ہندوستان کی غیرسفارتی ہتھکنڈوں کی روش

Published in Hilal Urdu

تحریر: محمد کامران خان


گزشتہ کئی ماہ سے بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ہر دوسرے تیسرے دن بھارت کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی جاتی ہے جس سے سرحد سے ملحقہ دیہات میں مقیم معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں۔املاک کو نقصان پہنچتا ہے اور سرحدی گائوں میں رہنے والے جو کہ زیادہ تر غریب کاشتکار ہوتے ہیں ایک ہمہ وقت خوف اور نفسیاتی ہیجان میں مبتلا رہتے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سال 2017میں بھارت کی جانب سے پاکستانی سرحد کی 1800 سے زائد بار خلاف ورزی کی گئی جو کہ دونوں ممالک کی تاریخ میں، ایک سال میں ہونے والی مشترکہ سرحد کی، سب سے زیادہ خلاف ورزیاں ہیں۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 52 شہادتیں ہوئیں اور 175 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں بچے بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں۔خیر یہ تو وہ کارروائیاں ہیں جن کا ہر بار منہ توڑ جواب بھی دے دیا جاتا ہے اور موقع پر ہی حساب پاک کر دیا جاتا ہے۔
یہ کارروائیاں تو دشمن صرف اپنی حدود میں رہتے ہوئے ہی کرتا ہے کیونکہ اسے خود اپنے قدم پاک سر زمین پر رکھنے کی نہ تو جرأت ہے اور نہ ہی صلاحیت لیکن چونکہ نیت میں فتور ہے اور طبیعت میں اوچھا پن، اس لئے ڈھٹائی کی اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ہندوستان اپنے ملک میں آئے ہوئے پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کی شرمناک اور گھٹیا حرکتوں پر اتر آیا ہے۔ گزشتہ ماہ سے نئی دہلی میں قائم پاکستانی سفا رت خانے سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پاکستانی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ کا باہر نکلنا دشوار بنایا جا رہا ہے اور انہیں مختلف اور نت نئے طریقوں کے ذریعے ہراساں کرنے کا کوئی بہانہ انڈیا ہاتھ سے نہیں جانے دے رہا۔ تازہ ترین شکایات کے مطابق پاکستانی سفارتکار جب نئی دہلی میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نکلتے ہیں تو کوئی بھی گاڑی ان کے آگے آ کر راستہ روک لیتی ہے۔نہ خود چلتی ہے اور نہ ہی راستہ دیتی ہے۔ سفارتکار نصف گھنٹے تک اپنی گاڑی میں محبوس رہتے ہیں۔ ایسے میں ان کی اہلیہ بھی ساتھ ہوں اور سکول جانے والے بچے بھی ساتھ ہوں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس اوچھی حرکت سے وہ کس پریشانی میں مبتلا ہو سکتے ہیں، اہلیہ کس مستقل خوف کا شکار ہو سکتی ہیں اور بچے نفسیاتی ٹراما کے مریض بن سکتے ہیں۔ پھر اسی محبوسیت کے دوران دو اور موٹر سائیکل سوار آئیں آپ کی گاڑی کے آگے موٹر سائیکل روکیں۔ ان دونوں سواروں نے ہیلمٹ پہن رکھے ہوں، ان کے چہرے چھپے ہوئے ہوں اور ان میں سے ایک سوار موٹر سائیکل پر بیٹھے بیٹھے آپ کی اور آپ کے بچوں کی وڈیو بنا نا شروع کر دے اور کمال ڈھٹائی کے ساتھ مختلف زاویوں سے تصویریں اتارنا شروع کر دیں تو دیار غیر میں رہتے ہوئے کون ہے جو اس حرکت سے پریشان نہ ہو گا۔پھر تنگ کرنے کے صرف یہی نہیںبلکہ اور بھی کئی بچگانہ اور اوچھے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ آپ کی رہائش گاہ کے صدر دروازے کی گھنٹی کوئی بجا کر بھاگ جائے اور ایسا بار بار ہو تو یقینا یہ سراسیمگی کا موجب ہو گا۔آپ اپنی رہائشگاہ سے نکلیں اور سائے کی طرح آپ کا تعاقب شروع ہو جائے۔آپ سے آنے والے ملاقاتیوں کو بھی ہزیمت اٹھانا پڑے۔ آپ کے مہمانوں کی بغیر کسی شک و شبہ کے تلاشی لی جائے غیر ضروری پوچھ گچھ کی جائے۔ آپ کو موصول ہونے والی ڈاک کو کھول کر دیکھا جائے اور پھر ایسے سر بمہر کر دیاجائے کہ وصول کنندہ کو معلوم نہ ہو سکے۔آپ کے وہ ہندوستانی ملازمین یا خدمت کار جنہیں آپ ضرورت کے تحت کام کے لئے بلانا چاہیں انہیں سروسز دینے سے روک دیا جائے۔بلکہ اتنا ڈرایا جائے کہ وہ کام پر آنے سے ہی انکار کر دیں تاکہ آپ کی ضرورت پوری نہ ہو سکے۔ بغیر کسی شیڈول کے آپ کی گیس سپلائی منقطع کر دی جائے۔ خوف و ہراس کا یہ عالم ہو جائے کہ آپ اپنے بچوں کو سفارتخانے کے ڈرائیور کے ہمراہ بھی سکول بھیجنے سے خوفزدہ ہوجائیں۔ایک واقعے میں تو ایک پاکستانی قونصلرکو گاڑی سے با قاعدہ اتار کر ان کے ساتھ گالم گلوچ کیا گیا۔ان کا موبائل فون وقتی طور پر لے کر ان کو کسی سے رابطہ کرنے سے روکا گیا۔نوبت دست وگریباں ہونے تک پہنچ گئی اور یہ سب کچھ صرف اور صرف بغیر کسی وجہ کے ہراساں کرنے کی غرض سے کیا گیا۔ ان تمام حرکات کا مقصد صرف آپ کو ہراساںکرنا ہو تو یہ تمام ہتھکنڈے سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ 1961 کے ویانا کنونشن، جس پر تمام عالم اقوام نے دستخط کر رکھے ہیں، کے تحت کسی بھی ملک میں غیر ملکی سفیروں کے جان ومال اور عزت و تکریم کے تحفظ کی ذمہ داری میزبان ملک پر عائد ہو تی ہے۔ویانا کنونشن کا آرٹیکل 22کہتا ہے کہ کسی بھی ملک میں غیر ملکی سفارتخانے کو اور آرٹیکل 30 کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں کی رہائشگاہوں کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہو گا نہ تو کبھی ان مقامات کی تلاشی لی جا سکے گی اور نہ ہی یہاں سے کوئی دستاویز قبضے میں لی جا سکتی ہے۔ ویا نا کنونشن کا آرٹیکل 37 بہت واضح ہے جس کے مطابق غیر ملکی سفارتکاروں کے ساتھ مقیم ان کے اہلِ خانہ کو بھی وہی تحفظ حاصل ہو گا جس کے خودسفارتکارحقدار ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ ویا ناکنونشن کے آرٹیکل 24 کے تحت غیر ملکی سفارتکاروں کی خط کتابت اورڈاک کی ترسیل کو بھی تحفظ حاصل ہے۔لیکن بھارت کی جانب سے ہر اوچھی حرکت ان متفقہ عالمی اصولوں کو بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ پائوں تلے روند رہی ہے۔

 

بھارت کی جانب سے ان بچگانہ اور اوچھی حرکات کی شکایات مودی سرکار سے بارہا کی گئی ہے۔پاکستانی ہائی کمشنر یہ معاملہ بھارت کی منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرز کے نوٹس میں بارہا لا چکے ہیں۔ سیکرٹری کی سطح پر باقاعدہ ملاقاتیں

بھی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں موجود بھارتی ہائی کمشنر اور ان کے ڈپٹی کو متعدد بار دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کو ایک باقاعدہ احتجاجی مراسلہ بھی ارسال کیا گیا جس میںواضح کر دیا گیا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستانی سفارتکاروں کے اہل خانہ کا ہندوستان میں رہنا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ شاید ڈھٹائی کی کوئی بھی انتہا نہیں ہوتی۔ پاکستان نے انڈیا میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو صورتحال پر مشاورت کے لئے پاکستان بھی بلوا یا۔ لیکن یہ سطور لکھنے تک بھارت کی جانب سے اوچھے پن کا مظاہرہ جاری ہے اورگزشتہ کئی دنوں سے روزانہ کی بنیاد پر شکایات آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بھارتی اہلکاروں کی جانب سے ایسی اوچھی حرکات کی بہت سی شکایات ملتی رہی ہیں شاید بھارت نے یہ اپنا وتیرہ ہی بنا لیا ہے اور اس اوچھے پن کا مظاہرہ کرنے والی جمہوریہ سے کوئی خیر کی امید بھی نہیں رکھی جا سکتی۔یہ دنیا کی ''بڑی'' جمہوریہ کا چھوٹا پن ہی ہے کہ بھارت میں دستیاب مخصوص طبی سہولیات کے حصول کے لئے پاکستانی مریضوں کو ویزے دینے کا اجراء بھی معطل کر دیا۔یعنی دکھی انسانیت پر بھی سیاست کا موقع نہیں گنوایا جا رہا۔کہا جا رہا ہے جب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان نے پکڑا، قید کیا، اور سزا سنائی ہے تب سے ان چھوٹی اور اوچھی حرکات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ 2016 کے مقابلے میں بھارت نے پاکستانیوں کے لئے ویزے دینے کی شرح اڑتیس فیصد تک کم کر دی جبکہ اسی عرصے میں پاکستان کی جانب سے بھارتی شہریوں کے لئے جاری کردہ ویزوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ میڈیکل بنیاد پر ویزے کے اجراء کے لئے بھارت نے شرط عائد کر دی کہ ایسے پاکستانی کے پاس وزیر خارجہ کا خط ہو گا تو ہی انہیں ویزہ ملے گا ورنہ بیمار مرتا ہے تو بے شک مرے۔یہ تو صرف انسانیت کی بات تھی بھارت نے تو رواں سال مذہب کے نام پر بھی سیاست کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور اجمیر شریف میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے عرس پر جانے والے پاکستانی زائرین کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس سے قبل دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء کی خانقاہ پر جانے والے زائرین کو بھی ویزے کی سہولت سے محروم رکھا گیاجبکہ ان زیارتوں کے لئے ویزوں کا اجراء دو طرفہ مفاہمتی سمجھوتوں کا حصہ ہے۔ یعنی نہ انسانیت نہ مذ ہبی احترام اور نہ ہی انسانی ہمدردی۔بس ہر طرح کی اخلاقی و سفارتی حدود کو بالائے طاق رکھ کر اپنا چھوٹا پن ضرور دکھانا ہے۔

 

 
Read 268 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter