مابعد الریاست اور ریاست کا سوال

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: محسن شاہد

مغربی ممالک کے اندر اٹھنے والے سیاسی نظریات، جن کو ہم
Populism
کہتے ہیں، نے ریاستی وجود پہ بڑے جامع سوالات اٹھادیئے ہیں۔ اقوامِ عالم میں موجودہ ریاستی تعریف عین مغربی نوعیت کی ہے اور عام عوام یا پھر
Political Science
کے طالب علم ریاست کے وجود اور شناخت کو بھی اُس مغربی علم کی بنیاد پر پرکھتے ہیں جو
Treaty of Westphalia
کے بعد شروع ہوا۔ اس 370 سالہ ریاستی علم کی تاریخ میں کئی ادوار گزرے جن میں مختلف سکالرز نے مختلف تعریفیں کیں اور اپنے نظریات کے ذریعے ریاست کے حوالے سے ایک عوامی بحث بھی کی۔ اس تمام تر علمی تاریخ کے اندر ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ۔ ریاست کو نہ صرف مضبوط کرنے کا درس دیا گیا بلکہ باقی تمام نظریات جن میں قومیت پرستی، مذہبیت اور جمہوریت شامل ہیں، کو ریاست کی مضبوطی کے لئے استعمال کیاگیا۔ ریاست کے اندر اور بین الریاستی نظام قائم کرنے کے لئے بھی ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ حتیٰ کہ ریاست کو زمین پر خدا کا سایہ قرار دیاگیا اور مذہبیت کے تحت لوگوں کو اس بات پر راضی کیا گیا کہ ریاست خدا کے نام پر نہ صرف لوگوں کی ذاتی زندگی میں داخل ہوسکتی ہے بلکہ ان کی زندگی اور موت کی مالک بھی ہے۔ ریاست نے اپنے قوانین کے تعین کے وقت جہاں بہت سے پرانے قوانین کی نفی کی وہیں اس نے ایسے قوانین کو قائم رکھا جن کے ذریعے بادشاہی نظام نے
Public Order
کو قائم رکھا ہوا تھا۔ بیسویں صدی میں خاص طور پر جنگِ عظیم دوم کے بعد کے حالات نے ریاست کو دوام بخشا۔ مابعد نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کا آغاز ہوا اور غیر مغربی معاشروں کے اندر ریاستی سوال شدت اختیار کرگیا۔ ایشیائی معاشروں میں بھی ریاستی وجود کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی اور اس وجود کی بنیاد کہیں مذہبی تھی تو کہیں سیاسی، کہیں عوامی تو کہیں شخصی۔ لیکن مقصد صرف اور صرف ریاستی حصول تھا۔ جہاں مقامی لوگ اپنے اختیارات کے خود مالک ہوں گے اور اپنے آپ کو ریاستی قوانین کے تابع بنائیں گے۔ اس میں نہ صرف عوامی ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا بلکہ عوامی حقوق کو بھی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ ریاستی وجود نے بکھرتے معاشروں کو جلا بخشی اور امن و امان قائم کرنے کے لئے ریاست کو ایک مرکزی کردار دیاگیا۔ ریاستی ادارے ریاست کے نام پر امن و امان قائم رکھنے کے نہ صرف پابندتھے بلکہ عوامی امنگوں کے حصول کے لئے بھی ریاست کو ذمہ دار قرار دیاگیا۔ غیر مغربی معاشروں میںجمہوریت اور آمریت جیسے سیاسی نظریات کے ذریعے کئی تجربات ہوئے۔ جہاں جمہور پسند مشرقی قوموں نے ترقی کی وہیں آمر معاشروں نے بھی ترقی کی۔ ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ چاہے جمہوریت ہو یا آمریت ریاستوں کا معاشی اور معاشرتی نظام سرمایہ دارنظام رہا تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت اور آمریت ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے بلکہ دونوںنے ریاستی معاشی نظام میں سرمایہ داری کو ترجیح دی حالانکہ سرمایہ داری نظام میں ترقی کا فائدہ ایک ریاست کے اندر رہنے والے تمام افراد کو نہیں ہوا۔
اسی کشمکش میں مغربی ریاست اور جمہوری نظام تیزی سے ترقی کرگیا اور مشرقی جمہوری ریاستیں نہ صرف ترقی میں پیچھے رہ گئیں بلکہ جمہوری نظریات میں بھی ترقی پذیر رہیں۔ آفاقیت
(Globalization)
بین الاقوامیت نے تمام اقوام کو ایک ہی طرز کے سیاسی اور معاشی نظام میںاکٹھا کردیا۔ ترقی اور جدیدیت کے نظریات میں یکسوئی بین الاقوامی نوعیت کی ہے لیکن اس میںمغربی نظریات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بین الاقوامیت اور آفاقیت عین مغربی ہیں اور باقی تمام دُنیا اس بات پر متفق کی جاچکی ہے کہ جمہوریت اور سرمایہ داری نظام میں ہی اقوامِ عالم کی بقا ہے۔ حتی کہ بین الاقوامیت اور آفاقیت میں بھی ریاست کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ریاستی مرکزیت کا دارو مدار بھی عین اُن مغربی سیاسی نظریات پر ہے جو370سال پہلے شروع ہوئے۔ لیکن اکیسویں صدی کے آغاز نے ریاست کے سوال کو پیچیدہ کردیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مغربی ریاستی نظام میں اٹھنے والی وہ تحریکیں ہیں جنہوںنے ریاست کی مرکزیت کو چیلنج کرنا شروع کردیا ہے۔ ان نظریات کو ہم مابعد الریاستی نظریات یا
Post-state Ideologies
کہتے ہیں۔ مابعد الریاستی نظریات ریاست کے وجود کی نفی نہیں تو تنقید ضرور ہیں۔ حالانکہ ماضی میں بھی ریاستی طرزِ عمل پر تنقیدہوتی رہی ہے اور ریاست کے اندر طبقاتی تقسیم کو بنیاد بنا کر ریاستی نظام کو سرمایہ داری نظام کا آلہ کار کیا جاتا رہاہے ۔ خاص طور پر مارکسی نظریات نے ریاستی طرزِ عمل اور پیچیدگیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کو سوشلسٹ نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا لیکن ریاستی وجود کی نفی نہیں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ مغربی ریاستوں کا جامع سیاسی نظام تھا جس کی بدولت مغربی معاشروں نے نہ صرف ترقی کی بلکہ ریاستی بیانیے کو مضبوط بھی کیا۔ لیکن دَورِ حاضر میں عین انہی مغربی ریاستی باشندوںنے ریاستی وجود پر سوال اٹھادیا ہے۔ ریاست کیوں ضروری ہے ؟ کیا فرد ریاست کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے؟ ریاست کو معاشرے پر برتری کیوں ہے؟ ریاست کے بعد کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس وقت ریاستی وجود کے خلاف اٹھائے جارہے ہیں۔ مابعد الریاست کے ساتھ ساتھ ایک نیا سوال مابعدجمہوریت کا بھی ہے۔ مغربی معاشروں میںجمہوریت کے بعد کیا ہے؟ جیسے سوالات کا اٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوںنے ریاست اور جمہوریت کے
Status Quo
کو چیلنج کرنا شروع کردیاہے۔ ایسے سوالات اٹھنا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ مغربی ریاست کی تکمیل ہو چکی ہے اور اب اس تکمیل کے بعد نظریات کی بات ہو رہی ہے۔
لیکن یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب غیر مغربی ریاستیں نہ صرف ریاستی تکمیل کے مراحل میں ہیں بلکہ ریاست کو مرکزی حیثیت دینے کا مرحلہ بھی ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ جہاں مغربی ریاستیں مکمل ہو چکی ہیں وہاں غیر مغربی ریاستیں ابھی اس بات کو سمجھ پائی ہیں کہ ریاست کیوں ضروری ہے۔ اسی ضرورت کو سمجھ کر ہی ریاستی قوانین کی مضبوطی کی بات ہو رہی ہے۔ غیر مغربی معاشروں کے اندر اب تک انتشار کی کیفیت ہے اور ریاستی وجود کو ہی امن و امان کے لئے ضروری قرار دیا جارہا ہے۔
لیکن غیرمغربی (ایشیائی )معاشروںمیں ریاست کا وجود اب بھی ضروری ہے نہ ہی یہ اتنے
Mature
ہوئے ہیں کہ ریاستی وجود کی نفی کرسکیں اور نہ ہی کوئی ایسا سیاسی نظام زیرِ غور ہے جس کی بدولت
Order
قائم ہو سکے۔ ان معاشروں میں ریاست کی اب بھی اشد ضرورت ہے۔ گوکہ یہ گفتگو ابھی اپنے مقام تک نہیں پہنچی لیکن ریاستی وجود پر سوالیہ نشان مشرقی اقوام کے لئے زہرِ قاتل ثابت ہوسکتا ہے۔ مشرقی اقوام نے جب ریاست کو Order
کے لئے ضروری سمجھ لیا ہے تو اب ایک ایسا نظام قائم ہو چکاہے کہ جس میں یہ اقوام ترقی یافتہ مغربی اقوام کے مقابلے میں کھڑے ہونے کو تیار ہیں۔ ریاست ہی ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے اور افراد ریاستی قوانین کے تابع رہنا سیکھ چکے ہیں۔ اس نظریاتی اور ریاستی سوال کی کشمکش میں ریاستی وجود کے دوام کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ خاص طور پر مشرقی معاشروں میں۔
مغربی دنیا میں ریاستی وجود پر سوالیہ نشان صرف علمی نوعیت کا نہیں بلکہ عین سیاسی ہے۔ علمی بحث اپنی جگہ موجود ضرورہے لیکن اس کے مقاصد سیاسی ہیں۔ ان سیاسی مقاصد میں
Intellectual Frustration
ہے جوعلمی دنیاکے اندر اٹھنے والے سیاسی مکالموں کی بدولت ہے۔ اگر ہم مکالموں کو تنقیدی نظر سے دیکھیں تو مسئلہ ریاستی وجود کا نہیں بلکہ ریاست کے اندر جمہوری اور غیر جمہوری طبقات کا ہے۔ مغرب میں جمہوریت پر تنقید ہو رہی ہے اور علمی بحث یہ ہے کہ ریاست کا وجود خطرے میں ہے کیونکہ جمہوریت اور ریاست لازم و ملزوم ہیں۔ اس قضیے کو بنیاد بنا کر
Populism
کو ریاستی وجود کی نفی قرار دیا جارہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مشرقی معاشروں کے سیاسی سکالرز کہاںکھڑے ہیں۔ اگر اس علمی بحث کو مغربی معاشروں میں سیاسی رنگ دے کر ریاستی وجود پر سوالات اُٹھ رہے ہیں توکیا مشرقی دنیا کے سکالرز کو بھی اس بحث میں کودنا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ کیونکہ مغربی ریاستیں مضبوط ہیں اور ریاستی وجود پر سوال سے ان ریاستوںکے وجود کو کوئی خطرہ نہیں۔ اگر خطرہ ہے تو صرف مشرقی دنیا کی ریاستوں کو جو نہ ہی اتنی مضبوط ہیں کہ ان سوالیہ نشانات کی نفی کرسکیں اور نہ ہی یہ معاشرے اتنے

Mature

ہیں کہ اس علمی بحث کے سیاسی محرکات کو سمجھ سکیں لہٰذا مشرقی سکالرز کا فرض بنتا ہے کہ ریاست کی مضبوطی اور اس کے وجود کو قائم رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ اگر مابعد ریاست کی بحث مشرقی معاشروں میں چھڑ گئی اور اس کے سیاسی محرکات کو جامع انداز میں نہ سمجھا گیا تو مضبوط ہوتی مشرقی ریاستیں مزید کمزور ہوں گی اور ترقی کا سلسلہ رک جائے گا۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

مشرقی اقوام نے جب ریاست کو
Order
کے لئے ضروری سمجھ لیا ہے تو اب ایک ایسا نظام قائم ہو چکاہے کہ جس میں یہ اقوام ترقی یافتہ مغربی اقوام کے مقابلے میں کھڑے ہونے کو تیار ہیں۔ ریاست ہی ترقی اور خوشحالی کی علامت ہے اور افراد ریاستی قوانین کے تابع رہنا سیکھ چکے ہیں۔ اس نظریاتی اور ریاستی سوال کی کشمکش میں ریاستی وجود کے دوام کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ خاص طور پر مشرقی معاشروں میں۔

*****

 
Read 143 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter