تحریر: پروفیسر ڈاکٹر منور ہاشمی

انسانی زندگی کی تقویمِ ماہ وسال میں بعض ایام ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں طلوع ہونے والا سورج زمانی و مکانی تاریکیوں کو دور کرنے کے ساتھ انسانی بخت کے اندھیروں کو بھی اجالوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔1940ء کا 23 مارچ بھی ایسے ہی دنوں میں شامل ہے۔اس دن کا سورج بظاہر شام کو غروب ہو گیا مگر ملت اسلامیہ کو ایک صبحِ مسلسل عطا کر گیا،جو آزادی کی صبح تھی جو آج بھی قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گی۔
تصو ر کی آنکھ سے ذرا وہ منظر دیکھیں جب لاہور میں اس دن کا سورج طلوع ہوا تھا۔وسیع وعریض منٹو پارک میںبرصغیر کے کونے کونے سے مسلمان آ کر جمع ہو رہے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد جن کی آنکھوں میں عزم و استقلال کی چمک تھی، پنڈال میں پہنچ چکے تھے۔تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی مگر خلقت تھی کہ امڈی چلی آ رہی تھی۔فضا تکبیر کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ہر شخص ایک عظیم ہستی کی تابناک پیشانی دیکھنے کو بیتاب تھا۔وہ ہستی جس کے دل کی دھڑکن کروڑوں عوام کے دلوں کی دھڑکنوں کی ترجمان تھی۔جس کا عزم و حوصلہ چٹانوں کی طرح مضبوط اور پہاڑوں کی طرح بلند تھا۔جسے ہندو اور انگریز محمد علی جناح اور اسلامیانِ ہند قائداعظم کے نام سے پکارتے تھے۔آخر وہ عظیم ہستی جلسہ گاہ میں داخل ہوئی،سٹیج کی طرف بڑھی اور اپنے لئے مختص کرسی پر براجمان ہو گئی۔پنڈال فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا۔آج انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اپنی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کے لئے یہاں جمع ہوا تھا۔سٹیج پر قائداعظم کے ہمراہ ہر علاقے سے آئے ہوئے مسلم رہنما موجود تھے،اور وہ سٹیج علامہ اقبال کے اس

youmepakistan.jpg

شعر سے مزیّن تھا:
جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے،اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے
یہ اقبال ہی کا خواب تھا جس کی تعبیر کی طرف بڑھنے کے لئے یہ عظیم الشان جلسۂ عام منعقد ہو رہا تھا۔ قائد اعظم کی صدارت میں ہونے والے اس جلسے نے حق و باطل کے درمیان حدِ فاصل کھینچ کر دو قومی نظریئے پر مہر ِتصدیق ثبت کر نی تھی،وہ دو قومی نظریہ جس کا اعلان 1930ء میں الٰہ آباد کے مسلم لیگی جلسے میں علامہ محمد اقبال نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا تھا۔انہوں نے واضح کردیا تھا :
''مجھے یہ نظر آ رہا ہے کہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ اسلامی مملکت کا قیام کم از کم شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کی قسمت میں لکھا جا چکا ہے۔ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے کلچر،روایات اور رسوم کے تحفظ اور فروغ کے لئے الگ وطن کا مطالبہ کر سکیں۔انھیںاگریہ یقین دلایا جائے کہ پنجاب،سندھ،سرحدی صوبے اور بلوچستان کو ملا کر ایک الگ اسلامی ریاست قائم کر دی جائے گی تو میں حصولِ آزادی کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے آمادہ ہوں۔''
حضرت علامہ اقبال نے بظاہر 1930 ء میں اعلانِ آزادی کیا مگر وہ ہندوستانی مسلمانوں کے مرض کا علاج بہت پہلے تجویز کر چکے تھے۔1901ء میں ایک نجی مکان میں ہونے والے مسلمانوں کے ایک اجتماع میں انھوں نے مسلمانوں کے الگ وطن کی طرف اشارہ کیا۔اسی طرح 1903ء میں بھی انھوں نے ایک اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو ایک الگ قوم قرار دیتے ہوئے ان کے لئے الگ ملک کا ذکر کیا۔1907ء میں انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اپنا یہی پیغام خاص و عام تک پہنچانے کی کوشش کی ۔ان کی وہ نظم ان کی پہلی شعری تصنیف ''بانگِ درا'' میں مارچ 1907ء کے نام ہی سے درج ہے جس کے یہ دو شعر خصوصاً قابلِ ذکر ہیں:
سفینۂ برگِ گل بنا لے گا قافلہ مُورِ ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشاکش مگر یہ دریا سے پار ہو گا
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو
شرر فشاں ہوگی آہ میری نفس میرا شعلہ بار ہو گا
یہی وہ عزم تھا جو 1940ء تک پہنچتے پہنچتے ملت اسلامیہ کے ہر فرد میں منتقل ہو چکا تھا،اور اس میں خوش بختی کی بات یہ تھی کہ ملت اسلامیہ کو محمد علی جناح کی صورت میں قائداعظم میسر آ گیا تھا۔23 مارچ 1940ء کا دن قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں اسلامیانِ ہند کے عظیم الشان اتحاد کے رفیع الشان مظاہرے کا دن تھا۔قائدِاعظم کی صدارت میں اس جلسۂ عام میں برصغیر کے مسلمانوں کی منزل کا تعین ہونے جا رہا تھا۔آج یہ ہجوم ایک قوم کی شکل اختیار کر گیا تھا۔قائدِاعظم جو اعلان کرنے والے تھے وہ کروڑوں مسلمانوں کی آواز تھی۔گویاقائد کی آواز ہی سب کی آواز تھی۔جلسہ گاہ کی پوری فضا گوش بر آواز تھی۔بالآخر شیرِ بنگال مولوی اے کے فضل حق اٹھے اور اسلامیانِ بر صغیر کی قسمت کا فیصلہ سنا دیا۔یہی وہ قرارداد تھی جسے قراردادِ پاکستان کا نام ملا۔قرارداد پڑھتے ہوئے جب مولوی فضل حق پاکستان کے مطالبے پر پہنچے تو مسلمانوں کو بلاشبہ یہ محسوس ہو گیا کہ انھیں جس منزل کی جستجو تھی وہ ان کے سامنے کھڑی ہے اور زبانِ حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یقین ِمحکم اور عملِ پیہم کے ہتھیار لے کراٹھو اور حاصل کر لو۔۔۔
مسلمانوں کو ایک نئی زندگی مل گئی۔قرارداد ان کی اُمنگوں،آرزوئوں، ارمانوں اور جستجو کا حاصل تھی۔قرارداد کی حمایت میں سب سے پہلی تقریر بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے اردو زبان میں کی۔ان کی تقریر نے پورے جلسے میں ایک نئی روح پھونک دی۔مولانا ظفر علی خان کے بعد مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے دیگر رہنمائوں نے قرارداد کی حمایت میں پُرجوش تقاریر کیں۔ سندھ سے سر عبداللہ ہارون،بلوچستان سے قاضی محمد عیسیٰ،سرحد سے سردار اورنگزیب خان،یو پی سے بیگم محمد علی جوہر اور چودھری خلیق الزمان،بہار سے نواب اسماعیل خان،مدراس سے عبدالحمید خان،سی پی سے سید عبدالرئوف اور بمبئی سے آئی آئی چندریگر نے قرارداد کی حمایت کی۔ہر تقریر میںبرصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکنوں کی ترجمانی موجود تھی۔قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوگئی۔ہر لمحہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے یادگار تھا،بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی آنکھوں میں فرطِ جذبات سے آنسو آ گئے۔اسی کیفیت میں انھوں نے بہادر یار جنگ کی موجودگی میں اپنے سیکرٹری مطلوب الحسن سید سے مخاطب ہو کر کہا:
''اقبال وفات پا چکے ہیں،اگر آج وہ موجود ہوتے تو بہت زیادہ خوش ہوتے کیونکہ ہم نے ان کی خواہش پوری کر دی ہے۔''
بلاشبہ 23مارچ کے دن شاعرِ مشرق کے خوابِ آزادی کو تعبیر آشنا کرنے کے لئے ایک نئے عزم اور ولولے سے جدوجہد کو آگے بڑھایا گیا۔حقیقت میں ان کے دئیے گئے خاکے میں رنگ بھر دیا گیا تھا۔یہی وہ دن تھاجس نے فکر کو عمل کا جامہ پہنایا،جذبوں کو مہمیز دی اور ولولوں کو زندگی بخشی۔

youmepakistan1.jpg

قراردادِ پاکستان سے قیامِ پاکستان تک کا عرصہ 7 سال پر محیط ہے مگر واقعات کے لحاظ سے یہ صدیوں پر بھاری ہے۔آزادی کا قافلہ رواں دواں تھا مگر اس کے راستے میں رکاوٹیں ہی رکاوٹیں تھیں۔انگریزوںاور ہندوئوں نے سازشوں کا جال بچھا دیا تھا۔یہ دونوں قوتیں مقصدِ واحد پر متحد تھیں کہ مسلمانوں کو حصولِ وطن کی منزل تک کسی صورت نہ پہنچنے دیا جائے۔ان سازشوں میں بعض اپنے بھی غیروں کی مدد کر رہے تھے۔قائداعظم اور دیگر قائدین کو بے شمار لالچ دئیے گئے۔رشوتیں پیش کی گئیںاور بے شمار دیگر حربے آزمائے گئے۔مگر تمام بدخواہوں کی ساری سازشوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور کاروانِ آزادی انتہائی قلیل مدت میں منزلِ مقصود پر پہنچ گیا۔23 مارچ منزلِ آزادی کا وہ سنگِ میل تھا جہاں سے منزل کی روشنی صاف دکھائی دے رہی تھی،جہاں دو قومی نظرئیے کا اثبات ہوا اور جہاں اسلامیانِ برصغیر کا تشخص ابھر کر سامنے آگیا۔یہ وہی مقام تھا جہاں اقبال کے افکار اور قائداعظم کے اقوال کی شان و شوکت اور عظمت کا احساس نہ صرف اجاگر ہوا بلکہ یہ افکار واقوال عمل کے سانچے میں ڈھلتے ہوئے دکھائی دیئے۔قائد اعظم کا یہ فرمان نئے اسلامی ملک کا منشور بن کر سامنے آیا:
''وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں ،وہ کون سی چٹان ہے جس پر اس ملت کی عمارت استوار ہے،وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے،وہ رشتہ،وہ چٹان اور وہ لنگر اللہ کی کتاب قرآن حکیم ہے۔مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گا۔ایک اللہ،ایک کتاب،ایک رسولۖ اور ایک امت''
اور یہی منشور مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال نے اپنے لفظوں میں اس طرح بیان فرمایا:
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیۖ،دین بھی، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
گویا اتحاد میں زندگی ہے اور نفاق میں موت۔
یومِ پاکستان ہمیں ماضی کے مناظر میں لے جاتا ہے،تحریکِ پاکستان کی یادوں کو تازہ کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ منٹوپارک کس طرح اقبال پارک میں تبدیل ہوااور اقبال پارک میں کس وجہ سے ایک فلک بوس مینار ایستادہ ہے ۔یہ مینار غربت وافلاس کی پستیوں میںرہنے والوں اور غلامی کے اندھیروں میں بھٹکنے والوں کو ایک آزاد وطن دینے والے خدائے بزرگ وبرتر کے عزو جلال کا اعلان کر رہا ہے ۔یہ بلندمینارپیغام دیتا ہے کہ مقاصد اور عزائم کو بلند رکھیں ۔ یہ مینار ِ پاکستان ہمیں تلقین کرتا ہے کہ تحریک پاکستان کے جذبوںاورولولوں کو ماند نہ پڑنے دیں۔قیامِ پاکستان یقیناً ایک بڑا مرحلہ تھا مگر استحکامِ پاکستان اس سے بھی کڑا مرحلہ ہے۔پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے عساکرِ پاکستان کا کردار روشن ہے۔تاہم ان کے شانہ بشانہ ہر مکتبۂ فکر کے افراد کو اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی ،بقول اقبال:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

مضمون نگار اُردو ادب و تحقیق کا ایک معروف نام ہیں وہ وفاقی اُردو یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

اسیری
ہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند
قطرئہ نیساں ہے زندانِ صدف سے ارجمند
مشکِ ازفر چیز کیا ہے، اِک لہو کی بوند ہے
مُشک بن جاتی ہے ہو کر نافۂ آہو میں بند
ہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قدرت مگر
کم ہیں وہ طائر کہ ہیں دام و قفس سے بہرہ مند
''شہپرِزاغ و زغن در بندِ قید و صید نیست
ایں سعادت قسمتِ شہباز و شاہیں کردہ اند''
اقبال

*****

 
Read 161 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter