کیا تقسیمِ ہند ناگزیر تھی؟

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: فاروق اعظم

پاکستان کو قائم ہوئے 70برس بیت چکے، لیکن عمومی حلقوں میں یہ سوال اپنی جگہ اب بھی برقرار ہے کہ کیا واقعی ہندوستان کی تقسیم ناگزیر تھی؟ اگرچہ سوال ایک جملے پر مشتمل ہے، تاہم اس کا جواب مفصل بحث کا متقاضی ہے۔ تقسیمِ ہند کا مطالبہ 1940ء کی قراردادِ پاکستان کے موقع پر یکایک سامنے نہیں آیا تھا، بلکہ یہ آرزو کئی دہائیوں پر محیط اور متعدد پہلوئوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی۔ ہندوستان کی تقسیم کیوں ضروری تھی؟ اس کے لئے تاریخی، سیاسی، سماجی اور مذہبی پہلوئوں کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔ سب سے پہلے تقسیمِ ہند کے تاریخی پہلو پر نظر ڈالتے ہیں۔
تاریخی پہلو:
ہندوستان میں نسلِ انسانی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان ابتدا ہی سے بت پرستوں کا گہوارہ رہا ہے۔ اگرچہ برصغیر میں اسلام کی کرنیں عہد رسالت میں ہی پہنچ گئی تھیں۔ تاہم باضابطہ طور پر ہندوستان میں مسلم معاشرے کا قیام اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور حکومت 92 ہجری میں محمد بن قاسم کے ہاتھوں ہوا۔ اس تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ دیبل پر حملے کے لئے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف ثقفی کیوں مجبور ہوئے تھے۔ کتبِ تاریخ میں بالتفصیل اس کا تذکرہ موجود ہے۔ محمد بن قاسم کی پیش قدمی سے ساحلِ سندھ سے ملتان اور کشمیر تک کا علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔ بعد کے ادوار میں قریباََ تین سو برس تک عربوں نے سندھ پر حکومت کی۔ سلطان محمود غزنوی کے دورِ اقتدار میں 997ء سے 1030ء تک غزنی سے ہندوستان پر سترہ حملے کئے گئے۔ ان کے ہاتھوں 10kiataqseemehind.jpg22ء میں پنجاب، اسلامی حکومت کے ماتحت آیا اور لاہور، اسلامی تہذیب کا مرکز بن کر ابھرا۔


سلطان شہاب الدین غوری کا زمانہ دیکھا جائے تو 1192ء میں دہلی اور اجمیر کے ہندو حکمران پرتھوی راج شکست سے دوچار ہوئے۔ دوسری طرف قطب الدین ایبک نے گوالیار اور گجرات پر اسلام کا پرچم لہرایا۔ جبکہ بختیار خلجی نے بہار اور بنگال کو فتح کرکے اسلامی حکومت میں شامل کیا۔ شہاب الدین غوری کی وفات کے بعد 1206ء میں قطب الدین ایبک نے سلطنتِ دہلی کی بنیاد رکھی۔ 1526ء میں وسطی ایشیا کے مغل حکمران ظہیرالدین بابر نے سلطنت ِدہلی کی جگہ مغلیہ سلطنت قائم کی، جو 1857ء میں اختتام پذیر ہوئی۔


1857ء کے بعد برطانوی راج میں ہندوستانی مسلمانوں کی حالتِ زار قدیم سپین کے مسلمانوں سے مختلف نہیں تھی۔ تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوگا کہ جس سال محمد بن قاسم نے دیبل میں راجہ داہر کو قتل کیا تھا، عین اسی سال 92 ہجری میں اندلس پر مسلمانوں نے لشکر کشی کی۔ موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کے ہاتھوں اسلامی سلطنت کا حصہ بننے والا سپین، دمشق کے بعد آٹھ صدیوں تک اموی خلفاء کا مرکز رہا۔ آج سپین کی صورت حال کسی سے مخفی نہیں۔ سقوطِ اندلس ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بھی تاریخی سبق چھوڑ گیا تھا کہ اسلامی اقدار کی حفاظت اور مسلمانوں کے محفوظ مستقبل کی خاطر جدوجہد نہ کرنا دائمی غلامی کا طوق پہنا سکتا ہے۔


سیاسی پہلو:
تقسیمِ ہند کے تاریخی پہلو کی مزید وضاحت کے لئے برصغیر کے سیاسی منظر نامے کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہند میں مسلم سلاطین کی آمد سے قبل ہندوستان کی سیاست کا کوئی مرکز و محور نہیں تھا۔ برصغیر کے منقسم شدہ ٹکڑوں پر ہندو مہاراجوں اور پنڈتوں کی حکومتیں اپنی اپنی جداگانہ شناخت رکھتی تھیں۔ مسلمانوں نے اس تفریق کو ختم کرکے یہاں مرکزی حکومت کی داغ بیل ڈالی۔ رفتہ رفتہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت زوال پذیر ہوئی اور انگریز جو تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے تھے، یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی پر آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کی لال قلعے تک محدود حکومت بھی قائم نہ رہ سکی۔ اب ہندوستان کے کاروبارِ حکومت اور ریاستی نظم و نسق کو چلانے کے لئے برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کا خاتمہ کرکے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے ہند کا عہدہ تخلیق کیا اور ہندوستانی حکومت کو برطانوی پارلیمنٹ کے ماتحت کردیا۔ برطانیہ نے ہندوستان میں انتخابی نظام رائج کرکے جمہوری طرز سیاست کو فروغ دیا۔
1885ء میں کانگریس قائم کی گئی۔ جس کا دعویٰ بلا تفریق تمام ہندوستانیوں کی نمائندگی کا تھا، لیکن اس پر عملاََ ہندوئوں کا تسلط رہا۔ ان دنوں برصغیر میں مسلم زعماء نے کئی اصلاحی تحریکوں کا آغاز کر رکھا تھا۔ ہندوستانی مسلمان ابتدا میں جمہوری طرزِ سیاست سے کنارہ کش رہے، لیکن یہ ُدوری زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ مسلمان بہت جلد اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ کانگریس برطانوی حکومت کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ چونکہ انگریز مسلمانوں کے سیاسی حریف تھے، یہی وجہ ہے کہ برطانوی حکومت کی ہمدردیاں ہندوئوں کے ساتھ تھیں۔ اس کے لئے لمبے چوڑے دلائل کی ضروت نہیں۔ تفصیل کے خواہش مند 1905ء کی تقسیم بنگال اور ہندوئوں کے ردعمل پر 1911ء میں اس کی منسوخی کا مطالعہ کریں، جو یہ سمجھنے میں آپ کی مدد کرے گی کہ ہندوستان میں نہ صرف مسلم بادشاہت کا خاتمہ ہندوئوں کی دلی آرزو تھی، بلکہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کو محکوم بناکر رکھنا بھی ان کی سب سے بڑی خواہش تھی۔
ہندوستانیوں کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کی دعویدار کانگریس نے جب تقسیمِ بنگال کے ردعمل میں اپنی ہندوانہ ذہنیت کا برملا اظہار کیا تو مسلمانوں کو اپنی بقا اور محفوظ مستقبل کی فکر لاحق ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف آل انڈیا مسلم لیگ قائم کی بلکہ 1909ء کی منٹو مارلے اصلاحات کے ذریعے جداگانہ انتخاب کا حق بھی تسلیم کروایا۔ بعد میں 1916ء کے میثاقِ لکھنؤ کے تحت قائداعظم محمد علی جناح کی کوششوں سے کانگریس ،مسلم لیگ کے قریب ہوئی اور مسلمانوں کے لئے جداگانہ انتخاب کی بھی حمایت کی، لیکن یہ قربت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی اور رہتی بھی کیسے؟ جب ہندو یہ تہیہ کرچکے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ہر صورت پس منظر میں ہی رکھنا ہے۔ تحریک خلافت کے دوران بھی گاندھی جی اور کانگریس کا مکروہ چہرہ مزید واضح ہوگیا تھا۔ جبکہ رہی سہی کسر 1928ء میں نہرو رپورٹ نے پوری کردی۔ پنڈت موتی لعل نہرو نے مذکورہ رپورٹ میں اپنی روایتی منافقت کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف جداگانہ انتخاب کو مسترد کردیا تھا بلکہ ہندوستان کو درجہ مستعمرات (Dominion Status) قرار دینے کی خواہش کا اظہار کرکے ہندوستان کی کامل آزادی کی بھی نفی کردی۔ مولانا محمد علی جوہر نے نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے قبول کرنے کا مطلب ہندوئوں کی دائمی غلامی ہے۔ اگر اس رپورٹ کے مطابق اصلاحات نافذ کی گئیں تو ہندوئوں کا غلبہ یقینی ہوگا۔
بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہندو رہنمائوں کی جارحانہ طرز سیاست کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمان سیاسی میدان میں دفاعی پوزیشن پر کھڑے تھے۔ ان حالات میں مفکر اسلام علامہ محمد اقبال نے اپنی سیاسی بصیرت اور دور اندیشی کی بدولت الٰہ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نہایت جامع اور مدلل خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اسلام ایک تمدنی قوت کی حیثیت سے زندہ رہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایک مخصوص علاقے میں اس کی مرکزیت قائم ہو۔ اس لئے میں ہندوستان اور اسلام کے بہتر مفاد میں ایک مسلم ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کرتا ہوں۔ (مکمل خطاب کے لئے دیکھئے آزاد بن حیدر کی کتاب ''آل انڈیا مسلم لیگ'' صفحہ 465 تا 486)
یہ پہلا موقع تھا کہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد میں اس مطالبے کو تقویت دینے کا اہم سبب 1937ء کی کانگریسی وزارتیں بنیں۔ کانگریس نے 37ء کے صوبائی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے دو سال کے قلیل عرصے میں ہی مسلمانانِ ہند پر ظاہر کردیا کہ اگر ہندوستان میں جینا ہے تو اپنی الگ شناخت ختم کرکے کانگریس میں ضم ہوجائیں۔ جسے مسلم لیگ نے سختی سے مسترد کرکے 23 مارچ 1940ء کو کانگریس پر واضح کردیا کہ ہندوستان میں ایک دوسرا فریق بھی ہے جسے مسلمان کہتے ہیں اور وہ کسی صورت بھی کانگریس کے پیچھے چلنے کو تیار نہیں ہے۔ 1945-46ء کے انتخابات بھی اسی بنیاد پر لڑے گئے، جس میں مسلم لیگ کا منشور یہ تھا کہ قیامِ پاکستان مسلمانانِ ہند کے قضیے کا واحد حل ہے۔ جبکہ کانگریس ہندوستان کی تقسیم کو گئو ماتا کے ٹکڑے کرنے کے مترادف سمجھتی تھی۔ لیکن مسلمان اپنے اس دعوے میں سچے ثابت ہوئے کہ ہندوستان کے مسلمان علیحدہ وطن چاہتے ہیں، کیونکہ یہ مسلم تشخص کی بقا کا ضامن ہے۔
سماجی پہلو:
برصغیر میں مسلمانوں کی آمد سے قبل ہندوستان عدم مرکزیت کا شکار تھا۔ ذات پات کی تقسیم نے ہندو معاشرے کو تاریکی میں دھکیل رکھا تھا۔ مسلمانوں نے اپنے عہد میں ہندوئوں کے طرز معاشرت پر دوررس اثرات مرتب کئے۔ مغل دور میں اورنگزیب عالمگیر کے اقتدار تک سیاسی استحکام کے ساتھ ہندوستان کی معاشرتی کیفیت بھی حد درجہ بہتر تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ رنگ زائل ہوتا گیا، یہاں تک کہ مسلمان اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
برطانوی راج میں ہندوستان ایک طرف سیاسی بحران سے دوچار ہوا، تو دوسری جانب مسلمانوں اور ہندوئوں میں معاشرتی تنازعات کی خلیج وسیع ہونے لگی۔ ہندو نہ صرف مسلمانوں کی عبادات اور طرز زندگی پر معترض ہوئے، بلکہ شعائر اسلام کی بے ادبی اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی بنیادوں کو بھی ڈھانے لگے۔ آریہ سماج کی تحریک کے پیچھے یہی مقاصد کارفرما تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں ویدی معاشرے کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ اسلام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1937ء کی کانگریسی وزارتوں نے تمام تر توجہ مسلم تہذیب و تمدن کے انہدام پر ہی مرکوز کئے رکھی۔ واردھا اور ودیا مندر تعلیمی سکیمیں اسی مقصد کے تحت ترتیب دی گئی تھیں۔ اگر مسلمان ان حالات میں علیحدہ وطن کا مطالبہ نہ کرتے تو ہندوستان میں مسلم قومیت کا نام و نشان بھی باقی نہ رہتا۔
مذہبی پہلو:
تقسیمِ ہند کے دیگر پہلوئوں کی طرح مذہبی پہلو بھی قیامِ پاکستان کے اسباب میں سے ایک ہے۔ ہندوستان میں برطانیہ کے نوے سالہ دور حکومت پر نظر ڈالی جائے تو ہر موڑ پر مسلمانوں کی نظریاتی پہچان خطرے میں گھری نظر آئے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان میں اب تک ابھرنے والے مذاہب اور ادیان اپنی اصل پہچان برقرار نہ رکھ سکے۔ 1500 قبل مسیح میں آریہ ہندوستان آئے۔ ان کے ہزار سالہ عہد میں مظاہرِ فطرت کی پوجا اپنے عروج پر تھی۔ 500 قبل مسیح میں برہمنوں نے بالادستی قائم کی اور ہندوستانی معاشرے کو چار طبقوں میں تقسیم کر ڈالا۔ ذات پات کی تقسیم کے خلاف مہاتما بدھ میدان میں آئے۔ ان کے ہمعصر مہاویر نے بھی عدم تشدد کا پرچار کیا۔ تاریخ میں ان دونوں کا زمانہ پانچویں صدی قبل مسیح ہے۔ مہاتما سے بدھ مذہب نے تقویت حاصل کی، جبکہ مہاویر کی تعلیمات کو جین مت کا نام دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدھ اور جین مت ہندوستان میں اپنی انفرادیت کھو بیٹھے اور ہندو مت میں ضم ہوگئے۔
برصغیر کی مذہبی تحریکوں کو دیکھا جائے تو ہندوستانی معاشرے پر ''بھگتی تحریک'' کے اثرات بھی نمایاں نظر آئیں گے۔ اس تحریک کا زمانہ گیارہویں صدی سے سولہویں صدی عیسوی پر محیط ہے۔ بھگتی تحریک نے جنوبی و شمالی ہند کے علاوہ بنگال میں بھی سرگرم رہنمائوں کو جنم دیا۔ پنجاب کے ضلع ننکانہ میں بابا گرو نانک نے اس تحریک کے زیر اثر ہی اپنی تعلیمات کا پرچار کیا تھا۔ بھگتی تحریک کے تمام سلسلے وقت کے ساتھ ساتھ ماند پڑتے گئے، لیکن گرو نانک کی تحریک نے آگے چل کر ایک نئے مذہب سکھ مت کے لئے راہیں ہموار کیں۔ بھگتی تحریک کے اثرات کی بدولت ہی اکبر بادشاہ نے 1581ء میں ''دین الٰہی'' کا پرچار کیا تھا۔ لیکن مسلم صلحاء نے اسلام اور ہندو مت کے انضمام کی تمام کوششیں ناکام بنادیں۔
ہندوستان میں ابھرنے والی تمام اصلاحی و مذہبی تحریکیں وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑتی رہیں یا ہندو دھرم کا حصہ بنتی گئیں، لیکن اسلام واحد مذہب ہے جس کی شناخت ختم نہیں کی جاسکی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے معاشرتی زندگی میں کسی حد تک ہندو طرز معاشرت کے اثرات قبول کئے ہیں۔ لیکن اصولی طور پر اسلام کی تعلیمات اب بھی وہی ہیں جو آغاز میں تھیں۔ مسلمانوں کی اساسی پہچان کو ملیامیٹ کرنے کی خاطر برطانوی دور میں بھی ہندوئوں کی طرف سے تابڑ توڑ حملے کئے گئے۔ شدھی اور سنگھٹن کی تحریکیں اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ہندومہاسبھا بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہ رہی۔ وہ برملا طور پر کہتے تھے کہ مسلمانوں کا ہندوستان سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو بخوشی اپنی راہ لیں، ورنہ ہندوستان میں ہندو بن کرجِئیں۔ مسلمانوں کو قبول نہ کرنے کا یہ رویہ بھی تقسیمِ ہند کے نظریے کو تقویت دینے کا اہم سبب بنا ہے۔
خلاصہ کلام:
ہندوستان کی تاریخ اور حالات و واقعات کو پرکھا جائے تو یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہ ہوگا کہ مغلیہ سلطنت کے زوال اور 1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں تھا۔ ماسوائے اس کے کہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک پاکستان کے رہنما اس بات پر بضد تھے کہ ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک الگ اور آزاد ریاست قائم کی جائے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ دو ایسی اقوام جن کا مذہب، طرز فکر، نظریات و افکار، سیاست و معاشرت، تہذیب و ثقافت، رہن سہن، طرزِ بُود و باش، الغرض ہر زاویے سے وہ ایک دوسرے سے جدا ہو، وہ ایک دوسرے میں مدغم کیسے ہوسکتے ہیں؟ یہ محض جذبات کا اظہار نہیں حقیقت ہے۔ جنگ آزادی کے بعد ہندوستان کی مختلف اقوام میں اتحاد کے بہت بڑے داعی سرسید احمد خان سمجھے جاتے ہیں، لیکن وہ بھی اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ ہندو اور مسلمان دل و جان سے کبھی بھی ایک نہیں ہوسکتے۔
اگر نظریہ پاکستان کا کھلے دل و دماغ سے بغور مطالعہ کیا جائے تو کسی ذی شعور سے پاکستان کی اہمیت و افادیت مخفی نہیں رہے گی۔ پاکستان کو محض چند حرفوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سوچ اور نظریہ سمجھا جائے۔ وہ نظریہ جس کی آبیاری ازل سے کی جا رہی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہونی چاہئے کہ پاکستان معاشی یا سیاسی اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے وجود میں نہیں آیا، بلکہ اس کے قیام کا اہم مقصد برصغیر میں مسلم نشاة ثانیہ کے لئے محفوظ مرکز کی فراہمی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد کے ادوار میں پاکستان کو ایسی قیادتیں میسر آئیں، جنہوں نے ذاتی یا سیاسی اغراض کے لئے نظریہ پاکستان کو پس پشت ڈالا۔ حکمران طبقے سے سرزد کوتاہیوں، خامیوں اور سرکشیوں کا ذمہ دار ریاست کو قرار دینا کہاں کا انصاف ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان کو صحیح معنوں میں اس کی اصل اساس پر استوار کیا جائے، کیوں کہ یہ ملک بے لوث جدوجہد کی بدولت عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے وجود میں آیا ہے۔ علامہ اقبال نے درست کہا تھا:
جہاں میں اہل ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
٭…٭…٭

مضمون نگار جامعہ کراچی سے سیاسیات میں ایم فل کررہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

پیارے وطن
اس خون میں شامل پیار تیرا، اے وطن تیرے متوالے ہیں
تیری سرحدوں پہ پہرے ہیں، تیری عزت کے رکھوالے ہیں
یہ جان امانت تیری ہے، یہ خون بھی تیرا اپنا ہے
تیرا پرچم سدا لہراتا رہے، ہم تجھ پہ مٹنے والے ہیں

ہمیں قسم ہے ان اندھیروں کی، تیرے گائوں کی تیرے شہروں کی
اس سبز ہلالی پرچم کی، تیرے دریائوں تیری نہروں کی
اس جگ میں ہو گا مقام تیرا، اور دنیا میں اک نام تیرا
قائد کی روح گواہ ہو گی، تیری خوشحالی کی لہروں کی

کبھی ایسے دن بھی آئیں گے، ہم دنیا کو دکھلائیں گے
خوں جگر کا دے کر دنیا میں شان ہم تری بڑھائیں گے
تو بنا ہے قائم رہنے کو، قیامت تک قائم رہنا ہے
ہم آئے یہاں پر مٹنے کو، تیری عزت پہ مٹ جائیں گے

محمد الیاس

*****

 
Read 151 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter