پاکستان،آرٹیفیشل انٹیلی جینس، مستقبل کے خدوخال

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: پرویوش چوہدری ، ڈاکٹر شاہد محمود

مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی مشکلات سے بنٹنے اور مواقعے سے فائدہ اٹھانے کے لئے حکومتوں کو سبک رفتاری سے منصوبہ بندی کرنی ہو گی۔ مصنوعی ذہانت کے میدان میں حیران کر دینے والی ترقی جاری ہے۔ عسکری منصوبہ سازوں، حسا ب دانوں اور سائنسدانوں کے سوچنے کا انداز اور ان سے نتائج اخذ کرنے کا ایک مخصوص انداز ہوتاہے۔جس سے ہمیں جنگ و امن کی حالت میں فائدہ اٹھانے اورواقعات اور شخصیات کو سمجھنے کا تعین کرنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے جو مستقبل کی تاریخ کا تعین کرتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا سطر در سطر تعین نہیں کیا گیا بلکہ یہ مستقل طور پر سیکھنے کی صلاحیت مشکل طور پر ترقی پذیر ہے۔


ارسطو کہتے ہیں: ہم امن میں رہنے کے لئے جنگ برپا کرتے ہیں۔ نپولین بوناپاٹ نے کہا: جب دشمن غلطی کر رہا ہو تو اسے کبھی مت روکیں۔ مگر کیا ہماری سوچ کو بقراط سے رہنما ئی نہیں لینی چاہئے جس کی رائے میں صرف مر جانے والے جنگ کا خاتمہ دیکھتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور نظام حرب کا مستقبل:

pakistanaik.jpg
اس سال کے آغاز میں ''مصنوعی ذہانت اور نظام حرب کا مستقبل'' کے عنوان سے شائع کردہ مقالے نے فوجی، تجارتی اور صنعت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا جائزہ لیا ہے۔ جاری کردہ نظام کار کا تیزی سے بدلتے ہوے حالات کی بنا پر انسانی مداخلت کا جائزہ لینا ہے۔ خودمختار، نظام انسانی ادراک کو مکمل طور پر خارج نہیں کرتا اور شعبہ ابلاغ و معلومات، خودمختار نظام کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے جس کے لئے عالمی سطح پر کسی بھی دوسرے شعبے کے مقابلے میں زیادہ رقوم فراہم کی جا رہی ہیں۔ 2015ء میں ایلن مسک اور سٹیفن ہاکنگ نے کھلے خط کے ذریعے خود مختار کار ہتھیاروں پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی تھی۔ آخر کیوں؟ کیا یہ ممکن ہے کہ مصنوعی ذہانت آنے والے وقت میں وہی ہیئت اختیار کرنے والی ہے، جو گزشتہ چند دہایئوں میں جوہری ہتھیاروں کو حاصل تھی یا یہ مکمل طور پر بے معنی خیال تصور ہوگی۔
مجازی حقیقت: ورچوئل حقیقت اور اضافی صلاحیت کا ایک ساتھ ترقی پانا کس طرح انسانی سکیورٹی کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے؟ گیمنگ کی صنعت اس منظر نامے میں حصہ ڈالے گی یا یہ صرف تفریحی مقاصد کے لئے ہی ہے؟ کیا 2045 تک سنگولیرٹی محض ایک مفروضہ ہے؟ اکیسوی صدی میں جنگ کے ادراک کا استعمال دنیا کے اس حصے تک کیسے پہنچا؟ یہ نئی حقیقت ملکوں کی طاقت کو خلا میں جوہری صلاحیت کے قیام کے لئے سرمایہ کاری تک لے جائے گی۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے خاص طور پر
deta analy sis
میں۔ مصنوعی ذہانت کو سطر بہ سطر پروگرام نہیں کرنا پڑتا۔ یہ مستقل طور پر ترقی پذیر رہتی ہے۔
حال ہی میں گوگل کی ڈیپ مائنڈ الگورتھم نے اٹاری کی 49 کھیلیں جیتنے کی صلاحیتیں ازخود سیکھیں۔ الگورتھم اب ہاتھ سے تحریر کی گئی زبان یا بنائے گئے نقوش تقریباً انسانوں کی طرح پڑھ لیتا ہے۔بلکہ کچھ کام تو اور بہتر کرتا ہے۔اب تقریباً 70 فیصد مالی لین دین اس کے ذریعے کئے جا رہے ہیں۔ کسی حد تک خبر کا تعین خودکاری سے وجود میں لایا جاتا ہے۔ یہ تحریر اور فلم کو بیان بھی کر لیتا ہے۔ اس کے بہت دوررس گہرے معاشی اثرات ہوئے ہیں۔ اگلے دس سے بیس سالوں میں آدھی ملازمتیں الگورتھم کے ذریعے انجام پائیں گی۔ مصنوعی ذہانت دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بڑی تبدیلی ہے۔ خود کار پیداوار اور خود بخود چلنے والی کاروں کا خودکار معاشرتی نظام اگلا قدم ہے۔ اس ترقی نے سماج کو ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جبکہ مواقع حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے خطرات بھی ہیں۔
جدید دفاعی تنظیمیں کم شدت کے تنازعات، نیٹ ورک سے وابستہ جنگی صلاحیت کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہیں خصوصی طور پر شہری حدود میں تاکہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کر سکیں۔ اس بہتر صلاحیت نیٹ ورک کو بغیر محدود صلاحیت کے ذاتی کمپیوٹرز بروئے کار نہیں لایا جا سکتا جس کے تحت دیگر نظام جڑے ہوں۔ اس نظام پر عمل درآمد کے ذریعے وسیع مواصلاتی نظام بنیادی حقیقت رکھتا ہے۔ ٹیکنالوجی اور جنگ کا اشتراک نقصان دہ اور تباہ کن ہے۔ تاریخی تناظر میں کس طرح جنگ کے اثرات تبدیل ہوئے ہیں۔


کمپیوٹر کے ذریعے فعال کیا گیا نظام کس الگورتھم کے ذریعے انسانوں کو مارنے پر قادر ہو؟ایک مستقبل کی مکروہ حقیقت ہے۔ اس کے جواب میں انسانی مصائب کو کم کرنے کے لئے بہت تھوڑا کام کیا گیا ہے۔ تحقیق و تخلیق کرنے سے یہ بات واضح ہے کہ مصنوعی ذہانت بطور ہتھیار استعمال کئے جانے کا واضح امکان ہے جو کہ دنیا بھر میں مسلح افواج کا مستقبل ہے۔ اس عالمی حقیقت کا تجربہ حقیقی اوقات میں حاصل ہو گا۔


اگر ہم سوچیں کہ یہ تبدیلی شروع ہو چکی ہے تو اس تبدیلی کو تسلیم نہ کرنا ہمیں ہیجان اور مصیبت میں ڈال سکتا ہے۔ شاید یہی ہم چاہتے ہیں۔ اسی میں سکون ہے۔ جہالت نہ صرف ایک لعنت ہے بلکہ ذمہ داری سے فرار کا راستہ بھی ہے۔ اس کے باوجود وسیع ڈیٹا ہمارے فہم کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ ہماری سوچ کی اساس ہے۔ اس چیلنج کو مستقل بڑھانے میں متعین کے ذریعے علم اور مصنوعی ذہانت بنیاد ہے۔ جب ٹیکنالوجی ایک آدمی سے زیادہ حساس ہو جائے تو لوگ نظریاتی طور پر مواقع تلاش کرنے لگتے ہیں کہ وہ ترقی کے سفر میں ہم قدم ہیں یا نہیں۔ تخلیق کار کے لئے گنجائش کل وقت بھی بہت ہی کم ہے۔ انسانی دماغ چیزوں کی عکاسی اور تعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


صفِ اول کی شماریاتی کمپنی سٹاٹسٹا جس نے2008ء میں شماریات کے 400 ماہرین اور دس لاکھ رجسٹرڈ صارفین کے ساتھ کام شروع کیا، کہتی ہے کہ 2020ء تک اس کے صارفین کی تعداد 3 ارب یعنی دنیا کی کل آبادی کے ایک تہائی تک پہنچ جائے گی۔ امید کی جاتی ہے 2020 ء تک دنیا کی کل آبادی کا 72 فیصد حصہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کر چکا ہو گا۔2017ئ میں فیس بک وہ پہلی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ہے جس پر ایک ارب سے زیادہ لوگوں نے رابطہ کیا۔ یہ تعداد اب 2 ارب سے بھی بڑھ چکی ہے اسی طرح یوٹیوب پر 1.5 ارب، انسٹا گرام پر سات کروڑ اور اسی طرح ٹویٹر پر صارفین کی تعداد 30 کروڑ 28 لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ واٹس ایپ پر صارفین کی تعداد 1.2 ارب اورفیس بک میسنجر پر یہ تعداد1.2 ارب اوروی چیٹ پر یہ تعداد اٹھاسی کروڑ نوے لاکھ تک جا پہنچی ہے۔ ان سماجی ویب سائٹوں پر مہیا کیا جانے والا ڈیٹا اپنی مثال آپ ہے۔ جتنا زیادہ ڈیٹا ہے اتنا ہی سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہواہے۔ جس سے مصنوعی دماغ بہتری کی جانب گامزن نظرآتا ہے۔

pakistanaik1.jpg
ہر سال فراہم کئے جانے والے ڈیٹے کی مقدار دگنی ہو جاتی ہے۔ جلد ہی ہمارے ارد گرد ہونے والی تمام چیزیں شاید ہمارے لباس بھی انٹرنیٹ سے متصل ہو جائیں گے۔ اگلے دس سالوں میں اندازاً 150ارب نیٹ ورکوں کا شمار کرنے والے سنسر موجود ہوں گے۔ یعنی انسانی آبادی سے 20 گنا زیادہ۔ اس کے بعد ہر گھنٹے میں نیٹ ورک پر موجود ڈیٹے کی مقدار دگنی ہو جایا کرے گی۔ ہر چیز ذہین ہو جائے گی۔ جلد ہی ہمارے پاس نہ صرف سمارٹ فون ہوں گے بلکہ سمارٹ گھر، سمارٹ فیکٹریاں اور سمارٹ شہر بھی ہوں گے۔ ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ ترقی، سمارٹ ممالک اور سمارٹ دنیا کے قیام پر منتج ہو گی۔ عسکری اثاثوں اور کارروائیوں کی ڈیجیٹلائزیشن سے ڈیٹے کا بہت بڑا ذخیرہ حاصل ہو گا۔ ستمبر گیارہ کے بعد سے ڈرون اور دوسرے ذرائع سے حاصل ہونے والا ڈیٹا 1600گناہ بڑھ چکا ہے۔ امریکی افواج کے پاس تقریباً اسی لاکھ کمپیوٹنگ آلات ہیں۔ ان آلات کی تعداد 2020ء تک دگنی ہو جائے گی۔ 2016میں جاری کردہ ڈیٹا اس سے قبل مہیا کل ڈیٹے کے برابر ہے۔ افواج کے لئے ڈیٹے کا تجربہ کرنا اور اس سے مستقبل کے امکانات کا تعین کرنا بنیادی حیثیت رکھتا ہے خصوصاً ان افواج کے لئے جو دہشت گردی کے خلاف اور عوامی تحفظ کے لئے برسرپیکار ہیں۔ تاہم یہ اہم ہے کہ ڈیٹے کا حصول و تجربہ اور مستقبل کے امکانات ذاتی طور پر کئے جائیں تاکہ بیرونی غیر دوست عناصر سے بچا جا سکے۔ مقامی طور پر تجزیہ و ہدایت کی سہولت موجود ہونی چاہئے۔ مسائل کے حل کے لئے کل حقیقت الگوردھم پر عبور اور اس کے استعمال پر قدرت حاصل ہونا ہے۔ 1956کی
Dartmouth Conference
میں جان میکارتھی نے اسے مصنوعی ذہانت کا نام دیا۔ انٹرنیٹ سوسائٹی اسے انٹرنیٹ پر مبنی ٹیکنالوجی گردانتی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ ایک جدید چیز ہے۔ ہمارے لئے وہی چیز جدید ہے جو پاکستانی عوام کے لئے مفید ہے۔ اس کے سماجی اثرات کے لئے بھرپور قانون سازی کی ضرورت ہے۔ امریکی افواج نے اس سے جڑی ہوئی ٹیکنالوجی کو جنگی حالات میں سپاہیوں اور دیگر ماہرین کی راہنمائی کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے خاص طور پر ڈیٹے کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔ مسلح افواج ہوائی جہازوں، گاڑیوں، ہتھیاروں کے نظام اور میدانی دستوں وغیرہ سے وابستہ مربوط نظام سے ڈیٹا حاصل کررہی ہے۔ حصول کے بعد یہ معلومات جاسوسی و نگرانی نظام کے سپرد کی جاتی ہیں جو کارروائی کرنے کے لئے اہم ترین ڈیٹا کا تعین کرتی ہے۔
فوج چند کمپنیوں کے اشتراک سے جامعات بنانے اور
IoT
کے ذریعے دریافت کیے گئے حل کو عام زندگی میں بروئے کار لانے کے لئے کام کر رہی ہے۔جیسے کہ لاک ہٹ مارٹن مشین کے ذریعے سیکھتے ہوئے خود کار فیصلہ سازی کے حصول پر کام کرتا ہے۔ یہ حکمت عملی مسلح افواج کو خفیہ معلومات کے حصول، خطرات کی نشان دہی اور فیصلہ سازی میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں ترقی یافتہ افواج جامع جنگی حکمت عملی کی طرف جا رہی ہیں۔ امریکی فوج نے 48,000 میل لمبا معاصلار کا IoT(انٹرنیٹ)پر مبنی مربوط خفیہ نظام تیار کیا ہے، جو کہ میزائلوں کی حفاظت اور جنگی جھڑپوں کو مربوط بنانے میں معاون ہوگا۔ جنگ لڑنے کا یہ نظام فوج کے بلسٹک میزائلوں کو ایک مرقعی نقشے سے ملاتا ہے، جو دنیا بھر میں خطرات کے توڑ کے لئے استعمال ہو سکے گا۔ یہ سیکڑوں سینسروں، ریڈاروں اور مصنوعی سیاروں سے حاصل کردہ ڈیٹا کو میزائلوں کے دفاعی نظام کے لئے مشترکہ زبان میں مہیا کرتا ہے تا کہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
عام طور پر دفاعی افواج کی ہر شاخ کا رابطے اور دفتری ضروریات کا اپنا خصوصی نظام ہوتا ہے۔
Combat Cloud Infrastructure
پر منتقلی سے بے پنا ہ فائدہ ہو سکتا ہے جس کے ذریعے میدان جنگ میں معلومات اور اسباب کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت کے مطابق
(Combat Cloud Infrastructure)
کو مزید آگے منتقل کیا جا سکتا ہے، جس سے قومی ڈیٹا کے نظام کو درپیش مسائل سے نمٹنے میں معاونت ملے گی۔ دفاعی شعبے کے پاس اپنے بنیادی کام سے توجہ ہٹانے پر بہت زیادہ پیچیدہ کام لینے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ہمارے ان حالات کا اطلاق خاص طور پر ہماری علاقائی صورت حال پر ہوتا ہے جہاں مسلسل بد امنی کا سامنا ہے۔ خفیہ اور واضح طور پر ایک ذمہ دار نظام کی لئے ضروری ہے کہ نیٹ ورک سے وابستہ نظام اور نظام کی طرف ارتقا جاری رہے، جس سے پیچیدہ منصوبوں میں خطرات کا مقابلہ کیا جائے اور وہ کسی بھی شامل شدہ نظام سے بلند تر ہو۔
جدید دفاعی قوتیں جیسا کہ امریکی فوج نجی ٹھیکیداروں کے ذریعے نظام کو یکجا کرتی ہیں انہوں نے نظام کو چلانے کے لئے لیڈ سسٹم انٹی گریٹرز ایک فرم کو یہ ذمہ داری سونپی ہے جونظام کو ترقی دیتے اور جاری رکھتے ہیں۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کی فوج اس قدر وسیع منصوبے کی تشکیل کے لئے بنیادی صلاحیت نہیں رکھتی۔
پاکستان کے لئے پہلے پچاس سالوں میں جنگیں علاقائی نوعیت کی تھیں جبکہ اگلے بیس سالوں میں جنگیں دہشت گردی کے خلاف تھیں جنہیں ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام دیا جاتا رہا ہے۔ جنگی سختیاں جھیل کر اب فوج کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگلے سو سال کیسے ہو گے۔ اگر کہیں مضبو طی لانی ہے تو وہ سائیبر سپیس ہے، نیٹو نے 2016 میں سائیبر سپیس کو
Operational Domain
کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ مستقبل کے جھگڑوں کا اہم حصہ سائیبر سپیس میں ہو گا۔
RUSI Land Warfare Conference 2017
میں برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیر مارک سیڈول کا کہنا تھا کہ بر، بحراور فضا کے علاوہ اب سائیبر سپیس اور ہیڈ سپیس بھی موجود ہیں۔
اگر ہیڈ سپیس شش جہتی کارروائی ہے تو سلامتی و حفاظت کے نظریات اس بحث میں کس طرح شامل ہوں گے اور کس طرح اصول و ضوابط قائم کریں گے۔
مصنوعی ذہانت چونکا دینے والے حکومتی چیلنج لا کھڑا کرتی ہے۔ سب سے زیادہ مشکل میں ڈالنے والا عمل روبوٹس میں مصنوعی ذہانت یا اے ائی ہے۔ تقریباً 56 ممالک میدان جنگ کے لئے روبوٹس تیار کر رہے ہیں۔
,Gates Musk
اور
Hawking
نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور فوجی روبوٹس کے لئے اچھی نگہداشت کا بندوبست کرنا ہو گا ورنہ ان کے ہاتھ سے نکل جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے جس سے انسان کے لئے تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں۔
بڑے ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت پر مبنی افعال کے لئے ڈیٹا محفوظ کرنے کی صلاحیت میں بے پناہ اضافے کی ضرورت ہے جس کے لئے خاطر خواہ سرمایہ کاری درکار ہے۔ کمپیوٹر سے متعلقہ ضابطہ اخلاق بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ ایک ابھرتا ہو ا شعبہ ہے جس کے تحت مشین کو صحیح یا غلط انتخاب نہیں کرنابلکہ معاشرتی ضوابط کا احترام کرنا ہے۔ حکومتی کار گزار، فوجی حکمت عملی کے ماہر، تجارتی طبقہ اورمعاشرے کی نمائندہ تنظیموں نے مصنوعی ذہانت کے ان پہلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے فعال بنانے پر بھی غور کیا ہے۔
کسی دوسری تکنیکی ترقی کی طرح حکومت کو قومی قوت کی حامل اس نئی اتشر کا جائزہ بھی لینا چاہیے، تا کہ اس کے سیاسی وسماجی پہلوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی کمزوریوں کو سمجھا جائے اور اخلاقی ضابطے کے ساتھ ساتھ قومی قیادت کو اجاگر کیا جاسکے۔
پاکستان کے لئے اس ٹیکنالوجی کے مندرجہ ذیل شعبوں کا احاطہ کیا جانا چاہیے
۔ وسیع ڈیٹا کے استعمال کے لئے ملک کس قدر تیار ہے۔
۔ ملک کا ائی او ٹی اور تجزیے کا نظام کس قدر دیرپا ہے۔
۔ ترقی کس قدر پہلے سے موجود معلومات کے ذخائر کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔
۔ علاقائی حریفوں کا خفیہ معلومات اکٹھی کرنے اور تجزیے کا نظام اور مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والی غیر روایتی اکائیاں کس قدر متحرک ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے فعال استعمال کے لئے مندرجہ ذیل تین اوصاف پر عمل درآمد ضروری ہے۔
۔ قیادت مصنوعی ذہانت کو فعال طریقے سے اپنا کر عمل درآمد کرے، اس سے وابستہ خطرات کی نشاندہی کرکے نگرانی کرے۔
۔ قیادت مصنوعی ذہانت کے دفاع و دیگر اہم سہولیات کے لئے فعال منصوبہ بندی کرے۔ بیرونی ماہرین کی خدمات حاصل کرے۔
۔ مصنوعی ذہانت کے فعال نظام کو چلانے اور اس کے روزمرہ استعمال کو کمیٹیوں اور ٹاسک فورس کے ذریعے جاری رکھنا۔


مصنوعی ذہانت روایتی صنعتوں میں رکاوٹ بننا شروع ہو چکی ہے۔ کبھی خوب ترقی کرنے والی بھارتی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت جس کا کل برآمد میں حصہ 15فیصد اور مالیت 100 ارب ڈالر ہے، اب ملازمین کو فارغ کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، کلاوڈ کمپیوٹنگ وسیع ڈیٹے کا تجزیہ اور روبوٹس کے ذریعے خودکاری کی پیدا کردہ طلب نے جنوبی امریکہ (63فیصد) برطانیہ (13فیصد) اور یورپین ممالک(11فیصد) میں کام کرنے والے سستے مزدوروں کی مانگ میں کمی کی ہے۔ اس شعبے میں نہایت اعلیٰ مہارت کے حامل کارکن درکار ہوتے ہیں جس کے لئے بھارت کو یا تو اپنے کارکنوں کو نئے سرِے سے مہارتیں سکھانا ہوں گی یا ان کی جگہ نئے کارکن مہیا کرنا ہوںگئے جو مصنوعی ذہانت اور وسیع ڈیٹا کے میدانوں میں کام کرنے کے لئے موزوں ہوں۔ یہ علاقائی نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے جہاں روائتی طور پر تنخواہ پر کام کرنے والے ملازمین کی ضرورت کم پڑتی جا رہی ہے۔
دفاعی شعبوں کو بھی اس قسم کے چیلنجز کا سامناہے جہاں نیٹ ورک سے وابستہ جنگ میں ایسے نظام کی ضرورت ہے، جو میدان جنگ میں مصنوعی ذہانت اور IoT کے ذریعے مواصلات اور ہم آہنگی کو بروئے کار لائے گا۔ حکومت کو ان صلاحیتوں پر انحصار کرنا ہو گا کیونکہ کارکردگی کے مقابلے پر بڑھتی ہوئی لاگت اور کم ہوتے ہوئے ذرائع کا سامناہے۔
DARPA (The Defense Advanced Research Projects Agency)
کی حکمت عملی کے شعبے نے ایک اچھوتی تدبیر اپناتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ لاکھوں سینسروں اور مشینوں سے مہیا کی جانے والی بے پناہ معلومات سے کس طرح سپاہی میدان جنگ میں حکمت عملی اور دیگر فیصلوں کو حتمی شکل دیں گے۔ زیادہ سے زیادہ حاصل ہونے والی معلومات کو کس طرح بھر پور آسان اور واضح طور پر استعمال کیا جائے۔


مشین کے ذریعے سیکھتے ہوئے دفاعی حکمت عملی کے حامل کمپیوٹر کیمرے پر مبنی پائلٹ منصوبہ پر کام جاری ہے۔ ٹیکنالوجی کو تنظیم سے چلاناکوئی نئی بات نہیں۔ بھاپ کے انجن سے لیکر تاروں کے ذریعے جانے والی مواصلات اور حال ہی میں آنے والی
Computer Modeling
،تک اہم ٹیکنالوجی کے مختلف ادوار کو اپنا چکے ہیں جبکہ اس شعبہ میں جدید رجحان سوچنے کی صلاحیت رکھنے والے کمپیوٹر ہیں جنہیں انسانی مدد کی ضرورت نہ ہوجو کہ سمجھ کر خود فیصلہ کرنے کے قابل ہوں۔
مصنوعی ذہانت اور مشین کا ازخود سیکھنا وہ میدان ہیں جہاں پیش آنے والی مشکلات کا پہلے کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ترقی یافتہ ممالک اس سلسلے میں پہلے ہی کافی کام کر چکے ہیں۔ وائٹ ہائوس کے سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق پالیسی کے دفتر نے مشینوں کے از خود سیکھنے سے متعلق اندرونی پالیسی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ برطانوی پارلیمان نے روبوٹس اور مصنوعی ذہانت سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔ قومی سلامتی کی حکمت عملی کے اظہار کا یہ ایک نیا طریقہ ہے۔
تو اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
انٹیلی جینس کا مطلب مسائل سے آگاہی، فیصلہ سازی کے اوقات کار متعین کرنا، منصوبہ بندی اور عمل درآمد ہے۔
حالانکہ یہ اپنی ترتیب میں وسیع ہے تاہم اگر عوامی ذمہ داریاں نبھانے اور لوگوں کا محاسبہ کرنے والے ادارے مصنوعی ذہانت کے فلسفے سے مستفید نہیں ہوںگے تویہ قومی استحکا م کو ایک خطرہ ہو گا۔ 1950کی دہائی میں شروع ہونے کے بعد مصنوعی ذہانت کا نظام اب صلاحیت رکھتے ہیں۔ وژن پر نقطۂ نظر رکھتے ہیں ، تقریر شناخت کر سکتے ہیں اور کسی حد تک منصوبہ بندی اور بحث بھی کر سکتے ہیں۔ غلطی کا امکان ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتا جا رہاہے۔ بہتری کی رفتار بہت تیز نہ سہی مگر کافی حقیقی ہے۔ مصنوعی ذہانت دو اہم شعبوں کا احاطہ کرتی ہے یعنی معلومات کی فراہمی اور نتائج اخذ کرنا۔ مرکزی سطح پر سیکھنا اور دلائل دینا۔
پاکستان میں اس کے سیاق و سباق کی علمیت بہت کمزور ہے اور یہ پالیسی سازوں، منصوبہ بندوں ، تعلیم دانوں اور ذمہ داری پہ مبنی فرائض نبھانے والوں کے لئے خوف ناک ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کے کچھ ہو نہیں رہا۔ کچھ ہو بھی رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کو شوق سے دیکھنے والا پاکستان پچھلے 15سالوں میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں ترقی کے لئے کیاکیا کرتا رہا ہے ، اس کے لئے گوگل سے استفادے کے رحجانت دیکھنے سے خاصی رہنمائی مل سکتی ہے۔کیونکہ 2004-5 میں یہ سب سے زیادہ ملاحظہ کی جانے والی سائٹ تھی جس میں گزشتہ سالوں کے دوران خاطر خواہ کمی آگئی ہے۔ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کے باوجود گوگل قدرے خاموش ہے تاہم ایک اور ویب سائٹ
(DotA) Defense of the Ancients
خاصی مقبول ہوئی ہے جس کی ابتدا
Realtime Staretgy
نامی ویڈیو گیم سے ہوئی۔ یہ اس مرکزی خیال کو جنم دیتا ہے کہ آخر ہماری مجموعی صلاحیت کیا ہے۔
گزشتہ بیس سالوں میں کیا تبدیل ہوا ہے۔ عالمی سطح پر ڈیٹا میں اضافے کے اثرات ڈیجیٹل، جسمانی اور حیاتیاتی دائرہ کار میں ہو رہے ہیں۔ جس سے عوامی سطح پر واقفیت ہے۔ اس وقت یہ سوال اس لئے پوچھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان نے اب دو میں سے ایک راستے کا انتخاب کرنا ہے۔
الف: یہ سب کچھ کوئی اور پاکستان کے لئے کرے۔
ب: پاکستان اپنے طریقے سے یہ سب کچھ اپنے لئے خود کرے۔
دونوں صورتوں میں یہ ایک قومی سلامتی کا فیصلہ ہو گا۔ یہ ایک مختلف انتخاب ہے، لیکن اگر پاکستان کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بہت منفرد بھی نہیں۔ ملک کو کمزوری سے بچنے کے لئے کا م کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بطور خود آگاہ معاشرہ در پیش ناکامی سے بچا جا سکے۔


پچانوے فیصد سے زیادہ مسلمان آبادی پر مبنی پاکستان میں چالیس فیصد پنجابی، پندرہ فیصد پٹھان، چودہ فیصد سندھی ، آٹھ فیصد سرائیکی اور تین فیصد بلوچ مقیم ہیں جو ساٹھ سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں، یہاں لسانی تعلیم ترقی ، بہتر کارکردگی اور بہتر ساخت کے لئے بہت ضروری ہے۔


مصنوعی ذہانت کے میدان میں یہ ایک حقیقی موقع ہے۔ ہر طرف ڈیٹا کثرت سے موجود ہے۔ ریاستی نظام کا اس موقع کی شناخت اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے جسے روز گزشتہ کی طرح ہماری دسترس میں ہونا چاہیے۔ اور اس کام کے لئے ریاست کو تمام تر حمایت اکٹھی کرنی چاہیے جو تن تنہا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے کارگر ہونے کے لئے عوامی حمایت ضروری ہے
کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستان کے لوگ اپنے روزمرہ کے مسائل آسانی سے حل کر لیں؟ جی ہاں یہ ممکن ہے۔ تو کیا مصنوعی ذہانت کا نظام پاکستان کے مسائل کے حل کی پیش بندی کرے؟ جی ہاں لیکن اس کے لئے انٹرنیٹ سے وابستہ ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونا آج کی ضرورت ہے۔


اگر آج ہمارے مصنوعی ذہانت کا ادراک مستقبل کی سوچ میں بہتری و اضافے کا باعث نہیں بن سکتی تو ہم اس سے فائدہ اٹھانے کے مقام سے بہت پیچھے ہیں۔
آج کا ذہین کارکن انسانی روپ میں نہیں پایا جاتا۔بلکہ وہ با حکومت انسان نما اجسام میں ہو سکتا ہے جو کسی بھی تکلیف کو اٹھانے سے مبرا ہوں۔ اگر ہم گوگل سرچ انجن اور مائیکرو سافٹ کے ذریعے ہماری کام کرنے کی صلاحیت میں اضافے کو پیمانہ بنا لیںتو ہم سوچ سکتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا نظام عوامی اسباب مہیا کرنے میں کس قدر مددگار ہو سکتا ہے۔


نفسیات اور انسانی رویئے کا گہرا ادراک جو دماغی نظام میں معلومات، ادراک ، فیصلہ سازی، سوچ اور تصورات جیسے بنیادی عوامل ہیں۔ نفسیات اور انسانی روئیے کا گہرا ادراک حاصل ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغی نظام میں معلومات سے فیصلہ سازی اورشعوری ادراک حاصل کرنا بنیادی جز ہیں۔ یہی مصنوعی ذہانت کے اہم اجزا بھی ہیں۔


مصنوعی ذہانت مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے لیکن قابل دید بات اس کاوہ فلسفہ ہو گا جو بیس کڑور لوگوں کے ملک کے مسائل کے لئے انسان دوست حل پیش کرے گا۔ اسی لئے جنگ اور امن میں مصنوعی ذہانت کو سمجھنے میں رحجانات پر وہ گفتگو اہم ہے جو استعاروں اور مثالوں کی تشریح کرے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے، ویسے ویسے وسیع ڈیٹے کا حصول اور اشیا کو انٹرنیٹ کے ذریعے استعمال میں لانے کے شعبے میں ترقی ہو رہی ہے جن عوامی حلقوں میں اس کے پھیلائو پرکام ہو رہا ہے وہاں مصنوعی ذہانت سے فیصلہ سازی ایک دستور بن جائے گا۔


اس سوچ کو جو اب معلومات کی مدد سے فیصلہ سازی میں تبدیل ہو چکی ہے جس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ جو معلومات تک رسائی کو اہم سمجھتے ہیں، کیا انہیں اس وقت کا انتظار کرنا پڑے گا جب یہ حق انٹرنیٹ کے مہیا ڈیٹے پر مشتمل ہو جائے گا یعنی کھلے ڈیٹے تک رسائی کے حق تک۔ جب خیالات مرتب کیے جاتے ہیں۔ سوچ باہمی رابطے سے مخصوص سر گرمی بن جاتی ہے اس سرگرمی کو وجود میں لانے والے صلاحیت مشین کے سیکھنے کی صلا حیت سے وابستہ ہے۔ جو چیزوں کو جان کہ ان کی تشریح کرے گی۔ ذہین کارکن کے لئے ان معلومات کو حقیقتوں کے پیرائے میں بیان کرنا حقیقی چیلنج ہے۔ لہٰذا مصنوعی ذہانت کا اظہار سب کے لئے ایک اہم چیز ہے۔ اس صلا حیت کا زبان دانی پر عبور سے مدغم ہونا پاکستانی معاشرے کو دور دراز مستقبل میں چہل قدمی کرنے کی صلاحیت بخشتا ہے۔ ماضی و مستقبل کے تنقیدی جائزے پر مبنی استعاروں پر مبنی سماجی و ثقافتی جائزے پر مبنی متحرک سوچ۔ ایک اعلیٰ مقصد کے حصول میں گندھی ہوئی سوچ۔ تاہم مصنوعی ذہانت کے گرد بنی گئی۔ تصوراتی قیام نامیاتی ہونا چاہیے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب پاکستان اور اس کے لوگوں سے متعلق معلومات آپس میں ضم ہوں تا کہ مشین کے ذریعے سکھائی گئی مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔


چنانچہ لوگوں کے خیالات و اسباب کے متعلق بہتر فیصلے کرنے سے فیصلہ سازی کے موجودہ نمونہ میں بہتری آسکتی ہے۔ نوجوان پاکستانیوں میں خواہشات اور حقیقت میں خلا کو پر کرنے سے بہتری آئے گی۔ کیا پاکستان محدود اور عمومی صلاحیت پر گزارہ کرے یا سپر مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھائے؟ یہ پاکستان کے لئے مصنوعی ذہانت کے انقلابی ارتکا کا نقطہ آغاز ہونا چاہئے۔
اس میں ایک انتباہ ہے۔ چین کا
Tiauxia
کا فلسفہ اپنے اندر ایک بیلٹ ایک سڑک کو سموئے ہوئے ہے جبکہ 2075 میں
PEW Research Centre
کی پیشگوئی کے مطابق اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہو گا۔ پاکستان کے اپنے فیصلے اور اقدامات ملک کے اندرونی و بیرونی حالات کا فیصلہ کریں گے۔

(Big Data)
بڑے اعدادوشمار کا فلسفہ ہی اس دور بین اور متحرک نقطہ نظر کی رانمائی کرتا ہے۔ جبکہ اپنے وقت کے سب سے بڑے فلسفہ دان ابن خلدون نے معاشرے کے ارتقا کو بیان کیا اور اداروں کی افادیت کو معانی عطا کئے۔
کسی بھی شکل ہیئت میں سہی، مصنوعی ذہانت لوگوں کی ترقی کے لئے استعمال ہونی چاہئے نہ کہ ایسا ماحول پیدا کرنے میں جو صرف غیر یقینی کا سبب ہو۔ اگر پاکستان کو سنجیدگی سے کوئی مقام حاصل کرنا ہے تو وہ ایسے نقطہ نظر کی موجودگی میں نہیں ہو سکتا جو کہ خود عدم توازن کا شکارہے۔
قومی سلامتی کا تصور 2100 میں آج کے تصور سے نمایاں طور پر مختلف ہو گا۔ نبی ۖ نے فرماییا:''اﷲ مجھے چیزوں کی حتمی فطرت کا علم عطا فرما۔''
لہٰذا حتمی سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے فلسفے کی ضرورت ہے؟ جبکہ پہلے تمام فلسفے اور منطق اس دکھی ماں کو سکون بخشنے میں نا کام رہے ہیں۔ اس کا مختصر جواب ہے، جی ہاں!

پریوش چوہدری ایک محققہ اور تھنک ٹینک ''آگہی'' کی بانی اور صدر ہیں۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ڈاکٹر شاہد محمود

AIمیں

PHD

انٹر یکٹو گروپ آف کمپنیز کے

اور چیئرمین ہیں۔ سی ای او

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
 
Read 530 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter