تحریر: ملیحہ خادم

علامہ اقبال اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں اقبال کا ذکر آئے گا وہاں پاکستان کا ذکر ضرور آئے گا اسی طرح جب جب پاکستان کی بات ہوگی تب تب علامہ اقبال کی بات بھی ہوگی، اقبال کے بغیر پاکستان کی تاریخ ادھوری ہے۔ آپ مفکر پاکستان اور مصلح قوم بن کر ابھرے اور تاریخ میں امر ہوگئے- پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے تعین سے پہلے ہی فکر اقبال نے اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کا تعین کردیا تھا۔ علی گڑھ تحریک اور مسلم لیگ نے برصغیر کے مسلمانوں کی جداگانہ حیثیت اور تشخص کا جو پودا لگایا تھا اسے علامہ اقبال کے فلسفے اور فکرانگیز شاعری نے تناور درخت بنا ڈالا۔ آپ نے مسلمانوں کے ذہنی اور فکری جمود کو اپنی شاعری سے جھنجھوڑ ڈالا اور غفلت کی نیند سوئی قوم کو بیدار کردیا ۔
حکیم الامت علامہ اقبال نے کہا
میں ظلمت شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری، نفس مرا شعلہ بار ہوگا
اور واقعی آپ نے 1857 کی راکھ میں دبی مسلم بقا کی چنگاری کو معاشرتی و سیاسی حقوق اور آزادی کے شعلوں میں بدل دیا۔ اگرچہ شروع میں اقبال بھی دیگر مسلم قائدین کی طرح ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے، اسی لئے وہ کہتے تھے کہ مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا، سو ہندوستان ہم سب کا وطن ہے، لیکن انڈین نیشنل کانگریس کی مسلم مخالف سرگرمیوں اور سازشوں نے اقبال کو یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کے مصائب کا مکمل حل صرف اور صرف ایک الگ ریاست کے قیام میں پنہاں ہے، برصغیر کے شمال مغربی حصوں پر مشتمل ایک ایسی ریاست جہاں وہ ہندوئوں کی معاندانہ سرگرمیوں سے محفوظ رہ کر اپنے عقائد اور سماجی روایات کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔ اس منزل تک پہنچانے کے لئے انہوں نے مسلمانوں کی معاشرتی اور سیاسی اصلاح پر بھرپور توجہ دی اور مسلمانانِ ہند کے زوال کے اسباب کا تجزیہ کرکے مسلمانوں کے سماجی ڈھانچے میں در آنے والی خرابیوں کو اجاگر کیا۔
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

bayadeiqbal.jpg
یہ اقبال ہی تھے جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو انگلستان سے واپس بلا کر انہیں ایک بار پھر ہندوستان کی سیاست میں متحرک کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی کیونکہ آپ جانتے تھے جناح ہی وہ واحد فرد ہیں جو اپنے انتھک عزم اور سیاسی بصیرت کے باعث مسلمانوں کے حقیقی لیڈر بننے کے اہل ہیں اور جناح کی لیڈرشپ ہی بے شمار مسائل میں جکڑے مسلمانوں کی دوا بنے گی۔ ہم بآسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر فکرِ اقبال نہ ہوتی تو ایک الگ وطن کا اتنا واضح نظریہ سامنے نہ آتا اور نہ ہی قائداعظم میں وہ تحریک پیدا ہوتی جس نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے کانگریس کے مسلمانوں کو اقلیت قرار دے کر ہندو مطلق العنانی کے خواب کو چکناچور کردیا، ساتھ ہی تاج برطانیہ پر بھی واضح کردیا کہ مسلمانوں کے جداگانہ تشخص کو مانے بغیر ہندوستان میں سیاسی استحکام نہیں آسکتا اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہندوستان کو دو الگ اور آزاد ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے۔ اس طرح علامہ اقبال نے الٰہ آباد میں جوخواب دیکھا اس کی تعبیر 14 اگست 1947 کو پاکستان کی صورت میں مسلمہ حقیقت بن کر ابھری۔
علامہ اقبال کو قدرت نے غیر معمولی ذہن عطا کیا تھا۔ آپ نے دین او دنیا دونوں کو معنویت اور جانچ کے اصولوں پر پرکھا۔ علامہ اقبال نے اسلام کو مسلمان ہونے کے ناتے ہی تکریم نہیں دی بلکہ اس مذہب کی تعلیمات کے باعث مسلمانوں کی کامرانی کا تجزیہ انتہائی غیر جانبداری اور میزان کے ساتھ کیا۔ آپ نے مسلمانوں کے عروج و زوال پر غور کیا اور اس کے اسباب و نتائج کو اپنی شاعری میں سمودیا۔ اقبال نے شکوہ لکھ کر مسلمانوں کے دورِ عروج اور فتوحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زعم کو بے مثال انداز میں پیش کیا۔ اس کے بعد جواب شکوہ کے ذریعے ملتِ اسلامیہ میں جنم لینے والی برائیوں اور بتدریج زوال کو بھی انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا۔
دم تقریر تھی مسلم کی صداقت سے بے باک
عدل اس کا تھا قوی، لوث، مراعات سے پاک
چاہتے سب ہیں کہ ہوں اوجِ ثریا پہ مقیم
پہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیم
علامہ اقبال ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں سرزمین حجاز سے شروع ہونے والی رزم و بزم کی کامیابیوں کے راستے پر چلاتے ہوئے قرطبہ، غرناطہ اور قسطنطنیہ لے جاتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ کبھی آدھی دنیا پر مسلمان حکومت کرتے تھے، اس طرح وہ ملت سے ہمارا رابطہ استوار کرتے ہیں، پھر وہ ان ہی راستوں پر چھائی مسلم حکمرانوں اور اکابرین کی غفلت کی دھول میں سے گزار کر ہمیں ہندوستان واپس لے آتے ہیں۔ یہاں وہ مسلمانانِ ہند کے تشخص، بقا اور حقوق کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ قلم کو ہتھیار بنا کر سازش، جہالت اوراستبداد کے خلاف میدان میں اترتے ہیں اور قوم کے تنِ مردہ کو استقامت کے گھوڑے پر بٹھا کر خود جدوجہد کی باگ پکڑکر فتح کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔
نہ پوچھ اقبال کا ٹھکانا ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزر بیٹھا ستم کش انتظار ہو گا
علامہ اقبال اس بات کے قائل تھے کہ مذہب، انسانوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے چنانچہ وہ اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے عالم اسلام اوربالخصوص مسلمانان پاک وہند پر زور دیتے ہیں کہ اسلام کے بتائے ہوئے اخوّت اور یکجہتی کے راستے پر چلیں۔ اسلام کی تعلیمات سے اپنی مشکلات کا حل تلاش کریں۔ اقبال نے اسلام کو مسلمانوں کا نجات دہندہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اس دین میں بیان کئے گئے مکمل ضابطہ حیات کو خود پر لاگو کریں تاکہ دنیا میں اپنا الگ تشخص برقرار رکھ سکیں۔ آپ نے مغربی نظام اور سیاست کی خرابیوں کو بیان کرتے ہوئے یہ واضح کردیا کہ ایسا نظام مسلمانوں کی اقدار اور تاریخ سے بالکل جدا ہے اس لئے مسلمانوں کو اپنا نظام اورمعاشرت، ازسرنو اسلام کو سامنے رکھتے ہوئے، ترتیب دینا ہوگا۔ تہذیب و تمدن کو علاقائیت اور سرحدوں کی قید سے آزاد کرکے اسے اسلامی طرز زندگی کے ساتھ جوڑ کر ایک قابل تقلید معاشرہ قیام کرنے کی خواہش علامہ اقبال کی شاعری میں خاص مقام رکھتی ہے۔ اس ضمن میں وہ مقامی خدوخال اور وقت کے تقاضوں کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو عظمت رفتہ کے دھندلکے سے نجات حاصل کرنے کی تعلیم دی۔
کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
میری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
علامہ اقبال نے دینی معاملات کو مسجد اور منبر سے باہر لا کر روزمرہ زندگی میں ان سے راہ نمائی حاصل کرنے پر زور دیا۔ اقبال نام نہاد مذہبی راہنمائوں اور ان کی مخصوص محدود سوچ کے سخت ناقد تھے، ان کی نظر میں اسلام کی تعلیمات اور اصول عالمگیریت کے لئے نازل کئے گئے ہیں اس لئے ان کو خانوں میں بانٹنے کے بجائے ان کی صحیح تشریح کی جائے تاکہ اسلام کوخانقاہوں اور درباروں سے باہر نکال کر دوبارہ سے اطلاقی مذہب بنایا جاسکے۔
اقبال کے یہاں اسلام کو تنگ نظری سے دیکھنے کی ممانعت ہے۔ وہ اس الہامی مذہب کی وسعت اور آفاقیت کو کھوجنے کے قائل ہیں۔ وہ دین کو عبادات تک محدود نہیں کرتے بلکہ اس میں چھپے اس پیغام تک پہنچنے کا درس دیتے ہیں جس نے اسلام کے اولین دنوں میں معاشروں کی کایا پلٹ کر رکھ دی تھی۔ وہ قدرت کے رازوں تک پہنچنے کی جستجو کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اقبال کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے مابعد الطبیعات پہلوئوں کو آسان کرکے پیش کیا اور اسلامی تعلیمات کی نئی جہتیں متعارف کروائیں۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال کو ایران اور ترکی میں بھی اتنی ہی پذیرائی ملی جتنی برصغیر پاک و ہند میں۔ وہاں آج بھی علامہ اقبال کے فلسفے اور شاعری کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے دینی معلومات کے دائرے کو کائنات اورذرات کی منزلوں سے آگے لے جاکر اسلام کو سائنس کے ساتھ ملا کر پڑھنے کے لئے آسان کردیا۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
علامہ اقبال نئی نسل کو الگ تھلگ کرکے قوم کے مستقبل کا خاکہ تیار کرنے کے مخالف تھے۔ آپ بطور خاص نوجوانوں کی فکری تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ اقبال جوانوں کو شاہین بن کر جینا سکھاتے ہیں۔ اپنی شاعری کے ذریعے علامہ اقبال نوجوانوں کو جابجا مخاطب کرتے ہوئے انہیں اسلامی تصورات سے روشناس کراتے ہیں اور انہیں ترغیب دیتے ہیں کہ زندگی کو صرف دنوں کی گنتی کی طرح گزارنے کے بجائے اپنے مقصدِ حیات کا تعین کریں اور قدرت و کائنات کے اسرار و رموز کو پَرکھیں۔ خدا نے کائنات کو لامتناہی اکائیوں اور سلسلوں کے ساتھ ترتیب دیا ہے اور قرآن نے مسلمان کو پابند کردیا ہے کہ وہ قدرت کے پوشیدہ رازوں کو جانچنے کی سعی کرے لہٰذا اقبال اس کی ناتمام حدوں کو کھوجنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں چرخ نیلی فام سے پرے ہے منزل، سو نوجوان رکنے جھجکنے کے بجائے اس منزل کو تلاش کریں اور نت نئے افکار و خیالات کا مطالعہ اور تجزیہ کریں ۔ وہ لگے بندھے پرانے نظریات کو نوجوانوں کی سوچ سے ہم آہنگ کرنے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہیں۔
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پِیروں کا استاد کر
اقبال مایوسی کے بجائے امید کا پیغام دیتے ہیں اور اس امید کو نوجوانوں سے وابستہ کرتے ہیں۔ وہ انہیں نام نہاد درویشی صفات اختیار کرنے سے روکتے ہیں اور صرف حکمرانی کی لذت میں گم ہونے سے بھی منع کرتے ہیں۔ اس کے بجائے نوجوان نسل کو اپنی نگاہ بلند اور سخن دل نواز رکھتے ہوئے پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ چونکہ اقبال جانتے تھے کہ جس قوم کی نوجوان نسل سوجائے اس قوم کی تباہی لازم ہوجاتی ہے اس لئے اپنی شاعری اور افکار کے ذریعے انہیں متحرک رکھتے ہیں۔ آپ انہیں گفتار کا غازی بننے کے بجائے عمل پیہم کے سہارے زندہ رہنا سکھاتے ہیں۔ علامہ اقبال نوجوانوں کو عقلی، عملی جمود کی زنجیروں سے آزاد ہو کر نت نئے فکری مشاہدات اور تجربات کی ترغیب دیتے ہیں۔
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں
علامہ اقبال نے مروجہ مغربی نظام یکسر مسترد کردیئے اور مستقبل کو مشرق سے وابستہ کرکے ہندوستان کے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ بھی آنے والے وقت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار کریں اور اپنی ذہنی صلاحیت اور استعداد بڑھائیں تاکہ دوسروں کے محتاج بننے کے بجائے آپ اپنا جہاں آباد کریں۔ انہوں نے اسلامی دنیا کے مصائب پر بھی بات کی اور مسلمان حکمرانوں کی کاسہ لیسی کو بھی ہدفِ تنقید بنایا۔ یہ اقبال کا وصف ہے کہ وہ دلیری کے ساتھ حق بات کی نشان دہی کرتے رہے اور ملت پر چھائے قحط الرجال کے دور میں دیدہ ور بن کر زندہ رہے۔ علامہ اقبال نے مغرب کی بچھائی گئی سیاسی شطرنج پر مسلمان پیادوں کی پیش رفت پر دکھ کا اظہار کیا اور مسلمانوں کو مغربی طاقتوں کی اسلام دشمنی میں ان کا ہرکارہ بننے سے روکا۔
بیچتا ہے ہاشمی ناموس دین مصطفی
خاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوش
لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل
خشتِ بنیادِ کلیسا بن گئی خاک حجاز
قدرت نے انسان میں انا، عزت نفس اور اپنی ذات کا غرور پیدائشی طور پر رکھا ہے لیکن احساس کمتری، دوسروں پر انحصار اور اپنی بنیادوں سے دوری انسان سے یہ اوصاف چھین لیتی ہے۔ علامہ اقبال شدت کے ساتھ ان اوصاف کی حفاظت پر زور دیتے ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ خودی مسلمانوں کے کردار کا لازمہ (لازمی جزو) ہے اور اس خوبی کو بقا، ترقی اور اغیار کی حاشیہ برداری سے نجات کا ذریعہ قرار دیا۔ اقبال قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت کو مسلمان کی میراث قرار دیتے ہیں اور ان صفات کو حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے خودی کا حصول ضروری ہے ۔ آپ نے انسان کی کی فلاح کا سرچشمہ خودی کو قرار دیاکیونکہ اسی کی بنیاد پر انسان اپنا منفرد مقام اور وجود قائم رکھ سکتا ہے۔
وجود کیا ہے فقط جوہرِ خودی کی نمود
کر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا
علامہ اقبال کی فکر اور فلسفہ وقت کی قید سے آزاد ہے۔ آپ کی شاعری کی تروتازگی آج بھی برقرار ہے۔ نومبر کی طرح اپریل بھی اقبال کا مہینہ ہے۔ ہم اس دن علامہ اقبال کو زبردست خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن صرف سیمینار اور تقاریر اس عظیم فلسفی اور مفکر کے کام اور مسلمانانِ ہند پر ان کے احسانات کا بدلہ نہیں چکاسکتے۔ ہمیں چاہئے کہ اقبال کی سوچ اور ان کے فلسفے کو اپنی نئی نسل خصوصاً طالب علموں، تک پہنچانے کا غیر معمولی بندوبست کریں۔ اس کے لئے نصاب میں مناسب تبدیلیاں کی جائیں اور فکر اقبال کوسکول کی سطح پر لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے کیونکہ علامہ اقبال کی شاعری اور فلسفہ رہتی دنیا تک ہمارے لئے مشعل راہ ہے جو قومی سطح پر ہماری راہ نمائی کرکے ہمیں سر اٹھا کر جینا سکھاتا ہے۔
------------------------------------

مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 46 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter