گلیشیئرز۔ پانی کی دستیابی کا بڑا ذریعہ

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: ڈاکٹر وقار احمد

کرئہ ارض پر پانی کی کل مقدار چودہ لاکھ 3 کے ایم ہے، جو کہ ایک بہت بڑی مقدار ہے، تاہم پانی کے اس عظیم ذخیرے کا 97.6 فیصد سمندر کی شکل میںہے، جو کہ ناقابل استعمال ہے۔ جبکہ صرف 2.4 فیصد میٹھا پانی ہے، جس کا 87 فیصد برف کی صورت میں جما ہوا ہے جو زیادہ تر گلیشیرز کی شکل میں ہے۔ سردیوں میں ان کے حجم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور گرمیوں میںپگھل کر ان کا پانی دریائوں میں شامل ہوجاتا ہے۔گویا گلیشیئرز پانی کے اہم ذخیرے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں سے جاری موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بین الاقوامی سطح پر مختلف اداروں اور ماہرین کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ 2017 میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ ایک بار پھر اس وقت انٹارکٹیکا پر مرکوز ہوئی جب وہاں دو بہت بڑے گلیشیئرز جولائی اور ستمبر میں ٹوٹ کر قطب جنوبی کی برف سے الگ ہو گئے۔ واضح رہے کہ مئی تا ستمبر وہاں سردیوں کا موسم ہوتا ہے۔


پاکستان میں بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے۔ ان اثرات میں سیلاب، خشک سالی، قدرتی وسائل کا ضیاع اور گلیشیئرز کا پگھلنا شامل ہیں۔گویا آنے والا وقت پاکستان کے لئے شدید مشکلات لاسکتا ہے۔ ان میں ایک بڑا مسئلہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے پانی کی کمی ہوگا۔ پانی کی کمی کہاں اور کیسے ہوگی اس کو سمجھنے کے لئے ملک میں موجود گلیشیئرز کو سمجھنا ہوگا۔


ہندو کش، ہمالیہ اورقراقرم کے عظیم پہاڑی سلسلوں میں دنیا کے کئی بڑے گلیشیئرز موجود ہیں۔ انہیں "واٹر ٹاورز آف ایشیا" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ ہزاروں سال سے پورے خطے کو تازہ پانی فراہم کر رہے ہیں۔ ان سے افغانستان، پاکستان، چین، بھارت، نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور برما منسلک ہیں، اس طرح تقریبا سوا ارب انسانوں کی زندگیوں کا دارومدار انہی گلیشیئرز پر ہے۔1951میں پاکستان میں پانی کی دستیابی 5650 m3 فی کس سالانہ تھی، جبکہ موجودہ دور میں کم ہوکر یہ صرف 800 m3 فی کس رہ گی ہے۔ زرعی ملک ہونے کے باعث یہ بات انتہائی تشویشناک ہے۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو قطب شمالی سے اتنے فاصلے پر ہونے کے باوجود اتنے زیادہ گلیشیئرز کا ملک ہے، 2010 میں چھپنے والے مقالے ''گلیشیئرز آف پاکستان'' کے مطابق ملک کے شمالی علاقہ جات میں 15000 مربع کلومیٹر رقبے پر5000 چھوٹے بڑے گلیشیئرز موجود ہیں۔ ان میں سب سے بڑے گلیشیئرز میں سیاچن(76کلومیٹر)، ہسپار( 63کلومیٹر)، بیافو (67کلومیٹر) وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کی سب سے بلند ہائی وے بھی اسی علاقے میں ہے، جو کہ اسکولی (شگر) سے لے کر ہسپار (نگر) کے درمیان 100 کلومیٹر طویل ہائی وے ہے، یہ سطح سمندر سے 5128 میٹر کی بلندی پر ہے۔
تاہم ہمالیہ کے گلیشیئرز کے بارے میں ماہرین کی رائے ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور انسانی نقل و حمل کی وجہ سے یہاں درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے یہ پگھل رہے ہیں اور ان کا حجم کم ہو رہا ہے جبکہ قراقرم کے بارے میں متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں۔

glashierpaniki.jpg
2014 کے ایک سائنسی جریدے میں چھپنے والے آرٹیکل میں انجنیئر سید نسیم عباس گیلانی نے سیاچن، بلتورو اور بیافو گلیشیئرز میں ہونے والی تبدیلی کا تجزیہ کیا۔ ان کے مطابق محض دس سال کے عرصے (1990-2000) میں اس خطے کا درجہ حرارتoC 1.78 بڑھ گیا ہے اور اس دوران سیاچن گلیشیر 11%، بلتورو 6% اور بیافو% 3.8 سکڑ گئے ہیں۔ یہاں یہ بات نہایت تشویشناک ہے کہ محض دس سال میں اگر یہ رفتار ہے تو آنے والے وقت میں یہ کتنی تیزی سے سکڑیں گے۔اس سلسلے میں کام تیزی سے ہو رہا ہے اور دنیا بھر میں گلیشیئرز اور خصوصاً اس خطے کے گلیشیئرز مرکزِتحقیق بنے ہوئے ہیں۔ اس طرح دیگر کئی تحقیقی مقالے ملتے ہیں جن میں کچھ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور کچھ ان سے متضاد یعنی ان کے مستحکم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم ماہرینِ ماحولیات کے مطابق دشوار موسم کی وجہ سے صحیح تحقیق کرنا مشکل ہے اور سائنسدان خلا سے لی گئی تصویروں اور محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار پر انحصار کرتے ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق گلیشیئرز کے متاثر ہونے میں دو عوامل شامل ہیں۔ ایک توعالمی سطح پر بڑھنے والی گرمی اور دوسرا گلیشیئرز سے متصل علاقوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی انسانی نقل و حمل۔ اس تناظر میں اگر پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں جنگلات کا تیزی سے صفایا ہو رہا ہے۔جس سے علاقائی سطح پر گرمی بڑھتی ہے اور لینڈ سلائڈنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ سوشل اور پرنٹ میڈیا کے مطابق بگروٹ، دیامر اور گلگت ڈسٹرکٹ کے دیگر علاقوں میں جنگلات کی حالیہ کٹائی سے لینڈ سلائڈنگ کے واقعات اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے نہ صرف گلیشیئرز متاثر ہو رہے ہیں بلکہ نشیبی علاقوں میں سیلاب آنے جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔جس سے شاہراہیں، پل، کھیتی باڑی اور دیگر املاک کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے۔


ان عوامل کے علاوہ سیاچن گلیشیئر کے دونوں اطراف فوجی سرگرمیاں بھی گلیشیئرز کو متاثر کر رہی ہیں۔ 1984 میں بھارت کی جانب سے سیاچن پر پیش قدمی کے بعد سے دونوں ممالک کی فوجیں اس جگہ آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ اور اس طرح 13000-22000 فٹ کی اونچائی پر دنیا کا سب سے بلند محاذ جنگ بھی یہی جگہ ہے۔ 2003 میں ہونے والی جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود دونوں ملکوں کی فوجیں یہاں موجود ہیں تاہم اس کے زیادہ حصے پر بھارت کی فوج قابض ہے اور

BBC

کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت اب تک سردی کی وجہ سے تین سے پانچ ہزار فوجی گنوا چکا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کی بھاری نقل و حمل ان گلیشیئرز کو کس قدر متاثر کر رہی ہے۔
گلگت بلتستان
EPA
(محکمہ ماحولیات) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر خادم حسین گلیشیئرز کے پگھلنے کی وجوہات یہاں کے بدلتے ہوئے انسانی عوامل کو بتاتے ہیں مثلاً سیاحت میں اضافہ، گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد وغیرہ شامل ہے۔ گاڑیوں کے دھو ئیں سے کاربن سمیت مختلف گیسیں خارج ہوتی ہیں، جس سے علاقائی سطح پر گرمی بڑھ رہی ہے۔ کاربن جب برف پر جمتا ہے تو سورج کی گرمی تیزی سے جذب کرتا ہے اور پگھلنے کی رفتار کو تیز کرتا ہے۔ گلیشیئرز کے قریبی علاقوں میں تعمیرات اب روایتی طرز کے بجائے کنکریٹ سے کی جارہی ہیں، جو کہ شمسی حدت کو جذب کرکے گرمی کا باعث بنتی ہے۔اس کے علاوہ برف کی براہ راست کٹائی اور گلگت کے بازاروں میں فروخت بھی ایک نقصان دہ عمل ہے، محکمہ ماحولیات کی ایک تحقیق کے مطابق سالانہ تقریبا 80,000 ٹن گلیشیئرز کی برف گلگت بلتستان کے بازاروں میں فروخت ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ مقدار گلیشیئرز سے کاٹی گئی برف کا 20-25 فیصد ہوتی ہے باقی برف کٹائی اور ترسیل کے دوران ضائع ہو جاتی ہے۔


پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پانی ہماری معیشت کے لئے انتہائی اہم ہے۔ اگر ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں کو انسانی نقل و حمل سے کسی بھی قسم کا نقصان پہنچتا ہے تو یہ نہ صرف ہمارے لئے قومی نقصان کا باعث ہوگا بلکہ ہماری معیشت اور 20کروڑ افراد کی زندگیوں کو متاثر کرے گا۔ 2010-2011 کے سیلاب سے جو نقصانات ہوئے تھے وہ آنے والے ماحولیاتی نقصانات کی صرف ایک جھلک تھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت شمالی علاقہ جات کے قدرتی ماحول کو تحفظ دینے کے لئے اقدامات تیز کرے اور قومی اور بین الاقوامی ماہرین ماحولیات کی رائے سے ایک بھرپور پروگرام شروع کرے جو تمام ترقیاتی کام پائیدار ترقی
(sustainable development)
کے اصولوں کے تحت کریں۔

 

عزمِ پاکستان

آئو مل کر پاکستان کو پاکستان بنائیں
یہ ہے شان ہماری، ہم سب اس کی شان بڑھائیں

امن و محبت اور رواداری کی شمعیں لے کر
ساری دنیا کو اپنا روشن چہرہ دکھلائیں

رب پہ بھروسہ، خود پہ یقیں ہے، عزم ہے اپنا عالی
علم و عمل کی طاقت سے ہم آگے بڑھتے جائیں

سانجھی خوشیاں ، سانجھے غم ہیں اور سانجھا مستقبل ہے
روشن پاکستان کی خاطر ہم سب ایک ہو جائیں

قائم رہنے کی خاطر یہ دیس بنا ہے، اس کو
قائد اور اقبال کے خوابوں کی تعبیر بنائیں

maj_ahmed_nawaz.jpg

احمد نواز

*****

 
Read 158 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter