مصنوعی ذہانت کامستقبل کی دفاعی قوت میں استعمال

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: شفق بھٹی

دورِ جدید میں بڑھتے ہوئے پیچیدہ مسائل کے حل کے لئے ٹیکنالوجی کو جدید سے جدیدتر بنایا جا رہا ہے۔ اسی ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آرٹی فیشل انٹیلی جینس یعنی مصنوعی ذہانت نے انتہائی سنجیدہ موڑ لے لیا ہے۔ اگرچہ آرٹیفیشل انٹیلی جینس اپنے ابتدائی دور سے گزر رہی ہے لیکن مستقبل میں بہت سے ایسے ناقابل یقین تکنیکی منصوبوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جو کہ تمام نوع بشر کو ایک نہایت حیرت انگیز دور میں لے جائیں گے۔ جس کے بعد ایک ایسا مشینی دور شروع ہو جائے گا جس کا فی الوقت تصور بھی ہمیں چونکا دینے کے لئے کافی ہے۔

masnoizahanatka.jpg


گویا آرٹی فیشل انٹیلی جینس نے صنعتی، کاروباری، عسکری خواہ ہر میدان میں ایسی تیز رفتاری سے ترقی حاصل کی ہے کہ ہر گزرتے وقت کے ساتھ اس انٹیلی جینس کا معیار بلند سے بلند تر ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے تحت کمپیوٹر کو انسانی دماغ سے زیادہ تیز اور خود فیصلے لینے کے لئے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بہت جلد انسانوں کی جگہ دنیا کے ہر میدان میں کمپیوٹرائیزڈ مشینوں کا دور ہو گا۔


بدلتے وقت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ جنگ و جدل کا پورا نظام تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں سے دنیابھر کی عسکری افواج نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے۔ وہ ہتھیار ابھی جن کا تصور بھی کیا جانا ممکن نہیں تھا وہ بھی دنیا میں نہ صرف متعارف کروائے گئے بلکہ بعض جنگ کے میدانوں میں بہت کامیابی سے استعمال میں بھی لائے گئے۔ ٹیکنالوجی کو عسکری اور جنگی میدان میں بہت اہم کردار حاصل ہے۔ جس کے تحت بنا پائلٹ کے ڈرون مسلسل نگرانی اور اہداف پر تیز حملوں کے لئے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ روبوٹس کو جنگی حالت میں دھماکہ خیز آلات کو ناکارہ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ فی الحال مختلف ترقی یافتہ ممالک کی افواج مزید آرٹی فیشل انٹیلی جینس کی تحقیق اور تجربات کروانے کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈنگ کر رہے ہیں جس کا مقصد ایسے خود مختار روبوٹس کی پیداوار ہے جو جنگی میدان میں انسانی فوجیوں کی ضرورت کو گھٹا کر خود کٹھن حالات میں ملک و قوم کی بقا کے لئے کافی ہوں گے۔


فی الوقت جنگی دور کو بدلنے میں سب سے بڑا ہاتھ مصنوعی ذہانت سے پروگرام شدہ ان خودمختار قاتل روبوٹس کا ہے جو کہ اپنے ہدف کو خود ڈھونڈ کر تباہ کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عنقریب ان روبوٹس میں ایسی جدت لائی جا رہی ہے جس کے بعد یہ نہ صرف خود فیصلہ لینے کے لائق ہوں گے بلکہ ہوبہو اپنے ہی جیسے روبوٹس بنانے کے بھی قابل ہوں گے۔ اب ان خبروں میں کتنی صداقت ہے یہ گزرتے وقت کے ساتھ خود ہی منظر عام پر آ جائے گی۔ جبکہ فی الوقت ٹیکنالوجی کے ماہر بعض ترقی یافتہ ممالک کا کھلا دعویٰ ہے کہ وہ ایسے
Biorobots
تیار کر رہے ہیں جن میں آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے علاوہ بائیو لوجیکل خصوصیات بھی شامل ہوں گی۔
جس قدر تیزی سے مصنوعی ذہانتکی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں متعارف ہو رہی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مستقبل قریب میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسی حیران کن تبدیلیاں کی جائیں گی جو کہ جنگ وجدل کا نظام بدل دیں گی۔ محققین کے مطابق مستقبل میں مختلف ممالک کی
National Security Policy
میں شامل نیوکلیائی ایرو سپیس، سائبرسپیس اور بائیو ٹیک کے منصوبوں میں آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے لئے انتہائی حیرت انگیز نمونے نمائش کے لئے پیش کئے جائیں گے۔ انہی نمونوں کو کامیابی سے مکمل کرنے اور ان پر مزید تجربات اور تحقیقات کروانے کے لئے بین الاقوامی سطح پر اتنی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس سے عسکری میدان میں خود مختار روبوٹس اور سافٹ ویئرز میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھا جائے گا۔ جبکہ بہت سے ماہرین کے مطابق مستقبل کے اس مشینی دور میں ان خود مختار روبوٹس کو انسانی فوجیوں کی جگہ جنگ کے میدان میں مخالف ممالک میں جاسوسی اور خوفناک تباہی مچانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ فی الحال یہ تکنیکی ترقی ان ترقی یافتہ ممالک کو بے پناہ فائدہ پہنچا رہی ہے جنہوں نے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ انہی ممالک میں امریکہ کی عسکری طاقت شامل ہے۔ جس نے اپنے خود مختار زمینی روبوٹس اور بنا پائلٹ کے ہوائی جہازوں کے ذریعے عراق اور افغانستان کی سڑکوں پر زیرزمین بچھے بمبوں کو نہ صرف کھوج کر ناکارہ بنایا بلکہ فوجیوں کے لئے زمینی راستوں کو ہر قسم کی بارودی سرنگوں سے بھی صاف کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ
Warton Aerodrome Lancashire, BAE Systems
نے ایک ایسے حیرت انگیز طیارے masnoizahanatka1.jpg
Taranis
کو لانچ کیا ہے جس کی تعمیری لاگت 140ملین یورو سے بھی زیادہ ہے۔

Taranis
ان چند روبوٹس میں سے ایک ہے جو مکمل طور پر خود مختار ہیں۔ اس طیارے کی خصوصیات ہیں کہ یہ دشمن کے علاقے میں گھس کر نہ صرف بمباری اور جاسوسی کر سکتا ہے بلکہ پائلٹ یا بِنا پائلٹ والے دشمنوں کے ہوائی جہازوں کے خلاف خود آسانی سے دفاع بھی کر سکتا ہے۔ یہ طیارہ اب تک کا بنایا گیا وہ واحد طیارہ ہے جس کو آپریٹ کرنے کے لئے کوئی بھی انسان درکار نہیں ہے۔

Boston Consulting Group
کے مطابق 2000سے 2015 کے درمیان

AI

سے لیس روبوٹس کی تکمیل اور تحقیق کے لئے بین الاقوامی سطح پر اخراجات 2.4 ارب ڈالر سے تین گنا بڑھ کر 7.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ اب سے 2025تک اس کی کل لاگت دو گنا ہو کر16.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اپنے ملک کی عسکری طاقت میں اضافے کے شوقین تین طاقتور ملک روس، چین اور امریکہ مصنوعی ذہانت کی اس خوفناک دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ ان تینوں ممالک کے مطابق یہ ذہین مشینری مستقبل میں قومی سلامتی کے لئے انتہائی اہم ہے۔ امریکہ جو کہ منفرد اور اعلیٰ درجے کی

AI

ٹیکنالوجی کا گھر مانا جاتا ہے اس کو ہر بار کی طرح چین نے اس معاملے میں بھی سخت مقابلہ دیا ہوا ہے۔ امریکہ اور چین کی ٹیکنالوجی میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی اس دوڑ میں روس کی رفتار ان دونوں ممالک سے کچھ دھیمی ہے۔ لیکن 2025تک روس کی جانب سے اپنے جنگی سامان میں 30 فی صد خودمختار روبوٹس کو شامل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ جبکہ جولائی 2017میں چین کی طرف سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2030 تک اس کے آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے جدید ترین روبوٹس دنیا بھر میں حکومت کریں گے جن کی صنعتی طور پر ممکنہ لاگت 150ارب ڈالر تک ہو گی۔ فی الوقت چین دنیا کی تاریخ کا وہ واحد ملک ہے جس کو جدید ٹیکنالوجی متعارف کروانے کے لئے کسی بھی ملک سے مالی اور تکنیکی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ کے برعکس چین کو اپنے ملک کی کل آبادی کا نجی ڈیٹا اکٹھا کرنے میں اس کی عوام کی طرف سے کوئی پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس لئے چین بآسانی اپنے 750ملین انٹرنیٹ صارفین کا ڈیٹا اٹھا سکتا ہے۔ جس سے وہ اپنے ملک کے تقریباً ہر شہری کی نجی
IDs
تک رسائی حاصل کر کے زیادہ سے زیادہ انسانی ڈیٹا کو اپنے سسٹم میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اسی ڈیٹا کے ذریعے چین نے
Facial Recognition
جیسی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ جس کو استعمال میں لاتے ہوئے اس نے اپنے بنائے ہوئے آرٹی فیشل انٹیلی جینس کے روبوٹس میں چہروں کی شناخت آسانی سے کرنے کی صفت شامل کر دی ہے۔
دنیا کی ان تین سب سے بڑی عسکری طاقتوں کا ٹیکنالوجی پر مبنی یہ مقابلہ اس سے قبل ترقی یافتہ ممالک میں ہونے والے نیوکلیاتی مقابلوں سے قدرے مختلف ہے۔ کیونکہ یہ ٹیکنالوجی کسی بھی ملک کی عسکری و تجارتی اور صنعتی ترقی میں بہت بڑی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر کے محققین کے مطابق آرٹی فیشل انٹیلی جینس کی وجہ سے ان طاقتور ممالک کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔ Pricewaterhouse Coopers
نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 2030 تک عالمی
GDP
بڑھ کر 15.7کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گی جس میں تقریباً آدھا منافع چین کی جدید آرٹی فیشل انٹیلی جینس ٹیکنالوجی سے حاصل ہو گا۔
PWC
کا ایک اور اندازہ ہے کہ آنے والے تیرہ سالوں میں چین سمیت ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے دیگر ممالک کی کل

GDP

میں 7کھرب ڈالر تک کا منافع دیکھا جا سکتا ہے۔
جہاںیہ عالمی طاقتیں جلد از جلد اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا پر حکومت کرنے کے لئے دن رات ایک کر رہی ہیں وہیں ٹیکنالوجی کے بعض ماہرین کو خدشات ہیں کہ یہ روبوٹس مستقبل میں اتنے خودمختار ہو سکتے ہیں کہ انسانوں کو ان سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی کے پیش نظر امریکی سیکرٹری دفاع
Ash Carter
نے روبوٹس سے متعلق چند اصولوں سے تمام ممالک کے فوجی احکام کو آگاہ بھی کیا۔ ان اصولوں کے مطابق روبوٹس کو سختی سے اپنے خفیہ سسٹم کی ہیکنگ سے باز رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نیم خودمختار روبوٹس کو اپنا نیا ہدف خود سے چننے کی آزادی نہیں دی گئی۔ جبکہ انسانی نگرانی میں موجود یہ روبوٹس غیر انسانی اہداف جیسا کہ اپنی طرف سے آتے میزائل روبوٹس اور طیارے وغیرہ پر خود اپنی مرضی سے کبھی بھی نشانہ باندھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مکمل طور پر خود مختار روبوٹس کو ایک مقررہ حد سے زیادہ جارحانہ اور ذہین نہ بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ Carter
کے مطابق ان سب اصولوں کا مقصد انسانوں کو حال اور مستقبل میں روبوٹس اور خودمختار سسٹم سے زیادہ طاقتور اور ذہین رکھنا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 160 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter