تحریر: انوار ایوب راجہ


میرے سامنے برطانوی ہند کی فوج کے ان اسیر سپاہیوں کے متعدد خطوط موجود ہیں کہ جنہوں نے بعد میں آزادی پاکستان کی جنگ لڑی اور ان میں سے بیشتر کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا۔مجھے یاد ہے کارگل کی جنگ کے دنوں میں جب سرحد سے پرچم میں لپٹے عظیم بیٹے اپنی ماں کو غموں میں نڈھال چھوڑے مادرِ وطن پر قربان ہو کر واپس اپنے اپنے آبائی گھروں کو لوٹ رہے تھے تو ہر شہید کی قبر پر لہراتا سبز ہلالی پرچم ان عظیم بیٹوںکی قربانیوں کی تصدیق کر رہا تھا۔ آزدی ٔپاکستان سے آج تک جتنے بھی عظیم بیٹے اور بیٹیاں اس ملک کی حفاظت اور آزادی کی خاطر قربان ہوئے وہ سب کے سب پاکستانی تھے اور ایک حقیقت تھے کوئی سانحہ نہیں۔ آج جب میں ان عظیم سپاہیوں کی قبروں کو دیکھتا ہوں تو ایسے لگتا ہے وہ بھی مجھے دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں''میں زندہ ہوں۔''’

mainzindahun.jpg
کتنی مدت سے یہ بحث چل رہی ہے کہ پاکستان نہیں رہے گا یا پھر پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے آج تک دو قسم کی سازشوں نے پاکستان کے گرد اپنا شکنجہ مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ ایک سازش ہمیشہ سے اندرونی تھی اور ایک سازش بیرونی۔ اندرونی سازش نے جب بھی سر اٹھایا تو قوم نے اس کا مقابلہ کیا اور اس کا سرکچلا مگر جب بیرونی سازش نے اپنا اثر دکھایا تو پاکستان کے محافظوں نے اس کا دفاع ایسی بے نظیر قربانیوں سے کیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔
آج پاکستان دنیا کے نقشے پر ہے اور ایک حقیقت ہے ، اس کے بے شمار دوست ہیں مگر کچھ دشمن بھی ہیں اور ان دشمنان پاکستان نے ایک نئے انداز کی فکری جنگ پاکستان پر مسلط کی ہے جس کا نشانہ نظریاتی سرحدیں نہیں آنے والی نسلیں ہیں ۔یہ دشمن پوشیدہ رہ کر بہت سی آوازوں میں زہر ملا کر نفرت کی زبان بول رہا ہے اور مایوسیاں پھیلا رہا ہے ۔ تاریخ کو مسنح کر کے پیش کیا جا رہا ہے اور یہ بتایاجا رہا ہے کہ برصغیر کی تقسیم ایک غلطی تھی اور پاکستان کا معرض وجود میں آنا کوئی حادثہ تھا۔پاکستان کے خلاف تمام سازشوں کے باوجود پاکستان ستر سال کا ہو گیا اور آج بھی اپنے دشمنوں کی آنکھ میں کھٹکتا ہے ۔
میں پچھلے کئی سالوں سے سفر میں ہوں اور پاکستان میرے ساتھ ساتھ اس سفر کا حصہ ہے ۔میں ایک برطانوی شہری ہوں مگر میری پیدائش کشمیر میں ہوئی اور مجھے اپنی بنیادوںپر فخرہے۔پاکستان بھی میرے وجود کا حصہ ہے اورجب بھی اگست کا مہینہ آتا ہے تو میرے کانوں میں آزادی کے ترانوں کی دھنیں بجنے لگتی ہیں۔ میرا مادر وطن کشمیر آج بھی آزادی کی نعمت سے محروم ہے مگر کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے اور اس میں کہیں کوئی مغالطہ نہیںہوناچاہئے کہ کشمیری پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے رضاکار محافظ ہیں اور اس پر انھیں فخر ہے۔
میں پچھلے سترہ سالوں سے پاکستان سے باہر ہوں اور ان تمام سالوں میں میں نے پاکستان میں رونما ہوتی تبدیلیوں کا اثر بیرون ملک آباد پاکستانیوں پر دیکھا ۔یہ وہ لوگ ہیں جو اصل پاکستان کو دل میں بسائے اس کی عظمت ، حرمت اور اہمیت کے نغمے گاتے ہیں ۔یہاں آباد کشمیریوں یا پاکستانیوں کا جذباتی لگاؤ ان کے والدین کے وطن کے ساتھ ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو یہ لوگ مدد میں سب سے آگے ہوتے ہیں ۔
پاکستان نے پچھلے دس سالوں میں خاص کرنائن الیون کے بعد جو حالات دیکھے وہ ایک کمزور ملک کے لئے برداشت کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہوتا ۔ہر بار جہاں جہاں پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا وہاں وہاں سے پاکستان مضبوط ہوااور جذبہ حبِّ پاکستان میں اضافہ ہوا ۔اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں ؟ کیا ستر سال سے قائم یہ ملک ایک حادثہ ہے ؟ کیایہاں کا نظام اور اقوام عالم میں اس کی موجودگی بس ایسے ہی ایک فریب نظر ہے ؟
ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں ہمیں تھوڑا تاریخ میں جانا ہو گا اور دیکھنا ہو گا کہ آج جو لوگ پاکستان کو ستر سال بعد بھی حادثہ، سانحہ یا ایک ناکام ریاست کہتے ہیں۔ ان کے عزائم کیا ہیں۔ پاکستان اور انڈیا ساتھ ساتھ معرض وجود میں آئے ، آزادی کے وقت انڈیا کے حصے میں وسائل سے بھرپور علاقے ، انڈسٹری، ہنرمند لوگ اور اہم تعلیمی ادارے آئے۔ تقسیمِ برصغیر کے وقت بہت سی زیادتیاں کی گئیں مگر پاکستان کو اللہ نے جذبے سے بھرپور اور ایمان کی طاقت سے لبریز کچھ دیوانے عطا کئے جن کی آنکھوں میں آزادی کے خواب تھے ۔یہ کون لوگ تھے کہ جنہوں نے آزادیٔ پاکستان کے فوراً بعد تحفظِ پاکستان کو ممکن بنایا ؟ پاکستان بنتے ہی سازشوں کے جال بننے والے اور پاکستان کو توڑنے والوں نے ہر محاذ کھولا ، زمینی محاذ کشمیر میں پہلے کھلا ، پاکستان ایک نوزائیدہ ریاست تھی اور اس وقت انڈیا کی کوشش کشمیر میں گھس کر سارے علاقے کو قبضے میں لینے کی تھی ۔
یہ ایک بڑی ریاست کا ایک بہت چھوٹی ریاست پر حملہ نہیں تھابلکہ یہ ایک جارحانہ سوچ کا ایک قوم کی آزادی پر حملہ تھا ۔اس حملے کو روکنا اور کشمیر کو آزاد کروانا وہ پہلی عظیم فتح تھی جس کا غم آج تک انڈیا کو ہے اور آج تک یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان ایک حادثہ تھا ۔کشمیر میں لڑی جانے والی جنگِ آزادی ہی وہ پہلا میدان تھا جہاں سے ہمیں ان لوگوں کا پتہ ملتا ہے جو آزادی کے محافظ اور''حقیقی دیدبان ''تھے اور جن کی نظروں میں پاکستان کی سالمیت کے خواب تھے ۔
آج سترسال بعد انڈیاکشمیریوںاور پاکستانیوں کے درمیان نفرت کا بیج بونے کے لئے ہر حربہ اپنا رہا ہے مگر اس کا ہر وار کشمیر سے پاکستان کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔ سیاست اور اہل سیاست کا سوچنے کا اپنا انداز ہے مگر عوام کے دلوںمیں آج بھی اس چراغ کی روشنی ہے جسے کشمیر پر ہونے والی جنگ میں کشمیریوں نے اپنے لہو سے جلایا اور آج تک روشن رکھا ۔آج پاک فوج میں بہت بڑی تعداد میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے ہر رینک کے افسران اور جوان موجود ہیں اور اس حقیقت کو کون بھول سکتا ہے کہ ان میں سے بہت بڑی تعداد ان افسران اور جوانوں کی ہے کہ جنہوں نے آزادی کی جنگ لڑی۔29 اکتوبر 1947ء کو جب یہ معجزاتی فوج سری نگر سے صرف چند میل دور تھی تو دشمن کو پتہ تھا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ایک جنون تھا جو کہتا تھا ''آج سری نگر ، کل دلی ''۔
اس جنگ میں حصہ لینے والے وہ بہادر لوگ تھے جنہوں نے کشمیر کی آزادی کی جنگ کے ساتھ تکمیلِ پاکستان کی جنگ میں بھی حصہ لیا ۔یہ لوگ عام لوگ نہیں تھے ،یہ برطانوی ہند کی فوج سے لوٹنے والے وہ بہادر سپاہی تھے کہ جنہوں نے اپنی ہمت کا لوہا مصر کے صحرائوں سے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک منوایا تھا۔ یہ کسی حادثے کی وجہ سے دفاع وطن کے لئے گھر سے نہیں نکلے تھے ۔ان میں سے کچھ تو بہت دیر تک جاپان، افریقہ اور یورپ میں جنگی قیدی رہ چکے تھے مگر پھر بھی یہ پاکستان کے دفاع میں قائم ہونے والا وہ پہلا دستہ تھا جس نے گوریلا جنگ سے کشمیر کے پہاڑوں کو دشمن کا قبرستان بنایا۔ستر سال ایک قوم کے لئے کچھ نہیں ، دنیا کی تاریخ میں تحریکیں سالوں چلتی ہیں اور بہت کم ہوتی ہیں جنہیں کامیابی ملتی ہے ، ایسی ہی کامیابی اور عظمت ان لوگوں کا مقدر بنی جنہوں نے پاکستان کو حادثہ نہیں انعام جانا اور آج تک وہ اس انعام کی حفاظت کر رہے ہیں ۔
میرے سامنے برطانوی ہند کی فوج کے ان اسیر سپاہیوں کے متعدد خطوط موجود ہیں کہ جنہوں نے بعد میں آزادی پاکستان کی جنگ لڑی اور ان میں سے بیشتر کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا۔مجھے یاد ہے کارگل کی جنگ کے دنوں میں جب سرحد سے پرچم میں لپٹے عظیم بیٹے اپنی ماں کو غموں میں نڈھال چھوڑے مادرِ وطن پر قربان ہو کر واپس اپنے اپنے آبائی گھروں کو لوٹ رہے تھے تو ہر شہید کی قبر پر لہراتا سبز ہلالی پرچم ان عظیم بیٹوںکی قربانیوں کی تصدیق کر رہا تھا۔ آزدی ٔپاکستان سے آج تک جتنے بھی عظیم بیٹے اور بیٹیاں اس ملک کی حفاظت اور آزادی کی خاطر قربان ہوئے وہ سب کے سب پاکستانی تھے اور ایک حقیقت تھے کوئی سانحہ نہیں۔ آج جب میں ان عظیم سپاہیوں کی قبروں کو دیکھتا ہوں تو ایسے لگتا ہے وہ بھی مجھے دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں''میں زندہ ہوں۔''

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 169 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter