بے خوابی کے اثرات

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر صدف اکبر


پُر سکون نیند انسانی جسم، دماغ اور ذہن کے لئے ازحد ضروری ہے۔ کیونکہ پُرسکون نیند انسانی نفسیات اور جسمانی اعضاء کے بہتر طور پر کام کرنے میں اہم کرادار ادا کرتی ہے اور انسان دن بھر اپنے آپ کو توانا اور فریش محسوس کرتے ہوئے اپنے کام بخوبی سرا نجام دیتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق بے خوابی جسے ہم انسو منیا کہتے ہیں۔ جدید دور کا ایک تحفہ ہے۔ انسومنیا یعنی نیند کا نہ آنا۔ اس بیماری سے جڑے افراد زیادہ ترنیند نہ آنے کے مختلف مسائل سے ہمہ وقت دوچار رہتے ہیں۔


نیند کی کمی کی شکایت یا مسئلہ زیادہ تر اُن افراد میں ہوتا ہے۔ جو رات گئے تک مسلسل کام کرتے رہتے ہیں یا وہ افراد جو ہر وقت کسی سوچ وبچار میں غرق رہتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ لوگ جو کسی پریشانی یا ڈپریشن میں مبتلا ہوں ان کو بھی بے خوابی کی شکایت ہوسکتی ہے۔دن میں حد سے زیادہ سونا یا پھر بے وقت سونے والے افراد بھی بے خوابی کا شکار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو کسی ایسے خوف یا پریشانی میں مبتلا ہوں جس کی وجہ سے انہیں بُرے خواب آتے ہوں جو انہیں جاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یا پھر وہ افراد جو اپنے ماضی یا مستقبل کے کسی خوف یا اندیشے میں ہمہ وقت گھرے رہتے ہیں۔ بے خوابی طرز زندگی پر برے اثرات مرتب کرتی ہے جس کی وجہ سے انسان کا مزاج غصے والا اور ہر وقت چڑچڑاپن والا ہو جاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کے مسئلے کے علاوہ متاثرہ فرد اپنے کام اور روزمرہ کے شیڈول یا روٹین میں دماغی طور پر اکثر غیر حاضر رہتا ہے۔

bekhawbikaasrat.jpg
بے خوابی کی سب سے اہم قسم دائمی بے خوابی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ باقی تمام اقسام زندگی کے کسی نہ کسی دور میں انسان کو کسی بھی وقت اپنا شکار بنا سکتے ہیں۔ بعض اوقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ختم بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن دائمی بے خوابی کا شکار فرد ہمیشہ کے لئے اس کے شکنجے میں پھنسا رہتا ہے۔ دائمی انسومنیا کی زیادہ تر وجوہات میں کسی ایک بیماری میں مبتلا ہو نا یا پھر کیفین، الکوحل اور نکوٹین وغیرہ کا استعمال کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو مسلسل پریشانی اور ڈپریشن جس میں کسی ماہر نفسیات کی ضرورت ہو یا پھر کام کی زیادتی کی وجہ سے سونے اور جاگنے کی ایک نارمل اور باقاعدہ روٹین نہ بن ر ہی ہو ایسے افراد بھی دائمی بے خوابی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی سوچ کو حد سے زیادہ ہر وقت اپنے دماغ پر حاوی کر لینا اور پھر مسلسل اس کے بارے میں سوچنا بھی دماغ پر اثر انداز ہو تاہے اور پھر آہستہ آہستہ کر کے نیند کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔


بے خوابی کے مرض سے نجات پانے کے لئے سب سے پہلے اپنے سونے اور جاگنے کی روٹین کو درست کرنا چاہئے کہ جس وقت سوئے اس سے اگلے دن بھی اسی وقت پر سو جانا چاہئے۔ ماہرین کے مطابق رات دس بجے سے صبح چار بجے کی نیند انسانی دماغ اور اعصاب کے لئے بے حد فائدہ مند ہوتی ہے اور مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ سونے سے پہلے کچھ بھی بھاری اور مرغن غذائیں کھانے پینے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ عموماً رات کے وقت اگر کچھ بھی کھاتے پیتے ہیں تو اسے معدہ ہضم نہیں کر پاتا جس کی وجہ سے معدے پر ایک بوجھ پڑجاتا ہے اور پھر ٹھیک طرح سے نیند نہیں آتی۔ ایک تحقیق کے مطابق رات سونے سے قبل ایک گلاس دودھ میں شہد ملا کر پینے سے نیند آجاتی ہے کیونکہ دودھ میں
Tryptophan
موجود ہوتا ہے جو ایک ہارمون
Serotonin
جو کہ دماغ کو نیند کے پیغامات بھیجتا ہے، کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے اور شہد میں کاربو ہائیڈر یٹ موجو د ہوتا ہے جو اس ہارمون کو تیزی سے دماغ میں پہنچاتے ہیں۔
سونے سے پہلے تمام سرگرمیاں ایک طرف رکھ کر ذہن کو ریلیکس کرنا چاہئے یا پھر کچھ دیر پہلے کوئی اچھی کتا ب پڑھ لی جائے یا کوئی ہلکا پھلکا سا ٹی وی پروگرام دیکھ لیا جائے تو ذہن ریلیکس ہو سکتا ہے۔ سونے والے کمرے کو مکمل طور پر سونے کے لئے موزوں ہونا چاہئے تیز اور چبھتی ہوئی روشنی کے بجائے کمرے میں مکمل اندھیرا یا پھر بہت ہلکی روشنی ہونی چاہئے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ موبائل فون یا لیپ ٹاپ وغیرہ کو سونے والی جگہ سے دور رکھا جائے کیونکہ ان تمام
Gadgets
کے سگنلز یا شعاعیں ایک تو صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہوتی ہیں اور پھر ان پر آنے والے پیغامات بھی نیند کے اوقات کو خراب کر سکتے ہیں۔ سونے کے لئے بستر بھی آرام دہ اور صاف ستھرا ہونا چاہئے۔ ایک تحقیق کے مطابق رات کے وقت کی جانے والی ہلکی پھلکی ورزش یا چہل قدمی بھی جلد نیند لانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔


بے خوابی کی حالت میں انسانی جسم میں مختلف رطوبتوں کی تشکیل اور ان کے اخراج کا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ جب ہم جاگ رہے ہوتے ہیں اس وقت تمام دن بھر کے کاموں میں محنت مشقت اور تما م اعضاء کی حرکات وسکنات سے یہ اندرونی رطوبتیں تحلیل ہوتی رہتی ہیں جن سے دن کے اختتام پر ہمیں تھکاوٹ کا احساس ہونے لگتا ہے اور پھر جب ہم سوتے ہیں تو نیند کی حالت میں تحلیل شدہ رطوبت کی کمی پوری ہونے پر سو کر اٹھنے کے بعد ہم تروتازگی والی کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ اگر ہم رات میں ٹھیک طریقے سے نہ سو پائیں تو جسم میں تحلیل شدہ رطوبت کی کمی پوری نہیں ہوتی اور پھر یہ مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں جن میں موٹاپا، دماغی کمزوری ، ذیابیطس ، ڈپریشن اور الزائمر وغیرہ شامل ہیں۔ مختلف میڈیکل ریسرچ کے مطابق بے خوابی کے باعث انسان کی قوت اعتمادی ، قوت مدافعت اور قوت فیصلہ کے کمزور پڑنے کے علاوہ وہم اور ہسٹریا جیسے نفسیاتی امراض بھی جنم لیتے ہیں۔ کیلیفورنیا کی سان ڈیا گو یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو اچھی نیند نہیں آتی ہے ان کے ذہن کو اپنے کام پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ
Sleep
نامی جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق بے خوابی کے شکار افراد کو رات میں سوتے وقت مشکل ہوتی ہے جس کا اثر ان کے دن بھر کی کارکردگی پر پڑتا ہے۔کم سے کم سات سے آٹھ گھنٹوں کی نیند ایک صحت مند شخص کے لئے ازحد ضروری ہے۔ مگر بڑی عمر کے افراد کو کم نیند آتی ہے لیکن ان کو بھی کوشش کرکے کم ازکم آٹھ گھنٹے کی لازمی نیند لینی چاہئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ :


 * اگر سونے سے پہلے اگلے دن کے کاموں کی ایک لسٹ بنا لی جائے تو ذہن پر سے اگلے دن کے کاموں کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے اور میٹھی نیند سونے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح ہم تمام پریشانیوں اور مسئلوں کو اپنے دماغ سے کاغذ پر منتقل کر دیتے ہیں۔
* رات کو سونے سے قبل ایک گلاس شہد ملا گرم دودھ نیند لانے کا بہترین طریقہ ہے۔
 * رات کی پرسکون نیند کے لئے دن کے وقت زیادہ نہ سوئیں اور سونے سے پہلے کم از کم چار گھنٹے پہلے تک کافی یا چائے نہ پیئیںاور سگریٹ نوشی سے بھی دور رہیں۔
-7 بھوکے پیٹ یا بہت زیادہ کھانے کے فوری بعد سونے سے گریز کرنا چاہئے اور سونے سے پہلے ہلکا پھلکا لباس پہنیں۔
* کوشش کریں کہ آپ کے سونے کی جگہ بالکل پُرسکون ہو اور وہاںمکمل اندھیرا ہو۔ 
* تکئے کو سر کے نیچے اس انداز میں رکھنا چاہئے کہ گردن کو آرام ملے اور کمرے کا درجہ حرارت ایسا ہوناچاہئے جس سے سکون محسوس ہو۔
* کوشش کر کے سونے اور جاگنے کے لئے ایک شیڈول بنا لینا چاہئے اور روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر جانے اور صبح اٹھنے کو تر جیح بناناچاہئے۔ 
 * اگر آدھی رات کو اچانک آپ کی آنکھ کھل جائے تو آپ کو چاہئے کہ آپ اس وقت آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کریں ممکن ہو تو مقدس آیات کا ورد کریں۔
 * پھر بھی اگر بے خوابی کے مسئلے سے دوچار ہیں تو لازمی طور پر کسی ماہر نفسیات سے رابطہ کرنا چاہئے اور اپنے ذہن کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یاد رکھیں پریشانی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔پریشانیوں کو اپنے دماغ پر سوار کرنے کے بجائے جواں مرد ی اور مسکراتے تروتازہ چہرے کے ساتھ ان کا سامنا کرنا چاہئے اور یہ مسکراتا چہرہ تب ہی ممکن ہو گا جب ہم بے خوابی کی گرفت سے نکل کر اپنی نیند کو پورا وقت دے سکیں گے۔

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ مضمون نگار دادا بھائی انسٹیٹوٹ آف ہا ئر ایجوکیشن میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات میں کالم نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

او وی خوب دیہاڑے سن !
او وی خوب دیہاڑے سن
بھُک لگدی سی، منگ لیندے ساں
مل جاندا سی، کھا لیندے ساں
نہیں سی ملدا، رو پیندے ساں
اے وی خوب دیہاڑے نیں
بھُک لگدی اے، منگ نہیں سکدے
ملدا اے تے کھانہیں سکدے
نئیں ملدا تے، رو نہیں سکدے
نہ رویئے تے، سوں نہیں سکدے
منو بھائی

*****

کھانے کی چیزیں
''بابو جی۔ پرمٹ دو''
''بابا جا۔ پیسہ لا''
''بابوجی، ٹھیکہ دو''
''باباجا ۔ ڈالی لا''
''بابوجی نوکری دو''
''بابا جا۔ سفارش لا''
''بابوجی۔ اب ایسا مت بولو۔ آنکھیں کھولو،
پبلک سے ڈرو، خدا کا خوف کرو
جو پیسہ کھائے گا۔ ڈنڈا کھائے گا
انڈا کھانا چاہئے
ڈنڈا نہیں کھانا چاہئے
ابنِ انشاء کی ''اُردو کی آخری کتاب'' سے اقتباس

*****

 
Read 237 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter