دفاعِ مادرِ وطن کا ایک کمسن شہید

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: ڈاکٹرحمیرا شہباز

سپاہی راجہ غلام جیلانی

''پاکستان انڈیا کا میچ تھا۔ آپ کو پتہ ہے یہ کرکٹ میچ جنگ سے کم نہیں ہوتا اور ہم جنگ جیت گئے۔ میں خوشی کے مارے گھر کی چھت پر چڑھ گیا۔ گھر کی خواتین خالہ کے ہاں میلاد پرگئی ہوئی تھیں۔ اسی وقت ہمارے کوئی عزیز جو بہت سالوں سے ہم سے ناراض تھے، ہمارے گھر آئے۔ انہوںنے مجھے چھت سے اُترآنے کو کہا لیکن میں نے ذرا دیر لگائی۔ پھر انہوںنے کہا 'اوئے نیچے آ، جیلانی شہید ہوگیا ہے۔' پھر مجھے نہیں پتا کہ میں کیسے نیچے آیا۔ بھاگا سیدھا قبرستان کی طرف لیکن پھر خیال آیا کہ میں یہ کیا کررہا ہوں۔'' سپاہی غلام جیلانی شہید کے بھائی، غلام ربانی نے بتایا۔
یکم اگست کی صبح سپا ہی غلام جیلانی کے گھر والوں سے ملاقات طے پائی تھی۔ ہماری گاڑی کورال چوک سے روات کی جانب مڑ گئی۔ دوہری سڑک کی درمیانی پٹی پر نوجوان کشمیری شہید برہان وانی کی برسی کے پوسٹر لگے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک چھوٹا سا پل پار کیا اور گاڑی بائیں جانب کورال پٹرول پمپ کی طرف مڑ گئی۔ پٹرول پمپ کے بائیں جانب سے جانے والی سڑک پر ہم بڑھتے رہے۔ دور مارگلہ کی پہاڑیاں بادلوں میں چھپن چھپائی کھیل رہی تھیں۔ بار بار شہید کے گھر والوں کا خیال آرہا تھا کہ جانے کون کون ہوگا وہاں؟ ملاقات کا رنگ کیا ہوگا؟

madrewatenka.jpg
راستہ بہت ہموار نہیں تھا اس لئے گاڑی کو ہوا سے باتیں کرنے کی کچھ خاص فرصت نہیں مل رہی تھی۔ افتاں وخیزاں راہگزر پر بڑے آرام سے اطراف کا تنقیدی جائزہ لیا جاسکتا تھا۔ خال خال کوئی انسان نظر آرہا تھا۔ اکا دکا کوئی گھر۔ کہیں چھوٹی چھوٹی آبادیاں۔ دن کے ساڑھے دس تو بج رہے تھے۔ بس راہ پڑتے چھوٹے بازاروںمیں کوئی کوئی دکان کھلی تھی۔ راستے میں ایک عمارت کی دیوار پر سپاہی غلام جیلانی شہیدکا بڑاسا پوسٹر لگا ہوا تھا جسے میں پورا نہیں پڑھ سکی۔ تھوڑا آگے بڑھنے کے بعد ڈرائیور نے گاڑی الٹے ہاتھ کچے میں اتار لی۔ ایک خوبصورت سے گھر کے سامنے غلام جیلانی کے بھائی غلام ربانی نے ہمارا استقبال کیا۔ محراب نما داخلی راستے سے گزرکر ایک وسیع مہمان خانے میں مجھے بٹھایاگیا۔
کچھ ہی منٹ میں شہید کی والدہ، خالہ، بہن، بھتیجی، بھابھیاں، بھائی آگئے، خوب رونق لگ گئی۔ سب اپنے اپنے سے دکھائی دیئے اور اجنبیت تو کسی کی بھی آنکھوں سے نہیں جھلک رہی تھی۔


''میں اپنی بہن کے گھر پر تھی۔ پاس ہی اس کا گھر ہے۔ اس نے پیٹ درد کی شکایت کی تو اس کے لئے سفید پودینہ توڑنے نکل گئی۔ دور گھر کی چھت سے بیٹے نے آواز دی کہ اماں گھر آجا۔ واپس پہنچی تو ماں کے رونے کی آواز آرہی تھی۔ میںنے سوچا اتنی سی دیرمیں کیا ہوگیا۔ پتا چلا کہ جیلانی شہید ہوگیا ہے۔ اس کے ابو 'دیگر ویلے' کی نماز کی تیاری کررہے تھے۔ لوٹا پکڑے وضو کے لئے جارہے تھے۔ بس جیلانی کی شہادت کا سنتے گئے اور آج تیرہ سال ہونے کو ہیں، خاموش سے ہیں۔''سپاہی غلام جیلانی شہید کی والدہ نے خود ہی آہستہ آہستہ بات کا رخ میری آمد کے مقصد کی جانب موڑا۔


''تیرہ سال ہوگئے، ابھی کل کی بات لگتی ہے۔ وہ عاشورہ کے دودن کی چھٹی پر آیا تھا اور پھر پانچ چھ دن بعد اس کو ہمیشہ کے لئے لایا گیا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ کس فوجی اعزاز سے اس کا تابوت آیا۔ پورا گائوں اس پر پھول برسا رہا تھا۔ فوج نے سلامی پیش کی۔'' شہید کی ماں بتاتی رہیں۔
''بہت کم عمر تھا میرا بچہ۔ یہی کوئی اٹھارہ اُنیس برس کا۔ اس کو بہت شوق تھا فوج میں جانے کا۔ اس کا چاچا بھی فوجی ہے۔ بس زندگی کی بات ہے۔ اس نے کم عمری میں یہ رتبہ پانا تھا۔ ''وہ صبر کا پیکر بنی بتا رہی تھی۔


''میں نے غلام جیلانی کو بہت سمجھایا کہ ابھی تم پڑھائی کرو۔ فوج میں تو بعد میں بھی بھرتی ہو سکتے ہو۔ میںنے اپنے ساتھ اس کا بھی اصغرمال کالج، راولپنڈی میں داخلہ کروادیا۔ میں تو خاندانی مسائل کے سبب آگے نہ پڑھ سکا لیکن اس نے ایف اے کر لیا اور فوج میں بھرتی کا امتحان بھی بغیر بتائے دے دیا۔ فوج میں جانے سے کچھ دن پہلے ہی تو اس کا شناختی کارڈ بنا تھا۔ بہت چھوٹا تھا جی وہ۔'' غلام ربانی کے چہرے پر چھوٹے بھائی کے لئے شفقت اُمڈ رہی تھی، جیسے اس کا اب بھی چھوٹے بھائی کے ساتھ کھیلنے کو جی چاہ رہا ہو۔
''بس اﷲ کے خاص بندے کچھ الگ ہی ہوتے ہیں۔ وہ بہت معصوم، خوش مزاج اور سب سے الگ، بڑا ہی فرمانبردار تھا۔ اتنی پیاری باتیں کرتا تھا۔ ہم نے تو کہا تھا کہ چھوٹا ہے فوج میں ابھی نہ جائے، یہ نہ ہو کہ جی نہ لگے اور بھاگ آئے، ایسے ہی خاندان بھر میں بدنامی ہوگی۔ لیکن وہ تو ہم سب کی عزت بڑھا گیا۔'' غلام جیلانی کی خالہ، جو کہ اس کی چچی بھی تھیں، بتانے لگیں۔


غلام ربانی نے اعتراف کیا کہ پاک فوج نے کبھی اس کے بھائی کی قربانی کو فراموش نہیں کیا۔ ان کا فوج سے مسلسل رابطہ ہے، مختلف مواقع پر اُنہیں مدعو کیا جاتا ہے۔ اس نے چند اعزازی شیلڈز اور پاک فوج کے مختلف افسران کے خط دکھائے جو مختلف مواقع پر شہید کی والدہ کا حوصلہ بڑھانے ، ان کی قربانیوں اور ان کے بیٹے کی شہادت کی پاسداری میں لکھے گئے تھے۔ یہی ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ شہید کے بھائی نے بہت سرشاری سے کہا۔
ان میں سے چند خطوط کے اقتباسات:


''ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آپ کے بیٹے نے احساسِ ذمہ داری کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے ملک و قوم کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ میں بحیثیت بارہ پنجاب اور کرنل انچیف پنجا ب رجمنٹ آپ کے دُکھ میں برابر کا شریک ہوں۔''
(جنرل محمدعزیز خان ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی،
22 مارچ 2004 ئ
''گزشتہ دنوں آپ کے بیٹے سپاہی غلام جیلانی نے اپنے عسکری فرائض کی انجام دہی کے دوران عظیم قربانی دی اور شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ انا ﷲ وَانا الیہِ راجعون۔ شہید نے فرض کی ادائیگی میں جس جرأت اور بلند حوصلے کا مظاہرہ کیا، وہ پاک فوج اور میرے لئے انتہائی فخر اورسعادت کا باعث ہے۔ میں شہید کی فرض شناسی،دلیری اور ایثار کے جذبے کی قدر کرتا ہوں۔''
(جنرل محمدیوسف خان، وائس چیف آف آرمی سٹاف، مورخہ14 اپریل 2004)
''جہاں مجھے سپاہی غلام جیلانی جیسے ہر دل عزیز ساتھی اور ایک نہایت دلیر جوان کے بچھڑنے کا افسوس ہو رہا ہے، وہاں میں اس قابلِ بھروسہ اور ایک نیک انسان کا کمانڈنگ آفیسر ہونے کے ناتے انتہائی فخر محسوس کررہا ہوں۔ سپاہی غلام جیلانی نے جس انداز سے یونٹ میں زندگی گزاری، وہ ہرجوان کے لئے قابلِ مثال ہے۔ انہوںنے اپنی سروس کے دوران ہمیشہ اعلیٰ کردار اور بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا۔ ایسے عظیم انسان کی والدہ ہونے پر آپ کو یقینی طور پر فخر ہونا چاہئے۔''
(لیفٹیننٹ کرنل محمدانور مسعود ،12 پنجاب، 31 مارچ2004)
کمسن شہید محبت کرنے والا حساس دل اور مضبوط کردار کا حامل تھا۔ اس کی شہادت کے بعد فوج نے اس کا جوسامان واپس کیا اس میں ایک چھوٹی ڈائری بھی تھی۔ اشعار اور اقوالِ زرّیں کا انتخاب زندگی کی جانب اس کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس عمر کے نوجوانوں کی بیاض کم و بیش ایسی ہوتی ہیں لیکن اس کے کچھ شعروں کا انتخاب تو اس کی زندگی پر صادق آرہا تھا۔ شہید اپنی ڈائری میں لکھتا ہے:
میرا ہر لفظ تیری ہر بات سے اچھا ہوگا
میرا ہر دن تیری ہر رات سے اچھا ہوگا
دیکھ لینا اپنی ان بے وفا آنکھوں سے
میرا جنازہ تیری بارات سے اچھا ہوگا
یہ اشعار پڑھ کر اس کی والدہ کے الفاظ یاد آگئے کہ :'' پھر دنیا نے خود ہی دیکھا کس فوجی اعزاز سے اس کا تابوت آیا۔ پورا گائوں اس پر پھول برسا رہا تھا۔''
غلام جیلانی کے والد تیرہ برس سے جوان بیٹے کی جدائی کا صدمہ دل سے لگائے بیٹھے ہیں، ان کی آنکھ سے ایک قطرہ آنسو کا نہیں ٹپکا۔ کوئی بات کرے تو سرسری سا جواب دے دیتے ہیں۔ سارا دن نماز پڑھنے کے علاوہ کوئی مصروفیت نہیں۔ غلام جیلانی ڈائری میں ہی لکھتا ہے:
کسی کی جدائی سے کوئی مرتا نہیں
مگر جینے کے انداز بدل جاتے ہیں
شہادت سے دوماہ قبل اس کی ڈائری کے ایک صفحہ پر درج ہے:
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں
تیری بنیادوں میں ہے لاکھوں شہیدوں کا لہو
ہم تجھے گنج دو عالم سے گراں پاتے ہیں
شاید شہید کو منزل صاف دکھائی دے رہی تھی، اس لئے وہ لکھتا ہے:
''جب نہ ہوگا اس دنیامیں میری ہستی کا وجود
یادیں پھر تازہ ہوں گی اس میری تحریر سے''

مضمون نگار:ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


پاکستان آرمی
اسی سوہنے پُت پنجاب دے آں

نالے سندھی، بلوچی، پٹھان وی آں
اسی ہر میدان وچ گجاں گے

اسی پاکستان دی شان وی آں
اسی سوہنیاں جاناں وار دیئے

ایس پاک زمین دے ناں اُتوں
ساڈے سِر تے قرض شہیداں دا

سِر دے کے قرض اتاراں گے
ساڈے سِراں تے چھاں اے اﷲ دی

نیئں غیر اگے اسی جھکدے آں
اسی پاکستان دی شان وی آں

نالے گھبرو شیر جواں وی آں
جدوں رل کے نعرہ مار دے نے

ایس پاکستان دے شیر جواں
ساڈے دشمن تھر تھر کمب دے نے

اسیں ایس دھرتی دا مان وی آں
اسی سوہنے پُت پنجاب دے آں
نالے سندھی، بلوچی، پٹھان وی آں

آر آر سپاہی جی ڈی محمد زمان

*****

 
Read 182 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter