ہمارے داخلی و جارجہ پالیسی چیلنجز

Published in Hilal Urdu

تحریر: سلمان عابد

کسی بھی ریاست کے قومی سکیورٹی بحران یا اس کو درپیش چیلنج کو سمجھنا ہو تو ہمیں ریاست کے مجموعی نظام کو سمجھنا ہوگا کہ یہ ریاستی نظام کیسے چل رہا ہے۔ کیونکہ قومی سکیورٹی کے بحران کا حل کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں ہوگا۔ بنیادی غلطی جو کی جاتی ہے وہ معاملات کو یکطرفہ نظر سے دیکھ کر حکمت عملی کو تیار کرنا ہوتا ہے۔ ایک دلیل دی جاتی ہے کہ اگر ہمیں سکیورٹی کے بحران کو سمجھنا ہے تو پہلے داخلی بحران کا احاطہ کرنا ہوگاکیونکہ داخلی کمزوریاں ہی خارجی کمزوریوں کو پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ لیکن ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم داخلی مسائل کو نظر انداز کرکے خارجی مسائل یا قومی سکیورٹی کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو مؤثر حکمت عملی نہیں۔مسئلہ معاملات کے فہم کا ہوتا ہے اور ان معاملات میں ہمیں جذباتی رنگ

اختیار کرنے کے بجائے عقل و دانش کے ساتھ مسئلے کو سمجھنا ہوتا ہے، تاکہ مستقبل کی طرف ایک مؤثر اور بہتر پیش قدمی کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

hamaredakhliokharji.jpg
پاکستان اس وقت داخلی اور خارجی سطح پر کئی طرح کے سنگین نوعیت پر مبنی مسائل کا شکار ہے۔کچھ مسائل کا تعلق خارجی نوعیت سے ہے جن میں ہماری غلطیوں سمیت کچھ ممالک کی پالیسیاں بھی جڑی ہوئی ہیں لیکن زیادہ مسائل براہ راست ہمارے داخلی مسائل یعنی ہماری ریاستی و حکومتی نالائقی، نااہلی، بدعنوانی اور کمزور سیاسی کمٹمنٹ سے جڑے ہوئے ہیں۔عمومی طور پر یہ دلیل خود اپنے اندر وزن رکھتی ہے کہ اگر کوئی ریاست یا نظام اپنے داخلی مسائل کو قابو نہیں کر پاتا تو اسے خارجی محاذ پر زیادہ سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس لئے جب یہ منطق دی جاتی ہے کہ ہمیں بطور ریاست یا ملک خارجی سطح کے مسائل کا سامنا ہے تو اس امر کا بھی گہرائی سے تجزیہ کیا جانا چاہئے کہ ان خارجی معاملات یا مسائل میں ہمارے کون سے داخلی مسائل رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔


یہ دلیل کافی حد تک محض جذباتیت پر مبنی ہوتی ہے کہ ہمارے مسائل کی وجہ محض خارجی مسائل ہیں یا کچھ ہمارے دشمن ممالک ہمیں ہر سطح پر کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتے ہیں۔ ہر ملک کا اپنا ایک ایجنڈا ہوتا ہے اور اس ایجنڈے یا اپنے مفادات کو بنیاد بنا کر وہ اپنے داخلی اور خارجی عمل کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہاں ہمیں اپنے قومی مفادات کے معاملات کو سمجھنے کا فہم ہونا چاہئے کیونکہ جب تک ہم اپنے داخلی معاملات کے فہم کا درست طور پر ادارک نہیں کریں گے، ہم انتشار اور عدم استحکام کی سیاست سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔بھارت، افغانستان،امریکہ یا کوئی اور ملک جو ہمیں عالمی سطح پر کمزور یا تنہا کرنے کی کوشش کررہا ہے اس سے ہم کیسے نمٹیں، یہ فہم بطور ریاست، حکومت، معاشرہ یا قوم ہمیں درکار ہے۔


اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ جو داخلی اور خارجی مسائل ہمیں درپیش ہیں اس سے ہم کیسے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ اگر ہم مسائل سے نمٹنے کے لئے درست سمت کا تعین ہی نہ کرسکیں تو پھر نتائج بھی ایسے ہی نکلیں گے جو ہمیں مزید مسائل میں الجھا دیں گے یا ہمیں کمزور کرنے کا سبب بنیں گے۔اس میں سب سے اہم اور بڑا کردار ہماری سیاسی قیادت کا ہوتا ہے کیونکہ سیاسی قیادت ہی بنیادی طور پر ایک ایسی سمت کی نہ صرف نشاندہی کرتی ہے بلکہ اس کی قیادت کرتی ہے جو قومی معاملات کی درست عکاسی کرتی ہو۔لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہماری داخلی سیاست اور قیادت سمیت اس سے وابستہ افراد او رادارے قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتیات پر مبنی سیاست اور فیصلوں کو تقویت دے رہے ہیں۔جب سیاست قومی مفاد سے نکل کر ذاتی مفاد میں چلی جاتی ہے تو پھر اس کا فائدہ خارجی سطح پر موجود ممالک کو ہوتا ہے جو ہماری کمزوریوں او رناکامیوں کو بنیاد بنا کر اپنے ایجنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔


پاکستان کو اس وقت داخلی اور خارجی محاذ پر چند بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اول انتہا پسندی اوردہشت گردی سے نمٹنا۔ دوئم اتفاقِ رائے پر مبنی داخلہ اور خارجہ پالیسی، سوئم سول ملٹری تعلقات میں موجود بداعتمادی،چہارم حکمرانی کا بحران، پنجم معاشی بدحالی جو لوگوں کو تقسیم یا محروم کرنے کا سبب بن رہی ہے، ششم اداروں اور قانون کی حکمرانی کا کمزور نظام،ہفتم کمزور سیاسی نظام، ہشتم شفافیت، احتساب کا فقدان جیسے چیلنج سرِ فہرست ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہماری قومی سیاست ان حساس اور سنجیدہ نوعیت کے مسائل پر غور و فکر کرنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے غیر ضروری مباحث کا حصہ بن گئی ہے جو ہمیں حل سے زیادہ بگاڑ کی طرف لے جاتی ہے۔
داخلی اور خارجی بحران کا حل ایک بڑے قومی ایجنڈے سے جڑا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں سیاسی جماعتیں، سیاسی قیادتیں اور اہل دانش سمیت مختلف فریق آپس میں الزام تراشیوں پر مبنی سیاست میں جکڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کوئی کسی کی سیاسی حیثیت،حکومت کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور محاذ آرائی کا یہ عمل ہم میں کسی بڑے اتفاق رائے کو پیدا کرنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔لوگوں کو مضبوط او رمستحکم بنانے کے لئے ہماری حکومتیں اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ دنیا بھر میںمقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرنے والے مقامی حکومتوں کے نظام کوپاکستان میں اپاہج نظام کی طرز پر چلایا جا رہا ہے۔یہ عمل ہماری حکمرانی کے بحران کو اور زیادہ سنگین کرتا ہے او رلوگ زیادہ بے بس نظر آتے ہیں۔ہمارے سیاسی، انتظامی اور قانونی نظام سمیت حکمرانی کے نظام پر جن اداروں نے نظام کو چلانا ہوتا ہے اس پر اعلیٰ عدلیہ کے ججزبھی ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ یہاں ادارے فعال نہیں او رجو مسائل سامنے آرہے ہیں اس کی وجہ اداروں کی غیر فعالیت اور ان کی عدم مختاری ہے۔


جہاں تک خارجی سطح کے مسائل کا تعلق ہے اس میں بھارت، افغانستان، ایران او رامریکہ کی جانب سے ہمیں جو سنگین مسائل دیکھنے کو مل رہے ہیں اس پر بھی قومی اتفاق رائے اشد ضروری ہے، اس کا فقدان ہے۔ہماری سیاسی قیادت کے درمیان جاری محاذ آرائی خود ان خارجی سطح کے معاملات کو خراب کرنے کا سبب بن رہی ہے۔سفارت کاری کے محاذ پر ہم اپنا مقدمہ عالمی دنیا میں اس انداز سے پیش نہیں کرسکے جو ہماری قومی ضرورت کے زمرے میں آتا ہو۔ ہمارے اپنے اندر ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو عملی طور پر وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو دیگر ممالک ہم پر الزامات لگاتے ہیں۔ یہ مسئلہ سمجھنا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ ہم عالمی دنیا میں دہشت گردی سے نمٹنے میں ایک بڑے کردار کے ساتھ کام کررہے ہیں، لیکن ہم پر ہی انگلیاں اٹھائی جارہی ہیں۔آج کی گلوبل دنیا میں ہر محاذ پر ڈپلومیسی کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کرریاستی او رحکومتی نظام اس پر بڑی سرمایہ کاری کرتا ہے، تاکہ وہ اپنے بیانیے کو دنیا کے سامنے زیادہ بہتر اور مربوط انداز میں پیش کرکے ریاستی ساکھ کو بہتر بنا سکے۔


یہ سوچ بھی ہمیں داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر ختم کرنا ہوگی کہ پاکستان میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مختلف امور پر خلیج یا بداعتمادی پائی جاتی ہے۔ اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور اب وقت ہے کہ ہم سول ملٹری تعلقات کو مؤثر اور فعال کرنے سمیت اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کے لئے نیشنل سکیورٹی کونسل جیسے ادارے پر اتفاق کریں۔ کیونکہ جس طرز کے ہمیں خارجی مسائل، اور دیگر ممالک سے تعلقات، یا ان کی مداخلتوں کے حوالے سے مسائل کا سامنا ہے وہ ایک آواز اور اتفاق رائے یا مشترکہ سوچ و حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس وقت بھارت اور افغانستان کی خفیہ انٹیلی جینس ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر پاکستان دشمنی یا ہمیں کمزور کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے، اس کے آگے بند باندھنا ہوگا۔بھارت ایک سے زیادہ مرتبہ پاکستان کو کمزور کرنے او رسی پیک منصوبے کو کمزور کرنے کا اعتراف کرچکا ہے، اس کھیل میں اسے افغانستان اور دوسرے ممالک کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔افغانستان کو ہمیں اپنے قریب لانا ہوگا او رایسی پالیسی سے گریز کرنا ہوگا جو افغانستان کو بھارت کے قریب لے جائے۔اسی طرح ہمیں خود آگے بڑھ کر علاقائی تعلقات میں اپنے دائرہ کار کو بڑھانا ہوگا، اور علاقائی ممالک کو یہ باور کروانا ہوگا کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی سے نمٹنا کسی ایک ریاست کے بس کی بات نہیں، اس میں مشترکہ حکمت عملی اور میکنزم بناکر ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگاکیونکہ خارجہ پالیسی میں دشمن بنانے کے بجائے دوست بنانے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مستیِٔ کردار
صوفی کی طریقت میں فقط مستیِ احوال
مُلّا کی شریعت میں فقط مستیِ گفتار
شاعر کی نوا مُردہ و افسردہ و بے ذوق
افکار میں سرمست، نہ خوابیدہ نہ بیدار
وہ مردِ مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کے رگ و پَے میں فقط ومستیِ کردار


ہمارے یہاں جومعاشرے کو مختلف امور پر تقسیم کرنے کا کھیل جاری ہے اس کو بھی ہمیں زیادہ گہرائی سے سمجھنا ہوگاکیونکہ معاشرے میں حد سے بڑھتی ہوئی تقسیم اور تضادات قوم کو یکجا کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔یہاں یہ مسئلہ نہیں کہ کون ملک کا وفادار ہے او رکون غدار، ہمیں اس طرح کی بحثوں میں الجھنے کے بجائے ایک بڑے قومی ایجنڈے کی تشکیل نو کرنی چاہئے۔لیکن اس کے لئے سب فریقین کو ایک دوسرے کے ادارے کی افادیت کو تسلیم کرکے آگے بڑھنا ہو گااور سکیورٹی مسائل پر سکیورٹی اداروں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی سے بھی ہمارے مسائل حل نہیں ہوںگے۔ اس وقت سیاست اور سیاست کے علاوہ مقابلہ بازی کی پالیسی ہے وہ کسی بھی طرح قومی مفاد میں نہیں ہے۔ آج جو دنیا میں سکیورٹی بحران ہے، اور گلوبل دنیا اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کررہی ہے، اس میں سکیورٹی اداروں کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے لیکن اگر ہم ان سکیورٹی اداروں کو تنقید کرکے آگے بڑھیںگے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔


پاکستان اس وقت مسائل او رامکانات کے درمیان کھڑا ہے۔ یہ نہیں کہ جو مسائل ہمیں داخلی اور خارجی سطح پر ہیں ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے، بلکہ اصل مسئلہ ہماری مضبوط سیاسی کمٹمنٹ، مشاورت پر مبنی فیصلوں، حکمت عملیوں اور مختلف فریقین کو یکجا کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ ہمیں قومی مفاد کو مقدم رکھ کر ہی آگے بڑھنا ہوگا۔ یہ جو غیر معمولی صورتحال ہوتی ہے اس میں فیصلے بھی غیر معمولی، مشکل اور کڑوے ہوتے ہیں، لیکن ان کو نظرانداز کرکے ہم بہتر نتائج بھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ ریاست کو مضبوط او رمستحکم کرنے کا جو سیاسی، سماجی، معاشی اور انصاف پر مبنی بیانیہ ہمیں درکار ہے، اسی کی طرف پیش رفت ہونی چاہئے۔ یہ سمجھنا کہ جس انداز سے ہم ریاست و حکومت کا موجودہ نظام چلارہے ہیں اس سے ہم اپنے داخلی اور خارجی بحران سے نمٹ سکیں گے،درست اندازِ فکر نہیں ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جو ہم نے بیس نکات پر مبنی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا ہوا ہے، اس کو قومی نصاب کا درجہ ملنا چاہئے کیونکہ محض اس کا علاج انتظامی اقدامات سے نہیں ہوگا بلکہ قوم کی فکری بنیادوں پر بھی شعور کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا۔اس نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک مربوط پالیسی اور نگرانی کا نظام درکار ہے۔


اب وقت ہے کہ پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل کو بنیاد بنا کر ہم اپنے تمام تر معاملات کو نئے سرے سے جانچیں، سمجھیں، پرکھیں اور پھر ایک نئی سمت کا تعین کریں کہ ہمیں کیسے آگے بڑھنا ہے۔ لیکن یہ کام ایک مضبوط سیاسی نظام کے ساتھ جڑا ہوا ہے کیونکہ جب قیادت خود معاملات کو لیڈ کرتی نظر نہیں آئے گی تو قوم بھی تقسیم ہوگی اور ملک کے معاملات کو بھی نقصان ہوگا۔

مصنف ملک کے معروف تجزیہ نگار او رکالم نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں دہشت گردی سمیت پانچ کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 91 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter