اداریہ قیامِ پاکستان سے استحکام پاکستان کا سفر

Published in Hilal Urdu March 2018

قوم رواں برس اٹھترواں یومِ پاکستان منا رہی ہے۔ کسے معلوم تھا کہ منٹو پارک لاہور میں23 مارچ1940 میں منظور کی جانے والی ' قرار داد پاکستان' کے خواب کو فقط سات برس کی قلیل مدت میں تعبیر مل جائے گی۔ گویا یہ وہ قوم ہے جس نے قائدِاعظم محمدعلی جناح کی بے مثال قیادت میں شبانہ روز محنت کرتے ہوئے پاکستان کی صورت میں ایک آزاد مسلم ریاست کا حصول یقینی بنایا۔1947 میں وطنِ عزیز کے قیام سے لے کر آج تک اس قوم کو متعدد کٹھن اور پُرخار راہوں سے گزرنا پڑا۔ لیکن یہ قوم جس انداز سے ثابت قدم رہی وہ اسے دنیا کی دیگر اقوام میں ممتاز کرتا ہے۔ پاکستان کو آج بھی بیرونی و اندرونی محاذوں پر متعدد چیلنجز درپیش ہیں۔ جن کا قوم نے پُرعزم رہتے ہوئے مقابلہ کیا ہے اور آج یہ قوم شدت پسندی سمیت متعدد مسائل پر کافی حد تک قابو پاچکی ہے۔ ان کامیابیوں کے حصول کے لئے یقینا افواجِ پاکستان اور قوم نے بہت قربانیاں دی ہیں جن کا بین الاقوامی سطح پر اقرار کیا جانا ازحد ضروری ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ دنوں میونخ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں دنیا کو باور کروایا کہ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کا کوئی منظم ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔ کیونکہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کردیئے گئے ہیں۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی آپریشن نہیں کررہا بلکہ سہولت کاروں کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کی جارہی ہے۔


بلاشبہ فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک پر کاری ضرب لگائی گئی ہے لیکن دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑکر پھینکنے کے لئے آپریشن ردُّ الفساد جاری ہے۔ جس کے ذریعے کونوں کُھدروں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا کر ان کی بیخ کنی کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں امن و امان کی عمومی صورت حال بہتر ہو چکی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ حاصل کردہ کامیابیوں کے باوجود پاکستان اور اُس کے دفاعی ادارے اُسی تن دہی کے ساتھ مشرقی ، مغربی ، اندرونی اور بیرونی ہر محاذ پر اپنے فرائض انجام دے کر ملک کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لئے کوشاں ہیں کہ امن اور ترقی صرف چند ایک کوششوں اور کامیابیوں کی بدولت حاصل نہیں ہوا کرتی بلکہ اس کے لئے قوموں کو ایک طویل جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ الحمدﷲ آج پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے جو ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل کو سنوارنے کے لئے ذہنی، فکری اور نظریاتی بنیادوں کو اس انداز میں استوار کرنے کے خواہاں ہیں کہ پاکستان کا شمار بھی دنیا کی مضبوط ترین اقوام میں ہونے لگے گا۔پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر اب تک بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں اور آج پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک ا ہم ملک ہے اس کی ایک ساکھ اور شناخت ہے۔ قراردادِ پاکستان اور پھر قیامِ پاکستان کے بعد کا سفر جاری ہے جو تکمیلِ پاکستان تک جاری رہے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم اپنی منزل سے قریب تر ہیں۔ اب ضرورت ثابت قدم، پُرعزم اور باحوصلہ رہنے کی ہے کہ انہی خوبیوں کی حامل اقوام سَر اٹھا کر چلنے کے ہنر سے آشنا ہوتی ہیںاور کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے۔


پاکستان ہمیشہ زندہ باد

Read 173 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter