کینیڈا میں ''میڈ اِن پاکستان''

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر ہما میر

موسم سرما کو پہننے، اوڑھنے اور کھانے پینے کا موسم بھی کہا جاتا ہے۔ عمومی خیال ہے کہ کھانے کا مزہ سردیوں میں ہی ہے۔ پاکستان میں سردیوں کی سوغات چکن، کارن سوپ، گرم اُبلے انڈے، مونگ پھلیاں اور گچک ہے۔ کسی زمانے میں ریڑھی پہ ڈرائی فروٹ بھی خوب بکا کرتے تھے۔ چلغوزے ،پستے ،اخروٹ، کشمش اور بادام، ان میں چلغوزے نسبتاً مہنگے ہوتے تھے۔ پھر کئی دکانوں پر کاجو بھی دستیاب تھے جو اب بھی ہیں۔مگر ہم جو یہاں''تھے'' استعمال کر رہے ہیں وہ اس لئے کہ اب ڈرائی فروٹ اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ عام آدمی کے لئے یہ 'تھے' یعنی ماضی کا ہی بیان ہے۔ رات کو جب سب گرم کمبلوں میں سونے لیٹتے اور باہر گلی سے ڈرائی فروٹ والے کی مخصوص گھنٹی سنائی دیتی تو لپک کر ٹھٹھرتی سردی میں باہر کا رخ کرتے اور ڈھیروں خشک میوہ جات خریدتے۔ اب یہ باتیں قصۂ پارینہ ہیں۔ہم کچھ عرصہ قبل کوئٹہ گئے تھے جہاں بہت ڈھونڈنے کے بعد ہمیں ایک دکان پر ایرانی پستے نظر آئے ہم نے جھٹ آٹھ دس ڈبے خرید لئے۔ گھر واپس آ کر دیکھا تو اس میں کیڑے بھرے تھے، لہٰذا سب پھینکنا پڑا۔ وہاں چیز ایک بار خرید لی تو واپس یا تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس کینیڈا میں خریدا ہوا سامان اصلی رسید دکھا کر واپس کیا جا سکتا ہے۔ ہر دکان کی اپنی پالیسی ہوتی ہے۔ خریدی چیز واپس کرنے کی معیاد مقرر ہے جو ایک ہفتے سے لے کر چھ مہینے تک ہوتی ہے۔ بعض دکانیں پیکنگ کھل جانے پر اشیا واپس نہیں لیتیں جبکہ بعض بغیر سوال کئے پیکنگ کھل جانے پر بھی چیز واپس لے لیتی ہیں۔ ایک بار ہم جوتا خریدنے ایک دکان میں گئے۔ کینیڈا میں جوتے کا آدھے آدھے نمبر سے سائز میں فرق ہوتا ہے جیسے ہمارے یہاں 8-9-10 نمبر ہوتا ہے۔ یہاں 8-1/2- 9-1/2- 10-1/2 ہوتا ہے۔ یہ سہولت ہے کیونکہ اکثر موزے پہننے سے جوتا تنگ محسوس ہوتا ہے۔ آدھا نمبر بڑا جوتا اس لحاظ سے موزوں ہے کبھی ایک سائز بڑا جوتا زیادہ بڑا ہوتا ہے اور ایک سائز کم زیادہ تنگ، لہٰذا یہ آدھا نمبر کا فرق بڑی زبردست چیز ہے۔ پھر یہاں چاہے بہت بڑی جوتوں کی دکان ہو مگر کائونٹر پر ایک ہی بندہ ہوتا ہے کبھی دو بھی ہوتے ہیں یہاں جوتے کا ایک پیر شوکیس میں سجانے کے بجائے پورا جوڑا رکھا ہوتا ہے۔ انہیں یہ ڈر نہیں کہ کوئی پہن کے بھاگ جائے گا کیونکہ ہر طرف کیمرے لگے ہوتے ہیں اور ویسے اگر کیمرے نہ بھی ہوں تو یہاں پولیس کا خوف بھی لوگوں کو چوریوں سے باز رکھتا ہے۔ ایک جوڑی جوتا اوپر رکھا ہوتا ہے باقی اسی ڈیزائین کے مختلف سائز کے جوتے ڈبوں میں بند ایک کے اوپر ایک ترتیب سے رکھے ہوتے ہیں۔ آپ کو خود جوتا پسند کر کے اپنے ناپ کا ٹرائی کر کے پہننا ہوتا ہے۔کینیڈا میں یہ طریقہ نہیں کہ ایک پائوں کا جوتا سجا ہے وہ پہن کے یا دیکھ کے سیلز بوائے کو کہیںمیرے سائز کا دے دیں۔ وہ پھر آپ کا پیر دیکھ کر آواز لگائے گا۔ '40کا 8دینا کالے میں'۔ پھر اوپر سے کوئی دو تین ڈبے پھینکے گا جو مہارت سے نیچے والا کیچ کر لے گا۔ الگ ہی اسٹائل ہے اپنا !
ہاں تو ہم جوتا خریدنے گئے۔ ایک تو سینڈریلا کی طرح ہمارے پیر میں کوئی جوتا فٹ نہیںآتا۔ کوئی پنجے سے تنگ ہوتا ہے تو کسی کی ایڑی آرام دہ نہیں ہوتی۔ خیر ہم ڈھونڈتے رہے مگر ہمیں کچھ نہ ملا پھر ہم نے کائونٹر پر بیٹھی خاتون سے کہا اتنی بڑی دکان میں ہمارے سائز کا مناسب کوئی جوتا نہیں؟ اس نے ہمارا پیر دیکھا پھر کہنے لگی کہ آپ آگے سے نوکیلا جوتا دیکھ رہی تھیں جو ایک پیر کے ساتھ سے فرق ہو گا۔ آپ ایسا جوتا پسند کریں جو سامنے سے چوڑا ہو۔ ہم نے پوچھا یہ کونسا جوتا ہے۔ وہ بولی یہ الگ کیٹیگری ہے۔ ہر سائز میں دو تین اقسام کی کیٹیگری ہوتی ہے۔ کوئی پتلا، کوئی چوڑا اور کوئی نوکیلا۔ ہمیں جھنجھلاہٹ ہونے لگی۔ وہ کہنے لگی آپ کو جو جوتا پسند آ رہا ہے وہ لے جائیں اگر آرام دہ نہ ہوتو ایک ہفتے میں واپس کر دیجئے گا۔ ہمیں اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا کہ پہنا ہوا جوتا کبھی دکاندار واپس بھی لے لیتا ہے۔ ہم نے بے یقینی سے سیلز گرل کی طرف دیکھا۔ وہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔ ہم نے دوبارہ سے کنفرم کیا اور جوتا خرید لیا۔ دو دن پہننے کے بعد ہمیں لگا کہ واقعی جوتا اتنا آرام دہ نہیں۔ ہم نے رسید سنبھالی اور دکان پرپہنچ گئے۔ ذہنی طور پر ہم بحث مباحثے کے لئے تیار تھے۔ مگر یہ دیکھ کر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جوتا نہ صرف بلاچوں چرا واپس لے لیا گیا اور ہمارے پیسے واپس ہو گئے۔بلکہ ہمیں

Reward Program

میں رجسٹرڈ کر لیا گیا۔ ریوارڈ پروگرام عموماً ہرسٹور اپنے گاہکوں کو دیتا ہے یہ کسٹمر کے نام، فون نمبر اور ای میل ایڈریس کو نوٹ کر کے اسے رجسٹر کرتے ہیں۔ پھر ایک کارڈ دیتے ہیں جس کے ذریعے پوائنٹس حاصل کئے جاتے ہیں۔ بعض سٹورکارڈ نہیں بھی دیتے اور صرف ای میل کے ذریعے پوائنٹس بھیجتے ہیں۔

canadamaininpak.jpg

یہ ایک بہت زبردست پروگرام ہے جس کے بہت فوائد ہیں۔ ہم آپ کو اپنے کچھ تجربات سے سمجھاتے ہیں۔ مثلاً ایک بہت بڑی چین ہے سٹورز کی جہاں فارمیسی، الیکٹرانک، کاسمیٹکس اور دیگر اشیاء دستیاب ہیں۔ انہوں نے ہمیں رجسٹر کیا اور ہماری سالگرہ والے دن ہمیں ای میل کیا کہ ہمارا

Reward

پانچ ڈالر بنتا ہے۔ لہٰذا ایک ہفتے کے اندر ہم 5ڈالر کی کوئی بھی چیز سٹور سے خرید سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور سٹور ہے جو ہر دوسرے دن ہمیں ای میل بھیجتا ہے کہ فلاں دن اگر 30ڈالر کی شاپنگ کریں تو 8000پوائنٹس ملیں گے جو تقریباً 10ڈالر کے برابر ہیں یہ آفر ہمیں اپنے کارڈ پر لوڈ کرنی ہوتی ہے، پھر جب خریداری کریں تو کارڈ سوائپ کریں اور پوائنٹس بڑھاتے جائیں۔
ایک چیز

Store Credit

بھی ہوتی ہے۔ بعض دکانیں ایسی ہیں جو خریدار سے سامان واپس تو لے لیتی ہیں مگر

Refund

یعنی پیسے واپس نہیں کرتیں بلکہ اس کے بدلےدیتی ہیں یعنی اگر آپ نے 100ڈالر کی کوئی چیز خریدی اور واپس کر دی تو آپ کے پاس 100ڈالر کا سٹور کریڈٹ ہے جس سے آپ کوئی دوسری چیز اس سٹور سے خرید سکتے ہیں۔ اس کی مدت عموماً سال بھر تک ہوتی ہے۔
بعض بڑے سٹور ایسے بھی ہیں جو پیکنگ کھل جانے پر بھی سامان واپس لے لیتے ہیں۔ ایک بار ہم نے ایک مووی کیمرا خریدا جس کی مالیت 400ڈالر تھی۔ ہم نے اس کو استعمال کیا پھر لگا کہ یہ بہت زیادہ تکنیکی ہے ہمیں کوئی سادہ سا چاہئے۔ ہم سٹور پر گئے اور واپس کر دیا۔ انہوں نے رسید بھی نہیں مانگی کیونکہ اس سٹور کا اپنا کارڈ ہوتا ہے۔ جس سے شاپنگ کی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ بھی آسانی ہو گئی۔
کسٹمر سروس کیا ہوتی ہے؟ کیسے اپنی دکان یا برانڈ کو معتبر کیا جاتا ہے؟ کیسے کسٹمر سے بات کی جاتی ہے؟ یہ سب دیکھنا ہوتو کینیڈا ضرور تشریف لائیں۔
ایک مرتبہ ہم کراچی میں واقع بہت بڑے مال کے سب سے بڑے سٹور میں گئے۔ وہاں ہزاروں روپے کی شاپنگ کے بعد ہم نے پوچھا کوئی

Customer Loyalty Program

یا ڈسکائونٹ کارڈ یا اس قسم کی کوئی چیز آپ کے پاس ہوتی ہے؟ منیجر صاحب بولے جی جی بالکل، ہم تو لاکھوں کا سامان فروخت کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ڈسکائونٹ کارڈ تو ہو گا ہی بس آپ یہ فارم پر کر دیں۔ ہم آپ کو کارڈ دے دیں گے۔ ہم نے فارم بھرنا شروع کیا نام، پتہ، فون نمبر، عمر سے شروع ہو کر معلوماتی سوال نامہ ہماری والدہ کے نام اور ان کے کوائف ہماری آمدن سے لے کر دیگر ذاتی تفصیلات تک پہنچ گیا۔ آدھا فارم پُر کیا تھا کہ ہمارا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور ہم پیچ و تاب کھاتے ہوئے فارم کو ریزہ ریزہ کر کے ڈسٹ بن میں ڈال کے واپس گھر کو روانہ ہو گئے۔
شاپنگ کرنا ضرورت بھی ہے اور تفریح بھی۔ یہ مشغلہ بھی ہے اور عادت بھی۔ ویسے ایک بات تو سب کو ماننی پڑے گی کہ یہ بڑے بڑے شاپنگ مال صرف خواتین کی بدولت ہی چل رہے ہیں۔ اگر خواتین ان کا رخ نہ کریں تو یہ بند ہو جائیں۔ پاکستان میں بھی بڑے بڑے اچھے شاپنگ سینٹر ہیں جہاں لوگ گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔ ہم نے امریکہ، یورپ، کینیڈا، مشرق وسطیٰ سمیت بہت سی جگہوں کے شاپنگ سینٹر دیکھے ہیں۔ یہاں وقت کیسے گزرتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ ایک مرتبہ ہم ونکوور شہر کے مضافات میں واقع ایک نئے مال میں گئے۔یہ مال گزشتہ برس ہی کھلا ہے اور سمندر کے کنارے واقع ہے۔ اس مال میں گھومنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ ملبوسات کی ایک دکان پر ہم رک گئے۔ چمڑے کی جیکٹیں دیکھیں توا لٹ پلٹ کر یہ دیکھنے لگے کہ بنی ہوئی کہاں کی ہیں اور اصلی چمڑا ہے یا نہیں۔ دیکھا کہ اصلی چمڑا ہے۔ نہایت ملائم اور اس پر لکھا ہے میڈ ان پاکستان۔ ہماری وہ حالت ہوئی کہ کیا بیان کریں۔ بے اختیار ہم نے تو وہ حرکت کی کہ بس۔ یعنی جیکٹ اٹھا کر آنکھوں سے لگائی اور فرطِ محبت سے دو آنسو بھی ٹپک پڑے اور فخریہ انداز سے کائونٹر پر لے گئے کہ ہمارے ملک کی بنی چیز ہے ہم ضرور خریدیں گے۔ ہم نے والدہ کو فون کر کے اس بابت بتلایا تو وہ خوب ہنسیں، کہنے لگیں کہ تم ہی لوگ اپنے وطن میں تو امپورٹڈ چیزیں خریدنے میں فخر کرتے ہو اب باہر جا کر پاکستانی مصنوعات خرید رہی ہو۔ یہ بات ویسے سچ ہے کہ ہمیں اپنے ملک کی بنی اشیاء کی کوئی قدر نہیں۔ جبکہ پاکستانی مصنوعات دنیا بھر میں اپنی عمدہ کوالٹی اور معیار کے باعث مقبول ہیں۔ کینیڈا کے بازاروں میں پاکستانی کاٹن کے کپڑے اور چمڑے کی مصنوعات بہت مقبول ہیں۔ پاکستانی کاٹن اور پاکستانی چمڑا دنیا کا سب سے بہترین کاٹن اور چمڑا ہے۔ یہاں بنگلہ دیش اور ویتنام کی بنی کاٹن کی چیزیں بھی ہیں جبکہ چین میں بنی مصنوعات سے مارکیٹیں بھری پڑی ہیں۔ ایسے میں

Made in Pakistan

نہ صرف سب سے عمدہ ہے بلکہ لوگوں کا بھی پسندیدہ ہے۔ بڑے بڑے سٹورز میں پاکستان کی بنی اشیاء دیکھ کر ہمارے کیا احساسات ہوتے ہیں اسے قلمبند نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جو وطن عزیز سے دور ہوں اور اپنی مٹی کی محبت سے سرشار ہوں۔
وطن عزیز اور اس کی عوام دنیا میں سب سے بہترین، ہمارے وسائل محدود لیکن جذبہ لامحدود، ہمارے یہاں موروثی سیاسی نظام نے اور وڈیرا شاہی نے اگرچہ بیڑا غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی پھر بھی اﷲ کا کرم ہے کہ ہم یعنی پاکستانی سب سے ممتاز ہیں۔ ہمارے

Export

لاجواب، چاہے وہ کھیلوں کا سامان ہو، کھانے پینے کی اشیاء ہوں جیسے پیکٹ مصالحے، تیار کھانے، اچار، چاول، چائے کی پتی، یا کاٹن ہو، چمڑے کی مصنوعات ہوں، جیولری ہو، الحمدﷲ جواب نہیں ہمارا۔ ہمیں یاد ہے کئی برس قبل ہم پاکستان ٹیلی ویژن سے حالات حاضرہ کا ایک پروگرام کیا کرتے تھے۔ جس کی پروڈیوسر گلزار فاطمہ تھیں جو آج کل شعبہ کرنٹ افیئرز کی سربراہ ہیں۔ اس پروگرام کا نام

Made in Pakistan

تھا۔ اس پروگرام میں ہم مختلف فیکٹریوں میں جاتے تھے۔ باہر ایکسپورٹ ہونے والی مصنوعات کے بارے میں عوام کو آگاہی دیتے ہیں۔ اب کینیڈا کی دکانوں میں پاکستانی پراڈکٹس دیکھ کر اپنا پروگرام

Made in Pakistan

یاد آتا ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ونکوور میں کوئی ٹریڈ نمائش یا صنعتی کانفرنس یا اسی قسم کے کچھ ایسے اقدامات ہوں جن سے پاکستانی تاجر استفادہ کریں اور مارکیٹ پھیلے بڑھے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ونکوور کے قونصل خانے میں کوئی ٹریڈ یا بزنس کا کوئی مخصوص شعبہ نہیں۔ پہلے بزنس سیکشن ہوتا تھا جو اب بند ہو گیا ہے۔ اب تین صوبوں یعنی برٹش کولمبیا، البرٹا اور

Saskatchewan

کے لئے ایک ہی کمرشل سیکشن ہے۔
پاکستانی قونصل خانہ ثقافتی اور سماجی لحاظ سے نہایت فعال ہے۔ یوم آزادی، یوم پاکستان، یوم اقبال وغیرہ کے حوالے سے ہر سال کامیاب پروگرام منعقد کرواتا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کلچر کے ساتھ ساتھ کچھ کاروباری سرگرمیوں کے لئے بھی سوچا جائے۔ پاکستان میں بھی تجارت کے فروغ اور ٹریڈ کے حجم میں اضافے کے لئے تاجروں کو سہولیات، ٹیکس میں اصلاحات اور دیگر ریفارمز کی ضرورت ہے۔ جو لوگ کینیڈا میں تجارت کرتے ہیں انہیں ٹیکس ڈیوٹی وغیرہ کے لحاظ سے بہت سکون ہے۔ کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس سب ہے یہاں مگر سسٹم اتنا مضبوط ہے کہ محصولی حکومت ہی کرتی ہے۔ یہاں پر کوئی ذاتی مفاد لے کر چھوٹ نہیں دے سکتا۔ یہ شفافیت ہمارے یہاں ہو تو پراڈکٹس بہتر ہو جائیں۔ جب رشوت اور دیگر ناسور تجارت میں رکاوٹیں ڈالیں تو تاجر پربوجھ بڑھ جاتا ہے۔ لاگت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجے میں قیمت زیادہ ہو جاتی ہے۔ کینیڈا میں کسٹم، انکم ٹیکس، پولیس کے محکمے کمائی کے نہیں بلکہ خدمت کے محکمے ہیں۔ ونکوور میں پورٹ ہے جس شہر میں بندرگاہ ہو وہاں تجارت خوب ہوتی ہے۔ یہاں بہت شاپنگ ہوتی ہے۔ ویسے تو سارا سال دکانوں پر مختلف آئٹمز پر سیل ہوتی ہے۔ مگر دسمبر سے کرسمس سیل کا کھڑکی توڑ مہینہ شرو ع ہوتا ہے۔ بلکہ نومبر کے آخری ہفتے سے یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جو جنوری کے اوائل تک جاری رہتا ہے۔
بلیک فرائیڈے، کرسمس، نیوائیر، یہ سب سیل کے دن ہیں۔ شاپنگ سیزن ہے یہ۔ ان دنوں میں دکانیں، شاپنگ سینٹر کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں۔ اب یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں کہ سیل کا مطلب واقعی سیل ہے۔ کرسمس مذہبی تہوار ہے۔ اس موقع پر اشیاء مہنگی نہیں بلکہ سستی ہوتی ہیں تاکہ ہر کوئی خوشی منا سکے۔ ایسے مذہبی تہوار پر یہاں کوئی ذخیرہ اندوزی، گراں فروشی، اور لوٹ مار نہیں کرتا۔ یہاں رات گئے تک کنڈے سے بجلی حاصل کر کے ہزار ہزار واٹ کے بلب بھی کوئی روشن نہیں کرتا۔ دکاندار کو سچ بولنے کا عارضہ ہے۔ یہاں نہ عیب دار مال جھوٹ بول کے بیچتے ہیں نہ قسم کھاتے ہیں۔ معلومات نہ ہو تو کہہ دیتے ہیں

I don't Know

یعنی مجھے نہیں معلوم۔ پھر ایک عجیب بات یہ ہے کہ کوئی دکاندار آپ کو آوازیں دے دے کے سٹور کے اندر نہیں بلائے گا۔'' آیئے باجی! ہمارے پاس نئی ورائٹی آئی ہے۔''''جی آپا! کیا خریدیئے گا؟'' ''یہ دیکھئے بنارسی ساڑھیاں، یہاں تشریف لایئے۔''
ان آوازوں کو سُنے عرصہ بیت گیا ہے۔ بھائوتائو کرنا ہی ہم بھولتے جا رہے ہیں۔ ویسے کراچی ایئرپورٹ پر جب کبھی بین الاقوامی پرواز ہو یعنی کراچی سے واپس ونکوور جا رہے ہوں تو کراچی کی ڈیوٹی فری شاپس پر وہی جامع کلاتھ مارکیٹ کا منظر ہوتا ہے۔ ویسے ہی دکاندار دکان سے باہر نکل نکل کر آوازیں لگا لگا کے مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہوتے ہیں۔کراچی سے نکل کر اگلی منزل دبئی ہوتی ہے، جہاں سے فلائٹ

Connect

ہوتی ہے۔ اب کراچی کی ڈیوٹی فری سے نکل کے دبئی کی ڈیوٹی فری شاپس پہ جانا ایسا ہی ہے جیسے، جیسے، جیسے، جیسے پتہ نہیں، ہمیں نہیں معلوم کہ اس بات کو کس سے تشبیہہ دیں۔ کیسے دونوں کا فرق بیان کریں۔ خیر چھوڑیں اس بات کو، دبئی ایئرپورٹ کی ڈیوٹی فری شاپس پر شاپنگ کرنے کے لئے قارون کا خزانہ چاہئے۔ اتنی دکانیں، اتنی اشیا کہ بس یہاں سے باہر آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔ ہم نے دنیا کے بہت ایئرپورٹ دیکھے ہیں۔ پیرس ہو نیویارک، ٹورانٹو ہو یا ونکوور، قطر ہو یا بحرین، سنگاپور ہو یا بنکاک، جیسی دکانیں دبئی کے ایئرپورٹ پر ہیں اُن کی مثال نہیں ملتی۔
کچھ بھی ہو شاپنگ شاپنگ ہے۔ شاپنگ کے بغیر زندگی کچھ نہیں مگر جب سجی سجائی دکانیں دیکھتے ہیں اور پھر اُن غریبوں کا خیال آتا ہے جو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری کر پاتے ہیں تو کلیجہ جل کے خاک ہو جاتا ہے۔کراچی کے پوش علاقوں میں بڑے بڑے شاپنگ سنٹرز اور مہنگے ریستوراں کے باہر ہم نے سردی میں ٹھٹھرتے ننگے پائوں پھرنے والے اور فٹ پاتھ پر سونے والے دیکھے ہیں۔ کینیڈا میں جو لوگ صاحبِ ثروت نہیں اُن کے لئے ایسے سٹور ہوتے ہیں جہاں استعمال شدہ اشیا بہت عمدہ حالت میں بالکل معمولی قیمت پر دستیاب ہیں انہیں

Thrift Store

کہتے ہیں۔ جیسے ہمارے یہاں کا لنڈا بازار، مگر اعلیٰ درجے کا۔

Thrift Store

کی سجاوٹ و آرائش دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہ استعمال شدہ چیزیں بیچتے ہیں۔ ہر شئے نہایت سلیقے سے سجی ہوتی ہے۔ اس میںکپڑے، جوتے، برتن، گھریلو استعمال کی اشیائ، فرنیچر، ڈیکوریشن وغیرہ سبھی کچھ ملتا ہے ان سٹورز پر لوگ کثرت سے عطیات دیتے ہیں۔

مضمون نگار: مشہور ادا کارہ، کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اچھی ماں
اولاد کو صرف اچھی ماں چاہئے ہوتی ہے۔ ان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ کتنی اچھی مصورہ، کتنی اچھی مصنفہ یا کتنی اچھی اداکارہ ہے اور دنیا نے اس کو کہاں بٹھایا ہوا ہے… ایک انسان اور جانور کی ماں میں یہی فرق ہوتاہے۔ پیدا تو جانور بھی کرلیتا ہے بچہ۔ مگر جانور تربیت نہیں کرسکتا، وہ اولاد پیدا کرکے چھوڑ دیتا ہے…
ایسی مائوں کے پیروں کے نیچے کوئی جنت تلاش کرنے نہیں جاتا اور جنت کسی دوسری دنیا میں نہیں ملتی۔ اچھی ماں اپنی اولاد کو اس دنیا میں جنت دے دیتی ہے۔ اولاد کو جینے کا گُر سکھا دیا تو آپ نے اُس کی زندگی جنت بنا دی۔
(عمیرہ احمد۔ لاحاصل)

*****

 
Read 42 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter