اپناتشخص برقرار رکھیئے

قدرت کا ایک اصول ہے کہ ہر تاریکی کا انجام اُجالا ہے بلکہ ہر رات کی تاریکی صبح کے اجالے کا شدت سے انتظار کرتی ہے چنانچہ رات جس قدر تاریک اور طویل ہوتی ہے اس کی صبح اُسی قدر اُجلی اور رنگین ہوتی ہے غرضیکہ سیاہی کا وجود ہی سفیدی کی اہمیت اور پہچان بنتا ہے اور ہر تعمیر تخریب کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور ہر تخریب کا انجام تعمیر ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح فطرت ہزاروں ستاروں کا خون کرتی ہے تب ہی سحر پیدا ہوتی ہے قوم کے جوان وہی ستارے ہیں جن کا خون کر کے اجلی سفید اور روشن سحر پیدا ہوتی ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں انہی نوجوانوں کی مرہونِ منت ہیں۔ قوموں کی داستانیں عروج و زوال سے مزین ہیں۔ چاہے یہ قومی تشخص کی بنیاد مذہب پر ہو یا جغرافیائی حدود پر ۔

 

پاکستان خوش قسمتی سے وہ خطہ ہے کہ جو دونوں دولتوں سے مالامال ہے۔ وقت کچھ ایسی گھڑیاں ضرور لاتا ہے ذاتی مفادات جان و مال ملکی و اجتماعی مفادات کے آگے ہیچ ہو جاتے ہیں۔آزمائش کی ان گھڑیوں میں جب قوم اپنے فرائض سے آنکھیں چراتی ہیں کڑیل جوان میدان جنگ کے بجائے گھر میں چھپنے کو ترجیح دیں تو ایسی قوموں کے مقدر میں آنے والے لمحات کا سورج خوشی و مسرت نہیں بلکہ اپنوں کی لاشوں کے ساتھ ساتھ غلامی کی نہ ٹوٹنے والی زنجیر لے کر آتا ہے اور پھر بسا اوقات اس طوق کو اتارنے میں صدیاں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک گھڑی 6 ستمبر 1965 کو پاکستان کی تاریخ میں بھی آئی تھی لیکن سلام ہے اس قوم کو جس نے اپنے فرائض سے آنکھیں نہیں چرائیں، ان جوانوں کو جن کے لئے ملکی سلامتی ان کی اپنی جان و مال سے کہیں زیادہ تھی، سلام ہے ان شہیدوں کو جنہوں نے اپنے جسموں پر بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ کر شہادت کا رتبہ پایا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ یقینی موت ہے لیکن ان کے عمل میںڈر کاشائبہ تک نہ تھا۔ سلام ان مائوں کو جنہوں نے ملکی سلامتی کو اپنے بیٹوں سے زیادہ جانا۔ ان بیویوں کو جنہوں نے سہاگوں کی لاشوں پر نوحہ نہ کیا بلکہ فخر سے سر اٹھا کر کہا کہ میرا شوہر شہید ہے۔ بھارتی افواج نے سترہ دن میں کئی حملے کئے لیکن وہ لاہور میں داخل نہ ہو سکیں ۔

 

6 ستمبر کا دن ،پاکستان کا یومِ دفاع، وہ جرأت و بہادری کی تاریخ رقم کئے رکھتا ہے جو رہتی دنیا تک درخشاں رہے گی۔ وہ جوان جنہوں نے اپنی سخت کوشش اور عرق ریزی سے صحرا میں پھول کھلائے آسمانوں کو اپنی منزل بنانے والوں کے عزم و حوصلے اور بلند عزائم کے سامنے آسمانوں پر جمنے والی ستاروں کی محفل بھی ہیچ ہوتی ہے۔ سلام ان مائوں کو جنہوں نے چٹان جیسے حوصلے کے حامل جوانوں کو جنم دیا۔ مگر افسوس ہم نے اپنے ماضی سے سبق حاصل نہیں کیا اور آج بھی ہمارے حکمران جھولی میں بیٹھنے کے مشتاق ہیں اور ہمیں اس طرح ایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم دشمن کی اس چال کو سمجھ کر بھی انجان بنے بیٹھے ہیں۔

 

65 کے بعد ہماری قوم زلزلے پر اکٹھی ہوئی پھر ہم لوگ سیلاب پر اکٹھے ہوئے لیکن ہمارے حکمرانوں نے باہمی سیاست سے ہمیں ایک دوسرے سے ایسا بیگانہ کر دیا ہے کہ اب اگر سڑک پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو ہم لوگ خاموش تماشائی بنے کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتے۔ آج ہمارا ملک گوں نا گوں مسائل میں گھرا ہوا ہے آج معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہے ایک طرف شاہراہوں پر چمکتی دمکتی گاڑیاں ہیں اور دوسری طرف غریب مر رہے ہیں۔ انسانیت کا معیار صرف دولت اور مادیت پرستی ہے۔حتیٰ کہ زمانے کے معاشرتی اور اخلاقی اقدار میں تبدیلی آچکی ہے۔یوں لگتا ہے یہ دور صرف سرمایہ داری کادور ہے، یہاں جس انسان کے پاس جتنی زیادہ دولت ہو گی اسی قدر اسے معاشرے میں قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔ گویا کہ شرفِ انسانی کی کوئی قدروقیمت ہی نہ ہو۔ اور یہ سب اس نئے زمانے کی دین ہے جس نے ہماری اخلاقی اور سماجی قدریں پامال کر دی ہیں ۔

 

انسان کے اندر سے انسانیت کا جوہر ختم ہوچکا ہے۔ دنیا کی ہوس اور لالچ نے لوگوں کے اندر انسانیت کے چھپے ہوئے عنصر کو ختم کردیا ہے اس قدر نفسا نفسی کا عالم ہے کہ لوگوں کے اس ہجوم میں انسان تلاش کرنا مشکل ہوگیاہے۔ درحقیقت آج کل زمیں پر جنگ کا بازار گرم ہے اور انسانی لہو پانی سے بھی ارزاں ہو کر رہ گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ انسان کل بھی جنگلوں کا مکین تھا اور آج بھی اس کا مسکن جنگل ہی ہیں آج انسان کے ظاہر و باطن میں تضاد ہے اور یہی تضاد انسانیت کو موت کی جانب دھکیل رہا ہے۔

 

غلطی کچھ ہماری بھی ہے ہم نے ہر بات کو حکومت پر ہی ڈالا ہوا ہے اور اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔اگر ہم خود قطرہ قطرہ کر کے اس ملک کو سنوارنے میں اور اس وطن عزیز کے موجودہ حالات کو ٹھیک کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں تو وہ دن دور نہیں کہ اس ملک کا شمار بھی ترقی یافتہ ممالک میں ہو نے لگے گا۔

 

تو آئیے! آج سے عہد کریں کہ ہم اپنے حصے کا کام خود کریں گے۔ پاکستان کو عظیم بنانے میں اینٹ ہمارے حصے کی ہے وہ ہم ضرور لگائیں گے۔ ہمارے عمل سے ہی ہمارا معاشرہ سنورے گا اور ہمارا ملک ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔ پاکستان ہم سب کی پہچان ہے۔ آئیے اپنی پہچان کو بہتر، مضبوط اور شاندار بنائیں۔


[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP