مختار مسعود اور آوازِ دوست

Published in Hilal Urdu

تحریر: محمد ظہیر بدر

علم و دانش سے بہرہ ور اور تاریخ کے پیچ و خم کوتحقیق کی نظر سے دیکھنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ برِصغیر کی تاریخ میں سرسید اور علی گڑھ … ہمارے تابناک ماضی، شکست و زوال اور مد و جزر اسلام کی یاد داری کا اہم جزوہیں۔ نامور محقق شیخ اکرام نے کہا تھا، تحریک علی گڑھ کے سارے پھل میٹھے تھے۔ اسی تحریک سے اردو ادب و صحافت اور سیاست کے شہسوار وں نے جنم لیا۔چنانچہ اسی تحریک کے تحت مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا قیام بر صغیر کے مسلمانوں کی سیاسی و سماجی تاریخ کا اہم واقعہ ہے۔ اس عظیم ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ نے مسلمانوں کے قومی تشخص کو نہ صرف بحال کیا بلکہ اسلامیان بر صغیرکے لئے آزادی کی راہ بھی متعین کی۔یہی وجہ ہے کہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلبہ اپنے نام کے ساتھ نشان ِ فخر و امتیاز کے طور پر علیگ لکھا کرتے تھے۔اُن ہی علیگیوں میں سے ایک مختار مسعود بھی تھے جو زندگی بھر اسی تفاخر میں جئے جو انھیں علیگ ہونے کی وجہ سے حاصل تھا۔
مختار مسعود 1926میںسیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ عطاء اللہ علی گڑھ یونیورسٹی ہی میں معاشیات کے پروفیسر تھے۔اس لئے مختار مسعود نے اپنے تمام تعلیمی مراحل مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں طے کئے۔ ایم اے انگلش کرنے کے بعد1949 میں انھوں نے سول سروس کا امتحان دیا۔ اس امتحان میں صرف تین امیدوار کامیاب ہوئے جن میں سے ایک مختار مسعود تھے۔ملازمت کے دوران وہ کمشنر ،فیڈرل سیکریٹری اور مختلف انتظامی اعلیٰ عہدوں پر متمکن رہے۔ پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن(پی آئی ڈی سی) کے سربراہ رہے۔ اس کے علاوہ وہ ایگریکلچر ل ڈویلپمنٹ بنک آف پاکستان ( اے ڈی بی پی، موجودہ زرعی ترقیاتی بنک )کے سربراہ بھی رہے۔ اسلام آباد( زیرو پوائنٹ ) میں انہی کے دور میں اے ڈی بی پی کی عظیم الشان عمارت تعمیر ہوئی۔ اس وقت تک یہ دارالحکومت اسلام آباد کی سب سے بڑی عمارت تھی۔

mukhtarmassod.jpg
عام طور پر کسی بھی پرشکوہ عمارت یا منصوبے کا افتتاح ملک کے صدر ، وزیراعظم یا پھر صوبے کے گورنر یا اعلیٰ انتظامی عہدے دارسے کروایا جاتا ہے۔ انہوں نے اس عظیم الشان عمارت کا افتتاح بنک کے کسی اعلیٰ عہدے دار سے کروانے کی روایت کو توڑنے کا ارادہ کیا۔ہر چند انھیں متنبہ کیا گیا کہ وہ اپنے اس اقدام پر اس وقت کے وزیر اعظم کے عتاب کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں۔جس کے نتیجے میں ان کو ملازمت سے برطرف بھی کیا جاسکتا ہے مگر انھوں نے سنگین نتائج کے تمام امکانات و خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنایا۔ انہوں نے بنک کے گروپ فور کے سینئر ترین ملازم سے اس عظیم الشان عمارت کا افتتاح کروا کر محنت کی عظمت اور محنتی طبقے کی پذیرائی کی بنیاد رکھی۔ مختار مسعود پاکستان، ایران اور ترکی کی تعاون کی تنظیم ،ریجنل کوآپریشن فار ڈویلپمنٹ (آرسی ڈی) کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے اور تینوں مسلم ممالک میں ترقیاتی تعاون بڑھانے کے لئے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ مختار مسعود ایک بااصول اور دیانت دار بیوروکریٹ تھے۔ان کا شماراِن معدودے چند بیوروکریٹس میں ہوتا ہے جو اپنے اختیار کو امتحان کے طور پر لیتے ہیں،جو اپنے اختیار کو اقتدار کے بجائے خدمت گزاری کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔


میرے خیال میں جس طرح غالب کے خطوط 1857 کی اجڑی دہلی کے بارے میں معلومات کا معتبرذریعہ ہیں، اسی طرح انقلاب ایران پر مختار مسعود کی کتاب '' لوح ایام '' اس وقت کے ایران کی شب و روز کروٹیں لیتی ہوئی سیاسی و سماجی زندگی کے بارے میں سب سے اہم دستاویز ہے کیونکہ انقلاب ایران کے ہنگامے اور شورش کے وہ عینی شاہد تھے۔ آواز دوست اورسفر نصیب کے بعد یہ ان کی تیسری تصنیف تھی۔ '' سفر نصیب '' میں انھوںنے سفرنامہ لکھنے والوں کو ایسے اسلوب سے آشنا کروایا ہے جس کے تحت مسافر کو اپنی تحریر میں دلچسپی کا رنگ بھرنے کے لئے وجود زن کے علاوہ دیگر رنگوں سے بھی کام لینا چاہئے۔ مقامات کے پیش منظر کے ساتھ پس منظر کو بھی سفری مونتاج کا جزو بنانا چاہئے۔ ان کی پہلی کتاب آواز دوست سے لے کر آخری کتاب حرف شوق تک کی تحریر میں موضوع و مواد کے لحاظ سے ایک تاریخی شعور کا نامیاتی تسلسل پایا جاتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ اس مضمون میں مختار مسعود کی تمام کتب کا تذکرہ کر کے مختار مسعود کے فن پر روشنی ڈالوں گا۔ کیونکہ ان کے فن و شخصیت پر ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔لیکن ایک تو مقررہ گنجائش پیش نظر تھی دوسرا یہ کہ جوں ہی آواز دوست کھولی مولانا روم کے اس شعر نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا :
خشک مغزو خشک تار و خشک پوست
از کجا می آید ایں آوازِ دوست
اشاعت اول، جنوری 1973سے لے کردو بار اس کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ اب تیسری بار جو کتاب کھولی تو ایسا ڈوبا کہ اس مضمون کو مختار مسعود کی جملہ کتب پر مضمون لکھنے کے بجائے آواز دوست تک محدود کرنے پر مجبور ہو گیا۔اردو نثر میں ایسی تحریر شاذونادر ہی ملے گی جس میں مصنف نے مختلف اصناف نثر سے کام لیا ہے۔ کہیں یہ رپوتاژ ہے کہیں روداد، کہیں تاریخ نگاری ویاد نگاری ، کہیں خاکہ و سفر نامہ نگاری جھلکتی ہے۔آواز دوست میں تاریخی حوالے سے کئی ایسی باتیں مصنف کے قلم کی زد میں آگئی ہیںجن کا تذکرہ ہمیں تاریخ پاکستان یا مشاہیر کے تذکروں میں نہیں ملتا۔' آواز دوست' نے اہل فکر و درد اور عوام الناس میں اپنی دھوم مچائے رکھی۔ اب تک اس کے دسیوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔کتاب کے مختصر سے دیباچے میں انھوںنے اس کتاب کی نوعیت و ماہیت کا تعارف یوں کروایا۔'' اس کتاب میں دو مضمون شامل ہیں۔ایک طویل مختصر اور دوسرا طویل تر۔ان دونوں مضامین میں فکر اور خون کا رشتہ ہے۔فکر سے مراد فکر فردا ہے اور خون سے مراد خون تمنا۔''


یہ دو مضامین مینار ِ پاکستان اور قحط الرّجال ہیں۔شاید انھوںنے مینار پاکستان کو فکر یعنی فکر فردا سے تعبیر کیا ہے۔ بقول مختار مسعود۔۔۔۔ ہماری نظریاتی تاریخ کی ضرورت ، تحریک آزادی کی علامت ، دین کی سرفرازی کا گواہ اور ہماری تاریخ کا نشان ِ خیر ہے۔۔۔، آوازدوست پر اپنے مضمون بعنوان '' آواز دوست کی چند لہریں '' میں … مینار پاکستان …کے بارے میں سید ضمیر جعفری بھی اسی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ''اس موضوع میں کچھ ایسے مقاماتِ آہ و فغاں بھی آتے تھے کہ جب تک ایک ہاتھ میں قلم اور دوسرے میںعَلَم نہ ہو ، آدمی ان مقامات سے گزر نہ سکتا تھا ، یہ مینار خشت و سنگ کا کوئی عام انبار نہ تھا۔'' حساس دل اور وطن عزیز کی محبت میں سرشار لوگوں کو اس کتاب کی تحریر خون کے آنسو رُلاتی ہے۔ آواز دوست کی تحریردل میں اتر کر رگ وپے کو حصار میں لے لیتی ہے۔
مینار پاکستان کا منصوبہ ان کی زیر نگرانی تکمیل پایا۔ چنانچہ کتاب کے پہلے باب مینار پاکستان میں اور دوسرے حصے قحط الرّجال میں آٹو گراف بک لئے سطر بہ سطر ان کی گہری شمولیت کا احساس ہوتا ہے۔ اقبال نے کہا تھا :
اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ
دریا سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی
آواز دوست میں مختار مسعود بھنور کی وہی آنکھ دکھائی دیتے ہیں۔جو تخلیق پاکستان کے مقاصدکی عدم تحصیل اور مشرقی بازو کے کٹ جانے کی وجہ سے خُونابہ بار ہے۔ وطن عزیز جس نازک صور ت حال سے گزر رہا ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ اسلاف نے پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی اہمیت سے آنے والی نسلوں کو متعارف نہیں کروایا۔جن قربانیوں اور دکھوں سے اس کا حصول ممکن ہوا، ان کا احساس اگلی نسلوں کو منتقل نہیں کیا۔آواز دوست اسی '' جرم'' کاکفارہ ہے جو اس کی مقبولیت کی دلیل ہے۔اس کتاب کے جملے اقوال زریں کے طور پر یاد رکھے جانے کے قابل ہیں۔آواز دوست ادب برائے زندگی اور ادب برائے ادب کا دلکش و دل پذیر امتزاج پیش کرتی ہے۔چند اقتباسات دیکھئے :
٭ اہل شہادت اور اہل احسان میں فرق صرف اتناہے کہ شہید دوسروں کے لئے جان دیتا ہے اور محسن دوسروں کے لئے زندہ رہتا ہے۔ایک کا صدقہ جان ہے اور دوسرے کا تحفہ زندگی۔
٭ مرنے والوں کو کسی نے دفن نہ کیا مگر بچ جانے والے زندہ درگور ہوگئے۔
٭جب مسجدیں بے رونق اور مدرسے بے چراغ ہوجائیں ، جہاد کی جگہ جمود اور حق کی جگہ حکایت کو مل جائے ، ملک کے بجائے مفاد اور ملت کے بجائے مصلحت عزیز ہو ، اور جب مسلمانوںکو موت سے خوف آئے ،زندگی سے محبت ہوجائے تو صدیاں یونہی گم ہو جاتی ہیں۔
٭دراصل جرأت ایک کیفیت اور قربانی اس کیفیت پر گواہی ہے۔جرأت ایک طرز اختیار کانام اور قربانی ایک طریقِ ترک کو کہتے ہیں۔اس ترک و اختیار میں بسر ہو جائے تو زندگی جہاد اور موت شہادت کا نام پاتی ہے۔

مضمون نگار' معروف ماہرِ تعلیم' ادیب اور ناول نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 49 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter