امریکی تھنک ٹینکس اورپاکستان

آج کل امریکی 

Think Tanks 

سپاہِ دانش بانیانِ پاکستان کے حقیقی تصورِ پاکستان کے انہدام اور ایک ایسے نئے تصورِ پاکستان کی ایجادمیں کوشاں ہیں جو ایشیا میں امریکہ بھارت اتحادِ فکر و عمل کے فروغ و استحکام کاضامن بن سکے ۔ چنانچہ پاکستان کے حکمران طبقے کو نِت نئے دلائل سے نظریاتی ترمیم پسندی کے فوائد سمجھائے جا رہے ہیں۔امریکی تھنک ٹینکس (سپاہِ دانش) کی ایک پوری بٹالین سٹیفن کوہن کی قیادت میں کتاب پر کتاب شائع کرنے اور پھر انگریزی سے اُردو میں منتقل کرنے پر مامور ہے۔میں نے اپنی کتاب ،'' فتنۂ انکارِ پاکستان ''میں سٹیفن فلپ کوہن کی کتاب

The Idea of Pakistan

کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ پیش کیا تھا۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اِس کتاب کا اصل عنوان

The Idea of Greater India

  ہو۔پاکستان کے حقیقی تصور کی نفی میں لکھی گئی اِس کتاب میں سٹیفن فلپ کوہن نے برملا اعلان کیا تھا کہ پاکستان پر یہ لازم آتا ہے کہ وہ اپنی قومی شناخت کے اسلامی سرچشموں کو خُشک کر دے :

"Without question, Pakistan must transform the "Islamic" component of its identity and bring the idea of Pakistan into alignment with twenty first century realities."(1)

درج بالا سطور میں جس تحکمانہ انداز میں پاکستان کو اپنی نظریاتی شناخت سے دستبردار ہو جانے کی ہدایت کی گئی ہے وہ علمی تجزیہ و تحقیق کا اسلوب ہر گز نہیں۔یہ تو اپنے مفتوحہ خطہء ارض کے باشندوں کو ایک فاتح فوجی کمانڈر کا حکم ہے۔ایک ایسا حکم جس سے غلاموں کو سرتابی کی مجال نہیں۔ یہ اسلوب و ادا اُن کے موجودہ منصب کی عطا ہے-سٹیفن کوہن نے اوّل اوّل سیاسیات اور تاریخ کے یونیورسٹی پروفیسر کی حیثیت میں درس و تدریس اور تحقیق و تفتیش میں نام پیدا کیا تھا ۔ بعد ازاں وہ فورڈ فائونڈیشن کی دہلی برانچ سے ہوتے ہوئے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پالیسی پلاننگ سٹاف میں جا شامل ہوئے تھے۔' ہر کہ درکانِ نمک رفت نمک شُد'کے مصداق موصوف کا یہاں پہنچ کراہلِ علم و دانش کا سا انکسار جاتا رہا اور اُس کی جگہ اُن کے لب و لہجے میںسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رعونت نے لے لی- اب وہ پہلے کے سے منفرد اور ممتاز حقیقت شناس ماہرِ تاریخ و سیاسیات نہ رہے-چنانچہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے سامراجی منصوبوں کے حق میںحقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے جوہر دکھانا اُن کا فرضِ منصبی ہو گیا- ان دنوں وہ واشنگٹن ڈی سی میں قائم

Brookings Institution

کے تعلقاتِ خارجہ کے شعبے میں اپنی ذہانت کے جوہر دکھا رہے ہیں۔

اِسی شعبے میںپاکستان کے مستقبل کے چند بھیانک منظرنامے پیش کرنے کی خاطر انہوں نے ایک پراجیکٹ کا اہتمام کیا-اِس پراجیکٹ میں پیش کئے گئے مضامین کو سٹیفن کوہن نے ''پاکستان کا مستقبل ''کے عنوان سے زیرِ نظر کتاب میں شامل کر دیا ہے-کتاب کے آغاز میں انہوں نے

Pakistan: Arrival and Departure

(پاکستان: آمدورفت)کے عنوان سے اپنا طویل مضمون درج کر دیا ہے-اپنے اِس مضمون میں بھی اُنہوں نے یہ رونا رویا ہے کہ قیامِ پاکستان سے برِصغیر کی وہ جغرافیائی وحدت ٹوٹ گئی تھی جو پہلے مغل سلاطین نے قائم کی تھی اور بعد ازاں برطانوی استعمار نے -وہ گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف دوڑاتے ہوئے برِصغیرمیں برٹش انڈیا کی سٹریٹیجک وحدت کا ازسرِ نو حصول چاہتے ہیں-وہ برصغیر کا مستقبل اُس کے غلام ماضی میں دیکھتے ہیں:

"Were Pakistan to normalize its relations with India, then cooperation might be extended across the board, restoring the strategic unity of the Subcontinent, which was lost during the 1947 partition."(2)

سٹیفن کوہن کی یہ تمنّا پوری ہوتی نظر نہیں آتی-خود اُنہیں اِس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ایں خیال است و محال است و جنوں-

"The prospects of restoring South Asia's strategic unity are now low to zero given China's new influence and India's ambivalence over normalization of relations with Pakistan."(3)

سٹیفن کوہن کو خطے میں چین کے روزافزوں اثر و رسوخ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی عسکری قوت بھی پاکستان کی جغرافیائی سا  لمیت کے تحفظ کی ضامن نظر آتی ہے-چنانچہ وہ پاکستان کے عسکری وجود کی تباہی کو اپنے خوابوں کی اُلٹی تعبیر سے ہر آن خائف رکھتی ہے-

"In the longer term the breakup of Pakistan is possible, as I discussed in The Idea of Pakistan, but any breakup would be preceded by the disintegration of the army, either after a war or because of ethnic and sectarian differences, or by the splitting of the army by some Punjabi political movement. None of that seems likely or plausible at the moment, but the breakup of the Soviet Union was also unexpected and unpredicted by most Soviet experts."(4)

اِس کتاب میںپاکستان کے حکمران طبقے کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر وہ جان کی امان چاہتا ہے توپاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت کو مٹا کر ایک ایسے نئے خطۂ خواب کی جانب تیزی سے پیش قدمی میں دیر نہ کرے جہاں امریکہ اور بھارت اُس کی پذیرائی کو تیار بیٹھے ہیں۔اِس پہ مجھے قائداعظم اور مہاتما گاندھی کے مابین ٩ستمبر ١٩٤٤ء کو شروع ہو کر اٹھارہ روز تک جاری رہنے والے مذاکرات یاد آئے ہیں۔ اِن مذاکرات کے دوران مہاتما گاندھی مسلسل اور متواتر یہ استدلال پیش کرتے رہے ہیں کہ اگر قائداعظم تصورِ پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت سے دستبردار ہو جائیں توبرصغیر کی آزادی کے موضوع پراِن مذاکرات کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔اِس کے جواب میں قائداعظم تصورِ پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت کے باب میں کسی بھی نوعیت کی ترمیمِ نظر پر رضا مند نہ ہو سکے تھے۔بعد ازاںسن اُنیس سو چھیالیس کے انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کی شاندار کامیابی کے بعد برطانوی حکومت نے انتقالِ اقتدار کے بجائے مسلم لیگ کی قیادت پر تصورِ پاکستان سے دستبردار ہو جانے کے لئے دبائو ڈالنا شروع کر دیا تھا۔یہ ہماری خوش بختی ہے کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے برطانوی حکومت کی ایک نہ چلی اور بالآخر اُسے ، کٹا پھٹا ہی سہی، پاکستان دینا پڑگیاتھا۔

ضمیرِلالہ و گُل کی پکار بن کے اُٹھو

اُٹھو تو شعلۂ رنگِ بہار بن کے اُٹھو

تمہاری راہ میں آنکھیں بچھائیں گے تارے

دلوں میں دردِ غمِ انتظار بن کے اُٹھو

بڑھو خلوصِ تہوّر سے جانبِ منزل

غرورِ گردِ سرِ راہ گزار بن کے اُٹھو

ابھی خزاں کے تلاطم میں ہے سفینۂ گُل

روش روش سے نشانِ وقار بن کے اٹھو

نکھر نکھر کے ملے گا جمالِ سرو و ثمن

سرورِ خونِ  رگِ شاخسار بن کے اُٹھو

تمہی پہ وقت کی صورت گری بھی لازم ہے

کبھی تو خالقِ لیل و نہار  بن کے اُٹھو

(جلترنگ۔ قتیل شفائی)

 

 آج جب پاکستان ایک حقیقت ہے امریکی سپاہِ دانش مہاتما گاندھی کے اُسی فرسودہ استدلال کے سہارے عقلِ عیاّر کے جوہر دکھانے میں مصروف ہے۔چنانچہ ''دی آئیڈیا آف پاکستان '' کے فوراً بعد سٹیفن فلپ کوہن کی ایک نئی کتاب بعنوان ''دی فیوچر آف پاکستان'' منظرِعام پر آ گئی ہے۔پاکستان کے مستقبل کے موضوع پر یہ کتاب دراصل تصورِ پاکستان پر فلپ کوہن کی متنازعہ کتاب کے تسلسل میں تیار کی گئی ہے۔کتاب کے موضوع کے تعارف(Introduction) میں پاکستان کے ہمسایہ ممالک اور دُور و نزدیک ممالک کے لئے پاکستان کے مستقبل کی اہمیت کی چھ وجوہات درج کی گئی ہیں۔نیوکلیئر قوّت ، جہادی تنظیموں اورمعاشی بحران کے خطرناک مضمرات کے ساتھ ساتھ پاکستان کی قومی شناخت سے پھوٹنے والا پاک بھارت تنازعہ بھی پاکستان کے مستقبل کے لئے ایک سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے:

"The identity-based dispute with India continues, and it is likely that new crises between the two will take place sometime in next several years."(5)

سٹیفن کوہن ایک مدت سے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو یہ سمجھانے میں دُور کی کوڑیاں لانے میں مصروف ہیںکہ پاکستان اپنی حقیقی قومی شناخت کو مٹا کر اوربھارت کے مفیدِ مطلب ایک نئی قومی شناخت اپنا کر اپنا مستقبل محفوظ اور شاندار بنا سکتا ہے۔اگر پاکستان فلپ کوہن کی تراشی ہوئی یہ راہِ عمل اختیار نہیں کرتا تو پھر وہ ایشیا میں ایک خطرناک تخریبی قوّت بن کر رہ جائے گا:

"Pakistan could be a major disruptive force in South, Southwest and Central Asia, ruining India's peaceful rise and destablizing the Persian Gulf and Central Asian regions."(6)

درج بالا عبارت کے بین السطور نہاں مفہوم سے عیاںہے کہ پاکستان کی حقیقی قومی شناخت سے سب سے بڑا خطرہ ایشیا میں بھارت کی بالادستی قائم کرنے کے امریکی عزائم کو درپیش ہے۔سٹیفن کوہن کے نزدیک پاکستان کے مستقبل کوسنوارنے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستان بھارت کے  'peaceful rise'

کی خاطر بھارت کی تابع فرمان ذیلی ریاست کا مقام قبول کر لے۔اِس مقصد کے حصول کی خاطر اُسے اپنی منفرد قومی شناخت سے

دستبردار ہونا پڑے گا۔اِس طرح اُس کا بھارت کے ساتھ شناخت کا تنازعہ 

(identity-based dispute)

ختم ہو کر رہ جائے گا اور یوں آس پاس اور دُور و نزدیک کے ممالک میں امن و امان کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکے گا۔یہ کتاب بھی چونکہ

Brookings Institution

کے ایک پراجیکٹ کا حاصل ہے اِس لئے اِسے فقط ایک دانشور اور اُس کے چند ساتھی دانشمندوں کی علمی کاوش سے زیادہ ایک پراجیکٹ کا حاصل سمجھنا چاہئے۔امریکی سپاہِ دانش یہ باور کرانے میں منہمک ہے کہ دُنیا کو ''اسلامی انتہا پسندی'' کی قوّتوں سے نجات بخشنے کی خاطر امریکہ اور بھارت مشترکہ فوجی جارحیت سے آناً فاناًپاکستان کے ریاستی وجود کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیں:

"The fall of Pakistan to radical Islamic forces would be clamitous for the rest of the world. The possibility of nuclear war on the Asian subcontinent would be increased.....Faced with such a foe, the United States would probably have little choice but to strike first. With Indian forces waiting anxiously to move in, the final collapse of the Pakistani state would be a near certainty.....Sadly, there is probably very little the rest of the world can do to prevent this." (Schmidt, John R. (2009) 'The Unravelling of Pakistan', Survival, 51:3,29-54)

دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کے دو اتحادی ممالک …امریکہ اور بھارت…کی پاکستان کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی یہ پیش گوئی کسی مداری کی پٹاری سے برآمد نہیں ہوئی ۔یہ تو ایک ماہرِ سیاسیات اور ماہرِ پاکستانیات سابق امریکی سفارت کار اور حالیہ پروفیسرکی سوچی سمجھی اورتحقیق کے مسلمّہ علمی معیاروں کی روشنی میں لکھی گئی تحریر کا آخری پیرا گراف ہے۔اِس کے مصنف جان۔ آر۔ سمتھ امریکہ کی فارن سروس میں اہم اسامیوں پر متعیّن رہے ہیں۔موصوف 1998ء سے لے کر2001ء تک اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں پولیٹیکل کونسلر کی حیثیت میں کام کرچکے ہیں اوراِن دنوں جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں پاکستانیات کے اُستاد ہیں۔ اُن کا زیرِ نظر مقالہ بعنوان

"The Unravelling of Pakistan" )

مملکتِ  پاکستان کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دینے کی ضرورت )پاکستان کے سیاسی کلچر پر ایک اہم اور فکر انگیز تصنیف ہے۔ مقالے کا آخری پیرا گراف آپ نے پڑھ لیا ہے، اب پہلے پیراگراف کی ابتدائی سطریں بھی پڑھ ڈالیں:

"Armed with nuclear weapons, home to al-Qaeda, and heavily infested with a growing mass of domestic radical Islamists, Pakistan has been famously called the 'most dangerous place on earth'. At the root of the country's problems is a feudal political establishment primarily interested in promoting and preserving its own narrow class interests and unable or unwilling to seriously address the myriad threats the country faces. "

درج بالا سطروں میں پاکستان پر عائد کی گئی فردِ جرم کے تین حصے ہیں۔اوّل: ایٹمی قوت دوم: القاعدہ کا مسکن سوم: ریڈیکل اسلام پسندوں کی روز افزوں مقبولیت۔اب آئیے ایک ایک کر کے ہر تین جرائم کا جائزہ لیں۔ اوّل: ایٹمی قوّت کا حصول اگر گناہ ہے تو یہ گناہ سب سے پہلے خود امریکہ نے کیا ہے۔ امریکہ نے نہ صرف دُنیا میں سب سے پہلے ایٹمی ہتھیار تیارکئے بلکہ ایشیا کی ایک اُبھرتی ہوئی قوت کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال بھی کئے۔ اِس اعتبا ر سے دیکھیں تو دُنیا کو اِس وقت بھی سب سے بڑا خطرہ امریکہ کے پنجۂ خونیں سے ہے۔ دوم: القاعدہ کا مسکن سے متعلق الزام کا جواب تومرزاغالب دے چکے ہیں۔ہم بھی وہی مصرع دُہرا دیتے ہیں…ہرچند کہیں کہ ہے ، نہیں ہے! سوم: اسلام کے نام پر دہشت گردی کے فروغ کے ضمن میں سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ یہ دہشت گردی خطے میں نیٹو دہشت گردی کا ردِعمل ہے۔

میں زیرِ نظر تحقیقی مقالے کو پاکستان کے سیاسی کلچر پر ایک اہم اور فکر انگیز تجزیہ سمجھتا ہوں۔ اگر ہم مقالے کا ابتدائی اور اختتامی پیرا گراف حذف کر دیں تو یہ مقالہ پاکستان کی اشرافیہ کے ذہن و ذوق کا حقیقت افروز تجزیہ قرار پائے گا۔ مقالہ نگار نے ہماری سیاست اور معاشرت کا بڑی گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے سیاسی کلچر کو جاگیردارانہ سیاسی کلچر قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سیاستدان ہمیشہ اپنے مخصوص ذاتی اور گروہی مفادات کے حصول میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اُنہیں قومی مفادات کو ذاتی مفادات کی خاطر بالائے طاق رکھنے کے گُر خوب آتے ہیں۔ پاکستان کی صرف ایک فیصد آبادی ٹیکس دیتی ہے باقی سب کے سب ٹیکس چور ہیں۔ اُنہیں سب سے زیادہ غُصّہ اِس بات پر آیا ہے کہ پاکستان کے سیکولر دانشور بھی دل ہی دل میں پاکستان کی اسلامی شناخت کا دم بھرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ''ریڈیکل اسلام ''کے روز افزوں فروغ کو روکنا پاکستان کے اہلِ سیاست اور اہلِ دانش کے بس کی بات نہیں۔ اِس صورتِ حال سے امریکہ اور نیٹو اتحاد کو یہ جان لینا چاہئے کہ پاکستان اُن کے کسی کام کا نہیں۔سو،پاکستان کے وجود سے نجات ہی میں دنیا کی نجات مضمر ہے:

"Should resistance fail, the scene may be set for the final unravelling of the Pakistani state. This could come with explosive suddenness, unfolding like the Iranian Revolution, with a recalcitrant Army crumbling and the feudals rushing for the nearest exits.....Never in their entire history have Pakistan's elites, the Army included, been willing to tackle serious problems head on."

درج بالا پیرا گراف سے شروع ہونے والے مقالے کا باقی ماندہ متن پڑھ کر میں حیران پریشان ہو کر رہ گیا۔ سوچنے لگاکہ انسان دوستی ، وسیع النظری اور سائنسی دانشمندی کا دم بھرنے والے مغربی سکالر پاکستان اور اسلام کا نام آتے ہی کیونکر فاشسٹ بن جاتے ہیں؟مان لیا کہ اِس وقت دُنیائے اسلام اور پاکستان کا حال بہت بُرا ہے مگر اِن بُرے حالوں بھی ہمارا نام آتے ہی یہ نام نہاد ترقی پسند دُنیاکیوں خوف سے تھر تھر کانپنے لگتی ہے؟ شاید دُنیائے اسلام کا ماضی اُنہیں بُھلائے نہیں بُھولتا اور وہ ہر آن اِس اندیشے میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں پھر اسلام کی وہ سائنسی رُوح بیدارنہ ہو جائے جس نے ایک وقت میں یورپ کی تاریکیوں میں علم اور عقل کی شمعیں روشن کر کے دُنیائے مغرب کے

Dark Ages

کو منوّر کر دیا تھا۔ہر چند آج کی دُنیائے اسلام فی الواقع دُنیائے انسانیت میں ایک روحانی اور مادی انقلاب برپا کر سکتی ہے۔یہ انقلاب دائرۂ امکان میں ہے۔ شاید اِسی لئے مقالہ نگار کے سے دانشور اِن امکانات کا دروازہ بند کرنے کی خاطر پاکستان کے ریاستی وجود کو ملیا میٹ کر دینے کے خواب دیکھ رہے ہیں!

                ٭٭٭

حواشی

١  سٹیفن فلپ کوہن، دی آئیڈیا آف پاکستان(اُردو ترجمہ : تصورِ پاکستان)، لاہور، وین گارڈ بُکس، ٢٠٠٨ئ، صفحہ ٢٩٩

٢  ایضا، صفحہ ٦٢  (٣)  ایضا، صفحہ ٦٢  (٤) ایضا، صفحہ ٥١


مضمون نگار ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ 

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP