تارکینِ وطن: پاکستان اور یورپ کا مختصر تقابل

Published in Hilal Urdu

تحریر: ندیم بخاری

برطانیہ میں مقیم ندیم بخاری کی ماہنامہ ہلال کے لئے خصوصی تحریر

دنیا کے تقریباً ہر خطے کے لوگ مختلف وجوہات کی وجہ سے ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے بین الاقوامی طورپر تارکینِ وطن کی کوئی باقاعدہ تعریف و تشریح موجود نہیں ہے۔ انگریزی زبان میںترکِ وطن، ہجرت، نقل مکانی، جلا وطنی وغیرہ جیسے الفاظ کی تعریف بہت واضح ہے۔ اُردو میں معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اردو میں قانونی تعریف کم اور مذہبی، جذباتی، احساساتی اور تصوراتی معنی زیادہ ملتے ہیں ایسا شاید اُردوزبان پر ادبی اثرات کی وجہ سے ہے۔تاہم اردو میںتارکِ وطن یا انگریزی میں
Immigrant
کاعمومی لفظ وطن چھوڑ کر دوسرے ملک جانے والے کسی بھی شخص کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔
ماہرین اِس بات پر تقریباََ اتفاق کرتے نظر آتے ہیں کہ بین الاقوامی مہاجر کسی ایسے شخص کوکہتے ہیں جو اپنے ملک کو کسی بھی وجہ سے چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں رہائش اختیار کرتا ہے،چاہے اِس عمل میں منتقلی کا طریقہ یا قانونی حیثیت کچھ بھی ہو۔عموماََ مختصر مدت یا عارضی نقل مکانی کے درمیان تین اور بارہ ماہ کی مدت کوفرق مان لیا جاتا ہے،اور طویل مدتی یا مستقل منتقلی میں ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے کو بنیاد بنایا جاتا ہے.
مجھے چند مرتبہ ترک وطن کرکے یورپ آنے والے مہاجرین کے لئے کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کی وجہ میرا فوٹو گرافی کا شوق بنا ۔ میں اکثر برطانیہ میں کام کرنے والی فلاحی تنظیموں کے لئے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کرتا رہتا ہوں۔ جب یورپ نے عرب اور افریقہ سے ہجرت کر کے آنے والے پناہ گزینوں کو پناہ دینے سے انکار کر دیا تو ان ممالک کی سرحدوں پر مہاجرین کیمپ لگنے شروع ہو گئے۔ سردی، بارش اور ضروریات زندگی کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ان مہاجرین کی صحت ہی نہیںبقا کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا۔

tarkeenwatan.jpg
کالے (کالایئس) فرانس کے مہاجرین
یہ وہ مہاجرین ہیں جو فرانس میں تو گھس آئے مگرجانا وہ برطانیہ چاہتے تھے۔ جبکہ برطانیہ ان کو تکنیکی اورسکیورٹی کی بنیادوں پرنہیں لینا چاہتا تھا۔ چونکہ یہ مہاجرین فرانس میں ہونے کی وجہ سے فرانس ہی میں پناہ لے سکتے تھے تو ان کے برطانیہ آنے کی کوئی قانونی توجیہہ نہیں تھی۔ برطانیہ چاہتا تھا کہ چونکہ یہ مہاجرین پہلے سے ہی فرانس میں ہیں، لہٰذا فرانس ہی ان مہاجرین کو پناہ دے۔ دوسری طرف نہ ہی فرانس اِن مہاجرین کو رکھنا چاہتا تھا اور نہ ہی مہاجرین، فرانس کے حالات کی وجہ سے، فرانس میں رہنا چاہتے تھے۔
اس صورتحال کی وجہ سے یہ چند ہزار مہاجرین، فرانس اور برطانیہ کے درمیان انگلش چینل کی پورٹ کالے (کالایئس) کے کناروں پر خیمہ زن ہو گئے۔ جونہی ان کو موقع ملتا وہ ہر قسم کی ٹرانسپورٹ مثلاً مال بردار ٹرکوں، ٹرینوں، بسوں وغیرہ میں چھپ کر انگلش چینل پار کرنے کی کوشش کرتے۔ ان میں سے اکثر پکڑے بھی جاتے۔ فرانس کی سرحدی پولیس اور کسٹم والے اپنی آنکھیں بند رکھنے کی کوشش کرتے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ سمگل ہو کر برطانیہ چلے جائیں اور یوں مہاجرین کی بلا ان کے سر سے ٹل جائے۔ دوسری طرف برطانیہ کے حکام کی کوشش تھی کہ مہاجرین برطانیہ میں نہ گھسنے پائیں۔ یوں زیادہ تر مہاجرین کالے (کالایئس) کی بندرگاہ ہی میں پھنس کر رہ گئے۔ چونکہ یہ مہاجرین فرانس کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھے لہٰذا فرانس ان کو کوئی امداد بھی نہیں دیتا تھا۔ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی تھی مگر فرانس اور برطانیہ دونوں اس چارٹر کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ جب مہاجرین کے مسائل خطرناک حد تک بڑھنے لگے تومیڈیا میں آنے والی خبروں کی وجہ سے فلاحی تنظیمیں مہاجرین کی مدد کے لئے میدان میں اتر آئیں۔ ان میں زیادہ تر تعداد برطانوی اور سکینڈے نیوین تنظیموں کی تھی۔ ایک ایسی ہی تنظیم آئی یو ایس

 

جس کے لئے میں عموماً رضاکارانہ طور پر کام کرتا رہاہوں، کے روحِ رواںسید موسیٰ نقوی نے مجھ سے ملاقات کی اور مہاجرین کی صورتحال بیان کی اور مشورہ کیا کہ وہ دیگر ممالک میں جا کر تارکین وطن کے لئے کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تنظیم کے پاس فنڈز کی کمی نہیں تھی۔ مگر یہ پہلی بار تھا کہ ہم اپنے شہر ہی نہیں ملک سے باہر کسی کی مدد کرنے جا رہے تھے۔ یوں چند ہی روز میں تمام پروگرام فائنل کر دیا گیا۔اسی تنظیم کے ذریعے فرانس میں پہلے سے موجود تنظیموں سے رابطہ کیا گیا جن کو سامان سے زیادہ مالی اور افرادی قوت کی ضرورت تھی تاکہ اشیاء مہاجرین تک پہنچائی جا سکیں۔ ہم نے ایک بس کا انتظام کیا اور لگ بھگ پچاس افراد کو لے کر فرانس کے شہر کالے پہنچ گئے۔ یاد رہے کہ تمام رضاکاروں نے فرانس جانے اور آنے کے سارے اخراجات اپنی جیب سے کئے۔ ہم نے نہ صرف تمام حالات کی رپورٹ تیار کی جو کہ برطانوی تنظیموں کی رہنمائی کے لئے ضروری تھی بلکہ مالی مدد بھی کی۔ ہمارے پچاس رضاکاروں نے چند گھنٹوں میں بڑی حد تک صدقات میں آنے والے مال کو نہ صرف پیک کیا بلکہ ویئر ہاؤس مال کو ترسیل کے لئے بخوبی منظم کر دیا۔


لیسبوس، یونان
یونان میں بھی دنیا بھر سے آئے ہوئے تارکینِ وطن مختلف تکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور تھے۔ اِسی اثناء میں عرب مہاجرین کو لانے والی ایک بوٹ سمندر میں ڈوب گئی اور اس پر سوارتقریباً تمام لوگ ڈوب کر مر گئے۔ ان میں ایک چار سالہ ننھا بچہ ایلان بھی تھا۔ سمندر نے ایلان کی لاش کنارے پر پھینکی تو ایک فوٹوگرافر،جو وہاں موجود تھا، نے اس کی تصاویر بنا کر شائع کیں، جس سے دنیا بھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ اس ننھے ایلان کی لاش نے یورپ کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جرمنی نے سب سے پہلے اپنے بازو مہاجرین کے لئے کھول دئیے ۔مگر دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو یہ بات پسند نہیں آئی اور جرمنی میں مختلف حیلے بہانوں سے نسلی مسائل اور جھگڑوں کو ہوا دی جانے لگی۔ مہاجرین پر لگنے والے الزامات میں سے زیادہ تر جنسی، اور دہشت گردی سے متعلق، تھے۔جلد ہی نسلی منافرت کی یہ ہوا فرانس اور دوسرے یورپی ممالک میں بھی پھیل گئی۔اس سے یہ ہوا کہ مہاجرین کو یورپی ممالک کی سرحدوں پرہی روک دیا گیا اور مہاجرین کسمپرسی کے عالم میں بدترین حالات کا سامنا کرنے لگے۔ کوئی ملک اِن کوداخلے کی اجازت نہیں دینا چاہتا تھالہٰذا مہاجرین کے مسائل گھمبیر سے گھمبیر تر ہوتے چلے گئے۔شام میں اسرائیلی اور مغربی افواج کی وحشیانہ بمباری کی وجہ سے شامیوں نے ہجرت اختیار کی۔ علاوہ ازیں داعش کی حمایت یافتہ باغی افواج کی شامی فوج کے ہاتھوں شکست نے بھی باغی علاقوںمیں رہنے والے شامیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا۔ یوں شام کے مہاجرین شام کے شمالی شہرایلپو سے گزر کر ترکی کے بارڈر پر جمع ہو گئے جہاں سے ترک سمگلرز بھاری رقوم لے کر ان کو یونان میں داخل کرنے کی کوششیں کرتے۔
ترکی اور یونان کے سرحدی جزیرے لیسبوس سے لگنے والا سمندر ایجیئن سی
(Aegean Sea)
اِس جگہ پر زیادہ بڑا نہیں ہے اور فقط چند میل دور ہے مگر یہ سمندر اپنے اندر زبردست تَلاطُم یعنی انڈر کرنٹس رکھتا ہے۔ پلاسٹک یا لکڑی سے بنی بوٹس جو کہ اپنی صلاحیت سے دوگُنا یا تین گُنا مسافروں کے بوجھ تلے دبی ہوتی ہیں، زبردست ہچکولے لیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے مسافر ایک دوسرے پر ایسے گرتے کہ اُن کا سارا وزن ایک طرف ہو جاتا ہے اور یوں یہ بوٹ الٹ جاتی ہے۔تیراکی نہ جاننے اور لائف جیکٹس نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ ڈوب کر مر جاتے ہیں۔ بروقت اطلاع مل جانے پر چند ایک کو کوسٹ گارڈ بچا لیتی ہے۔
ہماری تنظیم نے فیصلہ کیا کہ یونان کے جزیرے لیسبوس میں اترنے والے مہاجرین کی مدد کی جائے۔ چنانچہ ہم ایک ڈاکٹر کے ہمراہ لیسبوس کے شہر متلینی
(Mytilini)
پہنچے۔ وہاں لندن سے آنے والی دو رضاکار عربی خواتین بھی ہمارے ساتھ ہو لیں۔ عربی بولنے کی وجہ سے ان خواتین نے مہاجرین کے لئے زبردست خدمات انجام دیں اوریوںمہاجرین کے بیشمار مسائل حل کئے گئے۔ باوجود اس کے کہ یونانی حکام اِن مہاجرین کی پوری طرح مدد کرنا چاہتے تھے مگر لاجسٹکس کی کمی اور زبان کے مسائل اُن کے آڑے آتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے مسائل و خدشات کی وجہ سے مہاجرین کی مدد تقریباً ناممکن ہو گئی تھی۔


زیادہ تر رضا کار مہاجرین کی جانیں بچانے میں لگے ہوئے تھے۔ وہ ساری ساری رات سخت سردی میں سمندر کے کنارے آگ جلا کرگرم سوپ، گرمی اور طاقت دینے والی خوراک بناتے، دوربینوں سے سمندر میں بوٹس تلاش کرتے، وائرلیس پر لینڈنگ کی اطلاع کرتے تاکہ سب مدد کے لئے اکٹھے ہو سکیں۔ بوٹس ڈوبنے کی وجہ سے مسائل بہت بڑھ جاتے۔ ان تمام کاموں میں کسی حکومت کی کوئی اخلاقی، سرکاری یا مالی مدد ہرگز شامل نہیں تھی۔ یہ سب انسانیت کے لئے اپنے اپنے اخراجات پر مختلف ممالک سے یہاں آئے تھے تاکہ ان مہاجرین کی مدد کی جائے جن کو کوئی پناہ دینے والا نہیں تھا۔ ان مہاجرین کو اونچی جالی کی دیواروں والی اوپن جیل میں رکھا جا رہا تھا۔ جس خوش نصیب کے کاغذات بن جاتے وہ مین لینڈ یونان چلا جاتا تاکہ وہاں سے کسی طرح مغربی یورپ کے کسی ملک میں جا کر آباد ہو سکے۔ہم نے اپنی تنظیم کی طرف سے نہ صرف لُٹے پُٹے بے یار و مددگار مہاجرین کے لئے کھلے دل سے مالی امداد کی بلکہ ان کے ذاتی اور قانونی معاملات سے لے کر سفری دستاویزات بنوانے اور مین لینڈ جانے کے لئے ٹکٹ وغیرہ بھی مہیا کئے۔


ہم نے کوشش کی کہ جس کسی کی مدد کریں وہ بغیر کسی رنگ و نسل، قومیت اور فرقے کے ہو اور بھرپور انداز میں مدد ہو۔ ان میں سے ایک میاں بیوی اور ان کا چند سال کا بیٹا تھا۔ ان کو اوپن جیل سے نکلوا کر متلینی شہر لانا اچھا کھانا کھلانا، ہوٹل میں ٹھہرانا، اور بحری جہازپر سوار کرکے مین لینڈ روانہ کرنا تھا۔ ان کو اتنی رقم مہیا کی کہ وہ ہالینڈ میں اپنے عزیزوں سے جا ملیں۔ زیادہ تر مہاجرین یونان سے مشرقی یورپ اور وہاں سے مغربی یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے۔ مشرقی یورپ کے ممالک کوشش کرتے کہ مہاجرین ان کے ملک سے نہ گزریں کیونکہ اگر دوسرے ممالک اپنی سرحدیں بند کر دیں تو یہ مہاجرین ان غریب ممالک کی ذمّہ داری بن جاتے اور اکثر اوقات ایسا ہی ہوتا۔ جونہی مغربی یورپ کے ممالک نے دہشت گردی اور جرائم جیسے مسائل کو اچھالا اور حیلے بہانوںسے اپنے بارڈر بند کئے تقریباً سبھی مہاجرین بارڈر پر خاردار تاروں کے بیچوں بیچ نومینز لینڈ
(No Man's Land)
میں پھنس کر رہ گئے۔ نہ آگے والے اور نہ ہی پیچھے والے ان کو اپنانے کو تیار تھے۔ اس سے انسانی المیوں نے جنم لیا اور یورپ کی خوب بدنامی ہوئی۔ یہ تو بھلا ہو ایلان کا کہ جس نے مر کر پوری دنیا کا عموماً اور یورپ کا خصوصاً ضمیر جھنجوڑ کر رکھ دیا اور مغربی یورپ کو اپنے دروازے کھولنے ہی پڑے۔ شام میں مسلسل جنگ کی وجہ سے ترکِ وطن کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہجرت پر مجبور تھی۔ مگرجو عیسائی اور یہودی مہاجرین امریکہ اور یورپ میںکسی طرح پہنچ گئے ، اُ نہوں نے بآسانی پناہ حاصل کر لی۔ زیادہ مشکلات و مصائب مسلمانوں کے حصے میں آئے، چاہے وہ کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ کینیڈا واحد ملک ہے جس نے بلا امتیازِ نسل و مذہب شامیوں کو پناہ دی۔ انگلینڈ نے پانچ ہزار مہاجرین لینے کا وعدہ کیا مگر ہر سال تھوڑے تھوڑے کر کے۔ تب تک ان کا کیا بنے گا اور وہ کس حالت میں رہیں گے، یہ معلوم نہیں۔ فرانس نے بھی بالآخر کالائیس کا کیمپ خالی کروا لیا ہے اور یہ مہاجرین نہ چاہتے ہوئے بھی پیرس اور دوسرے مضافات میں ٹینٹوں کے اندر اس وقت تک رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں جب تک کہ فرانس ان کے رہنے کے انتظامات نہیں کر لیتا۔ کلائیس کے جنگل کو اس لئے ختم کیا کہ ایک تو وہاں بیماریاں پھیلنے لگی تھیں، دوسرا ان پر برطانیہ کا دباؤ تھا اور تیسرا یہ ان کے لئے باعثِ شرمندگی تھا چونکہ فلاحی تنظیمیں اور میڈیا اِس بات کو خوب اُچھالتا رہتا تھا۔ اب یہ مہاجرین پھیل گئے ہیں اور بات دب گئی ہے۔


پاکستان میں آنے والے افغان مہاجرین
1979 میں افغانستان میں ہونے والی سوویت یونین کی براہ راست فوجی مداخلت نے زبردستی پاکستان کو اس جنگ کاحصہ بنا دیا۔ پاکستانیوں کو افغانیوں سے یہ محبت اس طرح مہنگی پڑی کہ پاکستان اتنے زیادہ مہاجرین کو نہ پناہ دینے کی صلاحیت رکھتا تھا اور نہ یورپ کی طرح سکیورٹی سکریننگ کر سکتا تھا۔ اقوام متحدہ کی امداد بھی بہت دیر بعد شروع ہوئی۔ چنانچہ پاکستان اس جنگ میں فریق بنتا چلا گیا۔ مغرب نے پاکستان کو سوویت یونین کی یلغار سے ڈرا رکھا تھا۔
بہرحال، پاکستان آنے والے مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد شاید پہلے کسی اور ملک نہیں گئی تھی۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی بانہیں کھول کر مہاجرین کو گلے لگایا بلکہ سنتِ رسولۖ کے مطابق بھائی کی طرح سلوک کیا۔ مہاجرین نہ صرف پورے پاکستان میں پھیل گئے بلکہ پاکستانی معاشرے کا پوری طرح حصہ بن گئے۔ باوجود اس کے کہ چھتیس سال بعد افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد واپس افغانستان بھیجی جا چکی ہے مگر افغانستان کے بُرے حالات کی وجہ سے یہ افغان چھپ چھپا کر بارڈر کراس کر کے واپس پاکستان آ جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اب بھی لگ بھگ پچاس لاکھ غیر ملکی مہاجرین آباد ہیں، جن میں دیگر ممالک کے علاوہ بڑی تعداد غیر قانونی طور پر رہائش پذیر بنگالی اور افغانی مہاجرین کی ہے۔ سرکاری طور پر باقی رہ جانے والے مہاجرین، جو کہ اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی ہیں، کی تعداد گیارہ لاکھ بتائی جاتی ہے۔
روہنگیا مسلمان مہاجرین کا مسئلہ بھی کافی پریشان کُن ہے۔ دیکھا جائے تو یہاں بھی دنیا نے مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کی دل جوئی نہیں کی اور برماکے مظالم پر اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ فلسطین کی پوری آبادی ہی بے گھر ہو کر رہ گئی ہے۔ انسانی ہمدردی کے اِس معاملے میں پاکستان کی مہاجرین کے لئے خدمات نہ صرف قابلِ رشک ہیں بلکہ دنیا میں شایدہی کوئی دوسرا ملک اتنی طویل المدتی اور کثیر الاعداد مہمانداری کرتا ہو۔لیکن اب بین الاقوامی اداروں کو بہرکیف افغانستان کے مہاجرین کو واپس ان کے ملک بھجوانے کے لئے پاکستان کی معاونت کرنا ہو گی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کے لئے مشکلات اور چیلنجز میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ لہٰذا ان مہاجرین کی فوری واپسی کا کوئی حل تلاش کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

او دیس سے آنے والے بتا!

او دیس سے آنے والے، بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن؟
آوارئہ غربت کو بھی سنا، کس رنگ میں ہیں کنعانِ وطن
وہ باغِ وطن، فردوسِ وطن وہ سروِ وطن، ریحانِ وطن
او دیس سے آنے والے بتا!

کیا اب بھی وطن میں ویسے ہی سرمست نظارے ہوتے ہیں
کیا اب بھی سہانی راتوں کو وہ چاند ستارے ہوتے ہیں
ہم کھیل جو کھیلا کرتے تھے، کیا اب بھی وہ سارے ہوتے ہیں
او دیس سے آنے والا بتا!

شاداب شگفتہ پھولوں سے معمور ہیں گلزار اب، کہ نہیں؟
بازار میں مالن لاتی ہے، پھولوں کے گندھے ہاراب، کہ نہیں؟
اور شوق سے ٹوٹے پڑتے ہیں، نوعمر خریدار، اب ، کہ نہیں؟
او دیس سے آنے والے بتا!

کیا ابھی کسی کے سینے میں باقی ہے ہماری چاہ بتا؟
کیا یاد ہمیں بھی کرتا ہے اب یاروں میں کوئی، آہ ! بتا؟
او دیس سے آنے والے بتا، ﷲ بتا، ﷲ بتا
او دیس سے آنے والے بتا!
معروف شاعر اختر شیرانی مرحوم کی نظم 'او دیس سے آنے والے بتا' سے اقتباس

*****

 
Read 340 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter