ایرانی سرحد کے پار

Published in Hilal Urdu

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

پاکستان میں اب ترکی جانا فیشن اور سٹیٹس سمبل بن گیا ہے اور اس رجحان کا آغاز تب ہوا جب ترک ڈرامے ہماری سکرینوں تک پہنچے۔ جب میں نے پہلی مرتبہ ترکی کی سرزمین کو چُھوا تب ترکی جانے والے کو ہمارے ہاں مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا تھا یعنی ایسا نوجوان جو ترکی کے راستے، یورپ میں گم ہوجائے۔


لاہور سے ٹرین پر سوار ہوا تو کسی کو یقین نہ آیا کہ میں کسی دوسرے ملک جا رہا ہوں۔ ویسے بھی پہلا پڑائو تو کوئٹہ ہی تھا۔ 1983ء اور اگست کا مہینہ۔ جوانی اور جنونِ جہاں گردی ۔ کوئٹہ سے ایران کی سرحد تفتان تک میری زندگی کا ایک یادگار سفر تھا۔ اس وقت تک بچے کھچے ہپی ان راستوں میں کہیں کہیں مل جاتے تھے۔ رات گئے بلوچستان کے صحرا میں ہماری بس کے ڈرائیور نے بس کا رخ ہلکا سا موڑ کر صحرا کی دوسری طرف بس کی تیز لائٹس ماریں۔ دالبندین سے نوکنڈی تک کوئی سڑک تو تھی ہی نہیں، بس ایک راستہ سا تھا جو انہی بسوں، ٹرکوں اور بڑی ویگنوں کی آمدورفت سے پگڈنڈی کی طرح پختہ ہوگیا تھا۔ڈرائیور نے شرارتی انداز میں صحرا کے اندر تاریکی میں ہلتے چند انسانوں پر لائٹ ماری تو جیپوں کا ایک قافلہ نظر آیا۔ یورپ سے ایشیا تک معروفِ زمانہ ڈبل ڈیکر بس

Top Deck

ایک طرف پارک تھی اور چہارسُو ہپی لیٹے اور کچھ چل پھر رہے تھے۔کھلے آسمان تلے، صحرائی ریت کا بستراور کش پہ کش لگاتے ہپی۔ مغرب کی مادی زندگی سے بیزار اور مفرور ان مردوخواتین کے لباس بس' پورے پورے' ہی تھے۔ ان ہپیوں نے جس طرح مغرب کی مادی زندگی سے فرار کے راستے تلاش کئے، اب تو ان کی بس کہانیاں ہی رہ گئی ہیں۔ اسّی کی دہائی کے آغاز تک میں نے اِکا دُکا ہپیوں کے کارواں دیکھے۔

تفتان کی پاک ایران سرحد عبور کرنے کے بعد جس چیز نے مجھے حیران کن حد تک متاثر کیا، وہ تھی ایرانیوں کا نہایت قوم پرست ہونا۔ میری جہاں گردی نے مجھے جس قدر قوم پرست پاکستانی بنایا، اگر میں اس کو کتابوں میں تلاش کرکے جاننے کی کوشش کرتا تو شاید میں اس قدر دلگیر پاکستانی نہ ہوتا جو میں آج ہوں۔ اپنی سرزمین پر اور اپنے وطن میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ عشق۔ اس کا پہلا سبق ایرانیوں، پھر عربوں اور ترکوں سے ہی سیکھااور جہان جہان کی گرد اڑانے والا یہ مسافر اسی لئے کبھی تارکِ وطن نہیں ہوا۔ مشاہدے سے حاصل علم اسی لئے صفحات پر چھپے علم سے گہرا ہے۔

آزاد ہپیوں پر پڑتی بس کی روشنی نے اُن کے سفید فام بدنو ں پر اٹی مٹی کو پار کر لیا۔ ڈرائیور اپنی شرارت پر ایسے خوش تھا جیسے اُس نے کوہ قاف سر کر لیا ہو۔ وہ بس سٹارٹ رکھتے ہوئے نیچے اترا اور ان ہپیوں سے محو گفتگو ہوا۔ اپنے ذہن سے تلاش کرکے ایک آدھ فقرہ کہتا،
You are going or coming?
(تم پاکستان جا رہے ہو یا پاکستان سے ایران جا رہے ہو)۔ گفتگو بس بہانہ تھی۔اس ڈرائیور کا اصل مقصد بس کی روشنی میں مغرب کے ان سفید فام باسیوں کو ''غور سے'' دیکھنا تھا۔ چند منٹ بعد وہ واپس اپنی ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔
بس میں میرے سوا کوئی جہاں گرد نہیں تھا۔تمام کے تمام وہ افغان تھے جو افغان جہاد کے سبب پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ دراز قد، منگول نسل۔ ہاں کانسٹیبلری کا ایک سپاہی بھی تھا جو چھٹی کے بعد نوکنڈی جا رہا تھا۔پنجابی ہونے کے سبب عملاً وہ ہی میرا ہمسفر تھا۔ سپاٹ منگول چہروں والے یہ دراز قد افغانی مہاجر میری طرف جب دیکھتے تو یوں لگتا جیسے کھا جانا چاہتے ہوں۔ بس ڈرائیور بھی مجھے انہی نگاہوں سے دیکھ رہا تھاجیسے لاہور میں میرے دوست احباب، کہ جرمنی جا رہے ہو یا انگلینڈ۔ اُن دنوں یورپ میں
Slip
(گم) ہو جانے والے لوگوں کے لئے ترکی ایک راہ گزر تھا۔ جب میں نے ڈرائیور کے اس سوال کا جواب دیا کہ نہیں، میں یورپ سلپ ہونے نہیں بلکہ سیاحت کرنے جا رہا ہوں تو اُس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا، ''سب ایسے ہی کہتے ہیں۔ بھلا ترکی بھی کوئی سیر کرنے والا ملک ہے۔ سیر کے لئے تو لوگ بنکاک جاتے ہیں۔'' بس ڈرائیور کو پہلے تو یہ یقین ہی نہیں آیا کہ میرے پاس ایران کا ویزا ہے۔ اسی لئے اُس نے میرا پاسپورٹ بھی چیک کیا۔ چوں کہ اکثر ''مسافرین'' جو سرحدیں عبور کرتے ہوئے یورپ سلپ ہوتے تھے، اُن کو سرحدیں پار کروانے والے مافیاز ہر جگہ موجود تھے۔ یہ ''فریضہ'' بس ڈرائیور بھی انجام دینا چاہتا تھا کہ چلو سرحد پار کرنے والا ایک گاہک ملا۔ یہ ''گاہک'' نہ ملنے پر سارے سفر کے دوران اس کا رویہ میرے ساتھ سوتیلوں جیسا رہا۔

 


بس ساری رات سفر کرتی رہی۔ صبح ہوئی تو ہم ایرانی سرحد کے قریب تھے۔وہاں بھی درۂ آدم خیل کی طرح ایک باڑا بازار سجا ہوا تھا۔ ہر قسم کی کرنسی اور ہر ''مال'' اور ہر طرح کے مسافر۔ سلپ ہونے والے بھی اور ایران کی زیارتیں کرنے والے بھی۔ پاک ایران سرحد پر سبز ہلالی پرچم اور ایرانی پرچم تیز ہوا کی شدت سے لہرا رہے تھے اور وہیں ایرانی سرحد کے اندر رہبرِ انقلاب امام خمینی کی قدآور تصویر آویزاں تھی۔ اس کا رخ پاکستان کی طرف تھا۔ تصویر پر رہبرِ انقلاب امام خمینی کے لئے تعریفی کلمات تو لکھے ہی تھے، ساتھ فارسی میں ''مرگ بر امریکہ'' (امریکہ مردہ باد) بھی لکھا تھا۔ یہ نعرہ انقلابِ ایران کا سب سے مقبول نعرہ تھا۔ جہاں گرد بازار کے 'مال' اور مسافروں سے بے نیاز تھا اور جلدازجلد پاکستانی سرحد پار کرکے ایران میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ ایران جو کبھی آریہ مہر شہنشاہ ِایران رضا شاہ پہلوی کا ایران تھا اور اب امام خمینی کا ایران۔
پاسپورٹ پر دخول کا ٹھپا کیا لگا، یوں محسوس ہوا، جہاں گردی کا کوئی اعزاز مل گیا ہو۔ پاک ایران سرحد پار کرکے تیزی سے زاہدان کی بس تلاش کی۔ ٹکٹ خرید کر بے چینی سےاس کے چلنے کا انتظار کرنے لگا۔ زاہدان، زاہدان ریڈیو کی اردو سروس کے سبب میرے لئے ایک مانوس شہر تھا۔

erranisarhadpar.jpg

پاکستان سے ایران کی سرحد پار کرتے ہوئے یوں لگا کہ میں واقعی اب مقامی سیاح سے عالمی سیاح بن گیا ہوں۔ ایک نئی تہذیب وتمدن۔ فارس کی قدیم تہذیب۔ نیا نیا انقلاب برپا ہو چکا تھا۔ انقلاب کی حدت ابھی مکمل طور پر محسوس کی جا رہی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ کا اہم اور تیل پیدا کرنے والا ایک نمایاں ملک۔ ہوائی جہازوںکے سفر میں بھلا یہ لطف اور یہ احساس کہاں جو سرحدوں کو پار کرتے ہوئے حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ میں کم بلکہ نہایت کم وسائل کے سبب لاہور سے یورپ، زمینی راستے پر سفر کرنے جا رہا تھا، لیکن یہ طے تھا اگر جیبیں خوب گرم ہوئیں تب بھی سفر زمین کے سینے پر ہی کرنا تھا۔ جہاز کے ذریعے ہوا میں معلق ہوکر کسی دوسرے ملک میں داخل ہونا تو جہاں گردی کے حقیقی فلسفے سے کافی دور ہے۔
تفتان سرحد ایسی دوسری بین الاقوامی سرحد تھی جو میں نے اپنے وطن کی سرزمین کو عبور کرتے ہوئے پار کی۔ پہلی سرحد واہگہ کی تھی جو میں اس سے پہلے تین بار عبور کر چکا تھا۔ سرحدات عبور کرنا کیا ہوتا ہے، اس کا احساس ایک حقیقی جہاں گرد ہی کر سکتا ہے۔ میرا یہ سفر اس حوالے سے زندگی کا یادگار ترین سفر ہے۔ کم وسیلہ ہونا بھی آپ کو مشکلات کا سامنا کرنے والا انسان بنا دیتا ہے۔ میرے والد صاحب مجھے ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ سفر انسان کی تربیت کرتا ہے۔ کم وسیلہ جہاں گردی نے مجھے جو سبق دئیے، انہیں میں نے عملی زندگی میں اپنایا۔


میرے لئے جہاں گردی مشاہدات کے ذریعے مطالعے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس میں تہذیب و تمدن، سماج، تاریخ، سیاست اور آرکیالوجی سرفہرست موضوعات ہیں۔ سماج اس میں اہم ترین ہے۔ جب آپ ایک ملک کی سرحد عبورکرتے ہیں تو آپ یکایک ایک نئے سماج میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لاکھ مماثلتیں ہوں لیکن کسی ملک کی سرحد عبورکرکے درحقیقت ایک مکمل مختلف سماج کا مشاہدہ شروع کردیتے ہیں۔ واہگہ سرحد عبور کرنے کے بعد بھی ایسا ہی ہوا، جہاں پنجابی تو بولی جا رہی تھی، مگر سماج سیاسی اور سماجی حوالے سے کہیں مختلف پایا، حتیٰ کہ انسانوں کے رویے بھی۔


تفتان سرحد عبور کرنے کے بعد میں سرزمین فارس پر موجود تھا، دنیا کی قدیم ترین تہذیب۔ مشرقِ وسطیٰ کی اہم ترین تہذیب۔ مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ عرب اور فارس۔ ''عرب وعجم'' کی اصطلاح نے اسی قدیم تہذیبی کشمکش کے بطن سے جنم لیا۔ یہ کشمکش ظہورِاسلام سے بھی پہلے موجود تھی۔ فارس کے لوگوں کا اپنا غرور وفخر ہے اور اسی طرح عرب دنیا کا اپنا غرور وتفاخر۔ اب میں ایک ایسے ایران میں کھڑا تھا جہاں جاری صدی کا ایک بڑا انقلاب برپا ہو چکا تھا، جو شہنشاہیت اور سامراج کو شکست دے کر کامیاب ہوا، جس نے خطے اور عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جو اپنے فارسی ہونے اور مشرقِ وسطیٰ کی اہم ترین تہذیب کا وارث ہونے پر نازاں ہیں۔ اسلام سے پہلے بھی اور اسلام کے ظہور کے بعد بھی۔


تفتان کی پاک ایران سرحد عبور کرنے کے بعد جس چیز نے مجھے حیران کن حد تک متاثر کیا، وہ تھی ایرانیوں کا نہایت قوم پرست ہونا۔ میری جہاں گردی نے مجھے جس قدر قوم پرست پاکستانی بنایا، اگر میں اس کو کتابوں میں تلاش کرکے جاننے کی کوشش کرتا تو شاید میں اس قدر دلگیر پاکستانی نہ ہوتا جو میں آج ہوں۔ اپنی سرزمین پر اور اپنے وطن میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ عشق۔ اس کا پہلا سبق ایرانیوں، پھر عربوں اور ترکوں سے ہی سیکھااور جہان جہان کی گرد اڑانے والا یہ مسافر اسی لئے کبھی تارکِ وطن نہیں ہوا۔ مشاہدے سے حاصل علم اسی لئے صفحات پر چھپے علم سے گہرا ہے۔

مضمون نگار معروف صحافی ' کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

''خوبصورت بات''

ہر وقت اﷲ کے کرم کا شکر ادا کرتے رہو، صرف پیسہ ہی رزق نہیں ہے، علم، عقل ،اولاد اور اخلاق بھی رزق میں شامل ہیں اور مخلص ہمدرد دوست بھی بہترین رزق میں شامل ہیں…

(مولانا جلا ل الدین رومی)

*****

ہم پاکستانی صرف اس وجہ سے بنے کہ ہم مسلمان تھے۔ اگر افغانستان، ایران، مصر، عراق اور ترکی اسلام کو خیر باد کہہ دیں تو پھر بھی وہ افغانی، ایرانی، مصری، عراقی اور ترک ہی رہتے ہیں۔ لیکن ہم اسلام کے نام سے راہِ فرار اختیارکریں تو پاکستان کا اپنا الگ کوئی وجود قائم نہیں رہتا۔ (قدرت اﷲ شہاب کی کتاب۔ ''شہاب نامہ'' سے اقتباس)

*****

 
Read 47 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter