شہید کا مقام

Published in Hilal Urdu

تحریر: شوکت نثار سلیمی

میں نے اس نوجوان سے کہا میں نے بیٹے کو پاکستان کے پرچم میں لپٹے ہوئے تابوت میں وصول کر لیا، یہ کہتے ہوئے میری رگوں میں دوڑنے والا خون جم سا گیا۔ یہ لمحات کتنے جاں گسل ہوتے ہیں جب شہادت کے بعد جوان بیٹوں کو والدین کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ایسے جان گداز وقت میں تو شاید فلک بھی ترساں و خیزاں ہوتا ہو گا۔

shaheed_kamuqam.jpg

میرے اکلوتے بیٹے کیپٹن ڈاکٹر اسامہ شہید کا پہلے سکردو، پھر 16دسمبر 2015 کو راولپنڈی میں اور پھر17دسمبر 2015 کو فیصل آباد میں گارڈ آف آنر اور جنازہ ہو چکا تو فوجی وردی میں ملبوس ایک نوجوان آفیسر نے آگے بڑھ کر کچھ کاغذات میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا کہ سر ان پر دستخط کر دیجئے۔ میں نے پوچھا اس میں کیا ہے؟ کہنے لگا! یہ آپ کے شہید بیٹے کا بکس ہے جس میں پاکستان آرمی کی وردی میں ملبوس تصویر، کیپٹن کے کندھوں پر سجنے والے ستارے، ٹوپی، میڈیکل کور کی چھڑی اور دیگر لوازمات ہیں۔ سر! یہ اس بات کی گواہی ہو گی کہ آپ نے اپنے شہید بیٹے کا جسد خاکی ہم سے وصول کر لیا ہے۔ یہ سن کر میں تحیر میں ڈوب گیا اور فکر و اندوہ کے پاتال میں اتر کر سوچتا رہ گیا کہ جس بیٹے کی ابھی جوانی کا سفر شروع ہوا تھا، جس کی عمر 26سال اور مدت ملازمت فقط اڑھائی سال تھی اور جس کی پیشانی پر سہرے کی صورت میں ابھی خوشیوں کا جھومر سجنا تھا وہ اتنی جلدی ہمیں چھوڑ گیا۔
روئے گُل سیرِ ندیدم و بہار آخر شد
(ہم نے جی بھر کے پھول کے چہرے کو دیکھا بھی نہیں تھا کہ بہار ختم ہو گئی۔)
میں نے اس نوجوان سے کہا میں نے بیٹے کو پاکستان کے پرچم میں لپٹے ہوئے تابوت میں وصول کر لیا، یہ کہتے ہوئے میری رگوں میں دوڑنے والا خون جم سا گیا۔ یہ لمحات کتنے جاں گسل ہوتے ہیں جب شہادت کے بعد جوان بیٹوں کو والدین کے حوالے کیا جاتا ہے۔ ایسے جان گداز وقت میں تو شاید فلک بھی ترساں و خیزاں ہوتا ہو گا۔ ابھی تو کل کی بات لگتی ہے جب اسلام آباد میں اسامہ نے اپنے تعلیمی مدارج طے کئے تھے، ایسے لگتا ہے ابھی وہ آرمی میڈیکل کالج کی ڈیبیٹنگ ٹیم کے ممبر کی حیثیت سے کسی تقریری مقابلے میں شریک ہے۔ جیسے وہ چند دوستوں کے ساتھ قاسم کمپنی کے کیفے ٹیریا میں کسی علمی و ادبی بحث میں مصروف ہے۔ پتہ ہی نہیں چلا کب اس نے ایم بی بی ایس کر لیا اور کیپٹن کے ستارے وردی کی زینت بنا لئے۔ ایسے لگ رہا تھا ابھی اس کی انگلی پکڑ کر اسے چلنا سکھا رہا ہوں۔ بھاگتے وقت کا احساس اس وقت ہوا جب سرکاری ملازمت سے بیگم اور میری اپنی ریٹائرمنٹ کا وقت آ پہنچا۔ جب ہم نے اسلام آباد کی طویل رفاقت کے بعد بیٹے کے کہنے پر فیصل آباد جانے کا قصد کر لیا اور ایک آشیانہ بھی بنا لیا۔ خبر ہی نہ ہوئی کہ 2015کا سال پلک جھپکتے ہوئے گزر گیا۔ سال کے شروع میں ہمیں فیصل آباد لے آیا اور آٹھ دس مہینے بعد دنیا چھوڑ کر چلا گیا۔ شادی طے ہو رہی تھی کہ سہرے کے پھول اس کی تربت کی زینت بن گئے۔ دسمبر کے مہینے میں شاخوں کے دامن پھولوں سے خالی ہوتے ہیں مگر یہ کیسے ہوا کہ اس کی تربت پر پھولوں کے ڈھیر لگ گئے۔
شہید بیٹے نے 15دسمبر 2015 کو جان نثاری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے سیاچن محاذ پر شہادت کو گلے لگا لیا اور وردی کی حرمت پر قربان ہو گیا۔ وہ اب یہاں نہیں مگر میری خون روتی خراب آنکھیں اس کا راستہ تک رہی ہیں۔
یہ فقط ایک مثال ہے بے شمار ایسے خاندان ہیں جن کے فرزند وطنِ عزیز پر اپنی جان وار گئے یہ ملکی سلامتی کا تقاضا بھی ہے اور دین مبین کی سربلندی کے لئے کٹ مرنے کا شوق جنون بھی۔ یہ عشق الہٰی اور جذبہ حب الوطنی کا وہ شعلہ جوالہ ہے جو کبھی سرد نہیں ہوتا۔ وطن عزیز کے خلاف گھنائونی سازشوں میں مصروف اغیار کے مذموم ارادوں کو ناکام بنانے کی غرض سے پاکستان کی افواج ہمہ وقت چوکس ہیں اور اس کے جوان جان ہتھیلی پر رکھ کر ملکی سلامتی کے لئے کمر بستہ رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ شہادت کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
اور اﷲ جسے چاہتا ہے شہادت کے لئے منتخب کر لیتا ہے۔ انسان بسااوقات ناقدرشناسی زمانہ سے دل گرفتہ ہو جاتا ہے لیکن ہمارے حوصلے بلند رکھنے کے لئے اﷲ پاک نے شہید کا بلند مقام بیان کیا ہے۔ سورة البقرہ میں فرمان الہٰی ہے:
ترجمہ: اور جو اﷲ کی راہ میں مارے جائیں اُنہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں ۔
موت کے خیال سے انسان اعصاب شکن تصور کا شکار ہو جاتا ہے اس لئے شہیدوں کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا۔ اس سے جہاد کی روح کے متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ اہلِ ایمان کو یہ بات ذہن نشین کر لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جو خدا کی راہ میں جان دیتا ہے وہ حقیقت میں حیات ابدی پاتا ہے۔ وہ ایک ممتاز حیات کے ساتھ زندہ ہے۔ شہداء اپنے پروردگار کے مقرب ہیںاور وہ اس چیز سے خوش ہیں جو اﷲ تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی یعنی درجات کی بلندی اور اپنا فضل۔
اصل معنی گواہ کے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو اپنے ایمان کی صداقت پر اپنے پورے طرز عمل سے گواہی دے۔ اﷲ کی راہ میں جان قربان کرنے والے کو بھی شہید اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ صدق دل سے جس چیز کو سچا سمجھتا ہے اُسے عزیز رکھتا ہے کہ اس کے لئے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔
بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق نبی کریمۖ نے فرمایا جس کو راہ خدا میں زخم لگا۔ وہ روزقیامت ویسا ہی آئے گا جیسا زخم لگنے کے وقت تھا۔ اس کے خون میں خوشبو مشک کی ہو گی اور رنگ خون کا۔ ترمذی اور نسائی کی بیان کردہ ایک حدیث کے مطابق شہید کو قتل سے تکلیف نہیں ہوتی مگر ایسی جیسے کسی کو خراش لگے۔
شہیدوں کے بدن بھی مٹی کے اندر کسی گزند سے محفوظ رہتے ہیں۔ جنگ بدر کے بعد رسول اﷲۖ صفرا کے مقام سے گزر رہے تھے آپ کے صحابہ نے ماحول کو خوشبو میں رچا پایا تو اﷲ کے نبیۖ سے عرض کی یارسول اﷲۖیہ خوشبو کیسی ہے۔ آپۖ نے فرمایا کہ شہید عبیدہ بن حارث کی روح ہم سب کو خوش آمدید کہہ رہی ہے جو اس جگہ دفن ہیں۔ مسند احمد میں بھی رسول اﷲۖ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جو شخص نیک عمل کر کے دنیا سے رخصت ہوتا ہے اسے اﷲ کے ہاں پُرکیف زندگی میسر آتی ہے۔ جس کے بعد وہ دنیا میں دوبارہ جانے کی تمنا نہیں کرتا لیکن شہید یہ آرزو کرتا ہے کہ بار بار دنیا میں بھیجا جائے اور پھر ہر بار شہید ہو تاکہ اس لذت وسرور سے لطف اندوز ہو سکے جو اسے وقتِ شہادت حاصل ہوتا ہے۔

 
Read 227 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter