الیکشن 2018

پاکستان دنیا کاپانچواں بڑاجمہوری ملک

پرامن اورشفاف انتخابات کاانعقاد

عالمی اداروں کی طرف سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے انتظامات کوسراہاگیاہے،نئی حکومت سے عوام کوبہت سی توقعات وابستہ ہیں۔

قومی وصوبائی اسمبلی کی عام نشستوں پرغیرمسلم امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی،بعض خواتین امیدواروںنے عام نشستوں پرمردامیدواروں کامقابلہ کیااورجیت گئیں۔

تمام اداروں اورووٹرزنے اپنی ذمہ داریاں پوری کردیںاب نومنتخب حکومت پرمنحصرہے وہ ملک وقوم کودرپیش مسائل حل کرنے کے لئے کیااقدامات کرتی ہے۔

پولنگ سٹیشنزپرپاک فوج کے افسروں اورجوانوں کوگلدستے اورپھول پیش کئے گئے۔پاک فوج سے محبت اوریکجہتی کے کئی مناظردیکھنے میں آئے۔

میڈیانے بھی ووٹرزکوگھروں سے نکالنے اورانتخابات کوکامیاب کرانے میں اہم کرداراداکیا۔

الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 220اور245کے تحت مسلح افواج سے آزادانہ ،منصفانہ اورشفاف انتخابات کے انعقادکے لئے تعاون طلب کیاتھا۔

الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 220اور245کے تحت مسلح افواج سے آزادانہ ،منصفانہ اورشفاف انتخابات کے انعقادکے لئے تعاون طلب کیا تھا۔ فوج نے یہ ذمہ داری آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احسن طریقے سے پوری کی ۔عام انتخابات میں فوج کاکام پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر امن وامان کی صورتحال بہتربناناتھاتاکہ ووٹرزآزادی سے ووٹ ڈال سکیں۔ ووٹرزکوبیلٹ پیپرجاری کرنااورپولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کرنا اور نتائج تیارکرنا،الیکشن کمیشن کے عملے کاکام تھا۔سیاسی جماعتوں اورامیدواروں کی طرف سے انتظامات پراطمینان اور اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ بہت سے پولنگ سٹیشنزپرووٹرزنے ڈیوٹی پرموجود فوجیوںسے اظہارمحبت کے لئے انھیں گلدستے اورپھول پیش کئے۔پاک فوج اورعوام کے درمیان محبت اوراعتماد کا رشتہ بہت مضبوط اورآزمایاہواہے۔

 

 پاکستان کاشماردنیاکے پانچ بڑے جمہوری ممالک میں ہوتاہے۔پاکستان میں ووٹرزکی تعداد دس کروڑ 59لاکھ سے زائد ہے،جس میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔پاکستان کے عوام براہ راست اپنے نمائندوں کاانتخاب کرتے ہیں۔اکثریت حاصل کرنے والی جماعت حکومت بناتی ہیں ۔ وزیراعظم کاانتخاب اراکین قومی اسمبلی اوروزیراعلیٰ کاانتخاب اراکین صوبائی اسمبلی کرتے ہیں۔دنیامیں بہت سے جمہوری نظام ہیں۔ تاہم برطانیہ کے پارلیمانی نظام کی اپنی ایک اہمیت ہے،پاکستان کاپارلیمانی نظام اورطریقہ انتخاب برطانیہ سے ملتاجلتاہے۔حالیہ انتخابات میں ووٹرزکاٹرن آؤٹ 51.7فیصد سے زیادہ رہا جوبہت اچھا ہے ۔قارئین کی دلچسپی کے لئے بتاتاچلوں کہ 1990ء کے عام انتخابات میں ووٹرز کاٹرن آؤٹ 45.2اور1993ء کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح صرف 37.6فیصد تھی ۔حالیہ انتخابات میں بہترانتظامات اورسکیورٹی کی وجہ سے ووٹرز کازیادہ اعتماددیکھنے میں آیا۔ سچی بات یہ ہے کہ میں خود 25جولائی کی صبح آٹھ بجے اس خیال کے ساتھ اپناووٹ کاسٹ کرنے پولنگ سٹیشن پہنچا کہ وہاں رش نہیں ہوگااورجلدی ووٹ کاسٹ کرکے اپنے نیوزچینل میں ڈیوٹی پرپہنچ جاؤں گا،جہاں میں الیکشن سیل کی سربراہی کر رہا تھا، لیکن میں حیران رہ گیا پولنگ سٹیشن کے اندراورباہرووٹرزکی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ یہ کسی ایک پولنگ سٹیشن کاحال نہیںتھا بلکہ ہرجگہ ووٹرزبڑی تعدادمیں ووٹ ڈالنے کے لئے آئے تھے۔

 

الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 220اور245کے تحت مسلح افواج سے آزادانہ ،منصفانہ اورشفاف انتخابات کے انعقادکے لئے تعاون طلب کیا تھا۔ فوج نے یہ ذمہ داری آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احسن طریقے سے پوری کی ۔عام انتخابات میں فوج کاکام پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر امن وامان کی صورتحال بہتربناناتھاتاکہ ووٹرزآزادی سے ووٹ ڈال سکیں۔ ووٹرزکوبیلٹ پیپرجاری کرنااورپولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی کرنا اور نتائج تیارکرنا،الیکشن کمیشن کے عملے کاکام تھا۔سیاسی جماعتوں اورامیدواروں کی طرف سے انتظامات پراطمینان اور اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ بہت سے پولنگ سٹیشنزپرووٹرزنے ڈیوٹی پرموجود فوجیوںسے اظہارمحبت کے لئے انھیں گلدستے اورپھول پیش کئے۔پاک فوج اورعوام کے درمیان محبت اوراعتماد کا رشتہ بہت مضبوط اورآزمایاہواہے۔پاک فوج کے جوان ہرآزمائش میں پورے اترے ہیں۔سب جانتے ہیں دشمن کی کوشش تھی کہ فوج کی جانب سے کئے جانے والے انتظامات پرسوالات کھڑے کئے جائیں، لیکن قوم نے فوج پراپنے اعتماد کااظہارکرکے لڑانے کی سازش کوناکام بنادیا۔ فوج کے ساتھ دیگرسکیورٹی فورسز،پولیس کے جوانوں اوررضاکاروں نے بھی اپناکام ذمہ داری کے ساتھ کیااورکہیںسے کوئی بڑی شکایت موصول نہیں ہوئی ۔ الیکشن کمیشن سمیت کسی ادارے کواپنے ایجنڈے کے تحت تنقید کانشانہ بنانابہت آسان ہے،لیکن محدود وسائل کے اندررہتے ہوئے پوری دنیا کے لئے ایک مثال قائم کردینافخرکی بات ہے۔بین الاقوامی اورپاکستانی میڈیا میں آپ نے یقینا یہ رپورٹس پڑھی اوردیکھی ہوں گی جن میں الیکشن کمیشن کے انتظامات کی تعریف کی گئی ہے ۔پاکستان ایک طرف دہشت گردوں سے جنگ لڑرہاہے اوردوسری طرف پاکستانی فورسز نے کامیابی کے ساتھ ملک بھرمیں عام انتخابات کرانے کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔

 

 25جولائی کو پولنگ کے دوران تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دوردرازعلاقوں سے بھی خبریں آتی رہیں کہ چند پولنگ سٹیشن کوچھوڑ کرلوگوں میں بے حدجوش وخروش ہے اور وہ آزادانہ طریقے سے ووٹ کاسٹ کررہے ہیں۔ پنجاب میں ووٹ ڈالنے کی شرح سب سے زیادہ 55فیصدرہی۔ ہم ترقی پذیرملک ہونے اوراپنے کم وسائل کے باوجودپوری دنیا کے لئے ایک مثال ہیں۔پاکستان، برطانیہ ،فرانس اورجرمنی جیسے ممالک سے بڑاجمہوری نظام رکھتاہے۔ووٹرزنے آزادانہ طریقے سے اپنے حق کااستعمال کیا۔ میں ایک حلقے کی مثال دیتاہوں اندرون سندھ این اے 222تھرپارکرمیں پیپلزپارٹی نے ایک غیرمسلم امیدوارڈاکٹرمہیش کمارملانی کو قومی اسمبلی کاٹکٹ دیا، اس حلقے میں ووٹ ڈالنے کی شرح تمام حلقوں سے زیادہ 70.91 فیصد رہی۔ یوں ڈاکٹرمہیش کمارملانی جی ڈی اے کے مسلمان امیدوارارباب ذکاء اللہ سمیت کئی امیدواروں کوشکست دے کررکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔ ڈاکٹرمہیش کمار نے ایک لاکھ چھ ہزار630ووٹ حاصل کئے جبکہ دوسرے نمبرپرآنے والے ارباب ذکاء اللہ نے 87ہزار261ووٹ حاصل کئے۔اس حلقے میں اللہ اکبر تحریک نے 1023اورتحریک لبیک پاکستان نے 2002 ووٹ حاصل کئے، یہ اعدادوشمار،شفاف اورغیرجانب دارانہ انتخابات کی ایک واضح مثال ہیں۔ مزیدمثالیں بھی ہیں آپ اسے سیاسی جماعتوں اورپاکستانی ووٹرزکی روشن خیالی بھی کہہ سکتے ہیں۔پی ایس ون 47سے عام نشست پرہی پیپلزپارٹی کے ہری رام کشوری لعل ایم کیوایم کے امیدوارکوشکست دے کررکن سندھ اسمبلی منتخب ہوگئے۔جام شورو پی ایس 81سے گیانومل عرف گیان چند ایسرانی اپنے مدمقابل مسلمان امیدوارملک چنگیزخان کوشکست دے کررکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔خیبرپختونخوا میں ایک سکھ امیدوارنے عام نشست پرآزادحیثیت میں سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کامقابلہ کیا، وہ کامیاب نہ ہوئے۔

 

 مثبت بات یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا نے بھی ووٹرزمیں شعور پیداکرنے اورانھیں گھروں سے نکالنے میں اہم کرداراداکیاہے۔تمام نیوزچینل اور اخبارات اپنے طورپرووٹرزکوووٹ ڈالنے کی ترغیب دے رہے تھے ،جس کی وجہ سے ووٹ ڈالنے کی شرح بہتررہی ۔عام انتخابات میں خواتین کے لئے مرد امیدواروںکامقابلہ کرنااوراپنی انتخابی مہم چلانامشکل ہوتاہے،سیاسی جماعتیں بھی خواتین کوٹکٹ دیتے ہوئے کنجوسی کامظاہرہ کرتی ہیں،جبکہ نصف آبادی کواسمبلیوں میں مناسب نمائندگی نہ دیناکسی طوربھی درست نہیں۔ سابق صدر جنرل ریٹائرڈپرویزمشرف کے دورمیں آئینی ترمیم کے ذریعے قومی وصوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لئے نشستیں مخصوص کی گئیں ۔عام انتخابات کے بعد ان مخصوص سیٹوں پرخواتین کاانتخاب ہوتاہے۔ خواتین کی مخصوص سیٹوں کے باوجود اس مرتبہ عام نشستوں پر بھی خواتین نے بھرپورطریقے سے الیکشن میں حصہ لیا ،قومی اسمبلی کی جنرل سیٹوں پر172خواتین اورصوبائی اسمبلیوں کی جنرل سیٹوں پر386خواتین نے الیکشن لڑا۔ان میںسات خواتین قومی اسمبلی کی عام نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئیں ۔

 

 قومی اسمبلی کے حلقے این اے 148ساہیوال کے گاؤںجہان خان میں خواتین نے اکہترسال بعد اپناحق رائے دہی استعمال کیااوراپنی مرضی سے ووٹ ڈالا،اسی طرح خیبرپختونخواکے بہت سے حلقوں میں جہاں پہلے مرد امیدوارآپس میں طے کرلیتے تھے کہ خواتین کوووٹ ڈالنے کاحق نہیں دیاجائے گا،اس مرتبہ وہاں بھی خواتین نے ووٹ کاسٹ کیا۔اس کاکریڈٹ میڈیا سمیت تمام اداروں اورامیدواروں کوجاتاہے،جنہوںنے خواتین کے ووٹ ڈالنے کی حوصلہ افزائی کی ۔قومی اسمبلی کے دوحلقے جہاں ایک رپورٹ کے مطابق دس فیصدسے کم خواتین نے ووٹ ڈالا،دوبارہ پولنگ ہونے کاامکان ہے ۔ خیبرپختونخوا کے بہت سے علاقے جہاں پہلے کبھی خواتین ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نہیں نکلی تھیںوہاں بھی انہوں نے اپناحق رائے دہی استعمال کیا۔ بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی سمیت کچھ حلقے ایسے ہیں جہاں خواتین نے پہلی بارووٹ کاسٹ کیا۔

 

قومی وصوبائی اسمبلیوں میں خواتین کی تعدادمیں اضافے کے لئے سیاسی جماعتوں کوخواتین کوزیادہ ٹکٹیں جاری کرنی چاہئے، انھیں یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ خواتین اپنی انتخابی مہم صحیح طرح نہیں چلاسکتیں یاکامیاب ہونے کے بعد اپنے فرائض ادا نہیں کرسکتیں۔سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کواپنی اس پرانی اوردقیانوسی سوچ سے نکلناہوگا۔موجودہ قومی وچاروںصوبائی اسمبلیوں میں بہت سے ایسے امیدوارپہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جن کایہ پہلاتجربہ ہے،وہ اس سے پہلے کبھی قومی اسمبلی یاصوبائی اسمبلی کے رکن منتخب نہیں ہوئے۔ان پرخصوصی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ووٹرزنے اُن پر جو اعتماد کیا ہے وہ اس پرپورااتریں۔اپنے حلقے کے مسائل بھی حل کریں اوراسمبلی کی کارروائی میں بھی بھرپورطریقے سے حصہ لیں ،اگروہ پانچ سال تک اسمبلی میں گم سم بیٹھے رہے توعین ممکن ہے ووٹرزانھیں دوبارہ موقع نہ دیں۔

 

آئین کے تحت قومی اسمبلی کی 272جنرل سیٹوں میں سے 270 نشستوں پرالیکشن ہوئے۔ ان نشستوں پر1805 جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 570نشستوں پر11ہزار673امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ الیکشن کمیشن نے 21کروڑ بیلٹ پیپرزشائع کئے تھے۔ جبکہ ووٹرزکی سہولت کے لئے ملک بھرمیں85ہزارسے زائدپولنگ سٹیشنز قائم کئے گئے۔ ان میں سے سترہ ہزارپولنگ سٹیشنز کوانتہائی حساس جبکہ بیس ہزارپولنگ سٹیشنز کو حساس قراردیاگیاتھا۔ان پولنگ سٹیشنزکی حفاظت کے لئے 8لاکھ فوجی سول و آرمڈفورسزکے جوان تعینات تھے۔الیکشن کمیشن کے بہترین انتظامات کے باعث مجموعی طورپرووٹرزنے بغیرکسی پریشانی کے اپناحق رائے دہی استعمال کیا۔ انتخابی نتائج کی بروقت فراہمی کے لئے الیکشن کمیشن نے اپناآرٹی ایس سسٹم بنایاتھا۔ہارنے والے امیدواروں اورپارٹیوں کی جانب سے دوسروں پر الزامات لگاناکوئی نئی بات نہیں ،کئی حلقوں میں اپ سیٹ ہوا۔جس کی وجہ سے کچھ جماعتیں پورے انتخابی عمل کومتنازعہ بنانے کی کوشش کررہی ہیں ،اچھی بات یہ ہے کہ عوام کی جانب سے انتشارپھیلانے کے بیانیے کومستردکردیاگیاہے۔ عوام اپنے مسائل کاحل چاہتے ہیں ۔لوگوں کوروزگار،صحت کی سہولیات ،پینے کاصاف پانی میسر نہیں، انھیں امید ہے کہ نئی حکومت میگا پراجیکٹس بنانے اورکمیشن کھانے کے بجائے عوام کوروزگاراورصحت کی سہولتیں فراہم کرے گی ۔

 

بعض جماعتوں کی طرف سے اعتراض کیاگیاکہ انھیں فارم45یافارم 47نہیں دیا گیا،الیکشن کمیشن نے اس کی وضاحت کی ہے۔قومی وصوبائی اسمبلیوں کے فارم47الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پربھی اپ لوڈ کئے ہیں، توقع ہے کہ فارم 45بھی اپ لوڈ کردیے جائیں گے۔ فارم 47 غیرحتمی انتخابی نتائج پرمبنی فارم ہے ،اس فارم میں تمام امیدواروں کوملنے والے ووٹوںکی تفصیل درج ہے۔

 

پولنگ والے دن ٹی وی چینلزنے اپنی خصوصی ٹرانسمیشن کے انتظامات کئے تھے جبکہ اخبارات نے بھی خصوصی ایڈیشنزشائع کئے۔ٹی وی چینلز نے آزادانہ طورپراپنی اپنی پالیسی اورانتظامات کے مطابق الیکشن کی کوریج کی۔ عام انتخابات میں وفاقی اورصوبائی نگران حکومتوں کاکردار بھی غیرجانب دارانہ رہا۔ کسی پریہ انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی کہ اس نے کسی خاص جماعت یاامیدوار کوکامیاب کرانے کی کوشش کی ۔

سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے علاوہ اہم شخصیات نے بھی اپناووٹ کاسٹ کیا۔کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعے کے باوجود ،جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں،ووٹرزخوف زدہ نہ ہوئے اوردوسرے حلقوں میں پولنگ کاسلسلہ جاری رہا۔بزرگ ووٹرزنے بھی اپناحق رائے دہی استعمال کیا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان،مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر شہبازشریف، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اوررہنماؤں نے اپناحق رائے دہی استعمال کیا۔آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اور ان کی اہلیہ نے راولپنڈی میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ لاہور کینٹ میں جب سابق آرمی چیف راحیل شریف بغیر کسی پروٹوکول کے ووٹ ڈالنے پہنچے توپولنگ اسٹیشن پرموجود لوگوں نے ان کاخیرمقدم کیا۔انتخابات کاجائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کے مبصرین ،یورپی مبصرین اورکئی دوسرے غیرملکی مبصرین موجودتھے ،جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ الیکشن آزادانہ اورمنصفانہ ہوئے ہیں۔ووٹرزنے بغیرکسی دباؤ کے آزادی کے ساتھ اپنے حق کااستعمال کیا۔

 

نئی حکومت کوکئی چیلنجزکاسامنا ہے ،سب سے بڑامسئلہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ ہے۔ماضی کی حکومتوں نے دعوے توبہت کئے لیکن وہ اسے پوراکرنے میں ناکام رہیں۔لوڈشیڈنگ کے باعث جہاں عوام کومشکلات کاسامنا ہے وہاں صنعت وتجارت کاشعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ پاکستان کی ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابرہے جبکہ امپورٹ میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔روپے کی قدرمیں کمی سے قرضوں کابوجھ بھی ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیاہے۔افراط زر کے باعث مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگیاہے اورلوگوں کی قوت خریدبری طرح متاثرہوئی ہے۔نئی منتخب حکومت کوتوانائی کے بحران کے خاتمے ،بے روزگاری،مہنگائی اورپانی کے نئے ذخیرے بنانے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی ۔ان تمام شعبوں میں دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ جلدازجلد مشکلات پرقابوپایاجاسکے۔ایک اچھی بات یہ دیکھی گئی کہ پرامن انتخابات کے بعد امریکی ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی کرنسی مضبوط ہوئی اورڈالرالیکشن کے دودن بعد ہی چھ روپے تک نیچے آگیا۔امید ہے نئی حکومت بیرون ملک پاکستانیوں اورغیرملکی سرمایہ کاروں کوپاکستان لانے میں کامیاب ہوجائے گی،جس سے معاشی حالات بہترہوں گے۔

 

ایک دورتھاپاکستان میں ووٹرزبریانی اورقیمے والے نان کے لئے ووٹ دے دیتے تھے لیکن ان انتخابات میں ایسادیکھنے میں نہیں آیا،اگرکسی حلقے میں امیدواروں نے ووٹرزکے لئے کھانے پینے کاانتظام کیابھی تھاتووہ بے حدمحدود تھا۔ ووٹ سیاسی جماعتوں اوران کے منشورکودیئے گئے۔یہ بھی بتاتاچلوں کہ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈسیاسی جماعتوں کی تعداد 120اورسیاسی اتحادوں کی تعداد2ہے۔ہرپاکستانی جوووٹ کاحق رکھتاہے،الیکشن کمیشن کی شرائط پوری کرنے کے بعداپنی سیاسی جماعت رجسٹرڈ کراسکتاہے۔اس مرتبہ بھی کئی ایسی سیاسی جماعتوں نے الیکشن میں حصہ لیا جنھیں پورے پاکستان سے ایک ہزار ووٹ بھی نہ مل سکے ۔قوم کواپنے نمائندوں کاانتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے، چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثارکایہ کہنادرست ہے کہ اگرقوم کو اچھا لیڈر ملے توجوڈیشل ایکٹوازم کی ضرورت نہیںرہے گی۔جوڈیشل ایکٹوازم اسی وقت ہوتاہے جب حکومت عوام کے مسائل اوراہم ایشوزپرتوجہ نہیں دیتی یااس پرآنکھیں بند کرلیتی ہے۔نئے ڈیمز کی تعمیراورپانی کابحران ایک اہم مسئلہ ہے لیکن حکومتوں کی جانب سے اس پرتوجہ نہ دینے کے باعث سپریم کورٹ نے دیامر بھاشاڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیرکے لئے ایکشن لیااور قوم کومتحرک کیا۔اب تک اربوں روپے اکٹھے ہوچکے ہیں۔امیدہے ان دونوں ڈیمزکی تعمیرجلدشروع ہوجائے گی۔نئے ڈیمزکی تعمیرنئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونی چاہئے۔

 

 خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے جنہیں فاٹابھی کہاجاتاتھا اب کے پی کے کاحصہ ہیں ،ان علاقوں کے ووٹرزنے بھی بھرپورطریقے سے انتخابات میں حصہ لیا،بعض سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے امیدوارمیدان میں اتارے تھے،کئی امیدواروں نے آزادحیثیت میں حصہ لیا۔آبادی کم ہونے کی وجہ سے قبائلی علاقوں اوربلوچستان کے کچھ حلقوں میں پولنگ سٹیشن دوردوربنائے گئے تھے لیکن اس کے باوجود ووٹرزنے اپنے حق رائے دہی کااستعمال کیا۔الیکشن کمیشن کے لئے اب اگلامرحلہ خیبرپختونخوا کے ان علاقوں میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرانا ہے،جلد ہی ان علاقوں میں حلقہ بندیوںکاکام شروع ہوجائے گا۔

 

عام انتخابات میں حصہ لے کرقوم نے اپنی ذمہ داریاں پوری کردیں۔اب منتخب اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کافرض ہے کہ وہ ملک وقوم کی ترقی کے لئے دن رات کام کریں،کرپشن اوراقرباپروری کاخاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں،حکومت ایسی پالیسیاں بنائے جس سے ملک میں روزگارکے نئے مواقع پیداہوںاوربے روزگاری کاخاتمہ کرنے میں مدد ملے۔عوام نے تحریک انصاف کوپہلی مرتبہ موقع دیاہے کہ وہ وفاق میں حکومت بنائے اورا س کے پاس مسائل کے حل کے لئے جوپلان ہے اس پرعمل کرے۔

 

ان انتخابات میں شکست کھانے والی بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے جلدبازی میں ایک آل پارٹیزکانفرنس بلائی گئی ،جس میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینزاورایم کیوایم پاکستان نے شرکت نہیں کی۔ہارتسلیم کرنے کے لئے بڑے حوصلے اورجمہوریت پرپختہ یقین کی ضرورت ہوتی ہے،ضدی اورہٹ دھرم لوگ اپنی ہارتسلیم نہیں کرتے ۔وہ اپنی ناکامیوں کے اسباب کاجائزہ لینے کے بجائے دوسروں پرتنقید اورنظام میں خرابیاں تلاش کرتے ہیں۔معمولی بات کولے کرکسی بھی شخص یاادارے پرتنقید کرناسب سے آسان کام ہے۔

 

دنیابھرسے انتخابات کے کامیاب انعقادپرمبارکباد کاسلسلہ جاری ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریزنے منصفانہ اورپرامن انتخابات پرپاکستانی قوم کومبارکباددی ہے۔تمام دوست ممالک کی جانب سے بھی پرامن انتخابات کاخیرمقدم کیاگیاہے ۔ سیاسی جماعتوں،ووٹرز،الیکشن کمیشن اورپاک فوج سمیت تمام ادارے پرامن اورشفاف الیکشن کرانے پرمبارکباد کے مستحق ہیں۔اب نئی منتخب حکومت پرمنحصرہے وہ ملک وقوم کودرپیش مسائل کے حل کے لئے کیااقدامات کرتی ہے یاماضی کی غلطیاں دوہراتی ہے۔


مضمون نگاراخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

[email protected]

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP