احوال ایک شہید کی فیملی کا

حوالدار لقمان زیب شہید کے حوالے سے ڈاکٹر حمیرا شہباز کی ایک تحریر

رش کئی انٹر چینج سے اتر کر گاڑی نے مردان کا رخ کیا۔ مردان شہر وہاں سے 6  کلومیٹر دور تھا۔ بازاروں اور سبزی منڈیوں میں رونق بحا ل تھی۔ جشن عید میلاد نبیۖ کی ہر طرف بہار تھی۔ ریڈیو پر قاری وحیدظفر کی آواز میں نعت کے بول گونجنے لگے ۔'' فاصلوں کو تکلف ہے ہم سے اگر ''ان کی آواز کے سحر نے نفسا نفسی میں مبتلا ماحول سے دور مدینہ کی گلیوں میں ہمیں گم کردیا۔نعت ختم ہوئی اور ہم واپس زمینی حقائق میں لوٹ آئے۔ ان انجانے فاصلوں کو طے کرتے ہم اپنی منزل شہر مردان کی جانب بڑھتے گئے۔ شہر کے نام پر غور کرتی رہی کہ فارسی کے صیغہ جمع کے مطابق مردان، لفظ مرد کی جمع ہے۔ شہر مردان یعنی مردوں کا شہر۔ مکمل مردانہ ماحول تھا باہر بھی۔ عورت ذات کا وجود صرف پشتو فلموںکے پوسٹروں پر تھا۔علاقہ یوسفزیئوں کا تھا۔یوسف زئی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز وغیرہ جیسے بورڈ بتا رہے تھے۔

 

لقمان زیب کی تین سالہ نواسی نے گھر کے دروازے پر تنے ہوئے پردے کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے ہمارا استقبال کیا۔ کشادہ صحن کے اس پار  دو کمروں میں سے بائیں والے یخ بستہ کمرے میں ہمیں بٹھایا گیا۔ نیم تاریک کمرے میں مہمانوں کے لئے آرام دہ کرسیاں اور دو بستر نئی بیڈشیٹوں کے ساتھ بچھے ہوئے تھے۔ہمیں بٹھا کر گھر والے اندر باہر کے پھیرے کاٹنے لگے۔ کبھی کوئی فریج سے کچھ نکالنے آتا توکبھی الماریوں میں سجے برتن لینے۔ ہماری نظریں بھی ان کا تعاقب کرتی رہیں۔ ہمارے سامنے حلوہ نما خشک میوہ جات چن دیئے گئے۔

 

ملی نغمہ

 

میرے وطن تیری ہر آب و تاب زندہ رہے

جو نذر تجھ پہ ہو وہ ہر گلاب زندہ رہے

تمہارے عہد کا ہر گوشوارہ کہتا ہے

مہکتا چاند دمکتا ستارہ کہتا ہے

سفید و سبز عَلم کا شباب زندہ رہے

ہر ایک شہر بسے شاد گائوں گائوں رہے

خدا کے فضل سے تم پر نبی ۖکی چھائوں رہے

جو تیرے بام پہ اُترے وہ خواب زندہ رہے

تیرے شہید سپوتوں نے پاسداری کی

لہو سے، تیری محبت کی، آبیاری کی

تیری بقا کا ہر اِک انقلاب زندہ رہے

تمہارا پیار مہکتا رہے نوائوں میں

تمہارا ذکر نہ بھولے کبھی دعائوںمیں

ورق ورق تیرے دل کی کتاب زندہ رہے

یہ بحر و بر یہ فضائوں کے رابطے تم سے

یہ چاغی اور سیاچن کے ولولے تم سے

تمہارا شہرئہ آفاق باب زندہ رہے

میرے شعور کی ہر ایک آس تم سے ہے

میرے شعور کی ہر ایک پیاس تم سے ہے

جہاں میں نام تیرا لاجواب زندہ رہے

سعادت حسن آس

 

شہید کی چھوٹی بیٹی نے ہماری احوال پرسی کی۔ رات کو نظر سے گزرنے والی فائل کی تصویر کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں نے اس کو پہچاننے کی کوشش کی، جس میں اس کا نام عائشہ ایمن درج تھا۔ عائشہ مردان بورڈ سے اعلی نمبروں میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کر چکی تھی اور پاک فوج کی کفالت کے تحت اس کے میڈیکل کالج میں داخلے کا کیس اس فائل میں درج تھا۔

 

باہر صحن میں ملنے والی ایک خاتون آ کر میرے دائیں جانب بچھی چار پائی پر بیٹھ گئیں۔ ہمیں دیکھتی رہیں۔ میں نے مسکرا کر ان کی مسکراہٹ کا جواب دیا۔ ہم ایک دوسرے کے آگے عاجز بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ:زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم۔ میں نے دل میں خود کو ملامت کیا کہ میں نے جو کبھی پشتو سیکھنے کی کوشش کی تھی اس کو جاری کیوں نہ رکھا۔ میں نے اپنے پشتو کے ذخیرہ الفاظ کو جمع کیا اور ان سے کہنا چاہا : "سنگہ حال دہ"؟ ۔ لیکن منہ سے اردو کا جملہ ہی نکلا: ''آپ کیسی ہیں؟'' پتہ نہیں جواب میں انہوں نے کیا کہا لیکن خدا کے حضور ان کی شکر کی بجاآوری بتا رہی تھی کہ وہ ٹھیک ہیں۔ کتنا عجیب سوال ہے۔ حال کچھ بھی ہو جواب عموماً ایک ہی ہوتا ہے۔کہتے ہیں دنیا میں سب سے کثرت میں جھوٹ اسی سوال کے جواب کی صورت میں بولا جاتا ہے۔

 

ان کی بھیگی مسکراہٹ ان کا تعارف تھا لیکن پھر بھی میں نے عائشہ سے تصدیق چاہی کہ یہ کون ہیں؟ اس نے پشتو زدہ اردو میں جواب دیا:''یہ شہید لقمان زیب کی بیوی ہیں۔ میری امی ہیں۔ ہم تین بہن بھائی ہیں۔ میری بڑی بہن کی شادی ہو چکی ہے۔ یہ دو بچے اسی کے ہیں۔ میرا بھائی نویں جماعت میں ہے۔ ابو کے بعد ہماری امی نے ہمیں بہت محنت سے پالا ہے۔ ہمیں کبھی باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ہماری ہر خواہش کو پورا کیا ہے۔ ''مجھے لگا کہ جیسے کمرے کا درجہ حرارت یکدم گرگیا ہو۔ سردی میرے رگ و پے میں اتر رہی تھی۔ میری نظر باہر صحن میں چلچلاتی دھوپ سے حرارت اخذ کرنا چاہتی تھی لیکن۔۔۔۔!

 

''اس نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ ہمارے ماموں نے اس کا بہت ساتھ دیا ہے۔ ہماری پھپھو بہت اچھی ہیں۔ ہمارا بہت خیال رکھتی ہیں۔ ایک چچا تھے جو فوج میں تھے کچھ عرصہ قبل ان کا انتقال ہو گیا۔ ساتھ والے گھر میں ان کی فیملی رہتی ہے۔ ہمارا یہ گھر امی نے ابو کی شہادت کے بعد ملنے والے فنڈ سے بنایا ہے۔'' صاف گو، سمجھدار، سنجیدہ عائشہ نے جو ضروری جانا ہمیں بتایا۔ اس کی والدہ اس کو دیکھ رہی تھیں اور ان کی آنکھوں میں پر نم تائید تھی۔

نصرت بی بی اٹھ کر کچن میں چلی گئیں۔ وہ ہر طرح سے ہماری مہمان نوازی میں جتی ہوئی تھیں۔ ان کے صحن میں لگے درخت کے جس جس مالٹے پر ہمارا نام تھا وہ انہوں نے توڑ کر ہمارے آگے رکھ دیئے۔ پھر چائے ، کیک اور بسکٹ۔ عائشہ ہم سے باتیں کرتی رہی۔ اس کی امی ہر چکر پر بیٹی کو تاکید کر جاتیں کہ وہ ہمیں کھانا پیش کرتی رہے۔

 

 اس نے بتایا کہ اس کی والدہ نے اس کے ساتھ کئی سال مردان کے ہاسٹل میں گزارے ہیں جہاں وہ اور اس کا بھائی پڑھتے رہے۔اس کابھائی بھی پڑھائی میں بہت اچھا ہے اور وہ بھی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے۔عائشہ کی آگے بڑھنے اور ڈاکٹر بننے کی خواہش اس کی آواز میں پوشیدہ عزم سے عیاں تھی۔ 12پنجاب رجمنٹ کی کاوشوں اور تعاون سے شہید لقمان زیب کی بیٹی عائشہ، خیبر میڈیکل کالج پشاور میں زیر تعلیم ہے۔

 

 کچھ دیر بعد اس کی کچن میں مصروف بہن کو بھی ہمارے پاس بیٹھنے کی فرصت ملی۔ وہ آج خاص ہم سے ملنے آئی تھی۔ زندگی نے ان سب کو ایک ساتھ ایک ہی جیسے امتحان میں ڈالا تھا لیکن ہر کسی کی شخصیت چونکہ الگ ہوتی ہے اس لئے ان کا زندگی کے ساتھ سلوک بھی الگ ہوتا ہے۔ نبیلہ خوش باش اور بہت ہنس مکھ تھی۔ بہن کے مقابلے میں زندگی کے معاملات کی سنجیدگی سے وہ مسکرا کر نمٹ سکتی تھی۔

 

تمہیں اپنے ابو یاد ہیں؟:میں نے اس سے پوچھا۔ کیا تم نے ان کا چہرہ دیکھا تھا جب ان کو شہادت کے بعد گھر لائے؟۔ میں نے اس کی یادداشت کو ٹٹولا۔ وہ ہنس کر اور قدرے اترا کر بولی: میں نے ہی تو دیکھا تھا ان کو۔ یہ دونوں تو چھوٹے تھے، امی کو تو اپنی ہوش نہ تھی۔ فرط جذبات سے نبیلہ کا چہرہ لال ٹماٹر ہو چکا تھا۔ اس کو اس بات کی خوشی بھی تھی کہ اس نے اپنے ابو کو دیکھا تھا اور یہ دکھ بھی تھا کہ کس حال میں دیکھا تھا۔ اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا۔ وہ جو بظاہر اپنی امی اور بہن کے مقابلے میں خوش باش لگ رہی تھی واقعی اپنے جذبات کو چھپانے سے عاری تھی۔ وہ بے اختیار رو رہی تھی۔ مجھے لگا کہ شاید میں نے پوچھ کر غلطی کی ہے اور اس ضبط کے ماحول میں پوشیدہ صبر کو چھلکا دیا ہے۔ لیکن وہ جس طرح رو رہی تھی میں نے اس کو رونے دیا۔ پھر اٹھ کر اس کو اپنے ساتھ لگاکر تھپکایا ۔ وہ چپ کر گئی۔ وہ بتاتی رہی کہ اس کو اپنے ابو بہت یاد آتے ہیں۔ اس نے اپنے والد کی نقل بھی اتار کر دکھائی کہ وہ کیسے اس کو نبیلہ باجی کہہ کر بلاتے تھے۔ اس نے بتایا کہ اس کا جی چاہتا ہے کہ اس کے ابو اس کو پھر اسی طرح سے پکاریں۔ کمرے کا درجہ حرارت بڑھ چکا تھا ۔مجھ میں  باہر صحن میں چمکتی دھوپ کی لالچ کم ہو گئی تھی لیکن کمرے کی فضا کو بدلنے کے لئے میں نے کہا کہ باہر بیٹھیں ؟کیونکہ اندر مجھے سردی لگ رہی ہے۔

 

 نصرت بی بی ہمارے صد انکار کے باوجود دوپہر کے کھانے کی تیاری میں لگ گئیں۔ آج 12 ربیع الاول کا دن تھا اور جمعة المبارک بھی۔ وضو کیا اسی یخ بستہ کمرے میں نماز ادا کی اور خدا کے حضور دعا کی کہ وہ شہید لقمان زیب کے درجات بلند کرے اور ان کے اہل خانہ کو خوشحال، محفوظ اور مطمئن زندگی عطا فرمائے۔ 

 

کھانے کے بعد نصرت بی بی سے اجازت طلب کی کیونکہ ڈرائیور بھی باجماعت نماز سے فارغ ہو چکے تھے اور اسی شہر میں موجود ایک شہید جس نے شہید لقمان زیب کے ساتھ ایک ہی روز ایک ہی محاذ پر جان جان آفرین کے سپر دکی تھی،  کے اہل خانہ سے ملاقات طے تھی ۔

 

مصدقہ اطلاعات کے مطابق:حوالدار لقمان زیب شہید ایک فرض شناس این سی او تھے اور آپ شین ورسک پرقابض دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے آگے بڑھے۔ آپ نے اپنی سپاہ کوشین ورسک کے دائیں جانب سے حملہ آور ہونے کو کہا لیکن وہاں پہاڑوں میں پہلے سے موجود چھپے دہشت گردوں نے اس فوجی دستے کو گھیرے میں لے لیا۔ دوران آپریشن آپ کے سر میں گولی لگی۔ آپ کی پیشہ ورانہ قیادت میں نہ صرف آپ کی زیر کمان سپاہ نے اپنے زخمیوں کو نکالا بلکہ      دہشت گردوں کو بھی بھاگنے پر مجبور کیا۔ اس ساری کارروائی کے دوران آپ اپنے ساتھیوں کے لئے حوصلے اور ہمت کا باعث بنے رہے۔


مضمون نگار نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی سے وابستہ ہیں۔

 [email protected]

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP