فائیو سٹار سادھو

Published in Hilal Urdu

تحریر: یاسر پیرزادہ

محفل اپنے عروج پر تھی، لوگ نہایت دلچسپی سے اس ماڈرن ''بابے'' کی گفتگو سن رہے تھے، بابا تو میں نے یونہی کہہ دیا ورنہ اس کی عمر پیتالیس سے زیادہ نہیں تھی، تراشیدہ داڑھی میں کچھ سفید بال نظر آ رہے تھے، آنکھوں پر چشمہ تھا جس کے فریم کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ عمر میں پانچ برس کا اضافہ ہو جائے، البتہ شلوار قمیص کی جگہ موصوف نے پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا اور ہاتھ میں ''کائونٹر'' جسے وہ تسبیح کے طور پر استعمال کر رہے تھے ۔یہ کوئی مجمع نہیں تھا، فقط آٹھ دس لوگوں کی مجلس تھی جن میں' بابے' کے صرف خاص مرید شامل تھے، مگر انہیں ان معنوں میں مرید بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بابا جی ان کے ساتھ کافی فرینک لگ رہے تھے اور مرید بھی بابا جی کو چٹکیاں بھر رہے تھے، ایک موقع پر تو کسی مرید نے فحش لطیفہ بھی سنادیا جس پر بابا جی نے تحسین آمیز نظروں سے داد دی اور ساتھ ہی ایک اور لطیفے کی فرمائش بھی کر دی، شرط صرف یہ تھی کہ پہلے سے زیادہ فحش ہو۔

fivestarsadhoo.jpg
گفتگو جاری تھی کہ اچانک میرے دوست نے جو مجھے یہاں لے کر آیا تھا، سوال کردیا کہ ''کیا دولت سے خوشی خریدی جا سکتی ہے ؟'' سوال سن کر بابے کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ آئی کہ لگا جیسے کسی نے اس کا پسندیدہ موضوع چھیڑ دیا ہو، میرے دوست نے سوال کی مزید تشریح کی ''اصل میں پچھلے دنوں ایک تحقیق کی خبر میری نظروں سے گزری جس میں یہ ثابت کیا گیاتھا کہ دولت سے خوشی خریدی جا سکتی ہے، اس کی مثال انہوں نے یوں دی کہ جب آپ کے پاس پیسے ہوں تو آپ شاپنگ کرتے ہیں، اپنی پسند کی چیزیں خریدتے ہیں، اس سے آپ کو خوشی ملتی ہے، جب آپ کا بینک بیلنس بڑھتا ہے تو آپ کا خون سیروں بڑھ جاتا ہے، یہ بھی خوشی کا اشاریہ ہے، دولت آپ کو اعتماد دیتی ہے، غریب آدمی چاہے کتنا ہی دانا ہو، اس کی بات میں دم نہیں ہوتا، مگر امیر شخص…!'' بابے نے ہاتھ کے اشارے سے میرے دوست کو روک دیا، سب بابے کی طرف متوجہ ہو گئے، کیونکہ بابے کے اس سٹائل کا مطلب تھا کہ اب بابا کوئی بہت گہری اور دانائی کی بات کرنے لگا ہے، جھولی پھیلا کر سمیٹ لو۔بابے نے حاضرین پر ایک نظر ڈالی اور تسبیحی کائونٹر کو گھماتے ہوئے بولا''فرض کرو کہ آج تمہارے پاس بِل گیٹس جتنی دولت آ جائے تو کیا تم خوش ہو جائو گے ؟'' بابے کا یہ سادہ سوا ل سن کر مجھ سے رہا نہ گیا ''حضرت، اس کا تو پتہ نہیں، البتہ میں بہت خوش ہوں گا!'' بابے نے مجھے گھور کر دیکھا اور پھر اگلا سوال مجھ سے ہی پوچھا''ٹھیک ہے، لیکن اگر آپ کو تین دن تک پانی کا ایک قطرہ بھی پینے کو نہ دیا جائے تو کیا تیسرے دن آپ اپنی ساری دولت ایک گلاس پانی کے عوض دینے کے لئے تیار نہیں ہو جائیں گے ؟'' مجھے اس ماڈرن اور
rational
بابے سے اس قسم کی گھسی پٹی مثال کی امید تو نہیں تھی تاہم محفل کا بھرم رکھنے کے لئے میں نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔


بابے نے فخریہ انداز میں حاضرین پر نظر ڈالی اور بولا ''یہی تمہارے سوال کا جواب ہے، ہم لوگ ساری عمر دولت کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں ، اپنی تمام توانائی دولت کمانے میں صرف کر دیتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ دنیا کی تمام دولت کی قیمت ایک گلاس پانی سے زیادہ نہیں ہو سکتی، ہم سمجھتے ہیں کہ دولت ہمیں سکون اور خوشی دے گی، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ سکون حاصل کرنے کے لئے دولت حاصل کرنا ضروری نہیں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہی سکون کا باعث ہے اور خوش ہونے کے لئے مجھے دولت کی ضرورت نہیں، میں ڈوبتے سورج کو دیکھ کر خوش ہو سکتا ہوں، بادلوں کی اوٹ میں جاتے ہوئے چاند کو دیکھ کر خوش ہو سکتا ہوں، بارش کی بوندوں کو ناچتے دیکھ کرخوش ہو سکتا ہوں، سمندر کی لہروں کو اچھلتے دیکھ کرخوش ہو سکتا ہوں او ر دریا کی خاموشی مجھے سکون دینے کے لئے کافی ہے، اس کے لئے مجھے اپنی تمام عمر دولت جمع کرنے کی ضرورت نہیں، کسی بچے کو قلقاریاں مارتا دیکھ کر میں خوشی سے نہال ہو جا تا ہوں،مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں سریے کا کاروبار کروں، دن رات سٹاک مارکیٹ کا اتار چڑھائو دیکھوں یا اپنے بہی کھاتے سیدھے کرتا پھروں! انسان اپنی زندگی کا بہترین حصہ مادی دولت کے حصول میں گزار دیتا ہے، اسے احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ اصل دولت تو وہ سکون ہے جس کا حصول دولت سے ممکن نہیں، کیونکہ اگر دولت سے سکون ملتا تو دنیا میں کوئی اینٹی ڈپریشن دوا نہ بکتی، کوئی امیر نیند کے لئے سونے کی گولیاں نہ کھاتا، کسی کروڑ پتی کو بلڈپریشر کا مرض نہ ہوتا اور کسی سرمایہ دار کو ذہنی تنائو کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔انسان کے دل میں سکون ہو تو سوکھے پتوں کے بستر اور اینٹوں کے سرہانے پر سر رکھ کر بھی نیند آ جاتی ہے،اور یہ سکون حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر قناعت پیدا کرے، مادہ پرستی کی دوڑ سے باہر نکلے اورانسان دوستی کی دوڑ میں شامل ہو، اور اس کام کے لئے بِل گیٹس کی دولت کی ضرورت نہیں !'' بابے نے گویا پنچ لائن دے ماری۔حاضرین نے داد و تحسین کے ڈونگڑے برسائے اورکچھ دیر میں محفل برخاست ہو گئی ۔


گاڑی میں بیٹھتے ہی میرے دوست نے سوال کیا ''کیا تم بابا جی کی باتوں سے متفق ہو؟''
''نہیں '' میں نے کہا''تمہارا نوجوان بابا وہ چورن بیچ رہا ہے جس کے آج کل بے شمار گاہک ہیں، سکون، روحانیت، خوشی، اطمینان، شادمانی، یہ وہ الفاظ ہیں جنہیں انگریزی میں
buzz words
کہتے ہیں، ان الفاظ کی مارکیٹ میں ہمیشہ مانگ رہتی ہے ، ہم سبھی ان کے خریدار ہیں، کوئی امیر،غریب یا مڈل کلاس شخص یہ نہیں کہہ سکتاکہ اسے زندگی میں سکون یا خوشی نہیں چاہئے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ دولت کا حصول بری چیز ہے یا دولت سے خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ تمہارے بابے کو ڈوبتا سورج دیکھ کر ٹھنڈ پڑ جاتی ہے بشرطیکہ وہ سورج میامی کے ساحل پر ڈوب رہا ہو، بابے کو نیویارک کے ساحل پر سمندر کی لہروں کا شور خوشی دیتا ہے، لندن میں دریائے ٹیمز کی خاموشی اس کے دل کے تار چھیڑتی ہے، مسجد قرطبہ میں اسے طمانیت کا احساس ہوتا ہے اور مونٹ بلانک کی برف پوش چوٹیاں اس کے دل میں محبت کے جذبات موجزن کرتی ہیں! رہی بات انسان دوستی کی تو یقینا اس سے بڑی کوئی چیز نہیں مگر جیسے دولت ہی سب کچھ نہیں اسی طرح کوئی بھی اور جذبہ کسی دوسری شے کا متبادل نہیں، اگر آپ کے پاس دولت ہے تو آپ کی بیماری کے علاج کے امکانات کسی غریب کے مقابلے میں سو گنا زیادہ ہیں، دولت کی قدر اس غریب سے پوچھو جس کا بچہ کسی موذی مرض سے نہیں بلکہ صرف اس لئے مر جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس ایک ہزار روپے کی دوا کے پیسے نہیں ہوتے اور ایک گلاس پانی کے عوض پوری دولت لٹانے والی مثال بھی غیر متعلق ہے، دنیا میں ہمیشہ اس جنس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے جو نایا ب ہو،جس روز پانی نایاب ہو گیا اس روز وہ مہنگا ہو جائے گا،جس روز سونا ہرجگہ سے نکلنا شروع ہو گیا اس روز اس کی قیمت صفر ہو جائے گی، کیا تمہیں آج تک کوئی ایسا کروڑ پتی ملا ہے جس نے ایک گلاس پانی کی قیمت ایک کروڑ روپے چکائی ہو؟نہیں! مگر تم نے ایسے غریب ضرور دیکھے ہوں گے جنہیں ایک گلاس پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔ تمہارا بابا خود کروڑ پتی ہے، پوری دنیا گھوم چکا ہے اور اب دوسروں کو قناعت کا چورن بیچ کر سادھو بننے کا درس دے رہا ہے، اگلی محفل میں اسے کہنا کہ میں بھی تمہارا سادھو بننا چاہتا ہوں…فائیو سٹار سادھو!''

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

کار۔روائی

روڈیوز ایج بل1998

(Road Usage Bill)

کے مطابق بوڑھوں کے گاڑی چلانے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور کہا ہے کہ55 سال اور اس سے زائد عمر کے بوڑھے ڈرائیونگ نہیں کرسکیں گے۔ ہم مانتے ہیں ہمارے ہاں ناممکن کے علاوہ بھی بہت کچھ ممکن نہیں۔ ہمیں اتنا اعتراض ڈرائیونگ پر پابندی لگانے پر نہیں۔جتنا55 برس کے افراد کو بوڑھا کہنے پر ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ بوڑھا ہونا کوئی بری بات ہے ۔ بوڑھا ہونا آسان نہیں، اس پر برس ہا برس لگتے ہیں۔ ایک سیانے کے بقول بڑھاپے سے اتنا پریشان ہونے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ کچھ لوگ اتنے خوش قسمت نہیں بھی ہوتے۔ دانشور تو کہتے ہیں زندگی40 سال کی عمر سے شروع ہوتی ہے۔ اسے حساب سے55 کی عمر تو ابھی لڑکپن ہے۔ یہ الگ بات ہے پاکستان میں یہ لڑکپن زیادہ ہو جاتا ہے۔ یاد رہے جتنے برس میں مرد55 سال کا ہوتا ہے ضروری نہیں کہ اتنے برسوں میں عورت بھی اسی عمر کی ہو۔ کیونکہ وقت کسی مرد کے لئے رُک کر انتطار نہیں کرتا لیکن35 برس کی خاتون کے لئے ایک جگہ پر ٹھہر جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو عجیب زندگی ہے۔ جب جا کے بندہ اس قابل ہوتا ہے کہ پیٹ بھر کر کھاسکے ڈاکٹر منع کردیتے ہیں، جس عمر میں بندہ گاڑی خریدنے جوگا ہوتا ہے اس عمر میں اس کے لئے گاڑی چلانا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ ویسے تو جن کے پاس پہلے سے گاڑی ہے اُنہیںکون سا ڈرائیوکرنے کا موقع ملتا ہے۔ ہم نے ایک 55 سالہ شخص سے پوچھا ''یہ کار آپ کی ہے''؟ بولے ''کبھی کبھی''۔ پوچھا ''کیا مطلب'' کہا ''جب یہ سروس ہوکر آتی ہے تو بیوی کی ہوتی ہے، جب کہیں پارٹی ہو تو بیٹے کی، جب مینابازار یا شاپنگ پر جانا ہو تو بیٹی کی اور جب ٹینکی خالی ہو تو میری۔

 (ڈاکٹر محمد یونس بٹ ۔بٹ پارے)

*****

 
Read 77 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter