اکیسویں صدی میں بھی بھارتی جنگی جنون جاری

11مارچ 1948 کو سوئٹزرلینڈ کے صحافی سٹرڈی ایرک اسٹریف قائداعظم محمد علی جناح سے سوال کررہے ہیں:

''کیا ایسی کوئی اُمید ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے طور پر بہت ضروری اور اہم مسائل پر اپنے اختلافات اور تنازعات کے پُر امن تصفیے کی راہ نکال لیں گے۔''

بانیٔ پاکستان۔ بابائے قوم۔ اور ایشیا کے عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح فرماتے ہیں:

'' جی ہاں۔ بشرطیکہ ہندوستان احساس برتری کو خیرباد کہہ دے اور پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر معاملات کرے اور حقائق کا صحیح اندازہ لگائے۔''

(قائد اعظم محمد علی جناح۔ تقاریر و بیانات۔1947-48… ناشر حکومت پاکستان اسلام آباد)

………

70سال گزرتے ہیں۔ 23ستمبر2018 کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کہہ رہے ہیں:

'' پاکستان کی امن پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان دھمکی میں آنے والا نہیں۔ بھارت کو تکبر ختم کرنا ہوگا۔''

………

سات دہائیاں۔ جن میں بھارت کے اس خبط برتری نے جنوبی ایشیا کو غربت کا مرکز بنا رکھا ہے۔ دنیا بھر میں علاقائی تعاون کی تنظیمیں ترقی کررہی ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں کو آگے لے جارہی ہیں۔ باہمی تعاون سے غربت کا خاتمہ کررہی ہیں۔ زندگی میں آسانیاں پیدا کررہی ہیں۔ انسانی وسائل کو بہبود کے ذریعے افرادی صلاحیتوں میں بہتری لارہی ہیں۔ آسیان ہو۔ یورپی یونین۔ امریکہ، کینیڈا۔ جنوبی امریکہ سب آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرکے انسانوں کے لئے زندگی کی مشکلات بہت حد تک کم کرچکے ہیں۔لیکن جنوبی ایشیا کے ملکوں کی تنظیم سارک سب سے کمزور علاقائی تعاون کی مثال پیش کرتی ہے۔ بھارت کے تکبر اور معاندانہ رویے سے سارک کے اجلاس ہی نہیں ہوپاتے۔ سات دہائیوں میں یکے بعد دیگرے آنے والی بھارت کی مختلف نام نہاد جمہوری حکومتیں اپنے ملک میں بھی اقلیتوں کی آواز دباتی رہی ہیں۔ کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے اوپر نہیں لائے جاسکے ہیں۔ اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگتی رہی ہیں۔ پورے بھارت میں ہی مسلمان دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور رہتے ہیں۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں تو روزانہ کہیں نہ کہیں مسلمانوں پر قیامت ڈھائی جاتی ہے۔ کشمیر میں موجود بھارت کے سات لاکھ فوجی کشمیریوں کو مفتوحہ قوم سمجھتے ہوئے اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

پاکستان کی فوجی اور سیاسی حکومتوں میں سے ہر ایک نے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ لیکن اس کا جواب ہمیشہ جارحیت کی صورت میں ملا۔

قائد اعظم نے سوئٹزرلینڈ کے صحافی کو جو بنیادی نکتہ بتایا تھا، اس پر پوری دُنیا کا نظام چل رہا ہے کہ قومیں چھوٹی ہوں یا بڑی، ملک زیادہ آبادی والے ہوں یا کم تعداد والے، مملکتیں ترقی یافتہ اور دولت مند ہوں یا غریب، جب وہ اقوام عالم کی سطح پر ملیں گی تو برابری کی بنیاد پر، سفارت کاری بھی اسی اصول پر ہوگی باہمی تعلقات بھی برابری کی سطح پر ہوں گے۔

پاکستان کی نئی منتخب حکومت کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی امن کی خواہش کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو خط میں یہی لکھا۔ بلکہ اس سے پہلے اپنی انتخابی فتح کی تقریر میں بھی بھارت کو دعوت دی کہ وہ اگر ایک قدم آگے آئے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھائے گا۔ بعد میں با ضابطہ طور پر تحریری دستاویز میں بھی اس خواہش کا اظہار کیا۔ بھارت کی طرف سے پہلے اس سلسلے میں مثبت جواب آیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کریں گی۔ پاکستان اور بھارت کے عوام نے اس خبر پر خوشی محسوس کی کہ اس سے خطّے میں تنائو کم ہوگا۔ دونوں ملکوں کے سربراہوں کے درمیان ملاقات کی راہ ہموار ہوگی۔ عالمی دارالحکومتوں میں بھی اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا گیا۔ واشنگٹن کے دفتر خارجہ نے بھی اسے درست سمت میں قدم قرار دیا۔ لیکن اگلے ہی روز بھارت کے ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ ملاقات نہیں ہوگی، کیونکہ پاکستان دہشتگردی کی سرپرستی کررہا ہے۔ ایسے حالات میں اور پاکستان کے اس رویے کے تناظر میں ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

یہ بھارت کا سفارتی دیوالیہ پن تھا اور اس سے یقینا ظاہر ہوتا تھا کہ بھارت میں حکومتی ارکان بھی ہم خیال نہیں ہیں۔ وزیر اعظم کا دفتر اور دفتر خارجہ ایک دوسرے سے مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔

پاکستان کے سنجیدہ اور متین حلقوں کا خیال تو یہ تھا کہ بھارت سے ایسی امید ہی نہیں رکھنی چاہئے تھی۔ بقول غالب:

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

انہی دنوں میں بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے نہ جانے کن عسکری، دفاعی یا علاقائی وجوہ کی بنا پر پاکستان پر حملے کی دھمکی دے ڈالی۔ اس کی کیا ضرورت تھی۔ لگتا ہے کہ بھارتی تکبر کا نشہ صرف وزیرا عظم مودی کو ہی نہیں بھارت کے سارے کلیدی عہدیداروں کو ہے اور یہ تکبر، رعونت، نخوت 71سال سے جاری و ساری ہے۔ انہیں پاکستان کا وجود میں آنا، نسل در نسل برداشت نہیں ہورہا ہے۔ اکیسویں صدی ہے۔ یہ اشوکا اور چانکیہ کا دَور نہیں ہے۔ پاکستان ایک حقیقت ہے۔ 71سال میں پاکستانیوں کی کئی نسلیں زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا عالمی سطح پر منواچکی ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ ایک نوجوان ملک ہے۔62فیصد آبادی 15سے 30 سال کی عمر کے درمیان ہے۔ پاکستان دفاعی طور پر جدید ترین تربیت رکھتا ہے۔اس کی مسلح افواج کی دفاعی، انتظامی، عسکری صلاحیتوں کا اعتراف امریکہ، برطانیہ اور نیٹو کرتے ہیں۔ افغانستان سے سوویت یونین جیسی سپر طاقت کو نکالنے اور بعدمیں سوویت یونین کے انہدام میں پاکستان کی فوجی قیادت کے کردار کو ساری دُنیا تسلیم کرتی ہے۔

جنرل صاحب نہ جانے کس کیفیت میں ہیں۔ اب 1971نہیں ہے۔ 2018ہے۔

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز، میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان کی مسلح افواج کی طرف سے انڈین آرمی چیف کو واضح طور پر پیغام دیا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔ کسی بھی قسم کی مہم جوئی ہوئی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ تمام عسکری، سفارتی اور عمومی تاریخی روایات کے بالکل برعکس جنرل بپن راوت نے سرحد پر اپنے ایک بھارتی فوجی کی لاش دیکھ کر اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے انڈین صحافیوں کو بلایا اور اس فوجی کی موت کی تحقیقات کئے بغیر کہ وہ کن حالات میں ہلاک ہوا، کس کی گولی لگی، انہوں نے براہِ راست پاکستان کو دھمکی دی اور کہا کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنی چاہئے اور اپنا فلسفہ بگھارتے ہوئے بولے کہ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے بزعم خود کہا کہ ہمارے ملک کی پالیسی اس سلسلے میں بہت واضح اور قطعی رہی ہے۔ ہم نے کبھی لگی لپٹی نہیں رکھی۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ دہشت گردی کے عفریت کو روند ڈالے۔

جنرل صاحب کو جنگی جنون بہت زیادہ ورثے میں ملا ہے۔ وہ اس سے پہلے پاکستان پر سرجیکل حملوں کا دعویٰ بھی کرچکے ہیں۔ اور یہ دعویٰ بھی کہ سرجیکل ضربوں سے ہی پاکستان کو درست اور بروقت پیغام مل سکتا ہے۔

وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ پاکستانی فوج سے بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے۔ اسے اسی کی زبان میں جواب دیں گے۔ پاکستان کو درد محسوس کرانا چاہتے ہیں۔ پاک فوج اور دہشت گردی کا جواب دینے کے لئے ہمیں سخت کارروائی کرنا ہوگی۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے جنگی جنون میں مبتلا بھارتی جنرل کی اس اشتعال انگیزی کا جواب بہت ہی متانت سے مدلل انداز میں دیا۔ ان کی طرف سے جنگی دھمکی کے باوجود انہوں نے کہا :

''پاکستان کی آج بھی آفر ہے، آئیں میز پر بیٹھ کر بات چیت کریں، بھارتی فوج اپنی ملکی سیاست میں گھری ہوئی ہے، عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لئے جنگ کی باتیں کررہی ہے، امن کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں، امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے، پاکستان کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیںہٹا،ہمیشہ بھارت ہی بھاگا ہے، بھارت سرجیکل اسٹرائیک کا ثبوت اپنی پارلیمنٹ میں نہیں دے سکا، انڈیا جتنی بھی کوشش کرلے، جھوٹ ہمیشہ جھوٹ ہی رہے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے اور یہ تیسری نسل ہے جو قربانیاں دے رہی ہے۔ جو کہتے تھے کشمیر میں عسکریت پسندی ہے وہ سیاسی تحریک ہے جسے وہ دبا نہیں پارہے جبکہ بھارت میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ہم امن چاہتے ہیں لیکن ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہم نے امن کے لئے قربانیاں دی ہیں اور امن کو خراب نہیں ہونے دیں گے۔پاکستان ایٹمی قوت ہے اور جنگ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی جنگ کے لئے تیار نہ ہو لیکن ہم جنگ کے لئے تیار ہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں اور ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاک فوج ایک تجربہ کار اور بہادر فوج ہے اور ہم جنگ کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی بھارتی کارروائی کا بھر پور جواب دیں گے۔ کسی نے صبر کا امتحان لیا تو قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ حکومتِ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی تھی جس پر بھارت رضا مندی ظاہر کرنے کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔ حکومت پاکستان کی آج بھی پیشکش ہے آپ آئیں اور میز پر بیٹھ کر بات کریں۔ پاکستان کو دہشت گردی کا شکار بنایا گیا لیکن پاکستان نے کامیابی کے ساتھ دہشت گری کا مقابلہ کیا۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں امن قائم کیا ہے۔ ہمیں پتہ ہے کہ امن پسندی کی کیا قیمت ہے اور ہم امن پسندی کو آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو پہلے پارٹ آف پرابلم کہا جاتا تھا اب پاکستان پارٹ آف سلوشن ہے۔ بھارتی حکومت کو کرپشن کے الزامات پر تنقید کا سامنا ہے لیکن بھارتی حکومت نے حالات کا رُخ موڑنے کے لئے پاکستان دشمنی کا بیانیہ اپنایا۔ہم پر ایک فوجی کی لاش کی بے حرمتی کا الزام لگایا گیا ہے، ہم نے کسی فوجی کی لاش کی کبھی بے حرمتی نہیں کی چاہے وہ دشمن ملک کا ہو یا کوئی اور ہو۔ بھارت ایسی حرکت نہ کرے جس سے خود بھارت کا نقصان ہو اور خطّے کو بھی پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امن ہوگا تو دنیا ترقی کرے گی جس سے پاکستان اور بھارت سمیت سب کو فائدہ ہوگا۔ پاکستان امن پسند ملک ہے وہ کبھی مذاکرات سے نہیں بھاگا، آج بھی پاکستان مذاکرات کی بات کررہا ہے لیکن بھارت ٹکٹوں کا بہانہ بناکر بھاگ رہا ہے۔ پاکستان نے جب بھی مذاکرات کی بات کی اس سے ہمیشہ بھارت ہی بھاگا ہے۔''

میرے خیال میں ایک ذمہ دار فرض شناس فوج کی طرف سے ایسے ہی باوقار انداز میں جنگی جنون کا جواب دیا جانا چاہئے تھا، تاکہ اقوام عالم پر واضح ہوسکے کہ بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا ڈھونگ رچاکر مغرب کا لاڈلا بن گیا ہے وہ در حقیقت ایک جنونی ملک ہے۔ جس نے اقلیتوں کو طاقت کے زور پر دبا رکھا ہے، انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں، اقدامات اور قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر 1948 سے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت سے سات دہائیوں سے محروم کیا ہوا ہے۔ ان کی روز مرہ کی زندگی کو عذاب بنارکھا ہے۔ لیکن جمہوریت کے ڈرامے اور کھلی آزاد سوسائٹی کے رنگین دعوئوں کے لباس میں مغرب کو دھوکہ دے کر ان سے سرمایہ حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی آماجگاہ ہے۔ پاکستان انتہا پسندوں کو خفیہ اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے بہت سے مغربی ممالک تو حقیقت جان چکے ہیں۔ وہ اب بھارت کے اس پراپیگنڈے سے بیوقوف نہیںبنتے بلکہ انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹیں شائع کرتے رہتے ہیں۔

اللہ کا شکر ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہاں اقلیتوں کو ملکی تحفظ دیا ہے۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر وزیر اعظم عمران خان تک سب حکمرانوں نے اپنے عوام کو یہی درس دیا ہے کہ وہ اپنے غیرمسلم ہم وطنوں کی حفاظت کریں۔ انہیں برابر کا شہری خیال کیا جائے۔ ان کو بھی وہی سہولتیں دی جائیں جو مسلمان اکثریت کو حاصل ہیں۔

آج سے 70سال پہلے قائد اعظم  نے 1948میں 9جنوری کو کراچی میں بعض فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور کہا کہ'' میں مسلم مہاجرین اور ان لوگوں کے جذبات کو بخوبی سمجھتا ہوں جنہوں نے نقصانات اٹھائے۔ میری تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن انہیں خود پر قابو پانا چاہئے اور ذمہ دار لوگوں کا سا رویہ اپنانا چاہئے۔ مہمان نوازی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے، اور سب کچھ فراموش نہیں کرنا چاہئے جو ان کی بھلائی کے لئے کیا جارہا ہے۔ میں ایک بار پھر یہ بات تمام مسلمانوں کو ذہن نشین کرادینا چاہتا ہوں کہ انہیں ان شرپسند عناصر، غداروں اور فسادات کے ذمہ دار ٹولوں کے مقابلے میں اپنے ان ہندو ہمسایوں کی حفاظت کے سلسلے میں حکومت اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہئے اور تمام فرقوں کا اعتماد اور اعتبار بحال کردینا چاہئے۔''

قائد اعظم محمد علی جناح کا یہ غیر جانبدرانہ اور تعصب سے پاک رویہ اور پالیسی تھی۔ اس کے مقابلے میں ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو 1947کے اواخر اور 1948 کے اوائل میں کانگریس کے اہم رہنما اور مرکزی وزیر مولانا ابوالکلام آزاد کی مشہور عالم تصنیف

India Wins Freedom

میں دہلی میں صدیوں سے موجود مسلمانوں کی بے بسی، دربدری کی بڑی خون آلود تصویریں دکھائی دیتی ہیں یہ بپتا مولانا آزاد کی زبانی ملاحظہ ہو:

'' خاص شہر کے علاوہ قرول باغ، لودھی کالونی، سبزی منڈی اور صدر بازار جیسے علاقے میں مسلمانوں کی بڑی آبادی تھی، ان تمام علاقوں میں بھی مسلمانوں کے جان و مال محفوظ نہیں رہے تھے اور جو حالات تھے ان میں فوج کے ذریعے حفاظت کا پورا انتظام نہیں کیا جاسکتا تھا، اس وقت تو ایسی نوبت آگئی کہ کوئی مسلمان اپنے گھر میں رات کو اس یقین کے ساتھ سو نہیں سکتا تھا کہ دوسرے دن وہ زندہ پلنگ سے اٹھے گا۔

ان قتل و غارت کے دنوں میں، میں نے فوجی آفیسروں کے ساتھ دلی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، میں نے دیکھا کہ مسلمان بالکل پست ہوگئے ہیں اور بے بسی کا احساس ان کی رگوں میں سرایت کرگیا ہے۔ بہتوں نے میرے مکان میں پناہ مانگی۔ شہر کے مشہور اور امیر علاقوں کے لوگ میرے پاس محتاجی کے اس عالم میں پہنچے کہ تن کے کپڑوں کے سوان ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ ان میں سے بہت سے تو دن کی روشنی میں نکلتے ڈرتے تھے اور وہ رات کو یا صبح تڑکے فوجی پہرے کے ساتھ میرے گھر تک لائے گئے۔ جب میرا مکان بھر گیا تو میں نے اپنی چہار دیواری کے اندر خیمے لگوادیئے۔ مرد، عورتیں، امیر، غریب، نوجوان اور بوڑھے، غرض کہ ہر قسم کے لوگ موت کے ڈر سے یہاں ہاتھ پائوں سمیٹ کر جمع ہوگئے تھے۔

یہ بات جلد ہی معلوم ہوگئی کہ امن قائم ہونے میں کافی وقت لگے گا۔ مختلف علاقوں میں دور دور پھیلے ہوئے مکانوں کی حفاظت نا ممکن تھی۔ اگر ہم ایک علاقے میں پہرے کا انتظام کرتے تو کسی دوسرے علاقوں میں حملے ہونے لگتے۔ اس لئے یہ طے پایا کہ سارے مسلمانوں کو یک جا کرکے انہیں محفوظ کیمپوں میں رکھ دیا جائے۔ ایسا ایک کیمپ پرانے قلعے میںقائم کیا گیا۔ یہاں اب عمارت کوئی نہیں ہے۔ صرف برجیاں باقی رہ گئی ہیں جلد ہی یہ بھر گئے۔ بہت سے مسلمان یہاں لائے گئے اور انہوں نے تقریباً پوری سردیاں انہیں برجیوں میں گزاردیں۔

فسادات کے زمانے میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے متعدد اسپیشل مجسٹریٹ مقرر کئے گئے تھے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ انتخاب اچھا ثابت نہیں ہوا اور ان میں سے بعض نے اپنے فرض کی ادائیگی میں بڑی کوتاہی کی۔ ایک مجسٹریٹ کے بارے میں تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک روز ایک ہندو کانگریسی اس کے پاس مدد کے لئے آیا۔ اس نے بتایا کہ مسلمانوں کے ایک علاقے پر حملے کا اندیشہ ہے اور بعض خاندانوں کے لئے جان کا خطرہ ہے۔ مجسٹریٹ نے ضروری کارروائی کے بجائے اس کانگریسی پر بے حس ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ اسے تعجب ہے کہ کوئی ہندو مسلمانوں کے لئے مدد مانگنے آتا ہے۔''

میں بار بار آپ کو ماضی میں اس لئے لے جارہا ہوں کہ آج کی نئی نسل پر واضح ہوسکے کہ بھارت کی طرف سے آج اکیسویں صدی میں جو غیر ذمہ دارانہ رویہ رکھا جارہا ہے یہ نیا نہیں ہے۔ 1947 سے یہی تعصب بھری پالیسیاں ہیں۔ وہاں کے حکمرانوں کی ایک نسل دوسری نسل کو پاکستان دشمنی اور انسان دشمنی وراثت میں منتقل کررہی ہے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ جس پارلیمانی جمہوریت کے تسلسل کا دعویٰ ہے اور جس سیکولر ازم کو بھارت اپنا بنیادی اصول قرار دیتا ہے اس میں اقلیتوں کے خلاف جارحانہ اور ہلاکت خیز پالیسیوں کا کیا جواز بنتا ہے۔ اس جمہوریت نے وہاں کی اقلیتوں، مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور نچلے درجے کی ذاتوں کو کیا ثمرات دیئے ہیں ان کی زندگی تو بہت اجیرن ہے۔

مجھے ایک صحافی کی حیثیت سے 1972کے شملہ مذاکرات سے بھارت جانے کا موقع ملتا رہا ہے۔ تاریخ کے کئی اہم ادوار کئی اہم مذاکراتی مواقع پر میں دہلی میں موجود رہا ہوں۔ وہاں مسلمان افسروں۔ صحافیوں۔ ادیبوں۔ شاعروں کو دیکھا ہے کہ وہ کس طرح سہمے سہمے رہتے ہیں۔ انہیں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت بھی حاصل نہیں رہی ہے۔ کبھی گائے کے ذبح کئے جانے کا بہانہ بناکر فسادات شروع ہوجاتے ہیں۔ کبھی مسلمانوں کی اراضی پر قبضے کے لئے بلوائی میدان میں اُتر آتے ہیں۔

پاکستان کی ہر حکومت نے ابتدا میں بہت ہی خوشدلی اور نیک نیتی سے بھارت سے پُر امن تعلقات کی خواہش میں مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی نہرو سے خط کتابت تاریخ کا حصّہ ہے۔ پھر فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے بھی

No War Pact

کی پیشکش کی۔ یہ سلسلہ موجودہ وزیر اعظم تک جاری ہے۔ لیکن تاریخ کے اوراق گواہی دیں گے کہ بھارت نے اپنے طاقت کے نشے میں ان پیشکشوں کو ٹھکرایا۔ کشمیر میں فوج کی تعداد مزید بڑھائی۔ مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا۔ 1965-1948- 1971 کی باقاعدہ جنگوں کے علاوہ بھارت کئی بار پاکستان پر لشکر کشی کرچکا ہے۔ بھارت کے حکمران طبقے اور سرکاری حلقوں میں نسل در نسل یہ خوف بٹھایا جاتا ہے کہ پاکستان کسی وقت بھی بھارت پر حملہ کردے گا۔ ایٹمی ہتھیاروں سے پہلے بھی یہ خوف تھا۔ ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد تو یہ خوف دو چند ہوگیا ہے۔ بھارتی حکمران عوام میں اس لئے یہ ڈر پیدا کرتے ہیں تاکہ اپنی سیاسی قیادت منواسکیں۔ موجودہ وزیرا عظم نریندر مودی تو اس فارمولے پر زیادہ عمل کرتے ہیں۔ ان کے الیکشن کے زمانے میں ایک کانفرنس کے سلسلے میں، میں دہلی میں تھا۔ میں نے مسلمانوں کو بہت خوفزدہ دیکھا۔ عام غریب مسلمان بھی اور دولت مند صاحب اثر مسلمان بھی۔ کیونکہ مودی صاحب ہندو ووٹ کو ہر حال میں جیتنا چاہتے تھے۔ اس لئے ہندو توا کا پرچار کررہے تھے۔ پہلے انتخابات میں مسلمان ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان سے ہمدردیاں ظاہر کی جاتی تھیں۔ لیکن مودی نے تو کھلم کھلا ہندو پرستی اور مسلمان دشمنی کی بنا پر ووٹ حاصل کئے۔ اس لئے ان سے وفا کی اُمید نہیںرکھنی چاہئے۔

شملہ مذاکرات کے دنوں کی یہ دلچسپ یادیں آپ سے بھی بانٹنا چاہوں گا۔ جس سے بات ہوتی تھی وہ کہتا تھا پاکستان کسی وقت بھی حملہ کردے گا۔ ہم ان سے کہتے کہ پہلے ہم صرف 12کروڑ تھے اور آپ 55کروڑ ہم اب صرف ساڑھے پانچ کروڑ رہ گئے ہیں۔ ایک چھوٹا ملک۔ ایک چھوٹی فوج محدود وسائل۔ آپ نے ہمارے ملک کے اکثریتی حصّے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود آپ خوف زدہ کیوںہیں۔ جواب یہ ملتا تھا کہ پہلے بھی آپ نے ہم پر حملہ کیا اور آپ کے جن علاقوں سے لڑاکا فوج تیار ہوتی ہے وہ تو مغربی پاکستان میں ہی ہیں جو اب بھی آزاد ہے۔''

آپ اس خوف کا سبب جان لیں۔ وہ ہے پاکستان کی مسلح افواج۔ فرض شناس۔ تربیت یافتہ اور ہر طرح سے دفاع کے لئے تیار۔

مجھے یاد آرہی ہیں اس وقت کے اخبارات کی سرخیاں۔ جب پاکستان پورے دبائو میں تھا۔ ہمارا کافی رقبہ ان کے قبضے میں تھا۔ جنگی قیدی تھے۔ ادھر مذاکرات ہورہے تھے۔ ان کی سرخی تھی۔

٭ صدر بھٹو شملے میں مذاکرات کررہے ہیں۔ پوری مغربی سرحد پر دنادن۔

٭ جنرل ٹکا خان پھر سرگرم

مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں پاکستان کی طرف سے بڑے حملے کا خطرہ۔

بھارت میں ان 71سالوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ معاشرہ بہت لبرل ہوگیا ہے۔ عریانی میں مغرب کی پیروی میں بہت آگے ہیں۔ فلمی صنعت دنیاپر چھاگئی ہے۔ لیکن پاکستان کے بارے میں تعصب اور تنگ نظری ختم نہیں ہورہی ہے۔ مودی کے اس پانچ سالہ دورِ حکومت نے اس جنگی جنون کو اور زیادہ ہوا دی ہے۔اب یوں سمجھ لیجئے کہ بھارت کا انتخابی سال شروع ہوگیا ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی کو اپنے ووٹ بینک کو مستحکم کرنے کے لئے پھر ہندو توا کو بڑھاوا دینا ہوگا۔ اس لئے ہندو ووٹ کو پکا کرنے کے لئے پاکستان سے ڈرانا ہو گا۔ مسلمانوں کے خلاف انفرادی اور اجتماعی طور پر معتصبانہ کارروائیاں ہوں گی۔ پاکستان کی امن پیشکشوں کو اسی طرح ٹھکرایا جائے گا۔

پاکستان کی طرف سے امن کی خواہش کا اظہار ضرور ہونا چاہئے۔ لیکن پاکستان کی حکومت، اپوزیشن، میڈیا تعلیمی اداروں اور عام معاشرے کو بھارت کے حالات پر گہری نظر رکھنی چاہئے۔ میری تجویز ہمیشہ یہ رہی ہے کہ بھارت کے سیاسی، دفاعی، اقتصادی، زرعی،ایٹمی اور ترقیاتی نظام کے مسلسل مطالعے مشاہدے اور تجزیے کے لئے ملک بھر میں غیر سرکاری تحقیقی ادارے قائم ہونے چاہئیں اور ان کے مطالعے کے نتائج مسلسل عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ پاکستان کے عوام میں ان سب شعبوں میں مقابلے کا جذبہ پیدا ہو۔

یہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے قوم اس سلسلے میں انتہائی مطمئن بھی ہے کہ ہماری مسلح افواج، بری ہوں کہ فضائیہ یا بحریہ یہ سب جدید ترین دفاعی خطوط پر منظّم ہیں۔ پاکستان میں سیاسی اور معاشی بحران آتے رہے ہیں۔ لیکن پاکستانی فوجی قیادت نے اپنے یونٹوں کو دنیا کے اعلیٰ ترین دفاعی نظام کی تربیت دی ہے۔ جدید ترین اسلحہ بھی خریدا ہے۔ اس کے استعمال کی تربیت بھی دے دی ہے۔دفاعی حوالے سے تو پاکستان کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہئے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف عالمی جنگ میں بھی پاکستان شریک ہے اور اپنے طور پر بھی ان خطرناک تنظیموں کا قلع قمع 2001سے کیا جارہا ہے۔ دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستانی فوج نے اپنے فوجی افسروں اور سپاہیوں کی قربانیاں دے کر دہشت گردی کا نیٹ ورک توڑا ہے۔ دنیاکے جنگ زدہ علاقوں میں بھی پاکستان افواج کی اقوام متحدہ کی امن فوج میں شرکت اور کارروائیوں کو عالمی سطح پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

بھارت کو بھی پاکستانی فوج کی استعداد، دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہے۔ اس لئے وہ کبھی یہ جرأت نہیں کرے گا کہ کسی فوجی آزمائش میںپڑے، دھمکیاں ضرور دیتا رہے گا۔

اس وقت بھارت کو یہ بھی تشویش ہے کہ پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت خارجہ اور داخلہ امور میں ہم خیال ہیں، ان میں دوریاں نہیں ہیں۔ اس کی علانیہ اور خفیہ یہ کوشش ہوگی کہ پاکستان میں پہلے والے حالات پیدا کئے جائیں۔ سیاسی اور عسکری قیادت میں اختلافات کو اُبھارا جائے۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں بھارت کی قیادت کی شاطرانہ پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن کو بھارت کے معاملات پر انتہائی محتاط اور سوچی سمجھی پالیسی اختیار کرنی ہوگی۔ پارلیمنٹ میں اس پر مباحثہ ہوسکتا ہے۔ لیکن زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ حکومت بھارت سے متعلق جامع حکمتِ عملی ترتیب دیتے وقت نہ صرف پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن پارٹیوں کو اعتماد میں لے جو پارٹیاں پارلیمنٹ میں نہیں پہنچ سکیں ان سے بھی بات چیت کی جائے۔ ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کے ذریعے اساتذہ اور طلبہ و طالبات کو بھی بھارت کے عزائم سے آگاہ کیا جائے اور جن شعبوں میں اس نے پیشرفت کی ہے اس سے بھی آگاہی ہو قوم سے یہ کہا جائے کہ پاکستان کے فوجی دفاع کے لئے پاکستان کی مسلح افواج ہر طرح سے تیار ہیں۔ دوسرے شعبوں مثلاً تعلیم، معیشت، توانائی، آبپاشی، پٹرولیم، فلم سازی میں ہم پیچھے ہیں۔ ہمیں ان شعبوں میں بھی بھارت کا مقابلہ کرنا ہے۔ طاقت ور ہونا ہے۔

پاکستان کی اب تک سب سے بڑی کمزوری رہی ہے کہ عالمی رائے عامہ کے سامنے ہم بھارتی حکومتوں کی ناکامیاں اُجاگر کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں رہے ہیں۔ پہلے تو یہ کہ پاکستانی متحد نہیں رہتے۔ بھارتی دانشوروں۔ صحافیوں اور سفارت کاروں کے سامنے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرلیتے ہیں۔ یا صرف جذبات سے کام لیتے ہیں حقائق کا تجزیہ نہیں کرتے۔

اب جس طرح بھارت اپنی داخلی کمزوریوں۔ کرپشن کے اسکینڈل چھپانے کے لئے جارحانہ رویہ اختیار کررہا ہے پہلے بھی اس کایہی رویہ رہا ہے اور بھارتی میڈیا بھی اس سلسلے میں اس کا پورا ساتھ دیتا ہے۔ پاکستانی حکومت اور میڈیا انڈیا کی ان کوتاہیوں کو عالمی رائے عامہ کے سامنے لانے میں بہت کمزور رہا ہے۔ اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دَور ہے۔ ہمیں بھی اس کسوٹی سے بھارت کے منفی پہلوئوں کو پرکھنا چاہئے اور ان کی بھیانک تصویر پورے پروفیشنل انداز میں پیش کرنی چاہئے۔ ہمارا اپنا مذہبی نقطۂ نظر جذباتی ذریعہ اظہار عالمی رائے عامہ کو متاثر نہیں کرسکتا۔ جدید دُنیا جو پیمانے وضع کرچکی ہے ہم ان کو استعمال کرکے ہی ان کو قائل کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے بے شمار مواقع موجود ہیں۔بھارت میں حقوق انسانی کو پامال کیا جاتا ہے۔ حکومتی سطح سے معاشرتی سطح پر ذات پات کی ہولناک تقسیم ہے۔ بھارت میں غربت کی سطح سے نیچے کروڑوں لوگ رہ رہے ہیں اور بھارت اب بھی ایٹمی پروگراموں اور ہتھیاروں پر اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔ بھارتی فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں جو بھارت دکھایا جاتا ہے جو خوشحال خوبصورت خاندان نظر آتے ہیں حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیںہے۔ پینے کا صاف پانی بہت بڑی آبادی کو نصیب نہیں ہے۔ اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ مغربی ممالک کے ہم مذہب عیسائیوں پر آئے دن حملے ہوتے رہتے ہیں۔ کشمیر بھارت کے غاصبانہ، توسیع پسندانہ عزائم کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کے علاوہ بھی بھارت کے کئی حصوں میں چھوٹی ذاتوں کی بڑی تعداد کو بزور بازو کچلا جاتا ہے۔

بھارت کی اشرافیہ نے پاکستان کے قیام کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا ہے۔اس کا مُسکت جواب پاکستان ہر شعبے میں مسلسل ترقی کرکے ہی دے سکتا ہے۔ یہ مقام شکر ہے کہ پاکستان کی نئی نسل میں آگے بڑھنے کی امنگ پوری شدت سے موجود ہے۔ اس میں اگر ہم مسابقت کا جذبہ پیدا کردیں گے کہ ہم نے سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، تجارت، ادب، میڈیا، عمرانیات، پیٹرولیم، ارضیات اور فلم سازی میں آگے اس لئے بڑھناہے کہ بھارت کے توسیع پسندانہ اور منفی عزائم کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جائے تو ہمارے نوجوان ایک ولولۂ تازہ کے ساتھ نئے آفاق تسخیر کرنے میں مصروف ہوجائیں گے۔


مضمون نگار نامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP