آج بھی قائدِاعظم کے ہاتھ کا لمس نہیں بھولا۔ میں  

تحریکِ پاکستان کے کارکن، ماہرِ تعلیم اور وائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ

ڈاکٹر رفیق احمد سے ملاقات

انٹرویو:  محمد شعیب مرزا

ڈاکٹر رفیق احمد کا شمار ان بزرگ شخصیات میں ہوتا ہے جن کو تحریکِ پاکستان میں شمولیت اور قائدِاعظم محمدعلی جناح سے ملاقاتوں کا شرف حاصل رہا۔ حصولِ پاکستان کی جدوجہدمیں بھرپوراور پُرجوش حصہ لینے کے علاوہ قیامِ پاکستان کے بعد اس کی تعمیر و ترقی، نظریہ پاکستان کے تحفظ اور فروغ کے لئے اب تک مصروفِ عمل ہیں۔ پاکستان ہی ان کی زندگی کا مرکز و محور ہے۔ پیرانہ سالی کے باوجود وہ پاکستان سے محبت اور خدمت کا جذبہ نئی نسل میں منتقل کرنے کے لئے ہر وقت مصروف رہتے ہیں۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ تحریکِ پاکستان میں حصہ لینے والی شخصیت ڈاکٹر رفیق احمد ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ''ہلال'' کے لئے خصوصی طور پر اُن سے لیاگیا انٹرویو پیشِ خدمت ہے۔

                        ڈاکٹر صاحب ! اپنے خاندانی پس منظر اور بچپن کے بارے میںکچھ بتائیں؟

            میرا تعلق ایک کاروباری خاندان سے ہے۔ خاندان کے بیشتر افراد بزنس سے وابستہ تھے۔ اس کے علاوہ ان میں انجینئرز اور ادیب بھی تھے۔ میرے والد شیخ محمدصدیق ٹولنٹن مارکیٹ دی مال لاہور پر واقع مشہور سٹور پنجاب سٹور کے مالک تھے۔ ان کی تعلیم میٹرک تک تھی۔ لیکن تعلیم کے حامی اور علم و ادب کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ وہ اکثر میرے لئے رسالے اور کتابیں لایا کرتے تھے جن کی وجہ سے مجھے لکھنے پڑھنے کا شوق ہوا۔

 

                ہماری دکان پنجاب سٹور کے پاس ہی ٹولنٹن مارکیٹ کے برآمدے میں ماڈل بُک سٹور تھا جس کے مالک شیخ ابراہیم تھے۔ماڈل بک سٹور پر کتابیں اور تقریباً تمام اخبارات اور رسائل دستیاب ہوتے تھے۔ مجھے چونکہ پڑھنے کاشوق تھا اس لئے میں اکثر وہاں بیٹھ کرکتابیں اور رسالے پڑھتا رہتا۔ شیخ ابراہیم میرے شوقِ مطالعہ سے خوش ہوتے تھے۔ وہاں یونیورسٹی  اور کالجوں کے بہت سے اساتذہ اور طالب علم آتے تھے۔ اساتذہ مجھے وہاں مطالعے میں مصروف دیکھ کر میری حوصلہ افزائی کرتے۔ مجھے چھیڑتے بھی تھے، کوئی مجھے پروفیسر کہتا توکوئی پڑھاکو، مجھے بھی ان سے ملنے کا شوق تھا اس لئے ان سے باتیں بھی ہوتیں۔ اس طرح کتابوں، رسالوں اور ان اساتذہ سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ میرے والد صاحب کاروباری شخص تھے لیکن انہوںنے کبھی مجھے مطالعے سے منع نہیں کیا تھا بلکہ وہ میری حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

 

                         اپنے تعلیمی مراحل کے حوالے سے بتائیں کہ کن اداروں سے تعلیم حاصل کی اور وہاں کا ماحول کیسا تھا؟

            میں نے سینٹ فرانسس سکول انار کلی سے مڈل تک تعلیم حاصل کی۔ ماسٹر محمدطیب بہت شفیق استاد تھے۔ وہ بچوں کو بہت محبت سے پڑھاتے تھے۔ بچے ان کی موجودگی میںخوف کے بجائے خوشی محسوس کرتے تھے۔ سینٹ فرانسس عیسائیوں کا سکول تھا لیکن تمام مذاہب کے بچے وہاںتعلیم حاصل کرتے تھے۔  سٹیج  ڈرامے بھی ہوتے تھے۔ میں خود بھی ان ڈراموں میں حصہ لیتا تھا۔ ماسٹر غازی صاحب تقریبات کا انعقاد کرتے تھے۔ خود بھی بہت اچھی تقریر کرتے تھے اور نصیحت آموز باتوں کے ذریعے بچوں کی کردار سازی کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوںنے مجھے اچانک تقریر کرنے کے لئے بلا لیا۔ میرے پسینے چھوٹ گئے۔ انہوں نے مجھے حوصلہ دیا۔ میں نے جیسے تیسے تقریر کی، اس سے میری جھجک ختم ہوگئی اور مجھے بڑی بڑی تقریبات میں بولنے کا ہنر آگیا۔ میںنے اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ سے میٹرک ، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے انٹرمیڈیٹ اور بی اے کیا۔ 1946 میں پنجاب یونیورسٹی میں اکنامکس میںداخلہ لیا اور1948 میں ایم اے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی ہماری دکان کے سامنے تھی۔ ہماری دکان اور ماڈل سٹور پر یونیورسٹی کے بہت سے اساتذہ آتے تھے۔ ان میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ مجھے پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ مجھ سے کوئی پوچھتا کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے تو میں جواب دیتا کہ پنجاب یونیوسٹی میں داخلہ لے کراعلیٰ تعلیم حاصل کروں گا۔

 

                     اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کا تحریکِ پاکستان میں اہم کردار رہا ہے کیا آپ بھی ان سرگرمیوں میں شریک ہوتے تھے؟

          تحریکِ پاکستان میں شرکت کا آغاز تو اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخلے سے پہلے ہی ہوگیا تھا۔ میں1940 میں نہم جماعت کا طالب علم تھا اور اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ میں زیرِ تعلیم تھا۔ تب پتہ چلا کہ قائداعظم محمدعلی جناح لاہور آئیں گے اور منٹو پارک میں جلسے سے خطاب کریں گے۔ ہمارا دس بارہ لڑکوں کا گروپ تھا۔ ہم ان کی تقریر سننے منٹو پارک پہنچ گئے۔ لیکن وہاں سکیورٹی کا سخت انتظام تھا۔ بیرونِ لاہور سے آنے والوں کے لئے خیمے لگائے گئے تھے۔ آنے والے حسبِ توفیق چندہ بھی دے رہے تھے۔ جیسے جلسے میں شرکت کا ٹکٹ لگا ہوتا ہے۔ ہمارا گروپ اندر جانے لگا تو ہمیں روک دیا گیا۔ ہم سکول کے طالب علم تھے شاید اس لئے، ہم نے تہیہ کرلیا کہ قائداعظم کی تقریر سُن کر جائیں گے۔ اسی دوران قائدِاعظم آگئے۔ ہم لڑکوں نے بلند آواز سے قائداعظم کو متوجہ کیا۔ انہوںنے ہم سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔ ہم نے ان کو بتایا کہ آپ کی تقریرسننے آئے ہیں لیکن ہمیں اندر نہیں جانے دیا جارہا۔ تب قائداعظم نے انتظامیہ سے کہا کہ انہیں اندر جانے دیا جائے۔ تب ہم نے پہلی مرتبہ قائدِاعظم کو اتنے قریب سے دیکھا تھا۔ لڑکپن کا جوش تھا کہ ہم نے اپنی بات ان سے منوا لی اور نئی نسل سے ان کی محبت اور شفقت تھی کہ انہوںنے ہمیں جلسہ سننے کی اجازت دے دی ورنہ ان کی بارعب شخصیت کے سامنے کسی کو بلند آواز سے بات کرنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔

                ہم قائدِاعظمکی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے اور ٹکٹکی باندھے ان کو دیکھتے  اور ان کی تقریر سنتے رہے۔ کچھ باتیں سمجھ آئیں کچھ نہ آئیں۔ لیکن ہم نے ان کی پوری تقریر سنی اور ان کے گرویدہ ہوگئے۔

 

        کیا اس کے بعد بھی قائدِاعظم کو دیکھنے یا ان سے ملاقات کا موقع ملا؟

         اس کے بعد تو یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ قائدِاعظم جب بھی لاہور تشریف لاتے ہم ریلوے سٹیشن پہنچ جاتے، ان کا استقبال کرتے، ان کی تقریریں سُنتے۔ ہم لڑکے گلیوں میںجلوس کی شکل میں نکلتے اور ''لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان'' اور ''پاکستان کا مطلب کیا، لااِلٰہ الااﷲ'' کے نعرے لگاتے۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں قائدِاعظم کئی بار تشریف لائے۔ ''نوائے وقت'' کے بانی حمیدنظامی ہم سے سینیئر تھے اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے عہدیدار تھے۔جبکہ مجیدنظامی اور سرتاج عزیز میرے ہم جماعت تھے۔ حمیدنظامی نے23 مارچ1940 کو ''نوائے وقت'' کا اجراء کیا۔ ''نوائے وقت'' نے پاکستان مسلم لیگ کی صحیح معنوں میں ترجمانی کی۔ دونوں بھائیوں نے تحریکِ پاکستان اور نظریہ پاکستان کے لئے اہم خدمات انجام دیں۔ میرے مضامین بھی نوائے وقت میں شائع ہوتے تھے۔ ایک مضمون''اسلام نئے دور میں'' کئی بار شائع ہوا جو میںنے ریڈرز ڈائجسٹ سے اُردو میں ترجمہ کیا تھا۔ یہ مضمون بہت پسندکیاگیا۔ میں تقریری مقابلوں میں بھی حصہ لیتا تھا اور اساتذہ ہمیں سماجی خدمت کے کاموں میں شریک کرتے تھے۔

 

                مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح بھی کئی بار قائدِاعظم کے ساتھ اسلامیہ کالج تشریف لائیں۔ قائدِاعظم نے کئی بار کالج کے تاریخی حبیبیہ ہال میںخطاب کیا۔ 1964 میں اسلامیہ کالج کے پرنسپل عمر حیات ملک نے اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طالب علموںکو اسناد دینے کے لئے تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ قائدِاعظم کو دعوت دی گئی تو انہوں نے بخوشی قبول کرلی۔ کیونکہ وہ نوجوانوں ، خاص طورپر اسلامیہ کالج کے طلباء پرخصوصی شفقت فرماتے تھے۔ میرا تعلیمی ریکارڈ بھی بہت عمدہ تھا اس لئے میں بھی اسناد وصول کرنے والوں میں شامل تھا۔ میں ان دنوں خاصا صحت مند تھا۔ جب میں سند لینے کے لئے سٹیج پر چڑھنے لگا تو کچھ گھبراہٹ اور کچھ موٹاپے کی وجہ سے میرا پائوں پھسل گیا۔ قائدِاعظم نے فوراً محبت سے فرمایا''ینگ مین ، اٹھو گھبرائو نہیں۔'' میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے محبت سے مصافحہ کیا اورسند عطاکی۔ میرے لئے یہ زندگی کے یادگار لمحات تھے۔ میں آج بھی قائداعظم کے ہاتھ کا لمس نہیں بھولا۔ بدقسمتی سے اس وقت فوٹوگرافر نے جو تصویریں بنائی تھیں ان میں سے بہت سی ضائع ہوگئیں۔ مجھے آج بھی اس کا افسوس ہے۔  بہت سے لوگوں نے کہا کہ آپ مکسنگ کرکے تصویر بنوالیںلیکن میںنے انکار کردیا۔ میں قائداعظم جیسے سچے اور کھرے انسان کے ساتھ اپنی نقلی تصویر کیسے بنوالیتا۔ حالانکہ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے قائداعظم کے ساتھ اپنی جعلی تصویریں بنوا رکھی ہیں اور خود کو تحریکِ پاکستان کا سپاہی قرار دیتے ہیں۔

 

          آپ نے قائداعظم کو دیکھا، ملاقات کی، مصافحہ کیا۔ ان کے بارے میں آپ کے تاثرات اور محسوسات کیا ہیں؟

ج:            قائداعظم محمدعلی جناح بہت متاثرکن شخصیت کے مالک تھے۔ دراز قد، بارعب، پُروقار چال، بہت نپی تُلی اور دو ٹوک گفتگو کرتے تھے۔ تقریر کرتے ہوئے وہ صرف ہاتھ کی ایک انگلی لہراتے تھے۔ وہ عام طور پر انگریزی اورکبھی کبھی اُردو میں تقریر کرتے تھے۔ کسی کو ان کی تقریر سمجھ آئے یا نہ آئے لیکن ہر شخص پوری توجہ سے بلکہ مبہوت ہو کر ان کی تقریرسنتا تھا۔ کیونکہ وہ جو کچھ کہتے تھے سچ کہتے تھے اور دل کی گہرائی سے کہتے تھے۔ اس لئے اُن کی باتیں دوسروں کے دل میں اُتر جاتی تھیں۔ ان سے ملنے والا کوئی بھی شخص ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ وہ نوجوانوں سے محبت اورمتانت سے ملتے تھے۔ وہ بااُصول، باکردار ، دیانتدار اور مخلص رہنما تھے۔ وہ قومی وسائل کو اپنی یا کسی کی ذات کے لئے ناجائز استعمال کرنے کے سخت خلاف تھے۔ اقرباء پروری کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اس کی بے شمار مثالیں اور واقعات ہیں۔ انہوںنے قومی وسائل سے کچھ لینے کے بجائے اپنی صلاحیتیں ، صحت، زندگی اور اپنے اثاثے بھی ملک و قوم کے لئے وقف کردیئے۔ افسوس قائداعظم کے بعد ہمیں ان جیساکوئی رہنما میسر نہیں آیا۔

 

                جہاں تک ان سے متاثر ہونے کی بات ہے تو یہ ان سے ملاقاتوں کا ہی فیض ہے کہ ان ہی کے عَلم کو تھامے ہوئے 78 سال سے پاکستان کی تعمیر و ترقی اور نظریۂ پاکستان کے فروغ کے لئے کام کررہے ہیں۔ حال ہی میں مجھ پر فالج کا حملہ ہوا لیکن اﷲ تعالیٰ کے فضل سے میں اب بھی دفتر جاتا ہوں اور کام کرتا ہوں۔ اپنوں نے ہی نہیں غیروں نے بھی قائداعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ یہی کسی بڑے لیڈر کی نشانی اور ثبوت ہوتا ہے۔

 

       ہمارے ہاں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ برصغیر میں ہندو ،مسلم، سکھ اور عیسائی سب مل جل کر رہ رہے تھے تو پھر پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی؟

        یہ لوگ غلط پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ ہندو مسلم مذہب ہی الگ نہیں تھا تہذیب وثقافت بھی الگ تھی۔ ہندو کے برتن کو اگر کسی مسلمان کا ہاتھ لگ جاتا تو وہ اس میں کھاتا پیتانہیں تھا۔ ابتداء میں قائداعظم ہندو مسلم اتحاد کے سب سے بڑے داعی تھے وہ چاہتے تھے کہ ہندو اورمسلمان مل کر انگریزوں کو برصغیر سے نکالیں لیکن ہندو ئوں کی ہٹ دھرمی، سازشوں، شاطرانہ چالوں اور انگریزوں کے جانے بعد مسلمانوں پر حکومت کرنے کے ارادوں کے پیشِ نظر انہوںنے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل علامہ اقبال اس حقیقت کا ادراک کرچکے تھے اور مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کا تصور پیش کرچکے تھے۔ ایسے لوگ نادانی میں یا غیرملکی آلہ کار کے طور پر ایسی باتیں کرتے ہیں ہندوئوں کے تعصب اور مسلمانوں سے نفرت کی ہزاروں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ یہ اسی دور کی بات ہے کہ ہندو طالب علم مسلمانوں اور ان کے لیڈروں کو گالیاں دیتے تھے۔ جب ان کی بدتمیزی حد سے بڑھ گئی تو مسلمان طالب علموں نے احتجاج کے لئے جلوس نکالا۔ جب یہ جلوس سناتن دھرم کالج (موجودہ ایم اے او کالج) کے قریب سے گزرا تو اس کی چھت پر موجود ہندو لڑکوں نے جلوس پر اینٹیں پھینکنا شروع کر دیں۔ ایک اینٹ ہمارے کالج کے طالب علم محمد مالک کے سر پر لگی مجید نظامی اس کے  بالکل ساتھ تھے جبکہ میں تھوڑا پیچھے تھا۔ مجید نظامی نے اسے تھاما لیکن وہ مجید نظامی کی گود میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ مالک شہید کو تحریک پاکستان کے پہلے شہید ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ مجید نظامی نے اپنی خون آلود قمیض برسوں تک سنبھالے رکھی تاکہ مالک شہید کی قربانی کی یاد تازہ رہے۔

 

                پاکستان ایک حقیقت تھی۔ اس نے وجود میں آنا ہی تھا۔ یہ نزولِ قرآن کی بابرکت رات کو وجود میں آیا اور انشاء اﷲ قیامت تک قائم رہے گا۔ اس لئے پاکستانیوں، خاص طور پر نوجوانوں، کو ایسے منفی پروپیگنڈے پر کان نہیں دھرنے چاہئیں بلکہ اس کے خلاف دلائل سے آواز اٹھانی چاہئے۔

 

                        آپ کے والد صاحب بزنس میں تھے تو پھر آپ درس و تدریس کے شعبے میں کس طرح آئے؟

           میں نے 1948میں ایم اے اکنامکس کیا تھا اس کے بعد والد صاحب کے ساتھ کاروبار میں ہی مصروف رہا لیکن لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ والد صاحب بھی منع نہیں کرتے تھے۔ ان دنوں اخبار میں اشتہار آیا کہ دیال سنگھ کالج میں لیکچرار کی اسامی خالی ہے۔ میں نے بھی اپلائی کر دیا۔ سید عابد علی عابد پرنسپل تھے۔ انہوں نے خوش آمدید کیا اور بتایا کہ تنخواہ 250روپے ماہوار ہو گی لیکن انگریزی پڑھانی ہے میں نے کہا کہ میںنے اکنامکس میں ایم اے کیا ہوا ہے۔ میں تو اکنامکس ہی پڑھائوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اکنامکس پڑھانی ہے تو تنخواہ 100روپے ہو گی۔بات عجیب تھی لیکن میں نے ہامی بھر لی میں نے اتنی محنت سے پڑھایا کہ پرنسپل اور طلباء خوش ہو گئے اور میری تنخواہ 250 روپے ماہانہ کر دی گئی۔

 

                      کالج کے ایک لیکچرار سے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے تک کیسے پہنچے؟

         1956 میں حکومت کی طرف سے اشتہار دیا گیا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان سے پچاس  پچاس افراد کو وظیفے پر اعلیٰ تعلیم کے لئے برطانیہ بھجوایا جائے گا۔ میں نے درخواست دی تو میرا بھی انتخاب ہو گیا۔ کرنی تو پی ایچ ڈی تھی لیکن ہمیں کہا گیا کہ آپ گریجویشن کریں۔ لہٰذا مانچسٹر یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ میں پی ایچ ڈی کر کے ہی واپس جائوں گا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے کا شوق بھی تھا۔ میں نے اپلائی کیا تو انہوں نے کہا کہ آدھی فیس معاف ہو جائے گی لیکن آدھی فیس آپ کو ادا کرنی پڑے گی۔ والد صاحب سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ واپس آ کر اپنا کاروبار سنبھالو۔ میں نے منت سماجت کی تو انہوں نے فیس بھجوا دی۔ پی ایچ ڈی اور سینٹ کیتھرائن کالج سے ڈی فل کر لیا تو امریکہ سے اچھی اچھی پیشکشیں ہوئیں۔ والد صاحب کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ یہ زیادتی ہے۔ واپس آئو اور اپنی صلاحیتیںاپنے وطن کے لئے استعمال کرو۔ بات دل کو لگی اور 1964 میں واپس پاکستان آ گیا۔

 

                پروفیسر حمید اﷲخان پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ ان کے کہنے پر 1964 میں بطور پروفیسر پنجاب یونیورسٹی میں بھرتی ہو گیا۔ اسی دوران ایک عالمی مقابلے میں بطور ریسرچ سکالر کام کرنا تھا۔ میں اس کے لئے بھی منتخب ہو گیا۔ ایک سال بعد واپس پنجاب یونیورسٹی آ گیا۔ اس دور میں بہاولپور کے لوگوں کا مطالبہ تھا کہ اسلامیہ کالج بہاولپور کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے۔ پروفیسر حمید اﷲ خان نے اصرار کر کے کہا کہ یہ قومی خدمت ہے یہ آپ انجام دیں۔ 1980 میں بہاولپور چلا گیا اور 1300ایکڑ رقبے پر یونیورسٹی بنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس کے لئے بہت محنت کی۔ کئی مشکلات پیش آئیں لیکن بالآخر یونیورسٹی بن گئی۔ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خیراج ابن رسا ریٹائر ہونے والے تھے گورنر غلام جیلانی نے مجھ سے کہا کہ آپ لاہور ی ہیں اور وسیع تجربہ رکھتے ہیں اس لئے آپ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کا عہدہ سنبھالیں۔ لہٰذا میں تین ماہ تک اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور دونوں کا وائس چانسلر رہا۔ جب اسلامیہ یونیورسٹی کو نیا وائس چانسلر مل گیا تو ساری توجہ پنجاب یونیورسٹی کی طرف مرکوز کر دی اور 1986 تک پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر رہا۔ میں نے پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کو علامہ اقبال کیمپس اور نیو کیمپس کو قائداعظم کیمپس کا نام دیا۔

 

                         نظریہ پاکستان ٹرسٹ سے کب وابستہ ہوئے۔ اس کے قیام کے مقاصد اور سرگرمیاں کیا ہیں؟

     مجید نظامی کالج کے دور سے ہی میرے دوست تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں پکے مسلم لیگی تھے۔ انہوں نے شاہراہ قائداعظم پر پی سی ہوٹل کے ساتھ وسیع جگہ دی اور ایک بلڈنگ بنوا کر دی تاکہ نظریہ پاکستان کے حوالے سے کام ہو سکے۔ مجید نظامی نظریہ پاکستان فائونڈیشن (جو بعد میں ٹرسٹ بنا) کے چیئرمین تھے، دیگر احباب بھی تھے۔ ہم میٹنگز میں شرکت کرتے تھے۔ یہ ادارہ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ قائداعظم، علامہ اقبال  اور مادر ملت کے افکار کی روشنی میں نظریہ پاکستان اور حب الوطنی کے فروغ کے لئے کام کیا جائے۔ جب میں یونیورسٹی سے ریٹائر ہوا تو مجید نظامی مجھے یہاں لے آئے۔ تب سے میں اس ادارے سے منسلک ہوں۔ ہم مشاہیر کے دنوں ، قومی ایام پر تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ طلباء وطالبات کو اس ادارے کا وزٹ کراتے ہیں، تحریک پاکستان کی تصاویر اور فلمیں دکھاتے ہیں، لیکچرز دیتے ہیں۔ اسی طرح ہماری ٹیمیں مختلف تعلیمی اداروں میں جا کر لیکچرز دیتی ہیں اور لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے۔ اساتذہ کے لئے تربیتی ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں۔ بڑوں اور نوجوانوں  کے لئے الگ الگ جرائدشائع کئے جاتے ہیں ہر سال تین روزہ اسلامی نظریاتی کانفرنس منعقد کی جاتی ہے۔ تحریک پاکستان کے کارکنوں میں گولڈ میڈل تقسیم کئے جاتے ہیں کتابیں شائع کی جاتی ہیں۔ ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں طلباء و طالبات کے لئے ایک ماہ کا نظریاتی سمرسکول قائم کیا جاتا ہے۔ جس میں روزانہ اہم شخصیات بچوں سے خطاب کرتی ہیں۔ مجید نظامی کے بعد سابق صدر پاکستان محمد رفیق تارڑ اب اس کے چیئرمین ہیں۔

 

                ایک مرتبہ وزیراعظم پاکستان محمدیوسف رضا گیلانی یہاں ایک میٹنگ میں آئے تو بچوں کا بہت  ذکر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں بچوں سے ملنا چاہتا ہوں۔ بچوں سے ان کی ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ انہوں نے بچوں سے مختلف سوالات پوچھے۔ بچوں نے بہت اعتماد سے تمام سوالوں کے جوابات دیئے۔ وہ اتنے خوش ہوئے کہ ٹرسٹ کیلئے  20کروڑ روپے دیئے ۔پنجاب حکومت نے بھی بہت تعاون کیا۔ غلام حید روائیں نے جوہر ٹائون میں جگہ دی تھی۔ وہاں عظیم الشان ایوان قائداعظم تعمیرہو چکا ہے۔ میں نے اس کا تمام خاکہ تیار کیا تھا۔ یہ ایک انٹرنیشنل آئیڈیالوجیکل یونیورسٹی ہو گی۔ جہاں تعلیم ،تحقیق، ٹیچنگ اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کے لئے لیکچرز کا اہتمام کیاجائے گا۔

 

             کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ ادارہ ایک یکسانیت اور جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ ہر تقریب میں بار بار وہی مخصوص لوگ ہوتے ہیں کیا آپ اس کی سرگرمیوں کا دائرہ کار اور حلقہ احباب کو وسیع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؟

          آپ کی بات کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن اداروں کو چلانے والے یا اس کی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے ہم خیال لوگ ہی ہوتے ہیں۔ البتہ اس پیغام کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اور ہم اس کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں۔

 

                        پاکستان مسلم لیگ نے حصول آزادی کے لئے جدوجہد کی جس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان وجود میںآیا۔ قیام پاکستان کے بعد سیاسی مسلم لیگ طویل عرصہ برسراقتدار رہی کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس عرصے میں پاکستان کو اقبال اور قائداعظم کے نظریات اور خوابوں کے مطابق بنانے میں کوئی کردار ادا کیا گیا؟

         بدقسمتی سے قائداعظم اور مادر ملت کی وفات کے بعد مسلم لیگ کو سنبھالنے والا کوئی مخلص لیڈر نہیں ملا۔ جذبے والے لوگ نہیں رہے۔ خدمت کرنے والوں کے بجائے مفادات حاصل کرنے والے لوگ سامنے آ گئے۔ اس وقت مسلم لیگ کئی حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اس میں خالص مسلم لیگ کوئی بھی نہیں ہے۔ سب نے اقتدار کے مزے لوٹے زیادہ عرصہ برسراقتدار رہنے والی مسلم لیگ میں کچھ نظریاتی لوگ موجود ہیں اور کبھی کبھار یہاں سے کوئی قائداعظم کا نام لے لیتا ہے۔ لیکن قیادت کی حد تک کوئی لیڈر ایسا نہیں جو خود کو آئیڈیل کے طور پر پیش کر سکے۔ قائداعظم اور مادرملت کے افکار، نظریات موجود ہیں لیکن کوئی ان پر عمل کرنے والا نہیں۔ اگر اچھی، مخلص، بے لوث اور دیانتدار قیادت میسر آ جاتی تو پاکستان ترقی میں بہت آگے نکل گیا ہوتا۔ شخصیات کے گرد گھومنے والی پارٹیاں انقلاب نہیں لا سکتیں بلکہ نظریات پر عمل کرنے والی جماعتیں ہی آئیڈیل ہوتی ہیں۔ اور یہ حصوں ٹکڑوں میں بنی مسلم لیگ ہی نہیں پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قائداعظم کے اصولوں پر عمل کریں۔ خلوص نیت سے پاکستان کی تعمیر و ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لئے کام کریں۔

 

       آپ نے تحریک پاکستان میں عملی حصہ لیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ پاکستان علامہ اقبال، قائداعظم اور آپ کے خوابوں کی تعبیر کے مطابق ہے؟ نیز یہ کہ آپ نئی نسل میں تحریک پاکستان والا جذبہ محسوس کرتے ہیں؟

          جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ اﷲ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا مجموعہ ہے۔ یہاں سمندر، دریا، پہاڑ،صحرا، جنگلات، نہریں، چاروں موسم، ذرخیز زمین، قیمتی معدنیات، گوادر جیسی بندرگاہ، باصلاحیت اور محنتی لوگ، پچاس فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ الحمدﷲ پاکستان پہلی مسلم ایٹمی قوت ہے اﷲ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں عطا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اگر کوئی کمی ہے تو قیادت کی ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے مختلف لوگوں سے مختلف کام لے لئے لیکن مخلص قیادت میسر نہیں آئی۔ اﷲتعالیٰ نے اگر کسی کو ملک و قوم کی خدمت کا موقع دیا تو وہ اپنا فرض بھول کر اقتدار و اختیارات کے مزے لُوٹنے لگا۔ اگر ہمیں ایساکوئی رہنما مل جائے جو ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفادات کو مقدم رکھے۔ پوری قوم کو متحد کر کے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے سرگرم ہو جائے تو پاکستان دنیا بھر میں سب سے نمایاں مقام حاصل کرلے گا۔

 

                جہاں تک نئی نسل میں جذبے کی بات ہے تو ہماری نئی نسل انتہائی باصلاحیت، ذہین اور قابل ہے۔ لیکن اخبارات، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور مکروفریب اور بدعنوانی کی شرمناک مثالوں نے اسے کنفیوز کر دیا ہے۔ ہمارے دوکروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں اور تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے بچے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کو منوا رہے ہیں۔ ان میں جذبہ موجود ہے صرف ان کو درست سمت رہنمائی کی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان ہی نوجوانوں میں سے ہمیں مخلص اور باکردار قیادت میسر آ جائے گی انشا اﷲ!

 

                   ''ہلال'' کے قارئین بالخصوص نوجوان نسل کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

        نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ بحیثیت مجموعی رسمی تعلیم، نظریاتی تعلیم اور فنی تعلیم حاصل کریں۔ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق قومی و سماجی خدمت کے کاموں میں حصہ لیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور کردار سازی بہت اہم ہے۔ اپنے ارادے بلند رکھیں، اسلام، پاکستان اور مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔ یہی پیغام بڑوں کے لئے بھی ہے۔

پاکستان زندہ باد 

 

 

Comments



Note: No comments!



Leave a Reply

Success/Error Message Goes Here
Note: Please login your account and then leave comment!
TOP