جنگِ ستمبر کی یادیں

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: جبار مرزا

جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی زیرِ نظر کتاب '' جنگ ستمبر کی یادیں'' ہماری افواج کا عظیم جذبۂ جہاد، فوج اور عوام میں اعتماد کے گہرے رشتے اور ناقابلِ فراموش واقعات پر محیط ہے۔ شاہینوںکے شہر سرگودھا سے دوارکا تک اور راجستھان سے معرکہ کھیم کرن تک دفاعِ وطن کے ایمان افروز لمحات کو جس خوبصورتی سے انہوںنے ہمارے لئے فردوسِ نظر کا سامان کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔ جنگ جذبوں سے لڑی جاتی ہے۔ جنگ ستمبر بھی شجاعت اور ایثار کا اَن مِٹ نقش تھا۔ جنگِ ستمبر کی یادیں دفاعِ وطن کی ایک روشن علامت اور حیات افروز ساعتوں کا قابلِ رشک مرقع ہے۔


جناب الطاف حسن قریشی جو گزشتہ 60 برسوں سے علم و نور بانٹ رہے ہیں اور اُردو ڈائجسٹ کی صورت جس قدر انہوں نے صحافت اور ادب کی آبیاری کی اس سے کہیں زیادہ انہوںنے دفاعِ وطن کے لئے اپنا قلم وقف کئے رکھا، وہ قلم کے جرنیل ہیں انہوںنے انتہائی حکمت سے اپنے قاری کو اگلے مورچوں میں پہنچا دیا ہے۔ جنگ ستمبر کی یادوں میں اُن کا مشاہدہ ہے، مطالعہ اور اس دَور کے غازیوں سے ملاقاتوں کا احوال بھی۔ جنگ ستمبر کے حوالے سے بہت لکھا گیا باوجود اس کے جس قدر وہ بڑا معرکہ تھا جسے معرکۂ حق وباطل کا نام دیا گیا ہے، جس میں بھارت نے رات کے اندھیرے میں بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے6 ستمبر1965 کی صبح پاکستان پرکئی اطراف سے حملہ کردیا تھا۔ وہ لاہور کے جمخانہ کلب میں اودھم مچانے کا خواب لے کے نکلا تھا مگراس کے ٹینک افواجِ پاکستان کا سامنا نہ کرسکے اور الٹے پائوں اپنی ہی فوج کو روندتے ہوئے لوٹ گئے۔ دریائے توی ان کے ڈوب مرنے کا مقام ثابت ہوا اور باٹا پور پہنچ کر انہیں لوہے کے چنے چبانے پڑ گئے۔ میجر جنرل سرفراز کو آج بھی لاہور کے شہری اپنا محسن مانتے ہیں۔ سرگودھا کے میجر شفقت بلوچ جن کا تعلق 12 بلوچ سے تھا، ہڈیارا کے مقا م پر لاہور کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن گئے تھے اور بھارتی فوج کے لئے ہیبت کی علامت بنے رہے۔ فیلڈمارشل ایوب خان ان کے سینے پر ستارئہ جرأت سجاتے ہوئے فخر سے آبدیدہ ہو گئے تھے۔
The Pakistan Army:War Of 1965
نامی کتاب جنرل ضیاء الحق نے اپنے دور میں سرکاری طور سے میجر جنرل شوکت رضا سے لکھوائی تھی۔ بالکل ویسے ہی جیسے جنرل شیر علی خان نے میجر ابراہیم قریشی سے فرسٹ پنجاب رجمنٹ کی تاریخ لکھوائی تھی۔ یہ وہی میجر ابراہیم قریشی تھے جو1965 میں 17 پنجاب کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔ جن کی سفارش پر ان کے ایلفا کمپنی کمانڈر میجر عزیزبھٹی کو نشانِ حیدر ملا تھا۔ بعد میں ابراہیم قریشی بریگیڈیئر کے عہدے تک پہنچے۔ زیرِ نظر کتاب'' جنگِ ستمبرکی یادیں'' بھی ایک قریشی مورّخ کا شاہکار ہے۔ جناب الطاف حسن قریشی کی تیسری نسل ، ایقان حسن قریشی نے کمال تدبر اور حکمتِ عملی سے الطاف حسن قریشی کی یادوں کو سمیٹنا شروع کردیا ہے۔ ایسے بکھری پڑی کرنوں کو کتابی شکل میں دینا آنے والے زمانے اور عہدِ حاضر کے جوانوں کو اپنے شاندار ماضی سے جوڑنے کا خوبصورت انداز ہے۔

jangesepkiyadain.jpg
'جنگِ ستمبر کی یادیں' محض17 دنوں کی روداد ہی نہیں بلکہ گزشتہ 70برسوں کی کہانی ہے، یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں بھارت کا ہرمذموم حربہ واضح دکھائی دے رہا ہے۔
جناب الطاف حسن قریشی لکھتے ہیں کہ '' جنگِ ستمبر کے محرکات مجھ پر برطانوی محقق
ALASTAIR LAMB
کی چشم کشا تصنیف
INCOMPLETE PARTITION:THE GENESIS OF KASHMIR DISPUTE 1947- 48
کے مطالعے سے منکشف ہوئے۔ مسٹر لیمب کی سال ہا سال تحقیق نے وہ بنیاد ہی منہدم کردی ہے جس پر سیکولر، جمہوری اور سوشلسٹ بھارت کے وزیرِ اعظم نہرو نے بدترین دغابازی کی عمارت کھڑی کی اور سری نگر میں فوجیں اتارنے کاخود ساختہ جواز تراشا۔ 'جنگِ ستمبر کی یادیں' میں جہاں ہماری عظیم فوج اپنے فرائض کی بجا آوری کرتی، شہادت سے سرفراز ہوتی اور غازیوں میں افتخار کی علامت بن کر اُبھری، وہاں جناب قریشی صاحب نے فنونِ لطیفہ کے احباب کا ذکر بھی تفصیل سے کیا ہے، اگر ملکہ ترنم نور جہاں میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں،کہتی سُنی گئی تو رئیس امروہوی نے بھی اپنی شاعری سے ''خطہ لاہور تیرے جاںنثاروں کو سلام'' پیش کیا۔


' جنگِ ستمبر کی یادیں ' میں اس دَور میں تخلیق ہونے والے ادب اور شاعری پر سیر حاصل بات کی گئی ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ جناب الطاف حسن قریشی صاحب نے انتہائی دیانت سے جنگ کی اصل صورت حال کو لفظوں کا پیراہن دیا ہے۔ یادگار بحری سفر سے چھمب جوڑیاں کی صبحِ آزادی تک، پہلے دھماکے سے سیالکوٹ کے محاذ تک، جہاں دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی جنگ لڑی گئی تھی، قدم قدم اور لمحہ لمحہ رقم کیا ہے۔ انہوں نے شہری آبادی پر بھارت کی بمباری اور آدم بیزاری سے لے کر تصادم کے بنیادی محرکات تک قاری اور قوم کو باخبر کیا ہے۔ یہ بہت سے حوالوں سے یاد رکھی جانے والی کتاب ہے۔ یہ ایک ایسی تحریر ہے جسے پڑھنے کے بعد مجھ جیسا عام شہری بھی اپنی پیرانہ سالی کے باوجود بندوق اٹھاکے محاذ پر جانے کے لئے تیار ہو جائے جہاں ہماری جان و مال، عزت و آبرو کے محافظ مورچوں میں اترے ہوئے ہیں۔کس قدر اعزاز ہے وطن پر قربان ہونا اور وطن کے لئے ہی جینا۔ جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی زبان شستہ، لہجے میں مٹھاس اور قلم شیریں آمیزہے۔ وہ جنگ کی بات بھی محبت سے کرتے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں کہیں بھی انہوں نے اُکسایا نہیں، برانگیختہ نہیں کیا، مشتعل کرنا تو ان کا اسلوب ہی نہیں، وہ ہربات، ہر واقعہ بغیر بڑھائے چڑھائے، جیسا ہے ویسا ہی لکھ دیتے ہیں۔ ان کے قلم کی صداقت اٹھ کھڑا ہونے پر آمادہ کرتی ہے۔ 'جنگِ ستمبر کی یادیں' میں جس طرح ان دنوں قریشی صاحب کا قلم متحرک رہا، اسی طرح وہ خود بھی شاید سفر میں رہے۔ کئی اخبار نویسوں، کالم نگاروں، شاعروں اور اداریہ نویسوں کو ساتھ لئے قریہ قریہ، شہر شہر، گائوں گائوںبہ نفسِ نفیس جائزہ لینے پہنچے ہوں گے۔ وہ دیکھ کر لکھتے رہے انہوں نے کبھی بھی لکھ کر نہیں دیکھا۔ 6 ستمبر1965 کو راولپنڈی کے محلہ صادق آباد میں بھارت نے ایک بارات کے مہمانوں پر بم پھینکا تو وہ ہمارے دیرینہ اور محترم دوست جناب احمد ظفر کو ساتھ لے کر صادق آباد میں دکھائی دیتے ہیں۔ جناب الطاف حسن قریشی صاحب کا ایک اور اچھوتا انداز کہ وہ جب کسی شخصیت سے اس کے تاثرات لیتے ہیں تو پھر اُنہیں اپنے الفاظ میں یوںبیان کرتے ہیں کہ جیسے ایک ماہر وکیل عدالت میں خود کا صیغہ استعمال کرکے مؤکل کی زبان بن جاتا ہے۔ 6ستمبر1965 کو دن گیارہ بجے صدرِ پاکستان محمدایوب خان کے ریڈیو پاکستان سے قوم سے خطاب کے وہ الفاظ بھی محفوظ ہیں جس پر عوام نے بآوازِ بلند نعرئہ تکبیر لگایا تھا کہ ''پاکستان کے دس کروڑ عوام جن کے دل کی دھڑکن میں لآاِلٰہ اِلا اﷲ ُمحمّدرسول اﷲ کی صدا گونج رہی ہے اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک دشمن کی توپیں ہمیشہ کے لئے خاموش نہ ہوجائیں۔''


23 ستمبر1965 کا احوال بھی ہے جب تین بجے ریڈیو پاکستان سے صدرِ پاکستان ایوب خان کی آواز گونجی، عوام اپنے محبوب صدر کی تقریر سننے کے لئے بیتاب تھے۔ ہر ریڈیو سیٹ کے اِردگِرد عوام کے ٹھٹ کے ٹھٹ لگے تھے لوگوں نے صدر کا یہ اعلان بڑے تحمل سے سنا کہ جنگ بندی کے احکامات صادر کردیئے گئے ہیں، لوگوں کے جذبات میں بے پناہ ہیجان برپا تھا اور مادرِ وطن کے ناموس کی خاطر وہ میدانِ کارزار کو سرخ کردینا چاہتے تھے لیکن قوم نے عالمی امن و سلامتی کے آگے سرجھکادیا۔ پھر صدرِ محترم کے یہ الفاظ گونجے: '' ہماری مسلح افواج نے اسلامی تاریخ میں اپنے خون سے ایک نیاباب لکھا ہے۔'' اور پھر یہ آواز آئی:''یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوا ہے۔ ہمیں کسی لمحے اسے فراموش نہیں کرنا چاہئے، مجھے آپ کے جذبات کا پورا احساس ہے۔''


جس طرح جنگِ ستمبر میں لیفٹیننٹ کرنل مجیب الرحمن جو بعدمیں لیفٹیننٹ جنرل اور نئی روشنی سکول کے بانی بھی ہوئے، نے ریڈیو تراڑ کھل سے ''ڈھول کا پول'' پروگرام کرکے بھارتی عوام اور فوج کو نفسیاتی جنگ میں الجھائے رکھا، اسی طرح جناب الطاف حسن قریشی صاحب کی زیرِ نظر کتاب 'جنگِ ستمبر کی یادیں' ستمبر1965 کا تاریخی اور نفسیاتی جائزہ ہے۔ نئی نسل میں اس کتاب کی ترسیل بہت ضروری ہے، یہ کتاب نشانِ منزل بھی ہے، ماضی، حال اور گزرے واقعات کا انسائیکلو پیڈیا بھی۔

مضمون نگار ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 161 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter