05
April

CJCSC and Chinese Ambassador Reaffirm Resolve for Deepening Strategic Ties

Published in Hilal English
CJCSC and Chinese Ambassador Reaffirm Resolve for Deepening Strategic Ties
Mr. Yao Jing, Ambassador of China, called on General Zubair Mahmood Hayat, Chairman JCS Committee at Joint Staff Headquarters, Rawalpindi on March 1, 2018. Matters related to changing geostrategic environment and further strengthening of security and defence cooperation were discussed during the meeting. Both sides reaffirmed the resolve for furthering of deeper strategic ties. The Ambassador applauded the professionalism of Pakistan Armed Forces and acknowledged sacrifices made by Pakistan in the war against terrorism.

newscjscwithchinesambasidor.jpg

CJCSC Calls on Chief of Staff UAE Armed Forces and UAE Minister of State for Defence Affairs
newscjscwithchinesambasidor1.jpgGeneral Zubair Mahmood Hayat, Chairman JCS Committee called on Chief of Staff UAE Armed Forces and UAE Minister of State for Defence Affairs during his official visit to United Arab Emirates on March 6, 2018. Chairman also delivered a talk on “Regional Security Environment” at National Defence College, UAE.

 

21
January

باہمی تعاون کے نئے دور کا آغاز

این ایل سی کے دس ریلوے انجنوں کو پاکستان ریلوے کے حوالے کرنے کا معاہدہ طے پایا
پاکستان کو برطانوی سامراج سے آزادی کے وقت ریلوے کا وسیع و عریض اور فعال نظام ورثے میں ملا۔ ریلوے کا یہ مربوط نظام وطن عزیز کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ ہر قسم کے جغرافیائی خطوں میں بچھائی گئی پٹریاں ور برطانوی طرز کے خوبصورت ریلوے اسٹیشن بلا شبہ آج بھی کسی عجوبے سے کم نہیں ہیں تاہم وقت گزرنے اور ٹیکنالوجی میں نت نئی جدتیں آنے کی وجہ سے یہ قومی ادارہ زمانے کے ساتھ اپنی رفتار کو برقرار نہ رکھ سکا نتیجتاً آہستہ آہستہ پاکستان ریلوے انتظامی، عملیاتی اور مالی بحرانوں سے دوچار ہو گیا۔

ریلوے اور این ایل سی کا تعاون 2011 سے جاری ہے گزشتہ دہائیوں پر محیط پاکستان ریلوے کی زبوں حالی سے قومی لاجسٹکس استعداد پر کافی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ جون 2011 کو منعقدہ نیشنل لاجسٹکس بورڈ کے اجلاس میں گزشتہ حکومت کے وفاقی وزیر برائے خزانہ، منصوبہ بندی و ترقی نے این ایل سی کو ریلوے کی بحالی میں معاونت فراہم
کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔ این ایل سی نے 2012 میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے سلسلے میں ریلوے کے آئی پی ڈی ایف پی آر کے ٹریک رسائی کے حقوق جیتے۔ این ایل سی نے مال برداری کے لئے کوریل سے دس انجن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم مال بردار ٹرین کے حوالے سے پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ سے این ایل سی کے انجنوں کا استعمالہ ممکن نہ رہا۔ ستمبر 2013 میں نیشنل لاجسٹکس بورڈ کے اجلاس میں دونوں اداروں کو ہدائت کی گئی کہ این ایل سی کی سرما یہ کاری کو محفوظ بنانے کے لئے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کیا
جائے۔

نیشنل لاجسٹکس بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں دونوں اداروں کے مابین طویل مشاورت کا آغاز شروع ہوا۔ معروف مالیاتی کنسلٹنسی ادارے" اینٹی گریٹڈ ایکویٹز پرائیویٹ لمیٹڈ "نے دونوں اداروں کو مالیاتی ماڈل پیش کیا جسے کافی غور و حوض اور طویل مشاورت کے بعد معاہدہ کی شکل دی گئی۔ معاہدہ کے مطابق این ایل سی پاکستان ریلویز کو دس انجن فراہم کرے گا۔
ڈرائیور وں اور انجنوں کی دیکھ بھال این ایل سی کے ذمہ ہوگی۔ جبکہ مجموعی آپریشنل انتظام اور مال برداری کی مارکیٹنگ کے لئے پاکستان ریلویز ذمہ دار ہوگا۔

این ایل سی اور پاکستان ریلوے کے درمیان معاہدہ پر دستخط گزشتہ دنوں پاکستان ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں ہوئے۔ اس پُروقار تقریب کے موقع پر وفاقی وزیر برائے ریلوے جناب سعد رفیق اور کوارٹر ماسٹر جنرل اور آفیسر انچارج این ایل سی لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللّٰہ خان کے علاوہ دیگر سینئر حُکام بھی موجود تھے۔ ڈی جی این ایل سی میجر جنرل اصغر نواز اور ریلوے کے جی ایم آپریشنز مُحمدجاویدانور نے اپنے متعلقہ اداروں کی جانب سے معاہدہ پر دستخط کئے۔ اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے نے معاہدہ کو دونوں اداروں کے لئے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مال برداری کے لئے آسان، سستی اور تیز ترین سہولیات فراہم کرنے لئے ریلوے اور این ایل سی میں مزید تعاون بڑھانے کے لئے دوسرے منصوبوں
پر غور کیا جا رہا ہے جنہیں عنقریب حتمی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے این ایل سی کی مجموعی کارکردگی پر ادارے کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس اہم ادارے کی قومی ترقی میں
لازوال خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ انجنوں کے ریلوے اور ایف جی آئی آر کے آزمائشی معیار کے مطابق تفصیلی ٹسٹ کئے گئے اس ضمن میں این ایل سی نے ریلوے کی تمام ضروریات شرائط پوری کیں۔ انجنوں کی مکمل جانچ اور فٹنس کے بعد ہی معاہدہ کو حتمی شکل دی گئی۔معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں کئی رکاوٹیں اور مشکلات سامنے آئیں اور چند ناپسندیدہ عناصر نے منفی تائثر قائم کرنے کے لئے میڈیا کے ذریعے بھرپور پروپیگنڈہ مہم کا سہارا لے کر شکوک و شبہات کو جنم دینے کی مذموم کوشش کی تاہم این ایل سی اور پاکستان ریلوے کی قیادت نے معاملہ فہمی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان عناصر کے منفی ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دیا۔ دونوں اہم اداروں نے ایک دوسرے کے نکتہ نظر کو تحمل اور بردباری سے سمجھا اور مال بردار ٹرین کے نظام کی
بحالی میں اپنامجموعی کردار ادا کیا۔
مُعاہدہ دونوں سرکاری اداروں کے باہمی تعاون کا مظہر ہے۔ ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر اور قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے این ایل سی اور پاکستان ریلوے نے ثابت کیا کہ اگر ارادے نیک اور جذبہ حُب الوطنی پر مبنی ہو توکامیابی ضرور قدم چُومتی ہے۔

09
January

Commander Royal Navy of Oman Visits Naval Headquarters

Commander Royal Navy of Oman Visits Naval Headquarters

newscommandriyalnavy.jpgCommander Royal Navy of Oman, Rear Admiral Abdullah Bin Khamis Bin Abdullah Al Raisi visited Naval Headquarters Islamabad and called on Chief of the Naval Staff, Admiral Zafar Mahmood Abbasi.


Upon arrival at the Naval Headquarters, Commander Royal Navy of Oman was received by Chief of the Naval Staff. A smartly turned out contingent of Pakistan Navy clad in ceremonial dress presented him Guard of Honour. The visiting dignitary was then introduced to Principal Staff Officers.


Later, Commander Royal Navy of Oman called on Chief of the Naval Staff in his office, where discussions on professional matters and bilateral naval collaboration were held. Various avenues of cooperation between the two Navies were also disussed. The Naval Chief highlighted Pakistan’s commitment and performance in the fight against terrorism including participation of Pakistan Navy in Coalition Maritime Campaign Plan (CMCP) and Counter Piracy Operations. Numerous tenures of Command of Multinational Task Forces 150 and 151 by senior Pakistan Navy officers were also briefed to the visiting dignitary.


A comprehensive brief on Regional Maritime Environment and Pakistan Navy’s Contribution in regional maritime security was also given to the visiting delegation. Commander Royal Navy of Oman highly appreciated the role and contributions of Pakistan Navy in maintaining peace and stability in the region.

Follow Us On Twitter