تیئیس مارچ 1940اور آج کا پاکستان

Published in Hilal Urdu

تحریر: طاہرہ حبیب جالب

1937کے الیکشن کے بعد تقریباً پورے ہندوستان پر کانگریس اور متعصب بنیئے کی حکومت قائم تھی۔ مسلم اقلیتی صوبوں میں کانگریسی حکومتوں کے خاتمے پر مسلم لیگ نے قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایت پر 22دسمبر 1939کو ملک کے طول و عرض میں یومِ نجات منایا۔ اس وقت تک برصغیر میں مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کئی تجویزیں اورسکیمیں منظر عام پر آچکی تھیں۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی مجلس عاملہ نے 26 مارچ 1939کو مصطفی محل میرٹھ میں اپنے اجلاس کے دوران قائداعظم کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کی۔ اس کمیٹی کو یہ کام سونپا گیا تھا کہ وہ تمام دستوری تجاویز اور سکیموں کا جائزہ لینے کے بعد مجلس عاملہ کو رپورٹ پیش کرے۔ بعدازاں اتفاق رائے سے لیگ کا سالانہ اجلاس عام 22۔ 23 اور 24مارچ 1940کو منعقد ہونا طے پایا۔ 19مارچ کو خاکساروں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا۔ پولیس سے ان کا تصادم ہوا اور گولی بھی چلی۔ سرکاری حکام کے مطابق پولیس فائرنگ سے82خاکسار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ اجلاس لاہور کے ایک عینی شاہد کے مطابق خاکساروں کے سفاکانہ قتل عام سے لاہور کی فضائیں سوگوار تھیں۔ بدمزگی اور بے کیفی کا یہ عالم تھا کہ لاہور میں وقت کاٹنا دشوار ہوگیا تھا۔ تاہم جب قائداعظم 21مارچ کو فرنٹیئر میل کے ذریعے لاہور پہنچے تو ریلوے اسٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ لوگوں کا جوش قابلِ دید تھا۔ قائدِاعظم زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ساری فضا گونج رہی تھی۔ دوسری طرف خاکسار مسلم لیگ کے اجلاس کے پرامن ماحول اور قائداعظم کی ذات کے لئے خطرے کا باعث بن رہے تھے اور یہ دونوں باتیں یکساں طور پر باعث اضطراب تھیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے اس مخدوش فضا اور نازک صورتحال کے پیشِ نظر سب سے پہلے ہسپتال جاکر زخمی خاکساروں کی عیادت کی۔ قائداعظم محمد علی جناح جب جلسہ گاہ میں پہنچے تو انہوں نے فی البدیہہ تقریر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی تقریر تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔ ان کا لہجہ کبھی سخت ہو جاتا تھا۔ کبھی نرم، کبھی ناقدانہ تو کبھی ہمدردانہ، کبھی گہرا اور انتہائی بارُعب ،تو کبھی بے حد مشفقانہ۔ taeesmarch.jpgان کی شخصیت کا کچھ ایسا اثر، دبدبہ اور رُعب تھا کہ اگرچہ حاضرین جلسہ کی ایک بہت قلیل تعداد کے سوا باقی سب ایسے لوگ تھے جو انگریزی سے قطعاً نابلد تھے، مگر قائداعظم کے سحر سے سب مسحور ہوکر رہ گئے اور ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق لوگوں کو مسخر کئے ہوئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق مسٹر جناح نے برجستہ خطبۂ صدارت ارشاد فرمایا، جو مسلسل ایک سو منٹ تک جاری رہا۔ اس دوران ایک لاکھ سے زیادہ افراد کے اجتماع پر سکوت طاری تھا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے اجتماعات میں یہ سب سے زیادہ نمائندہ اجتماع تھا جو قائداعظم کی خطابت سے مستفید ہوا۔ پنجاب، بنگال اور آسام کے مسلمان (وزراء اور مرکزی و صوبائی اسمبلیوں کے بیشتر مسلم ارکان) اس میں شریک ہوئے۔ اس اجتماع میں خواتین کی کثیر تعداد اور نیشنل گارڈز کی موجودگی بھی قابلِ ذکر تھی۔ قائداعظم نے ہندوئوں اور مسلمانوں کے جداگانہ قومیتی وجود کو حقیقی اور فطری قرار دیتے ہوئے فرمایا: ہندوئوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ اسلام اور ہندوازم مذہب کے عام مفہوم میں ہی نہیں بلکہ واقعی دو جداگانہ اور مختلف اجتماعی نظام ہیں اور یہ محض خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم بن سکیں گے۔ بالآخر وہ وقت آن پہنچا کہ شیرِ بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے تاریخی قرار داد پیش کرنے کے بعد اس کی حمایت میں تقریر بھی کی جس میں انہوں نے بنگال اسمبلی میں اپنی ایک تقریر کا حوالہ بھی دیا اور یہ ثابت کیا کہ فرزندانِ توحید کی آزادی کی صرف یہی ایک صورت ہے۔ چودھری خلیق الزماں نے اس قرار داد کی تائید کی۔ ان کی تائیدی تقریر کے بعد مولانا ظفر علی خاں، سرحد اسمبلی کے حزب اختلاف کے لیڈر سردار اورنگ زیب خاں اور سرعبداللہ ہارون نے تقاریر کیں۔ کم و بیش پورے برصغیر کی مسلمان قیادت نے اس پلیٹ فارم سے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے نئے عزم اور ولولے سے سفر آزادی شروع کرنے کا عہد کیا۔ اس تاریخی جلسے اور قرارداد کو اس لئے بھی اہم مقام حاصل ہے کہ یہ ایک اجتماعی سوچ کا نتیجہ تھا۔ اجتماعی طور پر تمام مسلمان ایک قوت اور ایک تحریک کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ آج پھر وہی دن ہمارے لئے اہمیت اختیار کئے ہوئے ہے۔ اس وقت ملک کو بے شمار اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ چند لمحوں کے لئے تو فطرت انسانی کے عین مطابق مایوسی یا فکر کی ایک لہر ابھرتی ہے مگر دوسرے ہی لمحے پاکستانی قوم کے روایتی جوش و جذبے اور پُرعزم جدوجہد پریقین دَر آتا ہے۔ بلاشبہ ہمارے سامنے آنے ولے چیلنجز ایک حقیقت ہیں اور حقیقتوں کو الفاظ یا نعروں کے زور پر نہ جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ہمیں آج پھر سے تحریک پاکستان کے جذبوں اور یقین کی اشد ضرورت ہے کہ پوری قوم کی منزل ایک ٹھہرے۔ ہمیں آپنے آپس کے اختلافات بھولنے ہوں گے۔ میرٹ اور صلاحیت کو موقع دینا ہو گا۔ تعصبات سے بالاتر ہو کر فیصلے کرنے ہوں گے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں نظم و ضبط لانا ہو گا۔ بلاشبہ ہم قائداعظم کے فرمودات کی روشنی میں اپنے عمل کے ذریعے ہی پاکستان کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لا کھڑا کر سکتے ہیں کہ کردار کے غازیوں نے ہی پاکستان بنایا تھا اور سیرت و کردار کے اعلیٰ مظاہر ہی ہمیں اوج ثریا سے ہمکنار کر دیں گے۔ ان شاء اﷲ!

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
اپنی تنظیم اس طور کیجئے کہ کسی پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ یہی آپ کا واحد اور بہترین تحفظ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی کے خلاف بدخواہی یا عناد رکھیںـ اپنے حقوق اور مفاد کے تحفظ کے لئے وہ طاقت پیدا کرلیجئے کہ آپ اپنی مدافعت کرسکیں۔ (قائدِاعظم ۔اجلاس مسلم لیگ ، لاہور 23 مارچ1940)

میں آپ کو مصروفِ عمل ہونے کی تاکید کرتا ہوں۔کام، کام اور بس کام۔ سکون کی خاطر ، صبر و برداشت اور انکساری کے ساتھ اپنی قوم کی سچی خدمت کرتے جائیں۔ (قائدِاعظم محمد علی جناح)

*****

''جھولی''

کئی دفعہ اﷲ کی طرف سے کوئی چیز انسان پر اُجاگر ہو جاتی ہے اور اﷲ ہمیں معلوم دنیا سے ہٹا کر لامعلوم کی دنیا سے علم عطا کرتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئے انہیں اپنا نصیب بنانے کے لئے، میرے اور آپ کے پاس ایک جھولی ضرور ہونی چاہئے۔ جب تک ہمارے پاس جھولی نہیں ہوگی تب تک وہ نعمت جو اُترنے والی ہے، وہ اُترے گی نہیں۔ رحمت ہمیشہ وہیں اُترتی ہے جہاں جھولی ہو اور جتنی بڑی جھولی ہوگی، اتنی بڑی نعمت کا نزول ہوگا…

(اشفاق احمد۔ زاویہ)

*****

 
Read 238 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter