مستقبل شناس بجٹ

Published in Hilal Urdu

تحریر: خالدمحمودرسول

بجٹ بظاہر تو مالی اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہے جسے جاننے والے ہی جانتے ہیں لیکن اس کا اثر اس قدر ہمہ گیرہوتا ہے کہ ہر عام خاص ایک حد تک اس میں دلچسپی ضرور لیتا ہے۔ ہر نئے بجٹ پر ماہرین اعدا و شمار کا دبستان کھول کر مالی اشاریوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ حکومت کے طرفدار بجٹ کی خوبیاں بتاتے نہیں تھکتے اور اس بات پر داد طلب بھی رہتے ہیں کہ اس قدر مشکل حالات میں ایسا عوام دوست بجٹ انہی کا کمال تھا۔ اس کے برعکس حکومت مخالف ماہرین اور سیاسی نمائندے اس بجٹ کی ہر کل ٹیڑھی بتاتے نہیں تھکتے۔ حکومتی پارٹی بدل جائے تو توصیف اور تنقید کرنے کی ترتیب الٹ ہو جاتی ہے لیکن توصیف اور تنقید کے نکات ایک سے رہتے ہیں۔ عام آدمی اسی الجھن میں رہتا ہے کہ مانیں تو کس کی، نہ مانیں تو کس کی۔
سالہا سال سے بجٹ دستاویزات دیکھتے ، ان پر بحث سنتے اور اکانومی کے مدوجزر دیکھتے ہوئے ہمیں دلاور فگار کے مشہور اور حسبِ حال اشعار یاد آتے ہیں۔
حالاتِ حاضرہ میں اب اصلاح ہو کوئی
اس غم میں لوگ حال سے بے حال ہو گئے
حالاتِ حاضرہ نہ سہی مستقل مگر
حالاتِ حاضرہ کو کئی سال ہو گئے
بجٹ کیا ہے؟ بجٹ معیشت کا مالی میزانیہ ہے، ریونیو ( محاصل ) کیا ہیں؟ اخراجات کیا ہیں ؟ ان دونوں کا فرق خسارے کی صورت میں ہے یا کچھ فاضل ہے؟ اگر خسارہ ہے تو یہ کیسے پورا ہوگا؟ ان بنیادی سوالوں کے جوابات میں گزشتہ سال کی مالی و معاشی کارکردگی، معیشت کی موجودہ صورتحال اور اگلے سال کے لئے اہداف، ان اہداف تک پہنچنے کے لئے مالیاتی اقدامات اور مالیاتی میزانیہ بجٹ کی صورت میںپیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ مالیاتی سال 2017-18 کے میزانیے کے نمایاں خدوخال کچھ یوں تھے۔ گزشتہ دس سالوں میں معیشت کی سالانہ شرح نموبلند ترین سطح پر رہی یعنی 5.28فیصد ۔ معیشت کی شرح نمو میں صنعت 5فیصد، زراعت 3.46فیصداور سروسز میں 5.98 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ افراطِ زر 4 فیصد سے کچھ زائد رہی۔ مجموعی قومی پیداوار کا حجم تین سو ارب ڈالر تک پہنچا۔ یوں فی کس آمدن امریکی 1,629 ڈالر تک بتائی گئی۔ یہ سب حوصلہ افزاء اشارئیے تھے لیکن دوسری طرف معیشت کے چند رجحانات بدستور پریشان کن رہے۔


پاکستان کی برآمدات میں اضافہ نہ ہو سکا جبکہ اس کے بر عکس درآمدات میں اضافہ جاری رہا ۔ یوں پہلی بار تجارتی خسارہ بتیس ارب ڈالر تک جا پہنچا یعنی کل برآمدات سے بھی زیادہ ! ٹیکس جی ڈی پی تناسب حسبِ معمول عملاً وہیں کا وہیں رہا۔ مالیاتی خسارے کا تناسب ہدف سے زیادہ رہا۔ بیرونی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ محاصل میں بالواسطہ ٹیکسوںکا تناسب حسبِ معمول بڑھ گیا۔ بجٹ کا سب سے بڑا خرچ قرضوں اور سود کی مد میں ادائیگیوں کا رہا۔ نہ قومی بچتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکا اور نہ سرمایہ کاری میں کوئی غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ سی پیک کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاری مایوس کن رہی۔ بجلی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ
(Circular Debt)
ایک بار پھر بڑھ کر خوفناک مالی بوجھ کی صورت میں نمایاں ہونا شروع ہوا۔ پبلک سیکٹر کارپوریشنز میں ایک آدھ کے سوا بیشتر میں خسارے کا رجحان جاری رہا ہے۔ یوں کئی مثبت اشاریوں کی موجودگی میں اتنے ہی پریشان کن رجحانات نے معیشت کی صحت مندی کے بارے میں سوالیہ نشانات بھی کھڑے رکھے۔


ایک بار پھر بجٹ سر پر ہے۔ جمہوری حکومت کی مدت کی انہی دنوں تکمیل کی وجہ سے بجٹ چند ہفتے قبل از وقت ہی پیش کر دیا جائے گا۔ انتخابات کے بعد آنے والی حکومت کو یقینا اس بجٹ میں اپنی ترجیحات کے مطابق کچھ ردوبدل کرناشاید ناگزیر بھی ہو۔ اپنی نوعیت میں یہ ایک انتخابی بجٹ ہو گا لہٰذا اصلاحات اور معیشت کے لئے درکار سخت فیصلے شاید اس بجٹ کا حصہ نہ بن پائیں، تاہم بجٹ کی ترجیحات بالعموم کیا ہونی چاہئیں، اس ضمن میں ذیل میں چند نمایاں اور بنیادی نکات کا ذکر ہے۔

mustakbilshanas.jpg
اوّل: معیشت میں مسلسل اور مناسب شرح نمو کو یقینی بنایا جائے۔ نوے کی دِہائی اور بعد ازاں 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد معیشت کو مسلسل کئی برس سے کم شرح نمو کا سامنا رہا۔معیشت کے اپنے بنیادی مسائل او ر بے روزگاری جیسے پھن اٹھائے مسائل کا سامنا کرنے کے لئے آنے والے کئی سالوں کے لئے کم از کم چھ فیصد شرح نمو کا حصول ضروری ہے۔ ایسی قلیل اور وسط مدتی پالیسیاں اور اقدامات وقت کی ضرورت ہیں جن سے شرح نمو کا یہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہو سکے۔
دوم: بجٹ کے مالیاتی خسارے کو ہر صورت کنٹرول کرنے کی تدبیر۔ حکومت کو ایک جانب اپنے اخراجات پر کنٹرول اور وسائل کے بہتر اور مؤثر استعمال کی ضرورت ہے اور دوسری طرف اپنے محاصل بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان کا ٹیکس جی ڈی پی تناسب خطے اور زیادہ تر ترقی پذیر ممالک کے مقابل بہت کم رہا ہے۔ مختلف حکومتوں کی نیم دلانہ کوششوں کی وجہ سے یہ تناسب عملاً دس فی صد سے کم ہی رہا۔ اس تناسب میں بھی زیادہ تر حصہ تنخواہ دار ٹیکس گزاروں کا ہے۔ محاصل کے ذرائع دیکھیں تو براہِ راست ٹیکسوں کی شرح بڑھانے کی تمام کوششیں بیکار ثابت ہوئیں۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے، براہِ راست ٹیکسز کا تناسب بڑھانے اور ٹیکس کو بتدریج
consumption
سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔ مسلسل خسارے کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی قرضوں کا بوجھ اب ناقابل برداشت ہو رہا ہے ۔ ایک اہم مسئلہ وسائل کے استعمال میں کرپشن کا بھی ہے۔ منصوبوں میں شفافیت اور ہر سطح پرکرپشن کی حوصلہ شکنی قومی ترجیح ہونی چاہیے۔
سوم: مالیاتی انڈیکیٹرز میں مستقل نوعیت کی بہتری۔ ملک کی معیشت کا ڈھانچہ کچھ ایسا ترتیب پا گیا ہے کہ برآمدات چند بنیادی اور
low value added
پراڈکٹس پر مشتمل ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک کی برآمدات میں ٹیکنالوجی مصنوعات کا تناسب مسلسل بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے مثلا انجینئرنگ، آٹوموبائل، ٹرانسپورٹ، کیمیکلز، آئی ٹی وغیرہ۔ اس کے بر عکس پاکستان کی برآمدات کا نصف سے کچھ زائد ٹیکسٹائل اور اپیرل، چاول، چمڑہ اور چمڑے کی مصنوعات ۔ سرجیکل و سپورٹس مصنوعات وغیرہ پر مشتمل ہے جو کم ویلیو ایڈڈ پراڈکٹس پر مشتمل ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی پراڈکٹس کی برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حلال مصنوعات کی دنیا میں بہت بڑی اربوں ڈالر کی مارکیٹ ہونے کے باوجود پاکستان کا عالمی شیئر ایک فی صد بھی نہیں۔ ضرورت ہے کہ برآمدات کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے لئے ایک نیا وژن بنایا جائے تاکہ برآمدات میں جمود کو ختم کرنے کا سدِباب کیا جاسکے۔
اسی طرح درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ملک فقط ایک ٹریڈنگ نیشن بن کر نہ رہ جائے۔ درآمدات کے لئے بظاہر معاشی اور انتظامی ماحول زیادہ موزوں اور موافق ہے جس کی وجہ سے مقامی صنعت کو
unfair
مسابقت کا سامنا ہے جس کا نتیجہ اندسٹری کی شرح افزائش میں مایوس کن اضافہ ہے۔ اسی پسِ منظر میں چند ماہرین معیشت اب یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان
De- industrilization
کے مرحلے میں پھنس چکا ہے۔ جب تک بنیادی اور دوررس پالیسیاں وضع نہیں کی جاتیں، یہ رجحان جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ بجٹ اس سلسلے میں کلیدی کردار کا حامل ہے، لہٰذا ضرورت ہے کہ اس سمت میں مؤثر اور دوررس اقدامات اٹھائے جائیں۔
چہارم: ملک میں سالہاسال سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں چند بڑے شہروں میں سمٹ گئی ہیں۔ چھوٹے شہروں اور علاقوں سے لوگ بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جس سے شہروں کی جانب مسلسل مائیگریشن کا خوفناک رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اس رجحان سے بہت سے پیچیدہ معاشرتی اور انتظامی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ علاقائی عدم مساوات کو مزید بڑھنے سے روکا جائے۔
پنجم: پاکستان کی آبادی حالیہ مردم شماری میں توقع سے کہیں زیادہ نکلی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جس کا ایک واضح مطلب یہ ہے کہ کام کی عمر کو پہنچنے والوں کے لئے روزگار کی فراہمی کا ہدف مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ایک مسلسل چیلنج ہے۔ بجٹ ترجیحات اور پالیسیاں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ششم: دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی معاشی ناہمواری اور عدم مساوات گزشتہ چند دِہائیوں میں بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ حالیہ سالوں میں اکانومی میں پراپرٹی کی صورت میںچند لوگوں کے ہاتھ میں بہت سرمایہ آیا جو صنعت و تجارت میں لگانے کے بجائے پھر سے پراپرٹی وغیرہ جیسی معاشی سرگرمیوں میں کھپ جاتا ہے۔یہ اور اس طرح کی دیگر معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے تیزی سے دولت کا ایک خاص طبقے میں ارتکاز ہو رہا ہے۔ یہ رجحان اپنے اندر خوفناک معاشرتی اور سماجی مسائل کو پال رہا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
ہفتم: پاکستان کی اکانومی کا ایک بہت بڑا حصہ بلیک اکانومی پر مشتمل ہے۔ یہ اکانومی عملاً ٹیکس نیٹ کی دسترس سے باہر ہے اور مجبوراً کچھ بالواسطہ ٹیکسز دے کر اپنا دامن مکمل ٹیکس نیٹ سے بچائے رکھتی ہے۔ مزید یہ کہ بلیک اکانومی میں کاروباری سرگرمیوں کو مکمل دستاویزی صورت میں رکھنے اور حکومتی اداروں میں رجسٹر کروانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ یوں حکومت کو صحیح اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اس بلیک اکانومی کا حجم کیا ہے۔ کچھ ماہرین کے محتاط اندازوں کے مطابق بلیک اکانومی کا حجم کل معیشت کا ساٹھ فی صد یا اس سے بھی زائد ہے ۔ ماضی کی تمام حکومتوں کی غیرسنجیدہ اور نیم دلانہ کوششیں بلیک اکانومی کو مین اسٹریم اور ٹیکس نیٹ میں لانے میں ناکام رہیں۔ ماہرین کا یہ خیال ہے کہ جب تک بلیک اور کیش اکانومی کی حوصلہ شکنی ایک قومی ترجیح کے طور پر نہیں کی جائے گی، ملکی معیشت کے بہت سے بنیادی مسائل میں دوررس تبدیلی کا خواب شرمندہ ٔ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
پاکستان کی معیشت کو بہت سے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے لیکن یہ مسائل لاینحل نہیں ہیں۔ وقتی مفادات سے بلند ہو کر قلیل مدت اور دوررس اقدامات اور مناسب اصلاحات کے نفاذ سے معیشت کی شکستہ بنیادوں کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں بجٹ کی ترجیحات اور پالیسیاں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔

مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

عقل و دِل
ہر خاکی و نوری پہ حکومت ہے خِرد کی
باہر نہیں کچھ عقلِ خداداد کی زد سے
عالم ہے غلام اس کے جلالِ اَ زلی کا
اِک دل ہے کہ ہر لحظہ الجھتا ہے خِرد سے

*****

 
Read 81 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter