آزادی سے سوچ کی آزادی تک

قوموں کو آزاد ہونے کے لئے جہاں زمینی خطے کی ضرورت ہوتی ہے وہاں انہیں ایک آزاد اور وسیع سوچ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ آزاد سوچ، خودی کو پروان چڑھاتی ہے۔ آزاد سوچ، کردار بناتی ہے۔ آزاد سوچ، مزاج بناتی ہے۔

 

رات 3 بجے فلائٹ کا مطلب تھا کہ وہ رات بھی گئی اوراگلا دن بھی۔ راستے میں دوبئی کا دو گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا اور یہ سب مل ملا کر کہیںدوپہر کو جا کر ہم اپنی منزل یعنی تہران ایئرپورٹ پر اترے۔ فلائٹ میں ایران کے بارے میں جو سوچیں آرہی تھیں ان میں زیادہ عمل دخل گوگلGoogle   سے حاصل شدہ معلومات کا تھا۔انقلاب  ایران ،  بعد کی پابندیاں، انقلاب ِ  ایران سے پہلے کی تاریخ اور ان کا تقابل تھا۔اور یہ تجزیے زیادہ تر مغربی اہل علم کے تھے جو خاص سوچ کے تحت کئے گئے تھے۔

 

تہران ایئرپورٹ پر اترے تو حالات دیکھ کر لگا ایران معاشی پابندیوں کے زیرِ اثر ہے۔ جیسے ہی ایئرپورٹ سے باہر آئے پارکنگ میں 70 اور 80 کی دہائی کی گاڑیاں نظر آئیں اور ہمیں یقین سا ہو چلاکہ ایران واقعی پابندیوں سے بری طرح متاثر ہے۔ ایئرپورٹ شہر سے 40kmکے فاصلے پر تھا۔ ہمارا شہر کا سفر شروع ہوا تو ذہن میں موجود سوالوں کے جواب ملنے لگے۔ چوڑی چوڑی سڑکیں اور ان پر گھومتی ہوئی دورِ حاضر کی بہترین گاڑیاں، اندر بیٹھے ہوئے پُرسکون شہری، جن میں زیادہ تعداد خواتین ڈرائیو رز کی تھی، نظر آئے۔ لمبی لمبی قطاریں لیکن سب کے سب ٹریفک کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اپنے آپ میں مگن نظر آئے۔ تہران شہر کا موازنہ دنیا کے کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ شہر سے کیا جا سکتا ہے۔ اس نیم پہاڑی شہر میں بلند و بالا کثیر منزلہ عمارتیں اور ہر عمارت کا اپنا جدید انداز۔ ہماری گاڑی شہر کے ایک ہوٹل کے صدر دروازے پر رکی۔ دروازے پر موجود عملے نے نہایت مستعدی سے ہمارا سامان نکا ل کر کمروں کی طرف ہماری راہنمائی کی۔سٹاف کا طریقِ کا ر انتہائی پرو فیشنل تھا حالانکہ انقلاب کے بعد پابندیوں کی وجہ سے دوسرے ممالک کے کم کم لوگ ہی ادھر آسکے تھے۔

 

شام کو جب با ہر نکلے تو ایک چیز نمایاں تھی وہ شہر اور ہوٹل میں اعلیٰ درجے کی  صفائی تھی۔ مجال ہے کہ ایک کاغذ کا ٹکڑا بھی زمین پر پڑا نظر آجائے۔ ایک اور بات جو مشاہدے میں آئی وہ یہ تھی کہ پابندیوں نے ایران کو مضبوط بنا دیا تھا۔ ہر چیز لوکل بنی ہوئی جو دراصل خود انحصاری کا بھر پور اظہار تھا۔

 

 ایران مجھے زندگی کے ہر پہلو میں آزاد لگا۔ اس میں ان کی توانا تہذیب جو قریبا 4500سال کی ہے اس کابھی کردار ہے۔ آزادی ایک کیفیت ہے جو ہر تعصب سے آزاد ہوتی ہے آزادی ایک سوچ ہے۔ تہران میں ہمارا وقت نہایت مصروفیت میں گزرا۔ ہمارے میزبان پاکستانی ایمبیسی کے عملے نے ہماری آمد کو بامقصد بنانے میں اہم کردار ادا کیا یہاں پر قلب عباس نقوی صاحب کا ذکر کئے بغیر اس سفر کا بیان مکمل نہیں ہوتا۔77 سال کے نقوی صاحب چلتے پھرتے انسائیکلو پیڈیا تھے۔ آپ نے 40 سال ایران میں گزارے ہیں۔شاہ کے دورسے لے کر انقلاب، پھراس کے محرکات، اور اس کے اثرات سب ان کی انگلیوں پر تھے۔ ان ملاقاتوں میں چندذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ہمیں یہ جان کرحیرت ہوئی کہ ایران میں جشنِ نو روز کی دو ہفتوں کی تقریبات ہوتی ہیں اور اس دوران تمام اخباروں کی چھٹی ہوتی ہے پورا تہران شہر سے باہر نکل آتا ہے اور لوگ مکمل طور پر چھٹی پر ہوتے ہیں ۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اخبار کے بغیر بھی زندہ رہا جا سکتا ہے۔

 

ہمیں دفتروں اور بازار ہر جگہ خواتین کی ایک بڑی تعداد نظرآئی جو بڑی دلجمعی سے روزانہ کے امورمیں اپنی خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔ ایران کے طرزِ معاشرت کے بارے میںبہت ابہام ہے۔ ہمارا تجربہ یکسر مختلف تھا۔ اپنی معاشرت میں یہ کسی بھی جگہ پیچھے نہیں تھا جہاں میٹروز تھیں، مالز تھے، اور جہاں تازگی تھی۔ ایک اور با ت جو دیکھنے میں آئی وہ عوام کی باقی دنیا کے ساتھ رابطے کی خواہش بھی تھی۔ ہر شخص کے پاس موبائل فون تھا۔ اور وہ اپنے انداز میں مگن تھا۔ لیکن ہر ایک آزاد اور ایک دوسرے سے منسلک نظر آیا۔

 

ایران کے بارے میں عمومی تاثر ہے کہ یہ ایک قدامت پسند معاشرہ ہے جو ریاستی جبر کا شکار ہے جبکہ یہ معاشرہ حیرانی کی حدتک روشن خیال اور آزاد ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ آزادی مغربی آزادی سے یکسر مختلف ہے۔یہ مذہب اور معاشرت کا بہترین امتزاج ہے۔ رات گئے تک لوگ گھومتے نظر آتے، پارکوں میں رونق ہوتی۔ اور خاص کرخواتین بغیر کسی خوف وخطر کے گھومتی نظر آئیں ۔ خواتین میں میک اپ کرنے کا کافی رجحان پایا جاتا ہے۔ وہاں کے دوستوں نے بتایا کہ ایران کا سمیٹکس کی درآمد میں دنیا کے اولین ملکوں میں ہے۔

 

 پاکستان ایران کے تعلقات میں مزید بہتری کی بہت گنجائش ہے۔ موجودہ حالات میں جب علاقائی معاملات پر سب کی توجہ ہے، ایران کی اہمیت کو اور تقویت ملتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی مفاد میں ضروری اور فوری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ دونوں ممالک ماضی کے دور سے نکل کر آج کے دور میں آسکیں۔

 

میرے، ایران کے، اس سفر کے بعد ایک بات جو میں نے سیکھی وہ یہ تھی کہ جب تک آ پ اپنے آپ کو ذہنی طور پر قید میں نہیں سمجھتے آپ کو کوئی قید نہیں کر سکتا جسمانی آزادی کی روح آزاد سوچ میں ہے، جو ہر کام کے پیچھے کار فرما ہوتی ہے۔

 

ہمیں بھی آزاد ہوئے71 سال ہو چکے ہیں اور ماضی میںہم پر بھی مختلف معاشی اور معاشرتی مسائل اور پابندیاں رہی ہیں لیکن ایک آزاد سوچ اس سے نبردآزما ہونے کے لئے انتہائی اہم ہے۔

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP