قائدِاعظم اور مسلم قومیت کا تصوّر

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: سید بہادر علی سالک

برصغیر کے کروڑوں مسلمان اُن کے شیدائی تھے گلگت بلتستان کے مسلمانوں نے بھی مسلم قومیت کی بنیادپر ہی قائدِ اعظم کی پکار پر لبیک کہا تھا ہمیں پاکستان کو نعمت سمجھ کر اس کی قدر کرنی چاہئے

بابائے قوم کی سالگرہ، برسی، یومِ پاکستان اور یومِ آزادی پوری قوم ستر سالوں سے روایتی جوش وجذبے سے مناتی آرہی ہے اور اُن کے کارناموں کا ذکربھی روایتی انداز میں کیا جاتا رہا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے عملی طور پر اُن کی تعلیمات اُن کے دئیے ہوئے زریں اُصول، ایمان، اتحاد اور تنظیم کو پس پشت ڈال دیا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوجوان نسل برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی تحریک آزادی، اُن کی عظیم قربانیوں، شہداء کے خون، بابائے قوم کی ولولہ انگیز قیادت اور اُن کے عظیم قائدانہ کردار اور آج ہم جس آزادی اور سکھ کا سانس لے رہے ہیں اُس سے بخوبی آگاہ نہیں یہ نسل پاکستان کو صرف ایک ملک کے طور پر جانتی ہے۔ وہ اس کے قیام کے اصل مقاصد اوراغراض سے ناآشنا ہے۔یہ قوم کی بڑی بدقسمتی ہے۔ بابائے قوم پہلے تو کانگریس میں شامل ہوئے اور ایک قوم کے داعی بنے لیکن بہت جلد اُن پر ہندوئوں کی چالاکیوں اور سازشوں کا راز کھلا تو وہ کانگریس کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ وہ دل برداشتہ ہوکر انگلستان چلے گئے لیکن مفکر اسلام، شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے انہیں مسلمانوں کا باصلاحیت لیڈر مانتے ہوئے واپس ہندوستان آکر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے اوربے سہارا مسلمانوں کی کشتی ساحل مرادپر پہنچانے کی استدعاکی کیونکہ کروڑوںمسلمان انگریزاورہندو دونوں کی چکی میں پس رہے تھے۔ انگریزوں اور ہندوئوں نے انڈین یونین سکیم تیارکی تھی۔ دوسری عالم گیر جنگ کے وقت مسلمان انتشار کا شکار تھے لیکن مسلمانوں نے اپنی قوت کو یکجا کرکے کانگریس کو 1917ء میں معاہدۂ لکھنئو پر مجبور کیا جس میں مسلمانوں کے حقوق تسلیم کئے گئے لیکن یہ معاہدہquidarmuslimquomiat.jpg تحریکِ خلافت میں ٹوٹ گیا اُس وقت گاندھی اس تحریک کی قیادت کررہے تھے اور کانگریس اس پوزیشن میں تھی کہ جو چاہے انگریزوں سے منوالے۔ مسلمان بے یارومددگار ہوچکے تھے یہ مسلمانوں کے لئے ایک تاریک دور تھا ایسے میں دوچیزوں نے ماحول کو یکسر تبدیل کردیا ۔ ایک قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال ، بے لوث اور باصلاحیت قیادت کیونکہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے قانون دان ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت زیرک سیاست دان بھی تھے جو انگریزوں اور ہندوئوں کے منصوبوں اور شاطرانہ چالوں کو جانتے تھے ۔ دوسری چیز جغرافیہ تھی جس نے ماحول کو بدل دیا ۔ مسلمان یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ شمال مشرق اور شمال مغرب کا اکثریتی علاقہ اُ ن کا وطن ہے جہاں وہ صدیوں سے رہتے آ رہے ہیں۔ ضرورت صرف اتنی تھی کہ اس علاقے کو باقاعدہ ایک آزاد، الگ اور خود مختار مملکت قرار دیا جائے تاکہ ہندوئوں کی غلامی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات مل سکے۔ ان چیزوں کے تناظر میں بابائے قوم نے انگریزوں اور ہندوئوں کے چالاک اور شاطرانہ دماغوں، خصوصاً بھارتی سیاست دانوں کی منافقانہ پالیسیوں کا بھرپور طریقے سے سیاسی میدان میں مقابلہ کیا۔ اُنہوں نے پورے عزم، قوتِ ایمانی، اللہ تعالیٰ کی مدد اور کروڑوں مسلمانوں کی حمایت سے اکیلے آزادی کی جنگ لڑی اور فتح نے ان کے قدم چومے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے مسلمانوں کے درمیان کبھی اختلاف نہیں رہا۔ تحریک پاکستان کے حمایتی اور مخالفین دونوں اسلامی نظام کے داعی تھے لیکن اِن دونوں میں بنیادی فرق یہ تھا کہ مسلم لیگ ایک الگ وطن چاہتی تھی جہاں اسلامی نظام نافذہو لیکن مولانا ابوکلام آزاد اور جمعیت العلمائے ہند صرف زبانی طور پر اسلام کی خوبیاں بیان کرتے تھے اور ہندو ماحول کو اپنے ساتھ لئے ہوئے تھے۔ مولانا آزاد نے پاکستان بننے کے بعد برملا کہا کہ جب پاکستان ایک الگ ملک بن گیا ہے تو اب اس کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اس نئی مملکت کو طاقت ور بنائیں۔ مولانا آزاد جیسے بڑے عالم دین اور سیاست دان نے جو پاکستان کے قیام کے لئے جو بھرپور کردار ادا کرسکتے تھے، نہیں کیا۔ وہ ہندوستان میں ہی رہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی قیادت قائداعظم کی قسمت میں لکھ دی اور ایک ایسے خواب کو جو بہت مشکل اور صبرآزما تھا ایک حقیقت میں تبدیل کرکے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بہت سے جید علمائے کرام نے قائدِاعظم کی بھرپور حمایت کی جن میں علامہ شبیر احمد عثمانی جیسے سچے عالم دین اور پاکستانی شامل ہیں ان حضرات کاشمال مغربی سرحدی صوبے(موجودہ کے پی کے) کے لوگوں کو پاکستان میں شامل کرنے میں تاریخی کردار ہے۔ انگریزوں سے آزادی حاصل کرکے ہم بھارت میں رہتے ہوئے مسلم قومیت کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہم مکمل طور پر اپنے دین کے مطابق زندگی گزارسکتے تھے لیکن بابائے قوم بھارتی ہندوئوں کی باتوں میں نہیں آئے اور الگ وطن پاکستان حاصل کرکے ہی دم لیا۔بے شک آج پاکستان دنیا میں نظریے کے نام پر قائم ہونے ولا واحد اسلامی ملک ہے جس کی مسلمان جتنی بھی قدر کریں کم ہے اور یہ اسلام کا عظیم قلعہ ہے۔ ہمیں اپنی نظریاتی اساس اور دو قومی نظریے کو مضبوط بنانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم اسلامی ممالک میں پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ہم میں پاکستان کا وہ ولولہ، جذبہ، قومی وحدت ، یکجہتی اور سلامتی کے معاملات مفقود ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اگر یہ نظریہ مضبوط نہ رہا تو آنے والے سالوں میں اس مملکت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے اور قائدِاعظم کے دوقومی نظرئیے کے تحت قائم ہونے والی مملکت پاکستان کے وجود کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ آج ہم بھارت کے مسلم اکثریتی علاقوں اور خصوصاً مقبوضہ کشمیر کے حالات دیکھتے ہیںتو ہمارا کلیجہ پھٹ جاتا ہے کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ ظلم وستم اور ریاستی دہشت گردی ، مذہبی انتہاپسندی کا بازار گرم ہے مگر اللہ تعالیٰ کی تائید وحمایت ہمارے ساتھ ہے۔ کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ غیر فطری چیز ہے جو کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔ قائد اعظم نے فرمایا تھاکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ان شاء اللہ برہان وانی کی شہادت اور لاکھوں کشمیریوں کی شہادت ضرور رنگ لائے گی اور ''کشمیر بنے گا پاکستان'' کا نعرہ مکمل ہوگااورقائدِاعظم محمد علی جناح کی یہ بات کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے سچ ثابت ہوگی۔ آج پاکستان کے اندر بھی کچھ ناعاقبت اندیش سیاست دان اور نام نہاد دانشور بابائے قوم کو سیکولرقرار دیتے ہیں۔ اگر وہ سیکولر ہوتے تو ان کو پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی وہ متحدہ ہندوستان کے بڑے لیڈر بن سکتے تھے۔مختلف مواقع پر اُن کی تقریروں اور فرمووات کو ایسے لوگ غلط رنگ دیتے ہیں۔
بابائے قوم سے جب پاکستان میں نظام کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے برملا کہا تھا کہ یہاں وہی نظام ہوگا جو حضور خاتم النبیین ۖ نے مدینہ منورہ میں قائم کیا تھا جہاں ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے دین کے مطابق عبادت کی آزادی ہوگی کیونکہ دین اسلام میں کسی پر جبر نہیں ہے۔ پاکستان کے قومی پرچم میں سفید پٹی بھی اقلیتوں کی نمائندگی ظاہر کرتی ہے۔بدقسمتی سے آج ہم قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی کی اس ہرزہ سرائی کو بھی برداشت کرتے ہیں کہ فاٹا پاکستان کا حصّہ نہیں وہ آزاد ہیں اور اگر پاکستان (صوبہ کے پی کے) میں شامل کریں تو افغانستان ناراض ہوگا۔ کیا ہم افغانستان کے غلام ہیں۔اگر فاٹا پاکستان کا حصّہ نہیں تو قومی اسمبلی میں اور سینیٹ میں 1973ء کے آئین کے تحت نمائندگی کیوں دی ہوئی ہے؟ ایسے معاملات میں غداری کا مقدمہ بنتا ہے۔ کل کو کوئی شخص ڈیورنڈلائن کی بنیاد پر پشتو نستان کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ دوسری جانب گلگت بلتستان والوں کو جو اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں مگر بعض معروضی حالات کی وجہ سے مکمل آئینی اختیار سے محروم ہیں۔ کسی حد تک موجودہ نظام سے شکایت ہے۔ یہاں کے لوگوں نے بابائے قوم کی آواز پر بغیر کسی شرط کے مسلم قومیت کی بنیاد پر پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ صرف اس لئے کیا کیونکہ پاکستان کے نام پر اسلامی مملکت قائم ہوچکی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے بے سروسامانی کے عالم میں ڈوگروں کو ڈنڈوں اور پتھروں سے شکست دے کر آزادی حاصل کی اور اپنے علاقے کو پلیٹ میں سجا کر پاکستان کو پیش کیا تھا۔ یہ ان علاقوں کے عوام کی بے پناہ قربانیوں کا صدقہ ہو گا کہ وہ پاکستانی ریاست میں مکمل طور پر جذب کر لئے جائیں۔ مقدمہ کشمیر اور تاریخ کا جبر ایک چیلنج ہے۔ یقینا ہمیں اس کا کوئی ایسا حل ڈھونڈنا ہو گا کہ کشمیر کاز کو بھی نقصان نہ پہنچے اور گلگت و بلتستان کی عوامی امنگیں بھی بر آئیں۔ ٹیکسوں کے نفاذ کے لیے تو حکومت پاکستان بہت سرگرم اور بہت جلدی میں ہے لیکن آئینی طور پر گلگت بلتستان کو پاکستانی بنانے کے لئے تیار نہیں۔یہ سی پیک کو ناکام بنانے کی بین الاقوامی اور اندرونی ایجنٹوں کی یقینا سازش بھی ہوسکتی ہے۔
یقینا بابائے قوم کی روح قبر میں تڑپ رہی ہوگی کیونکہ پاکستان کا علاقہ ہونے اور پاکستانی ہونے کے باوجود فاٹا ( فاٹاآئینی طور پر پاکستان کا حصّہ ہے) اور گلگت بلتستان کے محب وطن لوگوں کی خواہشات کا خون کیا جارہا ہے۔ سیاست شائد ان لوگوں کے ہاتھوں مجبور ہے کیونکہ اس کے کچھ ووٹ ہیں اور پاکستان توڑنے کی دھمکی دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب گلگت بلتستان کے عوام کو نظر انداز کیا جارہا ہے کیونکہ ہمارے بارے میں نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ ہی ہم پاکستانی حکمرانوں کو ووٹ دینے کی پوزیشن میں ہیں۔
ان کی غدارانہ باتیں کہ جب فاٹا کو ببانگ دہل افغانستان کا حصہ کہا گیا اور گلگت بلتستان کے عوام کی حب الوطنی میں لپٹی بے چینی کو ایک ترازو میں تولنا انصاف کا خون ہے۔ شائد کہ گلگت بلتستان کے عوامی اور سیاسی نمائندوں کو فرصت نہیں جو ان کاموں کی طرف توجہ دیں۔ اب ان علاقوں کے عوام کو توقع یا بھروسہ ہے تو صرف پاکستان کے اداروں اور خصوصی طورعدلیہ پر، کیونکہ عدلیہ جی بی کے بارے میں 28مئی 1999ء کو ایک تاریخی فیصلہ دے چکی ہے۔ ان علاقوں کے عوام کو گرین سگنل کا انتظا رہے کہ وہ کب ان علاقوں کو مکمل طور پر دوسرے صوبوں کے برابر دیکھیں گے۔ کشمیر کاز اور گلگت بلتستان کی عوامی خواہشات کا احترام آج کے

Statesmen
کے لئے ایک چیلنج ہے۔
پاکستان پائندہ باد۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.


پکار
(آپریشن ردالفساد کی کامرانی پر)
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
سرفروش بیٹوں کو، صف شکن جوانوں کو
گونجتے ہوئے نکلے، شیر اب کچھاروں سے
موت منہ چھپاتی ہے، پاک شہسواروں سے
سینچتے لہو سے ہیں، وقت کو، زمانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
رکھ کے سر ہتھیلی پر، قرض کو نبھاتے ہیں
کودتے ہیں شعلوں میں، دیس کو بچاتے ہیں
زیرِپا، یہ رکھتے ہیں، ظلم کے جہانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
ناز ہر کسی کو ہے، اپنے جانثاروں پر
نعرہ زن دلیروں پر، آہنی حصاروں پر
قوم کا سلام آیا، عزم کی چٹانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
ہو رہی ہے سرکوبی، شرپسند عناصر کی
مژدہ کامرانی ہے، ضرب یہ عساکر کی
بے نشان کر دیں گے، سارے بدگُمانوں کو
دیس نے پکارا ہے، اپنے پاسبانوں کو
پروفیسر اکرم باجوہ


قائدِاعظم کی نگاہ میں علامہ اقبال کا مقام

*****

 
Read 132 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter