پاکستانی ثقافت کے مختلف رنگ

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: محمد طیب انصاری

کثیرالثقافتی معاشروں
(Multicultural societies)
کے اندر کئی ثقافتی عناصر موجود ہوتے ہیں۔ جو کبھی معاشروں میں ٹکرائو ، کبھی تنوع اور کبھی ہم آہنگی کا باعث بنتے ہیں۔ جن سے لوکل ثقافت میں نئی نئی جہتیں پیدا ہوتی ہیں، نئے نئے رجحانات جنم لیتے ہیں۔ کچھ فرسودہ روایات کا خاتمہ کیا جاتا ہے اور ماڈرن خیالات اور نئی روایات ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں لوگ اپنے تہذیبی رویوں میں لچک رکھتے ہیں۔ محبت، امن اور رواداری میں اضافہ ہوتا ہے۔ کراس کلچر صلاحیتیں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ لیکن ایسے معاشروں کو بہت سے چیلنجز کا بھی سامنا رہتا ہے۔ مثلاً اکثریتی ثقافت کا اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک کلچرل کونفلیکٹ

(Cultural conflict)

جیسی خرافات کو جنم دیتا ہے۔ روایتی طور پر کثیرالثقافتی معاشروں نے تین ماڈلوں کے درمیان انتخاب کیا ہے۔
Segregation. (1)
: یہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے جس میں مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ہی علاقے میں اپنی الگ الگ بستیاں بنا کر رہتے ہیں۔ وہ دوسرے قبیلے یا گروہ سے زیادہ تعلق نہیں رکھتے۔ نہ صرف شادیاں اور رسومات بلکہ نوکریوں اور پیشوں کے انتخاب میں بھی اپنی ذات یا گروہ تک ہی محدود رہتے ہیں۔
Assimilation (2)
: اس ماڈل میں اقلیتی ثقافت اکثریتی ثقافت کو اپنا لیتی ہے جبکہ اکثریتی ثقافت اس اقلیتی ثقافت کی چند خوبیاں اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ اس طرح ان دونوں کا ایک دوسرے کو قبول کرنا اس ماڈل کی بنیاد بنتا ہے۔
Integration (3)
: ایسے ماڈل میں اکثریتی معاشرہ ہمیشہ رواداری کا رویہ رکھتا ہے۔ اقلیتی ثقافت کو اپنے طور طریقے سے زندگی گزارنے کی اجازت ہوتی ہے، کچھ حد تک ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے اور ایک دوسرے کے ثقافتی اختلافات کا بھی احترام کیا جاتا ہے۔ برطانیہ کا شہر لندن اس کی ایک بہترین مثال ہے جو بہت زیادہ ثقافتی تنوع کو فروغ دیتا ہے۔
اگر پاکستان کی ثقافت اور تہذیب کا جائزہ لیا جائے تو ان ماڈلوں کا اطلاق کسی نہ کسی علاقے میں ضرور ہو رہا ہوتا ہے۔ پاکستان متنوع
(diverse)
ثقافت کا ملک ہے جس کی تہذیب تو صدیوں پرانی ہے لیکن یہ خطے میں ہونے والی جدید ثقافتی تبدیلیوں کو بھی اپناتا ہے۔ پاکستان کے چار صوبے ہیں۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کو بھی تقریباً صوبے کا درجہ ہی دے دیا گیا ہے۔ اس طرح حسین وادیوں کی نظیر آزاد کشمیر بھی پاکستان کی تہذیب و ثقافت میں اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔کسی بھی تہذیب کی ثقافت میں زبان اہم کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان مختلف زبانوں، علاقائی ثقافتوں اور نسلی گروہوں کا ایک مجموعہ ہے۔ جہاں تک دنیا کی قوموں میں علاقائی اختلافات کا تعلق ہے تو اس سے کوئی بھی ملک یا قوم مبرا نہیں ہے۔ خود ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں 188 زبانیں اور ساڑھے پانچ سو بولیاں بولی جاتی ہیں۔ اس کے پہلو میں روس کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔ یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک ہنگری میں مگیار قوم کے علاوہ ساڑھے چار لاکھ باشندے سلاوی، جرمن اور جپسی اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لئے پاکستان میں کئی بولیاں اور زبانیں ہونا بھی عین قدرتی بات ہے۔ڈاکٹر عطش درانی کے مطابق پاکستان میں76 یا اس سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں سے کئی ایک میں ابھی تک بھر پور تحریری یا ادبی صورت پیدا نہیں ہوئی اور بعض پورے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہیں بلکہ ان میں بہت سا ادب بھی تخلیق کیا جا چکا ہے۔

pakistaniskafat.jpg

سندھ میں سندھی زیادہ تر چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں جبکہ کراچی اور حیدر آباد میں سندھی، اردو، پنجابی، گجراتی اور پشتو بولی جاتی ہیں۔ کراچی میں اسماعیلی، پارسی، بوہری اور عیسائی اپنی اپنی مادری زبانوں کے علاوہ انگریزی اور اردو بولتے ہیں۔ خیبر پختونخوامیں لاکھوں افغان مہاجرین کی موجودگی کے باوجود پشتو، دری اور ہندکو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ پنجاب میں پنجابی، سرائیکی اور پوٹھوہاری اور ہندکو بولی جاتی ہیں البتہ اردو کو تدریسی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ اردو ملک کے ان علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے جو قبائلی علاقہ جات کہلاتے ہیں۔ گلگت اور ہنزہ میں تقریباً 22 مقامی زبانیں بولی جاتی ہیں مگر اردو وہاں کی بھی تدریسی زبان ہے۔ حتیٰ کہ آزاد کشمیر میں کشمیری، ڈوگری اور پنجابی بولی جاتی ہیں مگر اردو یہاں بھی عام بول چال کی زبان ہے۔

زبان کا استعمال سیاسی و معاشرتی ہو یا بول چال میں ہر زبان کو نصاب اور تدریس میں آنے کا حق ہے۔ اردو کے ساتھ ساتھ پاکستانی علاقائی زبانوں کی تدریس بھی اس کی حقدار ہے۔ پاکستانی زبانوں پنجابی، سرائیکی، سندھی، پشتو، پوٹھوہاری، ہندکو، بلتی، شینا، پروشسکی، پہاڑی، دری، کوہستانی، کشمیری، گوجری، بلوچی اور براہوی وغیرہ کے تدریسی پہلو کو پسِ پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ کسی بھی تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے مقامی زبانوں کو محفوظ کرنا ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ سندھی کے بعد اب پشتو اور کسی حد تک پنجابی عمومی تدریسی نصاب کا حصہ بنی ہیں۔ بلوچی، سرائیکی اور کشمیری کہیں کہیں خاص تدریس میں شامل ہیں۔

باقی علاقائی زبانوں کے سیکھنے اور سکھانے کے حوالے سے کافی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ بہت سی علاقائی زبانیں صرف بول چال کا حصہ ہیں اور ان کا رسم الخط اور بنیادی گرامر کا کہیں وجود نہیں ملتا جو کہ ان کی بقاء کے لئے خطرناک ہے۔ علاقائی زبانوں کی ثقافت اس لئے بھی خطرے میں ہے کہ ہمارے دیہی علاقوں سے شہروں میں ہجرت کرنے والے لوگ زیادہ تر اردو اور انگریزی کا سہارا لیتے ہیں اور ان کی آنے والی نسلیں اپنی علاقائی زبان اور ثقافت کو نہیں سیکھ پاتیں۔ اس طرح ایک زبان موت کا شکار ہو جاتی ہے۔ کیونکہ قوم اور زبان کا جام و مینا جیسا ساتھ ہوتا ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ ایک انحطاط پذیر ہو تو دوسری منفی اثرات سے محفوظ رہ سکے کیونکہ زبان بھی دوسرے کوائف و مظاہر کی طرح اس قوم کے اخلاقی، معاشرتی، ثقافتی اور عرفانی انحطاط کی ترجمان ہوتی ہے۔

پاکستانی زبانوں میں عین الحق فرید کوٹی کے نزدیک ''پنجابی زبان دنیا کی قدیم ترین زبانوں سے تعلق رکھتی ہے اگرچہ زمانے کے ساتھ ساتھ متواتر بدلتے رہنے سے اس کی اولین صورت ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو چکی ہے۔ جس طرح کھنڈروں کی کھدائی کرتے وقت پرانے زمانے کی اشیاء مختلف تہوں میں دستیاب ہوتی ہیں جن سے ان اشیاء کی زمانے کے لحاظ سے درجہ بندی کی جاتی ہے اسی طرح زبان کی بھی مختلف تہیں ہوتی ہیں۔''

تاریخ کے لحاظ سے وادیٔ سندھ شروع ہی سے کثیر اللسانی علاقہ رہا ہے۔ آریائوںسے قبل دراوڑ قوم کے آنے سے، مقامی بولیوں پر بھی اثرات پڑے تھے۔ سندھی زبان کے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ تاریخ کے سفر میں سندھی بولی کی ہیئت میں بہت کم تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ سندھی زبان جو پہلے قدیم ناگری میں لکھی جاتی تھی بعد ازاں عربی رسم الخط میں لکھی جانے لگی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست سندھی زبان کے بڑے شعراء ہیں۔ شاہ لطیف کا مجموعۂ کلام 'رسالو' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سچل سرمست تالپور دور کے ممتاز ترین شاعر تھے۔ ان کی کافیاں اور غزلیں سندھ تہذیب کو بیان کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
شاعری کے بعد شاید موسیقی سندھ کا عظیم ترین ثقافتی ورثہ ہے۔ یہاں ہمیشہ موسیقی کے اچھے خاصے قابل موسیقار موجود رہے ہیں۔ مغل دور سے پہلے سندھ اپنے موسیقاروں اور گانے بجانے کے لئے مشہور تھا۔ ہندوستانی موسیقی کی طرح عام طور پر سندھی موسیقی کو بھی پیشہ ور ماہرین اور مشاقین کی اجارہ داری سے نقصان پہنچا ہے جنہوں نے اسے اپنے روایتی طریقوں سے اپنی گرفت میں رکھا ہے۔ شاہ لطیف کے رسالوں کی سب منظومات راگوں پر ترتیب دی گئی ہیں۔ یہ نظمیں راگوں اور راگنیوں پر گائی جاتی ہیں۔

ہمارے فنونِ لطیفہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ مقام حاصل کئے ہوئے ہیں۔ ادبی ورثے کے علاوہ موسیقی بھی ہمارا ثقافتی اور اہم ترین ورثہ ہے۔ کلاسیکی موسیقی میں استاد بڑے غلام علی خاں اور روشن آراء بیگم سے نزاکت علی خاں تک اور ٹھمری، دادرا اور غزل میں فریدہ خانم، اقبال بانو جیسی گلوکارائیں ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ غزل اور نغمے میں مہدی حسن صاحب کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ قوالی میں غلام فرید صابری اور پھر نصرت فتح علی خان نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ لوک موسیقی ہمارا ثقافتی اثاثہ ہے۔ عالم لوہار سے لے کر عارف لوہار اور عاشق جٹ سے غلام عباس جٹ تک کا سفر جو میلے ٹھیلوں سے شروع ہوتا ہے اور آج کنسرٹ پہ ختم ہوتا ہے۔ فلمی گیتوں کی بات ہو تو میڈم نور جہاں کا ذکر لازم ہو جاتا ہے۔ علاقائی گیتوں میں ماہی گیروں، کسانوں، شادی بیاہ، ماہیا، ڈھولا، ٹپے، سوہنی مہینوال، ہیررانجھا، سسی پنوں، مرزا صاحباں وغیرہ کو ہمارے لوک فنکاروں نے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔

مجسمہ سازی کی تاریخ تو کم از کم سات ہزار سال پرانی ہے۔
Dancing Girl
یا عظیم شخص جو موہن جو دڑو کی نشانیاں ہیں وہ بھی ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی ہیں۔ ٹھٹھہ کی مسجد دیکھیں یا مکلی اور چوکنڈی کا قبرستان، یہاں کے نقوش نقل کر کے ہمارے بہت سے ڈیزائنر کپڑے بناتے ہیں۔ بلوچستان میں مہر گڑھ کا علاقہ سات ہزار سال پرانا ہے۔ یہاں کی پہاڑیوں کو کھودا جائے تو اس میں سے نقش و نگار والے باریک مٹی کے ایسے ظروف برآمد ہوئے ہیں جیسے کل ہی بنائے ہوں۔ مجسمہ سازی نے اب ایک نیا روپ اختیار کر لیا ہے۔ وہ ہے سرامک ظروف سازی جو روغنی رنگوں میں تیار کی جاتی ہے۔ نئی طرز کی صراحیاں، تھالیاں اور دیگر ظروف بھٹی میں تیار کرنے کے بعد انہیں رنگ کیا جاتا ہے۔
پاکستانی آرٹ کا ذکر کرتے ہوئے ہم ''ٹرک آرٹ'' کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ یہ آرٹ کی ایک نئی قسم ہے جو پاکستانی فنکاروں نے متعارف کروائی ہے جو اب دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کے بیشتر ٹرک ، رکشہ اور وین ان پینٹنگز سے مزّین ہوتے ہیں۔ بیل بوٹے کے علاوہ اپنی پسندیدہ شخصیت کی تصویر بھی ٹرک کے پیچھے بنوائی جاتی ہے۔

پنجاب اور سندھ صوفیا کی سرزمین کہلاتی ہے جنہوں نے ہمیشہ محبت وبھائی چارے اور امن کا پیغام دیا ہے۔ ان کے مزارات، ان پر ہونے والی سالانہ تقریبات اور عرس پر سجنے والے میلے ٹھیلے اب ہماری ثقافت کا ایک جزو بن چکے ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں ان مزارات پر دہشت گردوں کے حملوں کی وجہ سے کچھ خوف کی فضا رہی ہے لیکن پاکستانی قوم نے ہمت نہیں ہاری اور ہماری افواج نے ضربِ عضب اور آپریشن ردالفساد سے خاطر خواہ امن بحال کر دیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ کچھ عرصے سے لوگوں میں خوف کی وجہ سے ان تقریبات کو ایک خاص سطح تک محدود کیا گیا تھا لیکن اب پھر سے میلے ٹھیلوں کا انتظام کیا جانے لگا ہے۔

پاکستان ایک کثیر الثقافتی معاشرہ تو ہے مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لباس کے معاملے میں آپ کو بہت زیادہ فرق نظر نہیں آئے گا۔ مرد حضرات پورے ملک میں شلوار قمیض پہنتے ہیں جو تقریباً ایک جیسی ہے ما سوائے بلوچی شلوار قمیض کے جو کہ اونچی قمیض اور کافی کھلی شلوار جس کو تقریباً چار سے پانچ میٹر کپڑا لگایا گیا ہوتا ہے۔ اسی طرح ان کی پگڑی بھی کافی بڑی ہوتی ہے۔ لیکن عورتوں کے لباس ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف ہیئت رکھتے ہیں۔ مثلاً پنجاب اور سندھ میں دیہاتی عورت چادر اوڑھتی ہے مگر بلوچستان اور کے پی کے میں عورتیں افغانی برقع پہنتی ہیں۔ شہروں میںبھی بعض عورتیں برقع اوڑھتی ہیں۔ پشاور شہر میں شروع شروع میں عورتیں چادر کا استعمال کرتی تھیں مگر افغان مہاجرین اپنے ساتھ افغانی برقع بھی لے کر آئے جو اب تقریباً ہماری ثقافت میں شامل ہو چکا ہے۔

پاکستان کے میدانی علاقوں سے شمال کی جانب کوہ ہندوکش کے دامن میں ملک کے دلکش ترین علاقوں میں ایک علاقہ چترال ہے یہاں کے بلند و بالا پہاڑوں کی چوٹیاں آسمانوں کو چھوتی نظر آتی ہیں۔ اس کی وادیوں میں کیلاش کا آزاد قبیلہ بھی آباد ہے جو اپنی مخصوص ثقافت اور روایات کی وجہ سے منفرد مقام رکھتے ہیں۔ شمالی علاقوں کے لوگ مہمان نواز اور زندہ دل ہیں۔ پولو وہاں کا منفرد کھیل ہے جو کہ اب پوری دنیا میں مشہور و معروف ہو چکا ہے۔ انسانی زندگی گزارنے کے قدیم طور طریقے ابھی بھی موجود ہیں۔ اس علاقے کو چھپا ہوا خزانہ بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستا ن کا قومی جانور 'مارخور' بھی اسی علاقے میں پایا جاتا ہے جو انتہائی سخت حالات اور ماحول میں زندہ رہنے کا عادی ہے۔ پاکستان کا قومی درخت 'دیودار' بھی اسی علاقے میں پایا جاتا ہے۔ اس درخت کی عمر کافی لمبی ہوتی ہے۔ قومی پرندہ چکور اور قومی پھول چنبیلی بھی اسی علاقے میں پائے جاتے ہیں۔ چکور اور چنبیلی اب ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔

کیلاش کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں رہنے والے لوگوں نے اپنی تہذیب و ثقافت یہاں تک کہ اپنے لباس میں بھی دوہزار سال سے کوئی تبدیلی نہیں آنے دی۔ کیلاش کا مطلب ہے سیاہ کپڑے پہننے والے۔ سیاہ لمبی میکسی نما فراک رنگ برنگے ڈیزائنوں پر مبنی ہوتی ہے۔ گلے میں ڈھیر سارے ہار بھی لباس کا حصہ ہوتے ہیں۔کیلاش ثقافت اپنی بے پناہ خوبیوں کی وجہ سے بلا شبہ اس قابل ہے کہ اس کا تحفظ کیا جائے۔ کیلاش ثقافت کے آثار تین ہزار سال پرانے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کیلاش کے لوگ سکندرِ اعظم کی فوج کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق ان کی نسل کا تعلق و سلسلہ سیام کے کمانڈر شلک شاہ سے ملتا ہے جو سکندرِاعظم کی فوج کا ایک کمانڈر تھا۔ مؤرخین کے مطابق سکندرِ اعظم نے چوتھی صدی قبل مسیح میں افغانستان اور اس علاقے کو فتح کیا۔ کیلاش میں بولی جانے والی زبان بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی ان کی تاریخ لیکن آج اس زبان کو بولنے والوں کی تعداد صرف 4 ہزار کے قریب ہے جو کبھی پچاس ہزار سے زائد لوگوں کی زبان تھی۔ اس زبان کو ابھی تک کوئی تحریری شکل نہیں دی گئی اس لئے اس ثقافت سے اس زبان کے ختم ہونے کا اندیشہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ وادیٔ کیلاش میں ہر سال کیلاش فیسٹول دنیا کی توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔

قیامِ پاکستان کے ساتھ ہی قراردادِ مقاصد کی رو سے سب طبقوں، مذاہب، فرقوں اور ذاتوں کی تمیز کے بغیر عورت، مرد، امیر و غریب سب کو برابر کے حقوق دئیے گئے۔ پاکستان پہلا اسلامی ملک ہے جس میں دو مرتبہ ایک خاتون محترمہ بے نظیر بھٹو عوام اور پارلیمنٹ کی جانب سے متفقہ طور پر وزیرِاعظم منتخب ہوئیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق بھی مسلمانوں کے مساوی ہی ہیں۔ سرکاری نوکری سے لے کر پرائیویٹ سیکٹر تک اقلیتوں کے نوجوان قابلیت کے لحاظ سے پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں۔

گلوبل ولیج کے اس دور میں دنیا کا کوئی بھی حصہ ثقافتی گلوبل اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ پاکستانی ثقافت میں انگریزی تو بہت پہلے سے شامل تھی لیکن دنیا کی دوسری بڑی زبانیں اور پکوان بھی شامل ہو چکے ہیں۔ ہر شہر بلکہ ہر محلے میں افغانی روٹی نے مقبولیت حاصل کر رکھی ہے۔ شہروں میں عربی شوارما اور جاپانی 'سوشی' لوگ شوق سے طلب کرتے ہیں۔ چائنیز سوپ اور سویاں بھی کافی مقبول ہیں۔ ہماری تہذیب کا خاص پکوان سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ہمارا قیمے والا نان اب اٹلی کے پیزے کی شکل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس لئے جہاں ہماری لوک تہذیب یا لوکل تہذیب ہے وہیں ایک گلوبل تہذیب نے بھی جنم لیا ہے۔

کشور ناہید کے بقول۔ ''پاکستان کی تہذیب ہماری مٹی سے وابستہ ہے۔ جس میں کہیں ریت تو کہیں کنکر اور کہیں پانی کے ٹوبے کے ایک کنارے پر عورت پانی کا مٹکا بھر رہی ہے تو دوسرے کنارے پر بھینس پانی پی رہی ہے اور یہی پانی ہمیں بوتلوں میں بھر کر انگریزی طریقے سے پلا دیا جاتا ہے۔ یہی تہذیب کے اوراق ہیں۔ کہیں آپ کو املتاس، کہیں کچنار کی کلیاں اور موتیے کے پھول نظر آئیں گے۔ سوندھی مٹی پر جب برسات کے پانی کا چھینٹا پڑتا ہے، سب خوش ہو جاتے ہیں۔ یہی ہماری تہذیب اور یہی تمدن ہے۔''

مضمون نگار پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور ایک قومی ادارے کے ساتھ بطور پروڈیوسر وابستہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

''جب''
جب شب کے شکستہ زینوں سے مہتاب اُبھرنے لگتا ہے
جب غم کے سرد اَلائو میں اُمیدیں بجھنے لگتی ہیں
جب دل کے شوریدہ سمندر میں آوازیں مرنے لگتی ہیں
جب موسم ہاتھ نہیں آتے، جب تتلی بات نہیں کرتی
جب زندہ رہنا اِک بے معنی کام دکھائی دیتا ہے
جب آنے والا ہر لمحہ ، دُشنام دکھائی دیتا ہے
جب یاد کے گہرے سنّاٹے میں چہرے گم ہو جاتے ہیں
جب درد سے بوجھل آنکھوں میں گرداب سے پڑنے لگتے ہیں
جب شمعیں گل ہو جاتی ہیں، جب خواب بکھرنے لگتے ہیں
اُس وقت اگر تم آجائو !
(امجد اسلام امجد)

*****

*****

 
Read 372 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter