فاسٹ فوڈ۔ صحت کے لئے خطرہ

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر : ڈاکٹر صدف اکبر

فاسٹ فوڈ ایک ایسا تیار کھانا ہوتا ہے جو ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ وغیرہ میں بہت جلدی تیار شدہ حالت میں پیش کیا جا سکے ۔ دیگر کھانوں کے مقابلے میںیہ خوراک عام طور پر کم غذائیت کی حامل مگر مہنگی ہوتی ہے۔ آج کل لوگوں ، بالخصوص نوجوان طبقے اور بچوں، میں فاسٹ فوڈ کھانے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھتا جا رہاہے۔
فاسٹ فوڈ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اسکا آغازاٹھارویں صدی میں امریکہ سے ہوا۔ ابتداء میں مختلف غیر معیاری قسم کے برگر وغیرہ دستیاب تھے مگر انیسویں صدی میں وائٹ کاسل نامی پہلی فوڈ چین بنی۔ اس کے بعد میکڈونلڈ برادرز نے 1948 ء میں اپنی فوڈ چین میکڈونلڈ کا آغاز کیا۔
فاسٹ فوڈ میں بہت زیادہ یا ضرورت سے زیادہ کیلوریز ہوتی ہیںجو مٹاپے کا باعث بنتی ہیں اور ان کی وجہ سے کو لیسٹرو ل میں اضافہ اور ہارمونز میں تبدیلی جیسے مختلف مسائل بھی پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بہت زیادہ فاسٹ فوڈ جن میں برگر اور پیزا بھی شامل ہیں ،کے استعمال سے ڈپریشن کا مسئلہ بھی ہو جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد میں ڈپریشن کی شرح دوسرے افراد کی بہ نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتی ہے۔


مختلف فاسٹ فوڈ یعنی برگر، پیزا وغیرہ انسانی جسم میں جلدی ہضم نہیں ہوتے، جس کے باعث فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد میں دل کے امراض زیادہ پائے جاتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ کھانوں میں چکنائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو خون میں کولیسٹرول پیدا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہفتے میں چار سے پانچ یا اس سے زیادہ فاسٹ فوڈ استعمال کرنے والے افراد میںدل کی بیماری کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ فاسٹ فوڈ کی تیاری کے دوران ایسے کیمیائی اجزاء بھی شامل کئے جاتے ہیں جو صحت کے لئے نہایت ہی مضر اور خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ جو کھانے والوں کو کینسر، ذیابیطس اور قبض جیسی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔


تحقیق کے مطابق ایک سال کے دوران فاسٹ فوڈ کھانے والے لوگوں کے وزن اور سائز میں دوسرے افراد کی بہ نسبت اضافہ ہو جاتا ہے۔ فاسٹ فوڈ میں کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے جسم کو بہت زیادہ کیلوریز ملتی ہیں اور جسم پھولنے لگتا ہے اور انسان سست ہو جاتا ہے اور جسمانی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق فاسٹ فوڈ ہمارے دماغ کی بھوک لگنے کی حس کو متاثر کر تے ہیں۔

fastfoodsehat.jpg
ٹورنٹو یونیورسٹی کے ایک تحقیقی جریدے کے مطابق فاسٹ فوڈ کے لئے استعمال ہونے والے کھانوں میں ایک خاص قسم کا کیمیکل استعمال ہوتا ہے جو کہ انسانی صحت کے لئے انتہائی مضر ہوتا ہے اور یہ کیمیکل انسانی خون میں آسانی سے منتقل ہو کر مختلف بیماریوں میں مبتلا کرتا ہے۔
ایک اور عالمی رپورٹ کے مطابق زیادہ فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد میں دمہ اور الرجی کی بیماری بھی زیادہ ہوتی ہے۔ پیزا چھوٹے بچوں کے لئے بے حد نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے جسم اور دماغ دونوں نشوونما کے مراحل سے گزررہے ہوتے ہیں اور اس میں موجود نقصاندہ مادے ان کی بڑھتی ہوئی ذہنی نشوونما اور جسمانی صلاحیتوں کو روک دیتے ہیں اور ان کی صحت مندانہ نشوونما کو ٹھیک طریقے سے مکمل نہیں ہونے دیتے ہیں۔جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے محققین کی ایک تحقیق کے مطابق جنک فوڈ کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد انتہائی مضر صحت اثرات کے شکار ہو سکتے ہیں۔
Phthalates
نامی کیمیکل جو ایک صنعتی کیمیکل ہے اور فوڈ پیکنگ مٹیریل اور فاسٹ فوڈ کی تیاری کے لئے دیگر اشیاء میںاستعمال کیا جاتا ہے جب فاسٹ فوڈ استعمال کرنے والے افرادکا طبی معائنہ کیا گیا توان میں
Phthalates
نامی کیمیکل کی سطح میں اضافہ پایا گیا۔ جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق یہ کیمیکل دمہ ، چھاتی کے سرطان سمیت متعد امراض کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ جبکہ تحقیق کے مطابق انسانی جسم اس کیمیکل
Phthalates
کو ہضم بھی نہیں کرپاتا ہے۔ جس کی وجہ سے نظام ہاضمہ میں بھی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں اور یہ انسانی جسم میں ہارمونز کے نظام کو نقصان پہنچا کر مختلف امراض کا باعث بنتا ہے۔ بہت کم عمری یعنی دو سے تین سال کی عمر میں ایسے کھانے استعمال کرنے سے دمہ کا خطرہ انتالیس فیصد ہوتا ہے جبکہ چھ سے سات سال کی عمر میں فاسٹ فوڈ کھانے سے دمہ ہونے کے امکانات ستائیس فیصد تک ہو تے ہیں۔ جرمنی کی یونیورسٹی آف ہون کی ایک تحقیق کے مطابق فاسٹ فوڈ یعنی برگر، پیزا اور فرنچ فرائز وغیرہ کے استعمال کے بعد جسم کا مدافعتی نظام فاسٹ فوڈ کے ساتھ وہی کارروائی کرتا ہے جو وہ بیکٹریا کی وجہ سے ہونے والی انفیکشن سے نمٹنے کے لئے کرتا ہے۔ جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ انسانی جسم فاسٹ فوڈ کو دراصل مضر صحت بیکٹریا سمجھ کر اس کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور اس کی وجہ سے مدافعتی نظام کا حساس ہو جانا ، آنتوں کی سوزش ، جلن اور ذیابیطس سے متعلق مسائل شروع ہو جاتے ہیں۔تحقیق کے مطابق اکثر فاسٹ فوڈ کھانے کے باعث جسمانی، دفاعی نظام کے خلیات وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ جارحانہ انداز اختیار کر لیتے ہیں جس کے نتیجے میں سنگین مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ معدے کا سرطان، جسے
Peptic Ulcers
کہتے ہیں، بھی فاسٹ فوڈز کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیادہ مصالحہ دار، زیادہ مرچ مصالحوں والے کھا نے اور پیزا ، چپس اور زیادہ نمکیات اور مرچوں والے مختلف اسنیکس ذہنی تنائو اور السر کا باعث بن رہے ہیں۔یہ خون کے دبائو ، جگر کی کارکردگی اور خون کے خلیوں اور ان کی گردش پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ذہنی تنائو اور ہائپر ٹینشن کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔


انسانی معدے میں صحت کو بہتر رکھنے میں مدد فراہم کرنے والے بیکٹریا کی تقریباََ ساڑے تین ہزار مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔ کنگز کالج لندن کی ایک تحقیق کے مطابق صحت مند اور متوازن غذا کے استعمال کے بجائے ہر وقت فاسٹ فوڈ کا استعمال معدے میں موجود ان بیکٹریا کی ایک تہائی تعداد کو ختم کر دیتا ہے اور بیکٹریا کی تعداد میں عدم توازن کے نتیجے میں جسم میں موجود اہم معدنیات جذب نہیں ہو پاتے اور مختلف امراض جیسے ذیابیطس ، امراض قلب اور کینسر وغیر ہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ایک تحقیق کے مطابق زیادہ چربی اور مٹھاس والی غذائیں جگر اور معدے کی مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہیں اور ان فاسٹ فوڈز میںموجود چربی اور چینی کا زیادہ استعمال کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ جبکہ امریکہ میں ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق فاسٹ فوڈ کھانے والے افراد جوڑوں کے درد جیسے تکلیف دہ امراض کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق گنٹھیا، جو کہ ہڈیوں کے جوڑوں کی بیماری ہے اوراس میں یورک ایسڈ کی زیادہ مقدار خون میں شامل ہو جاتی ہے جس سے جِلد سوجن کا شکار ہو جاتی ہے، سرخ گوشت ، سافٹ ڈرنکس ، فرنچ فرائز، چینی اور چربی والی اشیاء کا زیادہ استعمال اس مرض کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔


ایک تحقیق کے مطابق سرخ گوشت کے قتلوں کا زیادہ استعمال دل کے امراض سے موت کے خطرے کو چوبیس فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ روزانہ سو گرام سے زیادہ گوشت کے استعمال سے مثانے اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ سترہ سے انیس فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ چھاتی کے سرطان کے امکانات گیارہ فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جس کی بنیادی وجہ گوشت کو بہت زیادہ درجہ حرارت پر پکانا ہے۔


فاسٹ فوڈ کلچر ہماری صحت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور اس سے بچائو کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں میں اس کے نقصانات کو اجاگر کیا جائے اور صحت بخش سادہ اور روایتی کھانوں خصوصاً گھر کے کھانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ خاص طورپر چھوٹے بچوں کو فاسٹ فوڈ سے دور رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ قدرتی کھانوں کی اہمیت اور ضرورت کو بتایا جائے اور گھروں کے لان میں سبزیاں اگانے کی روایت کو زندہ کیا جاناچاہئے۔ اور ا پنے روزمرہ کے کھانوں میں تازہ سبزیوں ، پھلوں ، دودھ اور مختلف غذائیت سے بھر پور اشیاء کا استعمال کریں۔ کیونکہ فاسٹ فوڈ کے استعمال کو ترک کئے بغیر مختلف بیماریوں سے تدارک اور ان کی روک تھام ممکن نہیں ہے۔

مضمون نگار دادا بھائی انسٹیٹوٹ آف ہا ئر ایجوکیشن میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر وابستہ ہیں اورمختلف اخبارات میں لکھتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

jahanpanah_filler.jpg

*****

 
Read 311 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter