Super User

Super User

The Directorate of Inter-Services Public Relations (known by its acronym ISPR) (Urdu: شعبہٴ تعلقات عامہ‎) is an administrative military organization within the Pakistan Defence Forces that coordinates military information with the media and the civil society. The ISPR is now headed by 2-star rank officer Major General Asim Saleem Bajwa who took over from Major General Athar Abbas in June 2012

Website URL: http://www.ispr.gov.pk

09
November
نومبر 2017
شمارہ:11 جلد :54
تحریر: یوسف عالمگیرین
ریاستِ پاکستان جو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزما ہے آج الحمدﷲ وہ اس پر نہ صرف کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہے بلکہ پاکستان کے مجموعی حالات بھی انتہائی پُرامن ہو چکے ہیں۔ عوام الناس کے دلوں سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خوف کے سائے چھٹ رہے ہیں اور وہ اعتماد اور حوصلے سے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ....Read full article
 
تحریر: محمودشام
امریکہ پاکستان سے اگر چہ کئی ہزار میل دور واقع ہے لیکن 2001سے یہ ہمارا پڑوسی بنا ہوا ہے۔ کون کابل میں آج کل ہے مقیم دیکھ ہمسائے یوں بدلتے ہیں عام طور پر کہا جاتاہے کہ ہمسائے نہیں بدلے جاسکتے مگر امریکہ ایسی طاقت ہے....Read full article
 
 alt=
تحریر : محمدعلی بیگ
ہندو قوم اپنے جدا گانہ تشخص کو بر قرار رکھنے کے لئے ہمہ وقت نہایت چوکس رہتی ہے۔ بھارت جو کہ ساری دنیا میں ہر وقت سیکولر نظریات کا ڈھنڈورا پیٹتا نظر آتا ہے اور خود کو جمہوریت اور مذہبی رواداری کا علمبر دار کہتا ہے لیکن اگر ہم بھارتی سیاست پر نظر دوڑائیں تو یہ جان کر ششدر رہ جائیں گے کہ یہ اوراس جیسے دیگر بھارتی دعوے کھوکھلے ، جعلی اور حقیقت کے منافی ہیں ....Read full article
 
تحریر: احسان اﷲ ٹیپو
وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ پچھلے سولہ سال سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ 9/11 کے بعد کے حالات نے جس طرح اس خطے کو اپنے لپیٹ میں لیا آج بھی اس سے نکلنے کی تگ و دو ہو رہی ہے۔ فطری حسن، قدرتی وسائل اور زرعی پیداوار سے مالامال اس جنت عرضی کی پہچان دہشت گردی، خودکش حملے، ڈرون، القاعدہ....Read full article
 
حریر: فاروق اعظم
پاکستان کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوب مشرق میں بحیرہ عرب اور بھارت کی سرحد سے متصل سندھ کا ضلع بدین دکھائی دے گا، جس کے پڑوس میں ریگستانی ضلع تھرپارکر واقع ہے۔ وہی تھرپارکر جہاں کے صحرائو ں میں سب سے زیادہ قدر پانی کی ہے۔ مذکورہ اضلاع سے متصل سرحد کے اُس پار بھارتی ریاست گجرات شروع ہوتی ہے۔ گجرات کو اس لئے بھی.....Read full article
 
تحریر: میجر مظفراحمد
پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کی تقریبات کے تسلسل میں پاک فوج کے زیر انتظام مؤرخہ 21 اکتوبر 2017ء سے 31 اکتوبر 2017ء تک قومی موٹر ریلی کا انعقاد کیا گیا۔
ریلی کے انعقاد کا مقصد جہاں دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان اور اُس کے عوام پُرامن ہیں اور خطے میں امن چاہتے ہیں وہاںجذبۂ ملی یکجہتی و یگانگت کو اُبھارنا بھی شامل ہے....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل معظم اشفاق
سی ایم ایچ کوئٹہ کے ٹھنڈے آئی سی یو میں مشینوں سے بندھا میرا بیٹا جُمعہ بس سانس کے زیروبم سے ہی زندہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس کا زرد چہرہ اور بند آنکھیں مجھے اجنبی معلوم ہوتی ہیں ۔اس چہرے پر میرے لئے پہچان کے کوئی آثار نہیں۔ جب سے میں آیا ہوں، کتنی دفعہ پکارا ہے مگر اس نے ذرا سی دیر کے لئے بھی آنکھیں کھول کر مجھے نہیں دیکھا۔ بچپن ہی سے اس کی عادت تھی کہ جب میں کام کاج سے واپس.....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد
بہت سال پہلے ہمارا ایک بیٹ مین بشیر ہوا کرتا تھا جو کہ سادگی میں اپنی مثال آپ تھا۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ہماری یونٹ ایک طویل جنگی مشق کے سلسلے میں کھاریاں کے قریب ایک علاقے میں موجود تھی۔ دوران ایکسرسائز ہم نے ویک اینڈ پر گھر جانے کا پروگرام بنایا۔ بشیر سے کہا گیا کہ ہمارے لئے بس کی ایک سیٹ کا بندوبست کرے۔ اس نے یہ سن کر دوڑ لگائی اور نگاہوں....Read full article
 
تحریر:سمیع اللہ سمیع
دنیامیں طاقت کی رسہ کشی درحقیقت وسائل کی کھینچاتانی سے مشروط رہی ہے۔ افغانستان وہ بدقسمت ملک ہے جس کی سرحدوں سے انیسویں صدی کے وسط سے تاحال سپرپاورزکی آنکھ مچولی جاری ہے۔فرق بس اتناپڑاہے کہ اب برطانیہ کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے جبکہ روس نسبتاًکمزورہونے کے باعث بیک فٹ پر لڑرہاہے۔بہت سے افغانی ....Read full article
 
تحریر: خالد محمود رسول
کمرے میں باوقار اور سنجیدہ ماحول طاری تھا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں یہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کا اجلاس تھا۔ امریکی وزیر دفاع کمیٹی کے سامنے دنیا میں سکیورٹی کے حوالے سے پالیسی وضاحتیں دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک سینیٹر نے انہیں سوال کیا ''ون بیلٹ ون روڈ سٹریٹجی کے ذریعے چین مختلف برِاعظموں کے مابین زمینی اور سمندری روٹس کے پھیلائو کا خواہاں ہے....Read full article
 
تحریر: صائمہ جبار
ہندوستان دراصل تنگ برہمن ذہنیت اور رسم و رواج کو ماننے والی حکمران اقلیت کا ملک ہے۔ یہ حکمران طبقہ اکثریتی ہندوآبادی کو اپنے سیاسی مقاصد اور مذہبی جنون کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے۔ دوغلے چہرے والے اس ملک میں دوسرے تمام مذاہب کی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ نچلی ذات کے ہندوئوں اور سکھوں کا رہنا بھی اب ایک مسئلہ بن گیا ہے۔قتل و غارت گری کے خون آشام سائے تلے زندگی گزارنے والی اقلیتیں.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر حمیرا شہباز
دانشمندوں کی دانشوری پر غور و فکر بذات خود ایک دانشمندانہ عمل ہے۔ 9نومبر 2017 شاعر فردا علامہ محمد اقبال کا 140 واں یومِ ولادت ہے۔ اقبال کو شاعر فردا بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی بصیرت ، ان کی دور بینی، دور اندیشی ان کے کلام سے عیاں ہے اور شاید اس لئے بھی کہ ملک تو سالوں میں بن جاتے ہیں لیکن قومیں صدیوں میں تربیت پاتی ہیں ۔ 140 سال قبل پیدا ہونے والے.....Read full article
 
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی
شاعرِمشرق،حکیم الامت،مفکرِاسلام اور مصوّرِپاکستان علاّمہ محمد اقبال کے افکارپوری نسلِ انسانی کے لئے عموماََ،امت مسلمہ کے خصوصاََاور امت مسلمہ کے نوجوانوں کے لئے مزید خصوصیت کے ساتھ علم و دانش کا مخزن ہیں۔ان کا پیغام امن،ترقی ،خوشحالی،محبت اور سر بلندی کا پیغام ہے۔ان کی اُمیدیں نوجوان طبقے کے ساتھ، سب سے زیادہ وابستہ تھیں۔وہ سمجھتے تھے کہ نوجوان نسل قوم.....Read full article
 
تحریر: یاسر پیرزادہ
ایک زمانہ تھا جب گلی محلوں میں جا بجا ویڈیو کیسٹس کی دکانیں ہوا کرتی تھیں، جس نوجوان کو نوکری نہ ملتی یا اس کی دبئی جانے کی کوشش بارآور نہ ہوتی، وہ ویڈیو کیسٹسکی دکا ن کھول لیتا اور سوچتا کہ اب یہیں اس کی ''دبئی'' لگ جائے گی۔انہی دکانوں سے وی سی آر بھی کرائے پر مل جایا کرتا ،ٹی وی بمع وی سی آر اور پانچ من پسند فلموںکا مکمل پیکج فقط سو روپے میں مل جاتا ۔یار .....Read full article
 
تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز
وطن کے وہ سپاہی جو اپنے ہم وطنوں کے دفاع کی ذمہ داری کندھوں پر اُٹھائے، سینہ تانے دشمن کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں تاریخ اُن کے نام کبھی نہیں بھولتی بلکہ آنے والی نسلوں کے لہو میں اسی جذبے کو پروان چڑھانے کی خاطر ان جانبازوں کے نام عقیدت اور فخر سے دہراتی ہے کیونکہ یہ نام صفحہ ٔ قرطاس پر بھی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر
ڈپریشن جو کہ پوری دنیا میں 'مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے' کسی بھی عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، اسے ہم عرفِ عام میں اداسی اور مایوسی بھی کہتے ہیں۔ ڈپریشن ایک پیچیدہ دماغی بیماری ہے جو انسان کو حیاتیاتی ، نفسیاتی اور سماجی طور پر متاثر کرتی ہے ۔ جب مایوسی اور اداسی کا غلبہ بہت دنوں تک رہے اور اس کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ زندگی کے روزمرہ کے معمولات.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود
اﷲ سبحانہ' تعالیٰ کی عطاکردہ روحانی کیفیات کے احوال پڑھ کر نہ صرف ایمان اور یقین مزید مضبوط ہوتا ہے بلکہ نظامِ قدرت کو بھی سمجھنے میںمدد ملتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ایمان کے باوجود اکثر لوگوں کا یقین ''ڈھلمل'' یعنی ڈانواڈول ہی ہوتا ہے ورنہ اگلے جہان، روزِ حساب، قبر میں سوال جواب اور جزا سزا پر یقین کامل ہو تو انسان نہ جھوٹ بولے، نہ دھوکہ دے، نہ ملاوٹ کرے، نہ قتل و....Read full article

انٹرویو: قاسم علی
قوی خان پاکستان کے ان ورسٹائل فنکاروں میں شامل ہیں جن کی شخصیت کا جادوفنون لطیفہ کے چاروں شعبوں ریڈیو، تھیٹر ، ٹی وی اور فلم میں سر چڑھ کر بول رہا ہے انہیں فنی دنیا کا حصہ بنے چھ دہائیوں سے زائد عرصہ بیت گیا لیکن وہ آج بھی کیرئیر کے آغاز جیسی لگن اور جذ بے کے ساتھ کام میں مصروف ہیں اور ریٹائرمنٹ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ قوی خان اپنی زندگی کو........Read full article
 
تحریر: حفصہ ریحان
مجاہداُنیس سالہ لڑکا ہے جو ایک مدرسے کاطالب علم ہے۔ حیدر جو اس کے ساتھ پڑھتا ہے اس کے گھروالوں کا حال احوال بھی دریافت کرتاہے۔لیکن اس کے جوابات دینے میں مجاہد بے حد گھبرا جاتا ہے۔
نوسالہ عمران اپنے والد خاورسے فرمائش کرتاہے کہ وہ کل اپنے شوروم سے جلدی واپس.....Read full article
 
تحریر: صائمہ بتول
لفظ سائبو رگ 1960 میں
Manfred Clynes
اور
Nathan S. Kline
نے دریافت کیا۔ یاد رہے کہ یہ لفظ اینڈ رائڈ، بائیو نک، بائیو میٹرک اور مافوق الفطرت اعضاء رکھنے والی مخلوق سے یکسر مختلف اور بہت ساری خصوصیات میں ملتا جلتا تاثر رکھتاہے۔ یہ ٹیکنالوجی تمام دودھ دینے والے جانور اور انسانوں میں ایسے اعضائ، جو ناکارہ ہو چکے ہوں مگر نقصان کے باوجود بحالی.....Read full article
 
تحریر: ڈاکٹر ھمامیر
>یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ کینیڈا ایک سرد ملک ہے جہاں زیادہ تر ٹھنڈ رہتی ہے لیکن یہاں کی خزاں ایک ایسا موسم ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔ ہمارے خیال سے تو یہاں کی برف یہاں کی خصوصیت ہے۔ تاہم سیاح برفباری کے بجائے خزاں دیکھنے کینیڈا.....Read full article
 
تحریر: مجاہد بریلوی
صوفی غلام مصطفٰی تبسّم معروف اصطلاح میں قطعی صوفی نہ تھے مگر ان کی شخصیت سراپا صوفیانہ و درویشانہ تھی۔ مولانا چراغ حسن حسرت کی طرح رندِ بلانوش تو نہ تھے مگر مَے و مینا سے آشنائی ضرور تھی اور اس کا سبب وہ محفل آرائیاں تھیں کہ جن کے بغیر اُن کی شامیں مکمل نہ ہوتیں۔ صوفی غلام مصطفٰی تبسّم اس پائے کے عالم اور استاد تھے کہ حفیظ ہوشیار پوری تک انہیں جگت استاد کہا کرتے تھے.....Read full article
 
تحریر ۔ طاہرہ حبیب جالب
تعلیم'' یہ انسان میں شعور پیدا کرتی ہے اس کی بدولت ہی انسان اچھے بُرے کی تمیز کرسکتا ہے یعنی تعلیم ہی بنیادی مسائل کا حل ہے۔ مگر ہمارا تعلیمی نظام ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کررہا ہے۔ ظاہری طور پر پاکستان میں دو تعلیمی نظام ہیں۔ اُردو میڈیم جو سرکاری سکولوں یا گلی محلوں کے سکولوں میں پڑھایا جاتا ہے جس میں اُردو مضامین اور اسلامیات کو اہمیت دی جاتی ہے ان ....Read full article
 
تحریر: فرحین چودھری
خوبصورت منقش گملے میں لہراتا ننھا سا خوش نما پودا نوجوانوں کی خاص طور پر دلچسپی کامرکز بن گیا۔ اماں بی اور دادا ابو نے غور سے پودے کو چھو کر، سونگھ کر دیکھااگرچہ اس کے رنگ و نسل کے بارے میں شکوک کا اظہار بھی کیا تھا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ اس کے چمکیلے پتے اور جھومر جیسے جھولتے ننھے ننھے پھول....Read full article
 
تحریر: عمران علی ملک
قدرت نے ارضِ وطن پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جس میں سب سے اہم یہاں کی آب و ہوا اور سال بھر کے دوران رنگ بدلتے موسم ہیں۔
جون کا آغاز ہوتے ہی یہاںگرمی کی شدید لہر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ آسمان سے سورج گرمی برساتا ہے تو زمین بھی تپش کی شدت سے آگ کا منظر پیش کرتی ہے ۔ ایسے میں شمالی علاقہ جات ....Read full article
 
تحریر: محمد اعظم خان
1990 میںبحیثیت سٹیشن ڈائریکٹر میری پوسٹنگ سکردو ہوئی تو مجھے 5فروری کو وہاں پہنچنے کا حکم ملا۔ میں نے فوری طور پر سکردو کے لئے پی آئی اے سے اپنی ٹکٹ حاصل کر لی۔سکردو جانے سے پہلے ناردرن ایریاز بکنگ آفس سے ٹکٹ کی کنفرمیشن کرانی ضروری ہوتی ہے۔ یہ کام بھی ہو گیا۔ میں اپنے کالج کے ساتھی محمداختر کے پاس ٹھہر گیا۔ وہ مجھے ....Read full article
09
November

محمد اعظم خان

خوبصورت مقام سکردو میں پوسٹنگ اور خدمات کی انجام دہی کا احوال ریڈیو پاکستان کے سابق سٹیشن ڈائریکٹر محمد اعظم خان کے قلم سے

1990 میںبحیثیت سٹیشن ڈائریکٹر میری پوسٹنگ سکردو ہوئی تو مجھے 5فروری کو وہاں پہنچنے کا حکم ملا۔ میں نے فوری طور پر سکردو کے لئے پی آئی اے سے اپنی ٹکٹ حاصل کر لی۔سکردو جانے سے پہلے ناردرن ایریاز بکنگ آفس سے ٹکٹ کی کنفرمیشن کرانی ضروری ہوتی ہے۔ یہ کام بھی ہو گیا۔ میں اپنے کالج کے ساتھی محمداختر کے پاس ٹھہر گیا۔ وہ مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر ایئرپورٹ لائے۔ 5فروری سے لے کر 8فروری تک مسلسل 4روز پرواز منسوخ ہوتی رہی۔ اس کی وجہ سکردو کا موسم تھا۔ خدا خدا کر کے 9فروری کو فلائٹ روانہ ہوئی۔ ایئرپورٹ پر مجھ سے پہلے والے سٹیشن ڈائریکٹر محترم ضمیر صدیقی مجھے لینے آئے ہوئے تھے۔ 10فروری کو میں نے بحیثیت ڈائریکٹر چارج لیا۔ ضمیر صدیقی صاحب نے مجھے تمام سٹاف سے ملایا۔ مجھے وہاں کام کرتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ یہاں کے لوگ بہت ہی محنتی اور ایماندار ہیں۔ چوری چکاری کا دور دور تک خدشہ نہیں ۔ سکردو سٹیشن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ
Hard
ایریا ہونے کی وجہ سے آرمی آفیسرز سے بہت واسطہ رہتا ہے۔ میرے زمانے میں میجر افتخار کی بیگم ہمارے فوجی بھائیوں کے پروگرام کی کمپیئر تھیں۔ نہایت عمدہ پروگرام کرتی تھیں۔ میری یہی کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ فوجی جوانوں کی فرمائش پوری کی جائے۔ کیونکہ اس وقت صرف ریڈیو سٹیشن سکردو ہی تفریح کا واحد ذریعہ تھا۔ ریڈیو سٹیشن کی خبروں کو بڑے شوق سے سنا جاتا تھا۔ آرمی سٹیشن کمانڈر مجھے اپنی خاص میٹنگ کے لئے ضرور بلاتے تھے۔ اور میں فوجی تقریبات میں بڑے شوق سے جاتا تھا ایک دفعہ میں نے میجر عاصم سے اپنی ایک خواہش کا ذکر کیا کہ مجھے سیاچن دیکھنے کا بہت شوق ہے۔ ایک ہیلی کاپٹر کسی خاص کام سے سیاچن جا رہا تھا کہ مجھے میجر عاصم کا ٹیلی فون آیا کہ آپ کل صبح آٹھ بجے ہیلی پیڈ پہنچ جائیں۔ اس کا مکمل احوال ان شاء اﷲ اگلے مضمون میں بتائوں گا کہ اس قدر سخت سردی یعنی منفی 50ڈگری میں وہاں فوجی آفیسر اور جوان کیسے رہتے ہیں۔

mujyyadhasbzara.jpg

بہت دلیری اور ہمت کی بات ہے۔ یہ انہی کا کام ہے کہ دشمن کو پیش قدمی سے روکے ہوئے ہیں۔ میرے اپنے ایک عزیز کرنل محمود بھی اُن دنوں سکردو میں تعینات تھے۔ ان سے بھی کافی معلومات حاصل ہوتی رہتی تھیں۔ وہاں کے آرمی آفیسرز اور سول آفیسرز کا سلوک مجھے بہت اچھا لگا۔ اکثر کھانوں اور پارٹیوں میں ملاقات رہتی۔ شنگریلا جھیل اور صدپارہ جھیل دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ خاص کر شنگریلا جہاں جہاز کے اندر ایک چھوٹا سا چند کمروں کا ہوٹل بنا ہوا ہے۔ شنگریلا جھیل کے اندر ہوٹل کا منظر بھی بہت اچھا ہے اور وہاں کھانا کھاتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آپ مچھلیوں کے ساتھ اس جگہ پر موجود ہیں۔ شنگریلا سے پہلے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا چڑیاگھر بھی ہے۔ سکردو میں دو قسم کے لوگ آباد ہیں۔ بلتی اور نوربختی دونوں ہی بہت محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ میں نے سکردو ریڈیو سٹیشن پر پروگراموں کے علاوہ دو کام ایسے کئے کہ وہاں کے لوگ مجھے ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ایک ٹرانسمشن کا وقت تبدیل کیا کیونکہ مجھے میرے ڈرائیور محمد حسین اور دوسرے ملازم کہتے تھے کہ سر رات کو گیارہ بجے ریڈیو سٹیشن بند ہوتا ہے۔ ہمیں سٹاف کو چھوڑتے چھوڑتے رات کا ایک بج جاتا ہے۔ پھر گاڑی کو ریڈیو سٹیشن چھوڑنا ہوتا ہے۔ گھر پہنچنے میں بھی وقت لگتا ہے۔ آپ براہ مہربانی ہیڈکوارٹر سے اجازت لے کر اس ٹرانسمشن کا وقت 4سے 11بجے کے بجائے 3سے 10بجے تک کرا دیں۔ میں نے اپنے سٹاف کی خاطر بڑی کوشش سے ہیڈکوارٹر سے اجازت لے کر ریڈیو کا پروگرام نشر کرنے کا وقت 3بجے سے 10بجے رات کروا دیا۔ اس سے میرے سٹاف میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اسی طرح میری دلی خواہش تھی کہ ریڈیو سٹیشن کے احاطے میں مسجد ہو اس کے لئے ایک جگہ مقرر کی اور اس کی پہلی اینٹ اپنے ہاتھ سے رکھی۔ یہ اﷲ تعالیٰ نے مجھ سے دیگر کاموں کے علاوہ بہت اچھا کام کروایا۔ سٹیشن پر سردی کے موسم میں مجھے 40من لکڑی استعمال کرنے کی اجازت تھی جو کہ میں اپنے سٹاف خاص کر گارڈ، ڈرائیور اور پولیس سٹاف کو بانٹ دیتا تھا۔ صدپارہ جھیل کا میں نے تین چار دفعہ نظارہ کیا۔ میری سکردو پوسٹنگ سے پہلے میری والدہ مجھے اکثر کہتی ''بیٹا ٹھنڈی ہوا بادل کا سایہ'' میں کہتا امی جان آپ یہ کیا بات کرتی ہیں۔ وہ میری خدمت سے بہت خوش تھیں اور دعا کے طور پر بار بار کہتی ''ٹھنڈی ہوا بادل کا سایہ'' یہ بات مجھے سکردو جا کر سمجھ آئی کہ میری والدہ کے کہنے کا کیا مطلب تھا یعنی سکردو میں ٹھنڈی ہوا کا اور بادل کا سایہ ہمیشہ رہا۔ مختلف وادیوں میں بھی گئے۔ آئندہ ان شاء اﷲ سیاچن کا ذکر کروں گا کہ اتنی بلندی پر بھی ہماری پاکستانی افواج کیسے بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہاں دنیا کی سب سے اونچی پوسٹیں ہیں۔ پاکستانی بہادر فوج کیسے کیسے کام سرانجام دیتی ہے۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
(....جاری ہے)

 

علامہ ڈاکٹرمحمداقبال
کیااقبال کے اشعار نے بیدار ملت کو
کہ آزادی وطن کی آج ہے درکار ملت کو
اسی سے قوم نے قلب و نظر کی روشنی پائی
ہوئی بیدار سوئی قوم جس سے لے کے انگڑائی
ہوا بیدار جذبۂ خودی اشعار سے تیرے
ملی جو رہنمائی قوم کو افکار سے تیرے
تیرے فکر و تخیّل سے ملا احساسِ آزادی
تو غافل قوم کو منزل کی اس نے راہ دکھلا دی
رگ و جاں میں ہوئے بیدار اسرار جہانبانی
کہ ہے کردار کے اندر نہاں رمزِ مسلمانی
تیری بانگِ درا نے کردیا بیدار قوموں کو
غلامی میں ملا درسِ خودی نادار قوموں کو
رہائی قوم کو حاصل ہوئی جس دم غلامی سے
چمن گویا مہک اُٹھا بہارِ شادمانی سے
خودی کے درس نے اہلِ وطن کو دی توانائی
وطن کے گوشے گوشے سے صدائے مرحبا آئی
تیرے شاہیں نے جس دم رفعتِ پرواز سکھلادی
شعور و آگہی نے روشنی منزل کی دکھلا دی
لبِ دریا پہ اسرارِ جہاں کی جستجو کرنا
خضر کے ساتھ ملنا اور شب بھر گفتگو کرنا
یہ تُو نے پیش گوئی کی وطن آزاد ہونے کی
تصور میں تِرے تصویر تھی جو شاد ہونے کی
ہے ندرت بھی سخن میں قوتِ الہامِ کامل بھی
خودی کے ساتھ آزادی کا ہے پیغام شامل بھی
تدبّر نے تِرے پائی زمانے میں پذیرائی
تفکر نے تِرے عظمت کی شہرت دائمی پائی
رہے گا جنت الفردوس میں تیرا مقام آخر
فلک پر تااَبد روشن رہے گا تیرا نام آخر
مِلا اقبال کی عظمت کو بھی اقبال تابندہ
کہ دانشور رہا کرتے ہیں اسلم جاوداں زندہ
مظفر اسلم

*****

 
09
November

تحریر: محمد امجد چوہدری

طلباء و طلبات کو شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں سے آگاہ رکھنے کی ضرورت

درسگاہیں اور علم گاہیں کسی معاشرے کو باشعور، منظم اور مہذب بنانے میں ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔ قوموں کی اجتماعی ترقی اور خوشحالی میں ان کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ جامعہ کراچی کا شمار پاکستان کے ان اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے صحیح معنوں میں معمار قوم کا کردار ادا کیا اورآج بھی جدید تقاضوں کے مطابق نوجوانان وطن کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے میں پیش پیش ہے۔ بارہ سو ایکٹر رقبے پر مشتمل اس یونیورسٹی کا قیام1951ء میں عمل میں لایا گیا ۔صرف دو شعبوں سے تدریسی اور تحقیقی کام کا آغاز کرنے والی یہ جامعہ آج سائنس اور آرٹس کے53 مختلف شعبوں اور عالمی طرز کے20جدیدترین تحقیقاتی سنٹر ز اور انسٹی ٹیوٹس پر مشتمل ہے جہاں 24ہزار سے زائد طلباء و طالبات 800سے زائد قابل اساتذہ اوردرس و تدریس کے اڑھائی ہزارسٹاف کی زیرنگرانی اپنی علمی و تحقیقی پیاس بجھا رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تدریسی وتحقیقی معیار میں جامعہ کراچی کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہے۔اس کے فارغ التحصیل طلباء قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں۔ جامعہ کراچی کی ترقی اور ارتقاء کے عمل میں اس کے دُوراندیش اساتذہ کی محنت و قابلیت اور انتظامیہ کی کوششوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ یہ سچ ہے کہ تعلیمی ادارے علم وعمل اور آگہی و شعور کے مرکز ہوتے ہیں، اسی لئے تو ملک دشمن عناصر کا اولین نشانہ بھی یہی ہوتے ہیں۔پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ پاکستان کی ہر وہ شے جو ہمارے وقار، ترقی اورروشن مستقبل کی علامت سمجھی جاتی ہے، دہشت گردوں کے نشانے پر رہی۔ کراچی سے خیبر تک انہوں نے معصوم شہریوں اور سیکورٹی اداروں پر حملے کئے۔ تعلیمی ادارے خاص طور پر ان کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ وہ نہ صرف انہیں نشانہ بنا رہے تھے بلکہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں بھی مصروف عمل تھے۔اسی بھنور میں جامعہ کراچی کو بھی دھکیلنے کی کوشش کی گئی۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت یہاں بھی شدت پسندی، بدامنی اور بے یقینی کے بیج بونے کی کوشش کی گئی تاہم طلباء و طالبات کی ہوشمندی، اساتذہ کی مستعدی، انتظامیہ کے تعاون اور سکیورٹی فورسز کی کڑی نگرانی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ خاص طور پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان (ستارہ امتیاز) یہاں کے بہت سے مسائل جن میں انتظامی اور مالی قابل ذکر ہیں، حل کرنے میں انتہائی اہم کردار اداکررہے ہیں۔وہ نباتات کے استاد ہیں اور یونیورسٹی کو سرسبزوشاداب اور پھلتا پھولتا دیکھنے کی متمنی ہیں۔ اسی لئے بعض معاملات خاص طور پر فنڈنگ اور مالی خسارے کے لحاظ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں مگر شدید مالی مسائل ہماری رہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی یونیورسٹی کو اتنی رقم دی جائے جتنی کہ ایک عام یونیورسٹی کو فراہم کی جاتی ہے تو پچیس سال میں انقلابی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ جس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں ترقی اور علوم میں تبدیلی و جدت آرہی ہے، ہم بھی اپنے ملک کو اس سے ہمکنار کر سکتے ہیں ۔یہ تبھی ممکن ہے جب ہمیں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا اثر کراچی یونیورسٹی پر بھی پڑتا ہے۔ جب ہمیں کھل کر بات کرنے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پروفیشنل بحث و مباحثے کی اجازت ہوگی، جب ہمیں پیشہ ورانہ مضامین میں تحقیق کرنے کے لئے مالی آزادی ہوگی، توہم پاکستان کی معیشت کو مضبوط اور کامیاب بنانے میں بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس تناظر میں کراچی یونیورسٹی پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان پر سرمایہ کاری ہے۔ یونیورسٹی کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی پروفیسرڈاکٹر محمد اجمل خان نے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ وہ اس حوالے سے رینجرزکے کردار کے معترف ہیں۔ان کا کہنا ہے کراچی یونیورسٹی آپریشن ردالفساد کا ایک
Main Component
ہے۔ یہاں جو چند لوگ فساد کرکے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان سے نجات ضروری ہے اور اس سلسلے میں رینجرز اپنا مؤثر کردار ادا کررہے ہیں۔ وہ جامعہ کو سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مشکوک افراد پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ اس طرح ان تمام مجموعی کوششوں سے جامعہ کراچی کو شدت پسندی کا لیبل لگا کر اس کی ساکھ کو متاثر کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ تاہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ دہشت گرد عناصر ہماری کمزوریوں کی تاک میں ہیں۔ وہ پاکستان کے مستقبل کو تاریک کرنے کا موقع ہرگز ضائع نہیں کرتے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے نوجوانوں کے شعور میں مسلسل اضافہ کیا جاتا رہے۔ پاک فوج دہشت گردوں سے براہ راست نبردآزما ہونے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں بھی بہت سے اقدامات اٹھارہی ہے۔

jamiat.jpg

گزشتہ دنوں جنرل ہیڈکوارٹرز میں ''شدت پسندی کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کے کردار'' کے موضوع پر ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا جس میں پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو شکست دی جاچکی، شدت پسندی کو شکست دینے کے لئے ہمارے تعلیمی ادارے اور میڈیا معاشرے کی پہلی دفاعی لائن ہیں۔ ہم باہمی تعاون سے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے والی قوتوں کو شکست دیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی گزشتہ دنوں جامعہ کراچی کا دورہ کیا اور طلباء سے خطاب بھی کیا۔ طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلباء منفی چیزوں پر دھیان نہ دیں اوروالدین کے خواب پورے کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہوں کہ سب لوگ دنیا کو میری نظر سے دیکھیں تو میں بنیاد پرست نہیں انتہا پسند کہلائوں گا۔ جب میں دوسروں کو اپنے نظریات ماننے پر مجبور کروں تو تشدد پسند یا دہشت گرد کہلائوں گا۔مجھے کسی کو ثابت نہیں کرنا کہ میں مسلم ہوں ، یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے، مسلمان ہونے کے لئے نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں، عمل سے ثابت کریں۔اس طرح کے سیمینارزاور کانفرنسیں یقینا ہمارے نوجوانوں کو دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے ہتھکنڈوں کے بارے میں مؤثر طور پر باخبر اور باشعور رکھتی ہیں۔ بہرحال جامعہ کراچی علم کا ایک ایسا رواں چشمہ ہے جس نے پاکستان کی تعمیر سے استحکام تک ایک ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ یہ چشمہ اسی طرح رواں رہ کر ملک کی ترقی اور استحکام کو دوام بخشتا رہے گا۔

 
09
November

تحریر: عمران علی ملک

قدرت نے ارضِ وطن پاکستان کو بے شمار نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ جس میں سب سے اہم یہاں کی آب و ہوا اور سال بھر کے دوران رنگ بدلتے موسم ہیں۔
جون کا آغاز ہوتے ہی یہاںگرمی کی شدید لہر ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ آسمان سے سورج گرمی برساتا ہے تو زمین بھی تپش کی شدت سے آگ کا منظر پیش کرتی ہے ۔ ایسے میں شمالی علاقہ جات کی سیاحت کا رجحان بڑھ جاتا ہے ۔ دہشت گردی کی لہر نے پورے ملک سے سیاحت کا سلسلہ تقریباً ختم کر دیا تھا لیکن پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں اور بیش بہا قربانیوں سے وطن عزیز ایک بار پھر سیاحت کے لئے محفوظ مقام بن چکا ہے۔ سیاحت کی بات ہو تو گلگت بلتستان کسی جنت سے کم نہیں۔ویسے تو بلتستان کا ہر علاقہ قدرتی مناظر میں اپنی مثال آپ ہے لیکن ان میں سکردو ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

skerdozamen.jpg
اسلام آباد سے سکرودو کے لئے فضائی سفر کی سہولت بھی موجود ہے۔ پی آئی اے کی پروازیں روزانہ کی بنیاد پر ہوتی ہیں لیکن موسم خراب ہونے کی صورت میں پروازیں منسوخ کر دی جاتی ہیں۔ اسلام آباد سے سکردو کا زمینی سفر قراقرم ہائی وے کے ذریعے ہوتا ہے ۔دہشت گردی کے دوران یہ سفر قدرے غیر محفوظ تھا مگر پاک فوج اور ایف سی کے زیر نگرانی یہ سفر قافلوں کی شکل میں جاری رہا۔ راستوں میں بھی جگہ جگہ ایف سی اہلکار ڈیوٹی دیتے دکھائی دیتے ہیں ۔ سنگلاخ چٹانوں میں بنا کسی سائے کے ڈیوٹی دیتے اہلکار وں کر دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وطنِ عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے یہ جوان کس قدر پُر عزم ہیں۔ پاک فوج کی جرأت مندانہ کارروائیوں کی وجہ سے اب یہ سفر انتہائی محفوظ ہے ۔
جگلوٹ اور گلگت سے سکردو تک پہنچنے کے لئے واحد زمینی راستہ 167 کلومیٹر، گلگت ـسکردو روڈ ہے ۔ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ یہ دشوار گزار راستہ ہے مگر سکردو کے ڈرائیور نہایت مہارت سے ڈرائیونگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گلگتـ سکردو روڈ میں ایک جانب فلک بوس پہاڑ ہیں تو دوسری جانب زمین کی تہوں میں دریائے سندھ بہہ رہا ہے۔ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے کبھی یہ راستہ منقطع بھی ہو جاتا ہے ۔ جس کو ایف ڈبلیو او کم سے کم وقت میں ٹرانسپورٹ کے لئے بحال کردیتی ہے۔


سکردو میں اپریل کے آخر میں بہار کا آغاز ہوتے ہی سیاحت کا آغاز بھی ہو جاتا ہے۔ اپریل سے ستمبر تک سیاحت کا بھرپور موسم ہوتا ہے۔ سیاح سکردو کا رُخ کرتے ہیں۔ اکتوبر میں یہ حسین وادی سفید چادر اوڑھنا شروع کر دیتی ہے اور رفتہ رفتہ ہر طرف برف ہی برف دکھائی دیتی ہے ۔


سکردو شہر سے 50فٹ بلند پہاڑ پر واقع قلعہ کھرپوچو اپنے ڈیزائن اور محل وقوع کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس قلعے کی بناوٹ ایسی ہے کہ اس سے پورا سکردو شہر بآسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔ نیز اس قلعے سے دریائے سندھ اور اس کے پیچھے بلند و بالا پہاڑ اتنہائی دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔


کھرپوچو کے عقب میں واقع گائوں ننگ سوق کو ''آرگینک ویلج'' کا نام دیا گیا ہے۔اس گائوں میں آج تک مصنوعی اشیاء سے پاک 100فیصد قدرتی اجناس استعمال کی جاتی ہیں ۔اس گائوں میں نہ تو سرکاری بجلی ہے اور نہ ہی کوئی سڑک موجود ہے۔گائوں تک پہنچنے کا واحد راستہ انتہائی دشوار گزار ہے جہاں سے پیدل گزرنا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں تھا مگر پاک فوج نے اب اس راستے کو قدرے آسان بنانے کے لئے لکڑی کے پُل بنا دئیے ہیں ۔
سکردو سے شگر جاتے ہوئے ایک نہایت ہی خوبصورت مقام سے گزرتے ہیں یہ ایک صحرا ہے جو کولڈ ڈیزرٹ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دریائے سندھ کے ساتھ کئی میلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس صحرا کے درمیان سے گزرتی سڑک اور پس منظر میں خوبصورت پہاڑ ایک دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں۔


وادیٔ شگراور شگر فورٹ
وادٔ شگر بلتستان کی ایک خوبصورت وادی ہے ۔یہ 170کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ جونہی اس وادی میں داخل ہوں یہاں ایک خاص قسم کی خوشبو آپ کا استقبال کرتی ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنے اس کی خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ وادٔ شگر سے دریائے شگر گزرتا ہے جو آگے جا کر دریائے سندھ میں ضم ہو جاتا ہے۔ اس وادی میںسب سے مشہور مقام شگر فورٹ اور شگر پیلس ہے۔ اس کو بلتی زبان میں ''پھونک کھر'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''چٹان پر محل'' یہ بلتستان کے فن تعمیر کا ایک خوبصورت شاہکار ہے۔ آج کل یہاں ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے اور پیلس کی عمارت کا کچھ حصہ ایک ہوٹل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وادٔ شگر میں قائم مسجد امبوریک کا شمار بلتستان کی قدیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔ اس مسجد کی بنیاد سید امیر کبیر علی ہمدانی نے رکھی اور یہ آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔یونیسکو نے اس مسجد کو کلچرل ایوارڈ بھی دیا ہے ۔


شنگریلا جھیل
کچورہ گائوں میں موجود ہونے کی وجہ سے اس جھیل کا اصل نام کچورہ جھیل ہے۔ یہاں 1983میں قومی ایئر لائن کا ایک طیارہ گر گیا تھا جس کو کسی نے خرید کر ایک ریسٹورنٹ میں تبدیل کر دیا اور اس کا نام شنگریلا رکھا۔ ''شنگری لا ''تبتی الفاظ کا مجموعہ ہے جس کا مطلب ہے ''زمین پر جنت''۔ جھیل کے کنارے یہ اپنی نوعیت کا منفرد ریسٹورنٹ ہے جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے پوری دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔ چاروں جانب پہاڑوں میں گھرے اس خوبصورت مقام پر جائے بغیر سکردو کی سیاحت مکمل نہیں سمجھی جا سکتی ۔


اپر کچورہ جھیل
یہ انتہائی شفاف پانی کی ایک وسیع و عریض جھیل ہے کچورہ۔ شنگریلا جھیل سے کئی گنا بڑی جھیل ہونے کے ساتھ ساتھ کافی گہری بھی ہے ۔ اس کی گہرائی 280فٹ ہے۔ یہ انتہائی خوبصورت تفریحی مقام ہے ۔سر سبز درختوں میں گھرے کچے راستے ٹریکنگ کے شوقین حضرات کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ لیکن ناکافی سہولیات اور قدرے دشوار گزار راستے کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی آمدورفت کم ہوتی ہے۔
سکردو شہر سے 40کلومیٹر دور وادیء کھرمنگ میں منٹھوکھا آبشارواقع ہے ۔ اس کی اونچائی زمین سے 180فٹ ہے۔ دورونزدیک سے لوگ یہاں تفریح کے لئے آتے ہیں۔ آبشار سے اُڑتی پھوار ہوا میں شامل ہو کر انتہائی دلفریب نظارہ پیش کرتی ہے۔


منٹھال بُدھا راک
سکردو۔ سدپارہ روڈ پر سکردو سے 3کلومیٹر دور منٹھال گائوں میں واقع یہ گرینائٹ کا چٹان نما پتھر ہے جس کی اونچائی تقریباً50فٹ ہے ۔اس چٹان کے درمیان میں بُدھا کی ایک بڑی اور اطراف میں کئی چھوٹی تصاویر کندہ کی گئی ہیں۔


دیوسائی نیشنل پارک
دیوسائی (جنات کی سرزمین) استور اور سکردو کے درمیان دنیا کے دوسرے بڑے میدان ہیںجو سطح سمندر سے 13,497فٹ بلند ی پر واقع ہیں ۔ یہ میدان 3000مربع کلومیٹر پر محیط ہیں۔ دیوسائی کو بلتی زبان میں ''غبیارسہ'' کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ''گرمیوں کی جگہ''کیونکہ اس علاقے تک رسائی گرمیوں کے صرف 3مہینے ہی ممکن ہوتی ہے۔ دیوسائی کو 1993میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہاں برفانی چیتا، برائون ریچھ، مرموٹ، مارخور، ہڑیال اور باز کی کئی نسلیں پائی جاتی ہیں۔ سرسبز گھاس کی چادر اوڑھے ان میدانوں میں رنگا رنگ خوبصورت پھولوں ، اُڑتی تتلیوں ، خوشبوئوں اور بہتے پانیوں سے جو نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے وہ یہاں آنے والوں کو ہمیشہ کے لئے اپنا اسیر کر لیتا ہے۔


سکردو پاکستان کے سیاحتی مقامات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں برف پوش پہاڑوں کو چھو کر گزرنے والی ہوا ئوں کا احساس ہی تن بدن میں تازگی پیدا کر دیتا ہے ۔ پہاڑوں سے گرتے جھرنوں سے اُٹھنے والی ٹھنڈی پھوار سانسوں کو ایسی تازگی بخشتی ہے کہ روح تک ٹھنڈک محسوس کی جا سکتی ہے۔ وہاں کی وادیوں میں ایک خاص خوشبو سے سانسیں بھی مہک جاتی ہیں اور انسان اُس خوشبو کو کبھی بھی بُھلا نہیں سکتا۔ یہاں سیب ، چیری، خوبانی ، آلوبخارہ، انجیراور بادام کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ سکردو کی خوبصورتی کی طرح یہاں کے لوگ بھی لالچ سے دور ، انتہائی خوش اخلاق اور پُر امن ہیں۔محنت کا رجحان بچوں اور بڑوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔ بچے بہت ملنسار اور تعلیم کے شوقین ہیں اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے کئی کئی میل کا سفر بھی پیدل کرتے ہیں۔سیاحت کے دلدادہ سکردو جانے کے بعد کبھی اس کے سحر سے نکل نہیں پائیں گے۔جیسا کہ ایک نغمے کے بول کچھ یوں ہیں 
ایک بار جو آئے …
دل یہاں رہ جائے …
جانا چاہے نہ پھر یہاں سے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 

Follow Us On Twitter