پاکستان سپر لیگ کا فائنل، اہلیان کراچی اور سکیورٹی فورسز

Published in Hilal Urdu

تحریر: کنول زہرا

کراچی جو کبھی خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا جہاں شہر کی سڑکوں پر دہشت کے سناٹوں کا راج تھا اور روشنیوں کے شہر کی رونقیں مانند پڑگئی تھیں ایسالگتا تھا جیسے اس شہر کی مسکراہٹیں اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گی مگر حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے 25 مارچ2018 کو ایسے محسوس ہوا جیسے کراچی ایک بار پھر سے روشنیوں کا شہر بن گیا ہے۔ شہرکی سڑکوں پر سناٹا تو اُس دن بھی تھا مگر یہ سناٹا کچھ مثبت طرز کا تھا کیونکہ اس روز نیشنل اسٹیڈیم 9 سال بعد دوبارہ آباد ہوا تھا۔ کرکٹ اپنے اصل گھر منی پاکستان کراچی میں ایک بار پھر لوٹ آیا ۔ سال 2018 کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کرکٹ بوڈر کی جانب سے پی ایس ایل کے فائنل میچ کا انعقاد کراچی میں کئے جانے کا اعلان شہر قائد میں رہنے والوں کے لئے مسرت کا باعث تھا۔ 16مارچ تک ہی کراچی میں پی ایس ایل فائنل کی ٹکٹیں فروخت ہوچکی تھیں جو اس بات کی غمازی تھی کہ شہری کس بے چینی سے اس لمحے کا انتظار کررہے تھے۔فائنل کھیلنے کا دن آیا تو اہلیانِ کراچی کا جوش قابلِ دید تھا۔ نیشنل سٹیڈیم کراچی، شائقینِ کرکٹ سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ جہاں ہر سو سبز ہلالی پرچم تھے اورپاکستان زندہ باد کے نعرے تھے۔ میگاایونٹ سے لطف اندوز ہونے کے لئے انتظامیہ نے شہریوں کی سہولت کے لئے 40 ہزار سے زائد افراد کے بیٹھنے کا انتظام کیا تھا جبکہ اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کروں تو میں نے وہاں جتنے لوگوں کو بیٹھے دیکھا اتنے ہی شائقین کو کھڑے بھی دیکھا۔ اس روز صحیح معنوں میںکراچی کو امن کے کھیل میں رقص کرتے دیکھااورکراچی والوں کا جوش ہی الگ تھا۔ قابلِ تعریف بات یہ کہ نیشنل اسٹیڈیم میں یہ جوش وخروش اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلے گئے میچ کے دوران دیکھنے میں آیا۔ کراچی کی عوام نے کراچی گنگز کی ٹی شرٹس پہن کر اپنے شہر کی رونقوںکی بحالی کا جشن منایا۔ میچ شروع ہونے سے قبل روایت کے مطابق سارے شائقین نے قومی جذبے کے ساتھ پاکستان کا ترانہ پڑھا۔

pasfinalkarachi.jpg
اس بات سے سب واقف ہیں کہ کراچی میں 2013 سے رینجرز آپریشن کا آغاز ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔ پروردگار کے کرم سے اس کے مثبت نتائج بھی مل رہے ہیں۔ اب کراچی میں شٹرڈاون ہڑتالیں نہیں ہوتیں بلکہ زندگی خوشحال ہے۔ اب کراچی میں مادرِوطن کے خلاف نعرے نہیں لگتے بلکہ پاکستان زندہ باد کی گونج ہے۔اب کراچی میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے جھنڈے نظر نہیں آتے بلکہ عام عوام کے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم دکھائی دیتا ہے۔ یقینا یہ پاکستان سکیورٹی فورسز کی کامیابی ہے جن کی انتھک محنت اور لازوال قربانیوں کی بدولت ہم کراچی سمیت پورے پاکستان میں امن کا قیام دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے موقع پر سیاسی و شوبز شخصیات سمیت افواج پاکستان کی جانب سے کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کراچی کے عوام کو بہت نظم و ضبط والے شہری کہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے عوام کی خوشی دیکھ کر دلی اطمینان ہورہا ہے۔ اس ایونٹ کے اختتام پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی کراچی کے شہریوں کے جوش اور نظم و ضبط کو سراہا۔


اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کراچی سمیت پورے ملک کا امن ہمارے سکیورٹی اداروں کی ہی بدولت ہے۔ یہاں یہ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ شہرقائد سے پاکستان آرمی بہت زیادہ پیار کرتی ہے اسی لئے وہ نہ صرف امن کے قیام کے لئے کمربستہ ہے بلکہ ابرِرحمت کے بعد نکاسی آب کا کام بھی پاکستان رنیجرز اور پاک افواج کرتی نظر آتی ہیں۔
بہرحال خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا فائنل خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کے پرامن اختتام پر پوری دنیا کو یہ پیغام ملا کہ پاکستان دہشت گرد ملک نہیں بلکہ دہشت گردی کا ستایا ملک ہے۔یہاں کے لوگ موت کے کھیل سے نہیں بلکہ کرکٹ اور ہاکی کے کھیلوں سے پیار کرتے ہیں۔کراچی سمیت پاکستان کا کونا کونا امن کے قیام پر پر سکون ہے اور اس امن کو مستقل خیمہ زن رکھنے کا خواہش مند ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کا لوٹ آنا اور نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں سبز ہلالی پرچموں کے ساتھ خوش اسلوبی سے فائنل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ دہشت گردی ہار گئی ہے اور پاکستان جیت گیا ہے۔ امن کا یہ قیام سکیورٹی فورسز کی بے شمار خدمات کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

 
Read 134 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter