ہراسمنٹ ایک معاشرتی قباحت اور عدالتی جرم

Published in Hilal Urdu

تحریر: صائمہ بتول


مختلف ڈکشنریوں کے مطابق
Harassment
کے معنی متشدّدانہ دبائو، غیر معمولی طور پر اپنے سے نیچا دکھانا، متعصبانہ رویّے، غیر مہذب جسمانی حرکات، جنسی دعوت دینے والے پوشیدہ لین دین، زبانی کلامی و جسمانی حرکات سے کسی کی عزت، غیرت اور حمیت کا تقاضا کرنا کسی بھی ناجائز مہربانی کے عوض کسی کو نیچا دکھانا وغیرہ ہیں۔
یاد رہے کہ ہر عورت یکساں طور پر قدرو قیمت اور اہمیت رکھتی ہے، عورت کسی مختلف ماحول، کسی بھی مذہب، کسی بھی معاشرے، والدین یا ملک میں پیداہوئی ہو، اس سے اُس کے 'عورت' ہونے کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم سب کو مختلف حالات، ماحول، موسم، ثقافت، رہن سہن اور غذا ایک دوسرے سے مختلف بنا دیتی ہے۔ اس اختلافِ باہمی کے باوجود زندگی میں ایساکچھ بھی نہیں جسے جواز بنا کر عورت کی زندگی کو معاشرے میں بے وقعت یا اہم بنا کر خلل ڈالا جائے۔ انسانی معاشرے کی ترقی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو تقریباً بیس ہزار سال پہلے زمین پر انسانوں کی دو مختلف شناختیں تھیں۔ ایک کو ''شکاری'' کہا جاتا تھا اور دوسرے کو ''اکٹھا کرنے والا، جسے انگریز محققین نے
Hunter
اور
Gatherer
کے نام سے لکھا ہے، قدیم تاریخ کے مادرانہ نظام میں ابراہیم کا ذکر ملتا ہے۔ عورت کبھی ایک کار آمد جنس کے طور پر 'کاروباری' اور بقاء کی منڈی کا حصہ بنی، عورت کنیز اور غلام بنی، عورت جوئے میں ہاری اور جیتی گئی۔ عورت 'جنسی' کاروبار میں اہم اور قیمتی رُکن بنی، پھر شادی کے قانون اور ثقافت میں اُلجھ گئی، ونی سوارہ جیسی رسموں کی بھینٹ چڑھی۔ زندہ درگور ہوئی، ماضی کے یہ قصے کسی نہ کسی صورت 'حال' کے آئینے کا منہ بھی چڑاتے رہے۔ حال ہی میں ایک اکیس سالہ امریکی خاتون کو یرغمال بنا کر6.6 ملین ڈالر اس کا تاوان مانگا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے شعبۂ آبادی کے ڈائریکٹر گاہے بگاہے اپنے بیانات میں عورت کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھنے کی ہدایت کرتے رہتے ہیں۔ یہ تو ہے ایک نپا تلا پیمانہ، اب آیئے اپنے معاشرے کی جانب جہاں مرد کی انا، شادی، جہیز، طلاق کا حذف شدہ حق، تعلیم کی کمی، شعبہ ہائے زندگی میں یکساں مواقع کی فراہمی میں ناانصافی، کم عمری کی شادیاں،ونی سوارہ کے لین دین، زبردستی کے نکاح، غیر فطری نکاح (قرآن، مصلیٰ وغیرہ) جیسے کئی ایک مسائل میں گھِری عورت بے شمار خوبیوں کے باوجود ایک خاص مقام سے اوپر نہ جاسکی، معاشی، معاشرتی، شہری، دیہاتی، قبائلی، جاگیردارانہ نظام جیسی اَن گنت طاقتیں اس کے خلاف نبرد آزما رہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ آج کی پاکستانی عورت ماضی سے کہیں زیادہ مؤثراور بہتر زندگی گزار رہی ہے۔ اس بہتری کو بہترین کے پیمانے تک لے جانے کے لئے ہمارے لئے بہت سارے زمینی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستان کے معاشرتی نظام میں پدرسری نظام بہت ہی طاقت سے حکومت کررہا ہے جب کہ دوسری جانب قصبوں اور نیم دیہاتی علاقوں میں حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔ بہت سے امور مل جل کر چلائے جاتے ہیں اور ماضی میں فقط مردوں سے انجام پانے والے کام اب اسی لگن اور جانفشانی سے عورتیں بھی کررہی ہیں۔ (ایشین ڈویلپمنٹ بنک2016 کی رپورٹ سے ماخوذ)
غربت ایک ایسا اژدھا ہے جو عورت کو آسان اور تر نوالہ سمجھ کر ہڑپ کرنے پر تُلا بیٹھا ہے۔ گھر کے اندر حاصل شدہ نعمتوں پر بھی پہلا حق بیٹے کا ہی ہے۔ اسی طرح بہتر تعلیم اور صحت میں بھی فوقیت لڑکے ہی کو حاصل ہے۔ اس فرسودہ نظام کے پیچھے وہی ایک گھِسا پِٹا خیال کار فرما ہے کہ مرد کو باہر کے کام سرانجام دینے ہیں، اس لئے بہتر صحت، تعلیم اور ہنر سے لیس کیا جائے۔ (حالانکہ گھر میں بھی وہ اسی خیال سے پرورش پاتا ہے) اور لڑکی کو گھریلو کام کاج سکھا کر اچھی ماں، بہن، بیوی، ہی بنایا جاتا ہے تعلیم کی اہمیت پاکستان کے کئی دُور دراز علاقوں میں اب تک واضح ہی نہیں، اہم کیا ہوگی؟ آج کی ترقی یافتہ پاکستانی عورت اپنے دفاتر اور کام کی جگہوں پر امتیازی سلوک کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہ نہ صرف کم تنخواہ یافتہ کاموں بلکہ حقیر ترین نوکریوں کی طرف دھکیل دی جاتی ہے۔ گورنمنٹ کی ملازمت میں مواقع نسبتاً کم ہیں، بے روز گاری کی شرح شہروں اور دیہاتوں میں تقریباً زیادہ ہے جس کی بنیادی وجہ صحت کی سہولتوں اور اعلیٰ تعلیم کی کمی ہے جبکہ تعلیم معاشرے میں برابری کی بنیاد رکھنے کی اہم کڑی ہے۔ تعلیم ہی بہتر صحت اور زندگی، تحفظ اور سالمیت کے ساتھ قانونی طریقوں کے حصول تک مدد گار ہوتی ہے۔
پاکستان میں عورتوں کی تعلیم پر ایک نظر:
ابتدائی تعلیم لڑکے 59 فیصد
لڑکیاں 41فیصد
درمیانی تدریسی تعلیم لڑکے 66 فیصد
لڑکیاں 34 فیصد
ہائی سکول کی تعلیم لڑکے 72 فیصد
لڑکیاں 28 فیصد
ہراساں کئے جانے والے قوانین پر
بین الاقوامی برادری کا ایک ممکنہ جائزہ اور لائحہ عمل
لڑکیوں اور خواتین پر دورانِ کام جنسی طور پر ہراساں کئے جانے سے متعلق اَن گنت شکایات، رپورٹ، شواہد، فلمیں خبریں وغیرہ شامل ہیں۔ جن کی چیدہ چیدہ کی تفصیل اس طرح ہے!
UN Convention Documents
UN Declaration For The Elimination Of Violance Against
اور Women
International Labour Organisation
Convention
شامل ہیں۔
یورپی یونین کی کونسل ڈائریکٹو
(Council Directive)
کے آرٹیکل(2004/113CE) 23 میںعورت کو یکساں حقوق دینے کا پابند ہے جس کی تفصیل میں مرد اور عورت کو یکساں حیثیت حاصل ہے جہاں پر تمام ملازمتیں یکساں طور پر مرد اور عورت میں تقسیم ہوں گی اس طرح آجرقانونی طور پر پابند ہے کہ وہ عورتوں کو ہراساں کرنے والے ماحول کو نہ صرف صاف کرے بلکہ جنسی امتیازی سلوک سے بھی کام کرنے کی جگہ کو پاک رکھے۔ اس لمبی تمہیدکا مقصد فقط موضوع کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ اب تک دنیا میں 114ممالک میں یہ قانون نافذ ہو چکا ہے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔
دفاتر یا کام کاج کی جگہ پر مختلف قسم کی
Harassment
پیش آسکتی ہے جس میں ناپسندیدگی، زبانی، جسمانی حرکات سے لے کر رنگ و نسل مذہب، جنس (حمل سمیت) جنسی شناخت باقاعدہ طور پر (مرد، عورت یا خواجہ سرا) قومیت، عمر، ذہنی یا جسمانی معذوری، جینیاتی معلومات کو افشا کرنا( ڈی این اے سے حاصل شدہ سائنسی ترکیب انسانی کو افشا کرنا)
Verbal Harassment
زبانی تشدد
جنسی موضوع یا جنسی فعل سے متعلق گھٹیا مذاق، جنسی تعلقات بنانے کے لئے، باوجود انکار کے بار بار زچ کرتے رہنا، بار بار کسی بھی بیانیے سے دفاتر سے باہر ملنے پر اصرار کرتے رہنا، از راہِ تفنن محبت کا اظہار کرنا، فلرٹ کرنا، جنسی مقصد کے حصول میں ناکامی کی صورت میں نوکری سے نکالنے، نکلوانے یا کوئی اور نقصان دینے کی دھمکیاں دینا، غیر مہذہب، غیر شائستہ جنسی خصوصیات کی تعریف کرنا۔
غیر زبانی، حرکاتی تشدد، خاموش تشدّد
Non-Verbal Harassment
انسان کو سر سے پیروں تک تاڑنا جسے انگریز ی میں
Elevator Eyes
کہا جاتا ہے، آنکھوں سے گھورنا، رستہ بند کر لینا، بلامقصد پیچھے چلتے رہنا یا قربت کے ذرائع ڈھونڈنا، تحائف دینا، جسم سے جنسی حرکات کی ترغیب دینا، بلاوجہ کندھے سے کندھا ٹکرانا، کتابیں یا کاغذ پکڑانے کے بہانے ہاتھ سے ہاتھ کو ٹکراناوغیرہ۔
غیر جنسی تشدد
Non-Physical Harassment
harasmentaik.jpg
کارگزاری کی جگہ پر کارندوں کے بارے میں منفی رائے کا اظہار، مذہبی اعتقاد کو ناپسندیدہ قرار دینا یا کسی کے مذہبی عقیدے کو بدلنے کی کوشش کرنا، نسلی تعصب کا اظہار کرنا، خصوصی نام رکھنا، نسلی خصلتوں، جلد کے رنگ کو موضوع بنانا، متعلقہ ضرب المثال کو دہرانا، نسلی تعصب سے آراستہ فن پارے یا ڈرائینگ وغیرہ دکھانا یا ایسے پوسٹر بنانا جو کسی خاص طبقے، مذہب یا ثقافت کے لئے نقصان اور تکلیف کا باعث بن جائیں، جارحانہ رویہ رکھنا (اونچا بولنا، کرخت لہجہ اپنانا، غیر موزوں الفاظ استعمال کرنا) غیر شائستہ تصاویر، فلم، ای میل، دستی خط یا تحریر بھیجنا، عمر سے متعلق توہین آمیز تبصرہ کرنا، ایسا لباس زیبِ تن کرنا جو جارحانہ سمجھا جائے(بہتر ہے ڈریس کو ڈ نافذکیا جائے) اس کے علاوہ دھمکی آمیز لہجہ، گفتگو، دوسرے کو احساسِ کمتری دلانے کی کوشش اور احساس برتری کا برملا اظہار، اسی طرح دورانِ انٹرویو آجر کسی بھی اُمیدوار کی نسل، جنس، مذہب یا ازدواجی زندگی، عمر یا ذاتی کمزوریوں کے بارے میں دریافت نہیں کرسکتا اور اگر ایسا ہے تو یہ ایک خطرے کی جھنڈی ہے۔ جو آپ کو باور کررہی ہے کہ آپ اپنے مستقبل اور کام کی جگہ کا تعین کرنے کے بارے میں ایک بار پھر سوچ لیں۔
آن لائن تشدد/سائبر بُلنگ
Cyber Bullying
اس زمرے میں جھوٹی خبریں، دھمکیاں،جنسی تبصرے جس میں نشانہ بننے والے کی ذات میں خود کشی کے رجحانات، مختلف قسم کے جذباتی ہیجان آمیز دورے، بے چینی، غصہ اور اعصابی تنائو اور کھچائو شامل ہے۔ آن لائن تشدد میں سوشل میڈیا تیار شدہ جوابات
(Instant Messages)
برقی خط وغیرہ شامل ہیں۔
نگران کا تشدّد
Supervisor's Harassment
کام کی جگہ کا تعین اب انٹرنیٹ نے بدل کر رکھ دیا ہے۔ دفتر، ڈیسک، فیکٹری، کارخانہ، کھیت، باغ، چار دیواری کے علاوہ
Work From Home
گھر سے کام کرنے کی ایک نئی اختراع بھی شامل ہے۔ بہر حال نگران ہر جگہ پر تعین کیا جاتا ہے جہاں ترقی یافتہ ممالک میں انسانوں کی جگہ کیمروں اور مختلف مشینوں نے لے لی ہے۔ نگران کا فرض نئے ورکروں کی تربیت، رہنمائی، نگہداشت اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ نگران کے تشدد میں بلاوجہ اپنی برتری کا اظہار، غیر قانونی، غیر اخلاقی طریقہ کار شامل ہیں جس سے نئے کام کرنے والے لوگ خود کو جال میں پھنستا ہوا محسوس کرتے ہیں اِن رویوں میں
Probation
یعنی عملی آزمائش کی مدت کا تعین نہ کرنا بلاوجہ ذاتی عناد سے تعین شدہ مدت کو بڑھادینا، ذاتی نوکر بنالینے کی کوشش کرنا، نئے ملازمین کو متعلقہ کام نہ سکھانا اور تربیت کے بدلے میں جنسی تعلقات کی مانگ وغیرہ شامل ہے۔ متشددانہ رویہ ایک صحت مند انسان کو متاثر کرسکتا ہے جس میں معمولی کوفت سے لے کر بدترین اعصابی بیماریاں تک لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس رویے سے مظلوم زیادہ تر اپنی عزتِ نفس اور اخلاقیات سے عاری ہو جاتے ہیں۔ کام کرنے کا شوق، مستقبل کی لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے کام لینے سے ہچکچانے لگتے ہیں۔اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ سست اور کاہل ہو جاتے ہیں پھر کام سے زیادہ غیر حاضر رہتے ہیں، کام میں دلچسپی نہیں لیتے اور اگر حالات پر بروقت قابو نہ پایا جاسکے تو، بالآخر تنگ آکر استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ ایسے رویے کے شکار انسان، بلڈ پریشر، نیند کی خرابی، پیٹ کی خرابی یا نظامِ انہضام کے دائمی مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
تدارک
باقاعدہ پالیسی بنائی جائے جس میں
Harassment
کی تفصیل کو واضح کریں اور پالیسی بنانے کے لئے کسی پیشہ ور قانون دان سے مشورہ بھی ضروری ہے (بہتر ہے کمپنی کے وکیل کو یہ ذمہ داری سونپی جائے) ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ میں کسی ماہر کی مدد سے باقاعدہ تربیت کا منصوبہ بنایئے۔ ایچ آر کے شعبے میں شکایت درج کرانے کا طریقہ، سوال و جواب، باقاعدہ تحقیق اور شکایات کے ازالے، سزا، جزا اور اپیل کے حق کو بھی واضح کیا جائے۔ بغیر کسی تاویل، یا دیر، کے جنسی تشدد کی شکایت پر عمل شروع کیا جائے۔ اپنے دفتر یا
Work Place
پر کام کرنے والے لوگوںکی طاقت اور اعتماد میں اضافہ کرتے ہوئے اُنہیں علوم سے لیس کریں، اعلیٰ درجے کے افسران اپنے ماتحت کو تشدد سے نبرد آزما ہونے کی تربیت دیں اور اس تربیت کا حصول اگلے درجے کی ترقی کے لئے ایک لازمی جزو قرار دیا جائے۔ تمام کمپیوٹر، کیمرے، برقی آلات، موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، کِنڈل، ای میل اور تمام دستاویزی ترسیل اور آمد ورفت کا حساب رکھا جائے اور اُس پرنظر بھی رکھی جائے جسے باقاعدہ نگرانی کرنا کہا جاتا ہے۔ کمپنی کے مالک، آجر یاذمہ دار لوگ، اس بات کی یقین دہانی کریں کہ تمام ورکر اس قانون سے واقف ہوکر عمل پیرا ہوں اور کسی قسم کی لیت و لعل سے کام نہ لیا جائے۔ کام کی جگہ کو مہذب، ترقی پذیر، شگفتہ، قابلِ قبول اور صحتمندانہ بنانے کے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے۔
کام کی جگہ سبز یا سرخ رنگ کی نہیں بلکہ پیلے، گہرے مالٹائی رنگ کی جگہ ہے جو نہ تو گھر ہے اور نہ ہی جیل جہاں اخلاقی، تہذیبی، سماجی اور پیشہ ورانہ حدود و قیود کی پابندی کی جائے۔ ہر ایک ورکر کو اس کا دائرہ اختیار معلوم ہونا ضروری ہے جس پر کام کرنے کا ہنر بھی ضروری ہے۔ نااہل کارندے کمپنی میں برے اسباب پیدا کرسکتے ہیں۔ دورانِ تحقیق ٹال مٹول یا کسی حربے کا استعمال نہ کیا جائے۔ باقاعدہ تحقیق کے بعد فیصلے پر عمل کیا جائے، چاہے وہ معمولی سرزنش سے لے کرنوکری کی برخواستگی تک ہی کیوں نہ ہو! اس کے ساتھ ساتھ شکایت کنندہ کے خلاف دفتری جارحیت کو بھی برداشت نہ کیا جائے۔ تحقیق کے عمل کو شفاف اور واضح رکھا جائے فریقین کو برابری کی بنیاد پر انصاف مہیا کیاجائے۔ حکومتِ پاکستان 11مئی 2010 کو اس سلسلے کا ایکٹ منظور کرچکی ہے جس کے تحت انکوائری کمیٹی میں ایک خاتون رکن کا ہونا بھی ضروری ہے۔ شکایت موصول ہونے کی صورت میں ''تین دن'' کے اندر جس کے خلاف شکایت کی گئی ہو، کو مطلع کیا جائے اور تحریری جواب دینے کی مدت سات ورکنگ دن رکھی گئی ہے۔ سات دن کے اندر تحریری جواب موصول نہ ہونے پر کمیٹی اس بات کی مجاز ہے کہ یکطرفہ فیصلہ کردے، اس سارے عمل کو بجا لانے کی قانونی مدت 30 دن ہے۔ ملزم پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں مجاز اتھارٹی مندرجہ ذیل سزا کا فیصلہ سُنا سکتی ہے۔
1۔ تحریری مذمت، ملامت وغیرہ
2۔خاص مدت کے لئے ترقی یا انکریمنٹ کو روکنا
3۔ خاص عہدے تک ترقی پانے سے نااہل قرار دینا
4۔ ملزم کی تنخواہ سے رقم وصول کرکے مظلوم کو ازالے کے طور پر ادا کرنا
5۔ نوکری سے برخواستگی
6۔جبری ریٹائرمنٹ
7۔ نقد جرمانہ
اسی طرح سزا کے خلاف30 دن کے اندر محتسب کی عدالت میں اپیل کی جاسکتی ہے جس کا فیصلہ بھی30 دن کے اندر سنانا ضروری ہے۔
اگر محتسب کی عدالت میں کسی بھی وجہ سے محتسب کا تقرر نہ ہو سکا تو ڈسٹرکٹ کورٹ میں یہ اپیل سُنی جاسکتی ہے۔ اور عرصۂ دورانِ سماعت میں اگر محتسب کا تقرر ہو جائے تو ڈسٹرکٹ کورٹ سے کیس محتسب کی عدالت میں ٹرانسفر کیا جاسکتا ہے۔محتسب کی حکومت کا قیام دارالحکومت سمیت تمام صوبوں میں ضروری ہے۔ محتسب صدرِ پاکستان یا صوبے کے گورنر کے تحت کام کرتے ہیں جو کہ
Code of Civil Procedure Act/1908
کے برابر کے اختیار رکھتے ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے بہت ساری محتسب عدالتوں میں خواتین محتسب کو ذمہ داری دے رکھی ہے جس کے لئے لفظ
Ombudsperson
کا استعمال ہوتا ہے تاکہ انصاف کی حصولی کو غیر ضروری تعصب وغیرہ سے پاک رکھا جائے، اب تو حکومت نے ایک خاتون ہی کو وفاقی محتسب برائے انسدادِہراسیت مقرر کیا ہے۔ ایک نظام آن لائن بھی موجود ہے جو عورتوں کے خلاف جرائم میں حفاظت دیتا ہے۔ 092 333 1000015 ٹول فری نمبرجو
ICT- Police
کو دیا جاچکا ہے، اُس خود کار نظام کے تحت 8090 ایک ہیلپ لائن قائم ہے جو اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل کے دفتر سے منسلک ادارہ ہے جو اس پر کام کررہا ہے۔ دوسری جانب آجر کو قانون اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ اس ایکٹ کو انگریزی اور علاقائی زبانوں میں ترجمہ کرکے دفاتر میں کسی واضح جگہ پر آویزاں کرے۔ تحریری بورڈ نہ ہونے کی صورت میں تقریباً25000 سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ممکن ہے۔ ترقی کی اس گاڑی کو برابری کی بنیاد پر چار پہیئے ملیں گے تو یہ زیادہ بہتر کارکردگی کرسکے گی۔ مہذب قومیں اپنی عورتوں کے حقوق اور عزت کا خیال رکھتی ہیں۔ پاکستان ہمارا پیارا ملک ہے اور ہمیں اس میں بسنے والی مائوں، بہنوں، بیٹیوں کی عزتِ نفس کو یقینی بنانے کے لئے تمام اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ نئے وقت کا تقاضا بھی ہے اور ضرورت بھی۔ بلاشبہ نئے اور بدلتے حالات میں پاکستانی مرد اور عورت مل کر ہی اپنی قوم کے شاندار مستقبل کی ضمانت ہیں۔
آئین نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 49 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter