسی کے تحت تنخواہ دار ملازمین سے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل کروایا جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ نے سویت یونین کے خلاف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو خوب استعمال کیا تھا۔ یو ایس ایس آر انگلش سپیکنگ نہ ہونے کے باوجود پیچھے نہیں رہا تھا، اس نے معاوضے کے عوض امریکہ مخالف مضامین دنیا بھر کے پرنٹ میڈیا میں چھپوائے تھے۔ جب کہ روسی زبان میں امریکہ مخالف اور تضحیک آمیز طنزیہ پوسٹرز بھی خوب ہی چھاپے تھے۔ ہمارے ہمسائے بھارت نے بھی یہی وتیرہ اپنالیا ہے۔ وہ مذہب، نسل، سیاست دفاع ہر جگہ عظیم بننے کے لئے الیکٹرانک میڈیا پرففتھ جنریشن وار کا بھرپور استعمال کررہا ہے۔

 

وکی پیڈیا اور یوٹیوب کو کروڑوں لوگ ہر روز وزٹ کرتے ہیں۔ کسی بھی چیز، انسان یا واقعے کی معلومات کے لئے لوگ سب سے پہلے وکی پیڈیا کا سہارا لیتے ہیں اسی طرح یو ٹیوب فلم، گانے، ڈرامے یا معلوماتی کسی بھی قسم کی ویڈیو دیکھنے کے لئے لازمی ہے لہٰذا بھارت نے اپنی مرضی کی تاریخ رقم کرنے کے لئے انہی دونوں کو منتخب کیا۔ اس کے بعد کورا ڈاٹ کام بھارتیوں کے مؤرخ بننے کے لئے تختہ مشق بنا جہاں وہ بھارت مہان، اکھنڈ بھارت کے پرچار کے ساتھ ساتھ پاکستان پربھی لازمی ضربیں لگاتے ہیں۔

 

 صدیاں گزریں پورس کو سکندر سے مات کھائے ہوئے پر اب بھارتیوں کے زرخیز دماغ دور کی کوڑی لے آئے ہیں۔ ایک گھنٹے کے دورانیے کے علاوہ دس بیس منٹ کی چھوٹی چھوٹی لاتعداد ویڈیوز یوٹیوب پر ہندی، اردو، انگریزی اور انڈیا کی مقامی زبانوں میں موجود ہیں جو تاریخ کا دھارا الٹا بہانا چاہتی ہیں۔ یہ ہمیں راجہ پورس کے ہاتھوں سکندر اعظم کی شکست کی تصویری یا اینیمیٹد کہانی سنا کر انگشت بدنداں کردیتی ہیں- اس جنگ کی جزئیات کو تاریخ کے اوراق میں سمیٹتے ہوئے مؤرخ نے راجہ پورس کی بہادری اور جانبازی کو بھی پوری ایمان داری سے محفوظ کردیا لیکن ہر جگہ نمایاں ہونے کی عادت نے بھارتیوں کے ہاتھوں اس تاریخی جنگ کو مذاق بنا دیا۔ ہائیڈسپاس کی جنگ نے سکندراعظم کے ہندوستان میں قیام، فتح اور اس کی فوج کے آگے بڑھنے سے انکاراورپھربغاوت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ سکندر کی زندگی کی آخری جنگ بھی تھی۔  تاریخ سے دلچسپی رکھنے والا ہر انسان اس جنگ کی معلومات یا تو رکھتا ہے یا حاصل کرنا چاہتا ہے۔  لہٰذا انڈیا کے لوگوں نے تاریخ کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے ضروری سمجھا کہ دنیا کو یہ بھی بتادیا جائے کہ یونانی فوج کی شکست کی وجہ پورس کی گھڑ سوار فوج تھی۔ سو اب پورس کے مشہور زمانہ ہاتھی اپنوں کی ستم ظریفی کے سبب تاریخ سے معدوم ہونے کو ہیں کیونکہ پورس کی فوج تو بڑی تعداد میں گھوڑوں پر سوار کردی گئی ہے۔

 

دوسری اینیمیٹد فلمزاور ویڈیوز میں پرتھوی راج چوہان کی زندگی دکھائی گئی ہے، اس میں سلطان محمد غوری کے ہندوستان پر حملوں کو دکھاتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ محمد غوری ہمیشہ رات کے اندھیرے میں ہندوستان پر حملہ کرتا تھا اور ہردفعہ پرتھوی راج چوہان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد راجہ کے قدموں میں گر کرآئندہ ہندوستان کی طرف آنکھ بھی نہ اٹھاکر دیکھنے کا وعدہ کرتا - رحم دل راجہ اس کو معاف کردیتا۔ لیکن غوری باز نہ آتا اور ہر دفعہ مکاری سے پھر پرتھوی کی راجدھانی پر حملہ آور ہوجاتا۔ ایسا سولہ بار ہوا۔ آگے چل کر بتایا جاتا ہے کہ سلطان جب پرتھوی راج چوہان کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ غزنی لے گیا توراجہ کو سلطان غوری کے حکم پر اندھا کردیا گیا پھرراجہ کے درباری شاعر کی کوششوں سے سلطان پرتھوی راج کی تیر اندازی کے جوہر دیکھنے کے لئے راضی ہوگیا۔ لہٰذا ایک مقابلے کا انتظام کیا گیا جہاں پرتھوی راج چوہان نے سلطان محمد غوری کی آواز سن کر اس کی نشست گاہ کی طرف تیر پھینکا جو نشانے پرلگا اورسلطان کی موت کا سبب بن گیا ۔ اس کے بعد راجہ اور اس کے وفادار ساتھی نے ایک دوسرے کو مارڈالا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ راجہ پرتھوی کو سلطان کے حکم سے ترائن کی جنگ کے بعد ہی قتل کردیا گیا تھا، راجہ کے غزنی لے جائے جانے پر مؤرخین میں اختلاف ہے لیکن راجہ کے قتل کے بعد سلطان غوری کا انتقال ہوا اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ سلطان شہاب الدین محمد غوری کے پرتھوی راج چوہان پر سولہ بار حملہ آور ہونے کے بارے میں تاریخ خاموش ملتی ہے۔ بھارتیوں نے ایک لوک کہانی کو حقیقت بنا کر پھیلادیا اور مزید رنگ آمیزی بھی کردی کہ افغانی اور پاکستانی افغانستان میں موجود پرتھوی راج چوہان کی قبر کی بے حرمتی فرض سمجھ کرکرتے ہیں۔

 

 ایسی بیہودہ لغویات جہاں تاریخی اعتبار سے غلط ہیں وہیں یہ زمانۂ ِقدیم کے ہندوستان کے مقامی راجاؤں کے ساتھ بھی نا انصافی ہے کیونکہ بلا شبہ وہ بھی تاریخ میں اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں۔ انہیں جھوٹی شان وشوکت کے چکر میں تاریخ سے واقف لوگوں کے سامنے مذاق بنا کر پیش کرنا زیادتی ہے۔ ہم مذکورہ بالا، صرف دو، مثالوں سے ہی بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندانہ اپروچ، جو تاریخ کو دھندلانے کی کوشش ہے، اور منظم پروپیگنڈے کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ صرف بھارت کی تاریخ نہیں ہے یہ جنوبی ایشیا کی تاریخ اور ورثہ ہے جس میں تحریف برداشت نہیں کی جاسکتی۔

 

 ایسا تو ہو نہیں ہوسکتا کہ بھارت کی پذیرائی ہو اور پاکستان کو چھوڑ دیا جائے۔ لہٰذا پاکستان کو نیچا دکھانے کا پورا پورا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہمارے اندرونی معاملات ہوں یا خارجی، انڈین پوری اتھارٹی کے ساتھ غلط، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ متعصب ،اور اپنی مرضی کی انفارمیشن پورے انٹرنیٹ پر پر پھیلاتے ہیں۔ آپ کورا پر جائیں ہندوستان کی عظمت اور شان و شوکت کی ایسی ایسی باتیں ملیں گی جن کو پڑھ کر مؤرخین منہ چھپا لیں۔ لیکن اسی کورا پر پاکستان کے بارے میں کوئی چیز شاذ و نادر ہی درست ملے گی وگرنہ بھارتی پاکستان کو انتشار کا شکار ناکام ریاست بتاتے زیادہ ملیں گے- یہ پاکستان کا امیج اور کامیابیوں کو جان بوجھ کر گہن لگاتے ہیں۔ یہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے نسلی اور لسانی فرق کو ایسے جھوٹ اور دغا بازی کے ساتھ پیش کرتے ہیں جو پاکستان کی وحدت کو نقصان پہنچائے کیونکہ لاعلم کچے ذہن تو اسی کو سچ مان لیتے ہیں اور یہی ان کا ٹارگٹ ہے۔

 

وکی پیڈیا پر 1965 کی پاک بھارت جنگ کا پیج سوچی سمجھی بھارتی سازش کا شکار ہوچکا ہے ۔ پاکستان کی قابلِ فخر فتح کو شکست میں بدل کر ہندوستان کو فاتح بنادینا انتہائی بھونڈا مذاق ہے۔ بھارتی، کمزور سائٹیشن اور ریفرنس کے سہارے پاکستان مخالفت میں اتنا آگے نکل گئے کہ پچاس سال بعد پینسٹھ کی جنگ وکی پیڈیا پر جیت گئے۔ فضائی جنگی کارناموں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ ایم ایم عالم کے تاریخی کارنامے سے واقف ہیں کہ کس طرح انہوں نے ایک منٹ میں انڈین ایئر فورس کے پانچ لڑاکا جہازوں کو مار گرایا تھا۔ وطن عزیز کا ہر ہر فرد پاک فضائیہ کے اس عظیم سپوت پر فخر کرتا ہے لیکن بھارتی یہاں بھی ہسٹری ری رائٹ کرنے پہنچ گئے۔ اب مشکل یہ ہوئی کہ ایک ورلڈ ریکارڈ کو کیسے جھٹلا کر بھارتی فضائیہ کی عزت بچائی جائے اس لئے اور کچھ نہ ملا تو کمزور ترین حوالے ڈال کر رونا پیٹنا شروع کردیا کہ ایم ایم عالم کے ایف 86 سیبر کی اپنی گن ویڈیو منظرسے غائب ہے لہٰذا یہ ورلڈ ریکارڈ متنازعہ ہے۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ پڑھنے والے شش و پنج میں مبتلا ہوجائیں کہ کیسے کوئی پائلٹ تیس سیکنڈ میں دشمن فضائیہ کے چار ہاکر ہنٹر طیاروں کو گرا سکتا ہے۔

۔۔۔ یک جان ہیں ہم بھی

 

مرے مانوس چہرے ہیں، مری مانوس مٹی ہے

ہمارے پیار کی تحریر ان آنکھوں میں لکھی ہے

مری سانسوں میں میرے ملک کی خوشبو مہکتی ہے

مرے چہرے پہ میری سرزمیں کی خاک سجتی ہے

زمانے کی کوئی جنت مری منزل ہی کیونکر ہو

کہ بیٹے کو تو سب سے پیاری اپنی ماں ہی لگتی ہے

مجھے میرے وطن کے ذرے ذرے سے محبت ہے

یہی دھرتی، یہی دھرتی، مرے ماتھے کی قسمت ہے

مرے خوں میں بھی شامل اس گِلِ مادر کی خوشبو ہے

مرے حلقوم کی آواز بھی اس کی امانت ہے

یہ کیسا پیارا گلشن ہے یہ کتنا پیارا آنگن ہے

کہ گویا پیاری مادر کا کوئی رنگین دامن ہے

تو اس دامن پہ کوئی آنچ کیسے دیکھ پائیں ہم

کہ اس دامن کی حرمت پر تصدق ایک اِک تن ہے

خزاں آئے، بہارآئے، ہمیں اس سے غرض ہے کیا

کہ مطلب کا گُل و گلشن سے اپنا ہے نہیں رشتہ

کسی طوفاں کا جو ڈر ہے تو سب یک جان ہیں ہم بھی

کہ طوفاں کو جو للکارو تو پھر طوفاں نہیں آتا

میں اس کو بھول بھی جائوں یہ مجھ کو یاد رکھتی ہے

کہ گویا ماں کی پاکیزہ محبت سی یہ دھرتی ہے

علی نثار

 

c آف 1948 نامی پیج لغویات سے بھرا ہوا ایسا مواد ہے جو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اس پروپیگنڈا پیج کی رو سے مہاراجہ ہری سنگھ کو پاکستانی فوج کی دراندازی کے بعد مجبورا ًہندوستان سے الحاق کرنا پڑا کیونکہ لیاقت علی خان کشمیر میں بغاوت کھڑی کرنے کی سازش میں کامیاب ہورہے تھے جب کہ قائد اعظم نے پاک آرمی کو سرحد عبور کرنے کا آرڈر دے دیا تھا۔ اس لئے ہری سنگھ نے ہندوستان سے کشمیر کے دفاع کے لئے فوجی مدد مانگی یوں بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہوئی اور پاکستان کو کشمیر سے نکال کر فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بھارتی فوج اورریاست کے ظلم وجبر کی کہانیاں کشمیر کی وادی سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں اور انڈیا کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوجاتا ہے۔ پیلیٹ گن کے شکار نہتے لوگوں کو دہشت گرد ثابت کرنا مشکل کام ہے اس لئے ایسی من گھڑت باتیں پھیلا کر تاریخ سے بھارت کے سیاہ کارنامے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 

کارگل کانفلکٹ نامی مواد جگہ جگہ موجود ہے جس میں بھاتی فوج کی ایسی روح پرور اور دیو مالائی بہادری رقم ہوئی ہے کہ انسان ہنسی پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ تاریخ ایڈٹ کرتے ہوئے ہمارے ہمسائے بھول گئے کہ کارگل کی چوٹیوں کو واپس لینے میں ان کے چودہ طبق روشن ہوچکے تھے کیونکہ سر توڑ کوشش کے بعد بھی انڈین آرمی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی تھی۔سیاسی بیانات اور کارگل محاذ کے مبینہ اغراض و مقاصد کی بحث سے قطع نظر یہ بھی سچ ہے کہ اگر امریکہ مداخلت نہ کرتا تو بھارتی سینا کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہتی۔ پاکستان مخالف ایسے تمام واویلے میں کوراڈاٹ کام سے بھرپور شرکت کی جاتی ہے پھر بھارت رکشک کے حوالہ جات احترام سے پیش کئے جاتے ہیں۔ وکی پیڈیا سے سند لے کر یہ جانبدار اور جھوٹ ٹوئٹر، فورم، فیس بک سے پوری دنیا میں پھیلا دیا جاتا ہے۔ زیادہ معتبر بنا کر جو سائٹیشن اور حوالہ جات ڈالے جاتے ہیں، ان کی اپنی ساکھ پر سوالیہ نشان ہوتا ہے یا پھر وہ متنازعہ ہوتے ہیں پھر بھی دیدہ دلیری کے ساتھ ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ مزید سرکولیشن کے لئے یوٹیوب پر تصویری نریشن یا ویڈیو اپ لوڈ کردی جاتی ہے۔

 

تاریخ کے ساتھ ایسا کھیل جان بوجھ کر کھیلا جارہاہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چند جوشیلے وطن پرست اس طرح کی حرکتیں کررہے ہیں۔ نہ ہی اسے بچکانہ بیوقوفی کہہ کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب بھارتی سرکار اور مودی کے ایما پر ہورہا ہے تاکہ دنیا بھر کے لوگ جب بھی ہندوستان یا اس خطے کی تاریخ جاننے کے لئے انٹرنیٹ پر جائیں تو بھارت کی مہانتا پر بہت زیادہ مواد ملے۔ اگر وہ مزید گہرائی میں جائیں تب بھی سرچ میں انڈینز کی مرضی کی تاریخ اور واقعاتی معلومات ہی ان تک پہنچیں۔ اس کے لئے سرچ انجن آپٹمائزیشن کا کھل کر استعمال ہورہا ہے۔ آپ جنوبی ایشیا یا انڈیا یا پاکستان، یہاں کی اقوام، تاریخ، تہذیب وغیرہ کو گوگل کریں سب سے پہلے بھارتی ویب سائٹس سامنے آئیں گی۔ ایسا نپاتلا کام اس لئے کیا گیا ہے کیونکہ بہت کم لوگ ایک ہی واقعے، شخصیت، قوم یا ملک کے بارے میں نالج حاصل کرتے ہوئے کراس چیک کرتے ہیں، ورنہ اکثریت ایک ہی جگہ سے اوپری معلومات پر ہی تکیہ کرلیتی ہے۔ پشتون تحفظ تحریک کا جگہ جگہ پرچار کرنا، مشرقی پاکستان میں تین لاکھ کے قریب بنگالی عورتوں کی عصمت دری کے مبینہ الزام کو سچ بناکر پھیلانا، آپریشن سرچ لائٹ کے بارے میں من گھڑت باتیں، سیاچن کے محاذ اور اور اس کی وجوہات کو اپنی مرضی کا رنگ دینا وغیرہ وغیرہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

 

سائبر ورلڈ سے باہرالیکٹرانک میڈیا پر بھی بھارتی پروپیگنڈا پورے زور و شور سے جاری ہے کیونکہ انٹرنیٹ سرفنگ نہ کرنے والے اور معلوماتی مواد نہ پڑھنے والے ٹی وی اور فلم زیادہ دیکھتے ہیں خصوصا خواتین اور بچے۔ اس لئے انڈیا کامیاب کلیہ آزماتے ہوئے اس میڈیم کو بھی پروپیگنڈے کے لئے استعمال کررہا ہے۔ بالی وڈ کے توسط سے تاریخ کے ساتھ جو ظلم کیا جارہا ہے وہ قابل افسوس ہے۔ ایک لوک نظم کو فلم کا روپ دیتے ہوئے فلم پدماوت میں تاریخی حقائق کو نہ صرف نظرانداز کیا گیا بلکہ سلطان علاؤالدین خلجی کو ایک نیم پاگل وحشی دکھا کر تاریخ سے نابلد لوگوں کو گمراہ کیا گیا۔ اسی طرح فلم باجی راؤ مستانی اور موہن جو دڑو میں بھی حقائق کو مسخ کردیا گیا۔ کاسٹیوم اور رہن سہن بھی ذہنی اختراع سے فلموں میں شامل کئے جاتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا فلم دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ اس خطے کی تہذیب اور مغربی تہذیب میں کوئی فرق ہی نہ تھا۔ کہیں خلجی وائی کنگ سردار کا روپ دھارے وحشیانہ رقص کررہا ہے تو کہیں قرون وسطیٰ کی یورپین ثقافت اور موجودہ دور کے مغربی باڈی لینگویج کے عجب بے ڈھنگے امتزاج کیساتھ لوگ موہن جو دڑو میں گھوم پھررہے ہیں جن کے گھر میسوپوٹومیا کی تہذیب کی یاد دلا دیتے ہیں۔ موہن جو دڑو کی تاریخ، یہاں کے باشندوں کا لباس، طرز تعمیر، معاشرت بہت واضح ہے اسی طرح سلاطین دہلی اور خاندان غلاماں کی نفاست، عوام کی خدمت اور حکومت کے طریقہ کار سے کتابیں بھری ہوئی ہیں لیکن جان کر انٹرٹینمنٹ کے لبادے میں کنفیوژن پیدا کی جاتی ہے۔ یہ تو چند مثالیں ہیں ورنہ انٹر نیٹ پر تو ایسی خرافات کی بھرمار ہے۔

 

 انڈیا نے نہایت ہوشیاری سے اپنے ڈرامے اور فلم کی پہنچ کا اندازہ لگایا پھر تاریخی واقعات اور شخصیات کو اپنے حق میں پراپیگنڈے کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔جیسے جودھا اکبر، دھرتی کا ویر یودھا پرتھوی راج چوہان، دھرتی کا ویر پترا مہارانہ پرتاپ، ویر شیواجی، رضیہ سلطان وغیرہ۔ لوگ تاریخی ڈرامے اور فلم کو مہنگے عالیشان سیٹ، دیدہ زیب لباس کی وجہ سے بڑی تعداد میں دیکھتے ہیں۔ لاعلمی کے سبب وہ فکشن کو حقیقت سے الگ نہیں کرپاتے اور ان ڈراموں اور فلموں کو حقیقی تاریخ مان کر ان کے حوالے دینا شروع کریتے ہیں۔ پہلے تو پی ٹی وی پر تاریخی ڈرامے آتے تھے اب ایسا تصور ہی محال ہے اس لئے میدان صاف ہے۔ لوگوں تک یکطرفہ انڈین برانڈ کا ٹیگ لگا ہسٹوریکل ڈرامہ اور فلم پہنچ رہا ہے جو تاریخ کو مسخ کررہا ہے۔ یہی خطے کی سپر پاور بننے کے لئے ہندوستان کی ففتھ جنریشن وار فیئرکے تحت ڈس انفارمیشن پھیلانے کا مطلوب و مقصود ہے جس میں وہ فی الحال  توکامیاب ہے۔

 

 وادیِ سندھ کی تہذیب کو موجودہ ہندوستان کی جغرافیائی سرحدوں میں قید کرکے ٹیکسلا، ہڑپہ کا واجبی ذکر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ سب منظم سازش اور منصوبے کا نتیجہ ہے تاکہ مستقبل میں اس خطے کی قدیم تاریخ کو صرف اور صرف بھارت سے جوڑدیا جائے۔ یہاں کی تہذیب عظیم، یہاں کی قوم عظیم، یہاں کے راجہ مہاراجہ عظیم۔ یہاں پر حملہ کرنے والے بیوقوف، بزدل جنہیں رسوائی کے سوا کچھ نہ ملا۔ پاکستان کا بننا غلط، پاکستان کا نظریہ ،بیانیہ غلط، ہماری ثقافت تاریخ غلط، ہمارا ملک ناکام، ہماری پاک فوج شکست خوردہ جو ہر جنگ ہار جاتی ہے لیکن پھر بھی اپنے ہم وطنوں پر ظلم کررہی ہے،منظور پشتین درست، بی ایل اے درست، شیخ مجیب الرحمن درست۔ ۔ یہ ہے وہ تاریخ جو نریندر مودی کے انتہاپسند انڈیا سے نکل رہی ہے اور دنیا کو الجھانے کی کوشش کررہی ہے۔

 

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بھارتیوں کو کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ وہ آئی ٹی سیکٹر میں چھائے ہوئے ہیں۔ پاکستانیوں کو بھی اس فیلڈ میں آگے آکر کام کرنا پڑے گا تاکہ ہمارے وطن کے ہیروز اور کارناموں کو ایسی بربادی سے محفوظ رکھا جائے۔

 

پاکستان کو بھارت کے اس پروپیگنڈا کا جواب دینا ہوگا۔ ہمیں بھی سائبر ونگز بنانے ہوں گے جو جھوٹے، گمراہ کن حوالوں کا مدلل جواب تاریخی حقائق کی روشنی میں دیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس، فورم، وکی پیڈیا، یو ٹیوب وغیرہ پر نظر رکھی جائے اور بھارت کے ہر تاریخی جھوٹ اور دروغ گوئی کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا جائے۔ ہمارے پروڈکشن ہاؤسز اور چینلز بھی تاریخ کو ٹی وی سکرین اور پردہ سیمیں پر لانے کے لئے کام کریں تاکہ عام لوگ تاریخ کو بھارتی عینک سے دیکھنے کے بجائے سچ کے آئینے میں دیکھیں۔ اس تمام کام میں حکومتی تعاون اور سرپرستی درکار ہے۔کیونکہ ڈر یہ ہے کہ نا پختہ سوچ کے لوگ عموماً اور نوجوان خصوصاً انڈیا کی سائبر وار کا شکار ہو کر جھوٹ کو سچ نہ مان بیٹھیں۔


مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP