امریکہ اور ہندوستان۔۔۔ نئی دوستی کی تلاش میں

کواڈ Quad سکیورٹی ڈائیلاگ کا شور ایک بار پھر اٹھ گیا ہے، لیکن کیا یہ 2007کی طرح ایک ڈائیلاگ ہی ثابت ہوگا یا ایک ٹھوس اتحاد کی شکل اختیار کرسکے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب Asia-Pacrfic خطّے پر نظر رکھنے والے ماہرین ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مئی 2007میں جب چین کو تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت کی حیثیت سے سنجیدگی سے لیا جانے لگا تو امریکہ نے جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے ساتھ مل کر اس کے گرد ایک حصار باندھنے کی کوشش کی اور اسی سال کے ماہ مئی میں فلپائن کی دارالحکومت منیلا میں آسیان علاقائی فورم کی سائیڈ لائنز پرQuad یعنی چاروں ممالک کے سربراہان کے درمیان ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ان چاروں ممالک نے چین کے ایک عالمی طاقت کی حیثیت سے ابھرنے کے تناظر میں آپس میں مربوط تعاون شروع کرنے اور چین کی پھیلتی ہوئی طاقت پر روک لگانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس وقت کئی وجوہات کی بناء پر یہ ڈائیلاگ ایک ٹھوس اتحاد میں تبدیل نہیں ہو سکا، جس میں چین کی جانب سے شدید رد عمل، جاپان میں ابتر سیاسی صورتحال کے باعث شنزو ایبے کا استعفی، ان ممالک کا چین کی ترقی سے اقتصادی فوائد اٹھانے کی خواہش اور اس ترقی سے کسی حد تک خوش امیدی رکھنااورامریکہ سے چین کو ایک ذمہ دارابھرتی عالمی طاقت کی حیثیت اپنانے کے لئے تیار کرنے کی امیدیں شامل تھیں۔ لیکن گزشتہ ایک دہائی میں بہت کچھ بدل گیا۔ چین نے صدر شی جن پنگ کی حکومت میں ایک پٹی ایک شاہراہ  One Belt One Road جیسی بڑی پالیسیوں کے ذریعے دنیا کے کئی براعظموں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کا آغاز کردیا، بحیرہ جنوبی چین کا بیشتر حصہ اس کے کنٹرول میں چلا گیا، امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آگئے اور وہ بین البحرالکاہلی شراکت داری معاہدے سے دستبردار ہوگئے۔ جس کی وجہ سے اس خطے میں امریکی حیثیت کمزور ہونے کے عمل میں تیزی آئی۔ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت آئی جس نے Look East Policy سے   Act East Policyجیسے نعروں میں شدت لاکر ملک کی خارجہ پالیسی کو نئی جہتوں پر ڈالنے کا آغاز کردیا۔ چین اور امریکہ تجارتی جنگ میں آمنے سامنے آگئے اور چین کی جاپان اور بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات میںکسی حد تک شدت آگئی۔ اس پورے منظرنامے نے ایک ایسا ماحول پیدا کردیا جس میں کواڈاتحاد کے دوبارہ تشکیل کی باتیں شروع ہوگئیں اور جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے نے گزشتہ برس ستمبر میںاپنے دورہ بھارت میں انڈین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ''ایک طاقتور جاپان اور ایک طاقتور بھارت ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرسکتے ہیں۔'' اسی طرح امریکہ نے دسمبر میں جاری کی گئی قومی سلامتی اسٹریٹجی میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک اور دفاعی شراکت داری میں اضافہ کرکے ایشیا پیسفک خطے میں بھارت کی ''بڑی عالمی طاقت''کی حیثیت کی حمایت کرے گا۔ اس کے بعد گزشتہ ماہ امریکی وزیردفاع جیمز میٹس نے سنگاپور میں سالانہ سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کے لئے سفر کے دوران بھارت کو ایشیا پیسفک خطے میں سکیورٹی کا مرکز قرار دے کر ا سے ''کواڈ'' میں فعال کردار ادا کرنے کے لئے تیار کرنے کی کوشش کی۔جس کے بعد کواڈ اتحاد پر دوبارہ تبصرے شروع ہوگئے ہیں۔

 

بین الااقوامی سیاست کے کچھ ماہرین اس اتحاد کو ''ایشیائی نیٹو'' کا نام بھی دینے لگے ہیں۔ ان کے مطابق مغرب میں روس کے گرد حصار باندھنے کے لئے کمیونزم کے غبارے میں ہوا بھری گئی اور اس کے خلاف جمہوریت کے نام پر (سرمایہ دار)ممالک نے امریکہ کی سربراہی میں نیٹو اتحاد تشکیل دے دیا۔ اب اس قسم کی آئیڈیالوجی چین کے خلاف استعمال کی جارہی ہے۔ جس میں یہ کہہ کر کواڈ سکیورٹی ڈائیلاگ کی بنیاد رکھی گئی کہ امریکہ، جاپان، آسٹریلیااور بھارت جیسی بحری جمہوری قوتیں مطلق العنان چین کی پالیسیوں پر نظر رکھیں گی اور خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کریں گی۔ ان ماہرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چین کے گرد حصار باندھنے کی باراک اوبامہ کی سابق حکومت کی Pivot to Asia پالیسی ختم کرنے کے بعد اب کواڈ کے ذریعے یہ مقصد پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جبکہ اس کے ذریعے چین کی ایک نئی ایک شاہراہ (One Belt One Road) پالیسی کا توڑ بھی کرنا چاہتی ہے لیکن اس اتحاد کی کامیابی کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں۔ مثلاً یہ چاروں ممالک چین کے ایک نئی ایک شاہراہ (One Belt One Road) منصوبے پر اپنے اپنے انداز سے اعتراضات اٹھا رہے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ایشیاء پیسفک خطے کے ترقی پذیرممالک کو 2030تک انفراسٹرکچر کی مد میں 26ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہے اور چین کا یہ منصوبہ پوری دنیا میں ٹرانسپورٹ راستے بناکر یہ انفراسٹرکچر تعمیر کر نے کی ضرورت پوری کررہا ہے، جس کے نتیجے میں چین عالمی معیشت میں مرکزی حیثیت حاصل کر رہا ہے۔ ان چاروں ممالک کے پاس چین کے اتنے بڑے منصوبے کا کوئی متبادل نہیں ہے اور وہ اب تک صرف زبانی مخالفت یا جمع خرچ پر اکتفا کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بین الاقوامی تعلقات میں اپنا اعتماد بری طرح کھوچکے ہیں۔ انھوں نے اقتدار میں آکر پہلے نیٹو اور جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ امریکہ کے سکیورٹی معاہدوں پر شدید تنقید کی اور پھر عالمی معاہدوں سے نکلنا شروع کردیا۔ انھوں نے اپنے اقتدار کے صرف ڈیڑھ برس کے عرصے میں امریکہ کو ماحولیاتی تبدیلی کے پیرس معاہدے، بین البحرالکاہلی شراکت داری معاہدے اور ایرانی جوہری معاہدے سے نکال لیا جو کئی برس تک عالمی سفارتکاری کی شدید محنت کے بعد وجود میں آئے تھے۔ وہ اس وقت امریکہ کے قریبی اتحادی یورپ،جرمنی اور کینیڈا کی مصنوعات پر تجارتی ٹیرف عائد کر رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے قائم خوشگوار تعلقات کو خاطر میں نہیں لارہے۔ ان کے رویّے سے یورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹسک جیسے امریکی دوست یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ'' ڈونلڈ ٹرمپ کے ہوتے ہوئے کسی کو دشمن کی ضرورت ہی کیا ہے؟'' اس ماحول میں جاپان، آسٹریلیا اور بھارت جیسے ممالک کے لئے یہ فیصلہ ہرگز دانشمندانہ نہیں ہوگا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدوں پر اعتبار کریں اور چین جیسی حقیقی علاقائی طاقت کے ساتھ براہ راست تصادم کا خطرہ مول لیں، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب وہ اس کے ساتھ اچھے تجارتی تعلقات رکھتے ہیں جس سے ان کی معیشتوں کو تقویت مل رہی ہے اور ٹرمپ انتظامیہ ابھی تک اس گومگو کی کیفیت سے نہیں نکل سکی ہے کہ وہ امریکی سکیورٹی معاہدوں کے تحت اپنے دوست ممالک کی سکیورٹی کو یقینی بنائے یا وہ یہ ''بوجھ'' خود اٹھائیں؟تیسری بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ان ممالک کے چین سے مسائل بالکل الگ الگ نوعیت کے ہیں۔ امریکہ کا چین کی پھیلتی ہوئی معاشی،سیاسی اور اسٹریٹجک طاقت کے خلاف اتحاد قائم کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن باقی ممالک کے مسائل بالکل مختلف ہیں۔ جاپان چین کے ساتھ سینکاکو(Senkaku)، ڈیاویو (Diaoyudao) جزیروں پر خودمختاری اوربھارت سرحدی تنازعات رکھتا ہے اور یہی تنازعات ان کی کشیدہ سیاسی تعلقات کی جڑ ہیں۔ تو کیا اگر یہ ممالک چین کے گرد حصار باندھنے کی کوشش میں امریکہ کا مکمل ساتھ دیتے ہیں اور چین کی کھلی دشمنی مول لیتے ہیں تو امریکہ یہ مسائل حل کرا سکتا ہے؟امریکہ نہ ایسا کرسکتا ہے اور نہ سوچ سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک China Containment Policyمیں امریکہ کی حمایت کا دم تو بھرتے ہیں لیکن چین کے ساتھ تعلقات بگاڑنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوتے۔ ان حالات میں جب گزشتہ ماہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے سنگاپور میں سالانہ سکیورٹی کانفرنس میں بھارت کو انڈوپیسفک خطے کا مرکز قرار دیا جس میں بھارت کو بھی پہلی بار مدعو کیا گیا تھا تو بھارتی وزیراعظم نے اس سلسلے میں ان کے لئے ایسی سردمہری دکھائی کہ اپنی تقریر میں کواڈ کا ذکر تک نہیں کیا۔ البتہ انھوں نے یہ کہا کہ اگر چین اور بھارت مل کر کام کریں گے تو اس سے ایشیا اور پوری دنیا کو بہتر مستقبل ملے گا۔

 

بھارتی مؤقف میں یہ تبدیلی کئی سردوگرم دیکھنے کے بعد آئی ہے۔ نریندر مودی جب2014کے انتخابات جیت کر اقتدار میں آئے تو انھوں نے Act East Policyکے تحت چین کی بڑھتی ہوئی طاقت پر روک لگانے کی کوشش شروع کی۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں گراوٹ پیدا ہونا شروع ہوئی اور بالآخر گزشتہ برس ڈوکلام تنازعے میں دونوں طرف کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئیں۔ امریکہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی ایشیا پیسفک پالیسی کو انڈوپیسفک پالیسی میں تبدیل کردیا۔ چین اس صورتحال پر شدید ناراض تھا اورجب نریندر مودی نے اپریل میں بیجنگ کا دورہ کیا تویہ رپورٹس آئیں کہ صدر شی جن پنگ نے باقاعدہ ان سے اس سلسلے میں وضاحت مانگ لی ہے اورمودی نے اپنے مؤقف میں نرمی دکھائی اور انھوں نے جاپان، امریکہ سالانہ مشقوں میں آسٹریلیا کو شامل کرنے کی مخالفت کی۔ یہ سب امریکہ کی مرضی کے خلاف تھا اور اس سے یہ اشارے ملے کہ مودی اب ہرگز چین کے ساتھ براہ راست تصادم نہیں چاہتے۔ دراصل چین نے بھارت کے پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیپ اور نیپال کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے کے ذریعے بھارت کو خطّے میں بڑی حد تک تنہا کر دیا ہے اور اس کے بڑی علاقائی طاقت کے زعم کو خاک میں ملادیاہے جبکہ گزشتہ برس ڈوکلام تنازعے میں بھی اسے ہزیمت اٹھاناپڑی جب اس نے چین کے دبائو کے سامنے گھٹنے ٹیکے اور اپنی فوج پیچھے ہٹا لی۔ اب مودی اگلے برس عام انتخابات میں جارہے ہیں اور وہ چین جیسے مضبوط ملک کے ساتھ زورآزمائی کرکے اپنی رہی سہی ساکھ کھونا نہیں چاہتے اور یہ بھی تعلقات میں مثبت پیش رفت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اب اگربھارت ایک طرف پاک چین اقتصادی راہداری پر اعتراض کرکے اس میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں تو دوسری جانب وہ BCIMاقتصادی راہداری منصوبے پر خوش ہے۔ جو بھارت اور چین کے درمیان پہلی ایکسپریس وے ہوگی جو بنگلہ دیش اور میانمر سے بھی گزرے گی۔ بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کا بھی رکن بن چکا ہے اور چین نے اسے رکنیت دینے میں خاص دلچسپی لی ہے۔ اپریل میں مودی کے دورہ چین کے دوران دونوں رہنمائوں کی جانب سے بہت مثبت پیغامات سامنے آئے جس میں شی جن پنگ نے کہا تھا، ''چین بھارت کے ساتھ تعلقات کوصحیح راستے پر ڈالنا چاہتا ہے، مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں،چین سیاسی اعتماد میں اضافے، باہمی مفید تعاون کو آگے بڑھانے اور تعلقات میں مزید بہتری کے لئے بھارت کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہے۔'' اس دورے کے دوران بھارت کے سیکرٹری خارجہ وجے گوکھلے نے کہا تھا۔ ''دونوں رہنمائوں نے پرامن مذاکرات کے ذریعے تمام اختلافات نمٹانے پر اتفاق کیا ہے۔''بے شک دونوں ممالک کے اختلافات کی جڑیں گہری ہیں اور تعلقات آئیڈیل مقام پر لانے کے لئے طویل عرصے تک ایسی مثبت کوششیں درکار ہوں گی لیکن کم از کم فی الوقت تعلقات میں گرمجوشی نظر آرہی ہے اور اس بات کے کوئی امکانات نہیں ہیں کہ بھارت کواڈ جیسے اتحاد میں شامل ہوکر یہ تعلقات خراب کرنے کو تیار ہوجائے گا۔امریکہ نے ماضی میںچین کے گرد جس انداز سے بھی حصار باندھنے کی کوشش کی ہے اس میں ہر پالیسی میں بھارت کو خاص اہمیت دی جاتی رہی۔اس پالیسی سے چین کا تو کچھ نہیں بگڑ سکا البتہ بھارت نے کئی مقامات پر منہ کی کھائی ہے اور اب نریندر مودی کی حکومت اس راہ پر مزید چلنے کے لئے تیار نہیں ہے اور اسی طرح بھارت کے بغیر کواڈ اتحاد کی کامیابی کے کوئی چانسز نہیں ہیں۔


مضمون نگار ایک معروف صحافتی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

farkhundiqbal@yahoo.com

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP