قراردادِ پاکستان کا پس منظر

Published in Hilal Urdu March 2018

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

میں ان مغربی مؤرخین سے متفق نہیں ہوں جو محض اس وجہ سے ظہورِ پاکستان کو ایک فوری واقعہ قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مختصر سے عرصے میںوجود میں آ گیا۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پاکستان کا ظہور مسلمان عوام اور مسلمان رہنمائوں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ دراصل یہ کئی عشروں پر محیط عمل کا نقطہ عروج تھا۔ صدیوں تک ہندوئوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے باوجود ہندی مسلمان ہمیشہ ایک آزاد مسلم مملکت کے خواب دیکھتے رہے کیونکہ انہوں نے اس امر کا ادراک کر لیا تھا کہ متحارب اکثریت کے ہاتھوں ان کے دینی، ثقافتی اور سیاسی تشخص کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس غیر یقینی اور مبہم صورت حال کو قائداعظم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ''ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ بارہ صدیوں کی تاریخ ہم میں اتحاد پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس تمام عرصے میں ہندوستان، ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں تقسیم ہوتا رہا ہے۔ اس وقت جو مصنوعی اتحاد نظر آتا ہے وہ محض برطانوی اقتدار کا نتیجہ ہے۔''


مسلمانوں میںایک علیحدہ وطن کی ضرورت کا احساس تدریجاً پیدا ہوا اور جوں جوں ان پر ہندوئوں کے عزائم اور ذہنیت کھلتی گئی اس میں شدت پیدا ہوتی گئی۔ اس طرح ہندوستان میں سرگرم سیاسی عوام نے انہیںاس منطقی نتیجہ پر پہنچایا۔ چنانچہ 1940کی ''قرارداد لاہور'' ان کی انہی اجتماعی خواہشات کا عملی اظہار تھا۔ ایک طرح سے یہ ان کے صدیوں پرانے خواب کی تعبیر تھی۔ اس لئے یہ قرارداد تاریکی میں بھٹکنے والے مسلمان عوام کے لئے روشنی کی کرن ثابت ہوئی اور پھر اسے ہماری تاریخ میںایک مینارہ نور کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس قرارداد نے مشکلات سے بھرپور ہماری جدوجہد آزادی کی راہوں کو روشن کر دیا۔ قرارداد لاہور (جسے بعد میں قراردادِ پاکستان کا نام دیا گیا) بڑی تیزی سے مسلمانوں میں مقبول ہو گئی اور مسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے لئے طاقت کا سرچشمہ ثابت ہوئی ۔

qaradedepakistanka.jpg


مسلمان برصغیر میں ایک فاتح کی حیثیت سے آئے تھے لیکن اپنے پیشروئوں کی طرح نہ تو انہوں نے مقامی لوگوں کی تذلیل کی اور نہ ہی ان سے اچھوتوں کا سا سلوک کیا۔ وہ یہیں بس گئے۔ یہاں انہوں نے سلطنتیں قائم کیں اور اپنی نسلوں کو آباد کیا۔ وہ صدیوں ہندوستان پر حکومت کرتے رہے لیکن پرامن بقائے باہمی کے باوجود مسلمان اور ہندو ہر لحاظ سے دو مختلف اقوام رہیں۔ البیرونی نے صدیوں پہلے کہا تھا۔


''ہندو اورمسلمان ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں اور انہیں دُور سے بھی بآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔''
یہی وہ سیاق و سباق تھے جن کے حوالے سے قائداعظم نے علی گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
''پاکستان اسی روز قائم ہو گیا جب پہلا ہندو مسلمان ہوا۔''
یہ برصغیر میں مسلم حکومت قائم ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے۔


مسلمانوں کو جب تک فوجی بالادستی حاصل رہی، ہندو انہیں برداشت کرتے رہے۔ لیکن جیسے ہی ان کی حکومت میں انحطاط پیدا ہوا ہندو، سکھوں، جاٹوں اور مرہٹوں سے مل کر ہندوستان میں مسلمانوںکو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تل گئے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریک اور ان کی طرف سے احمدشاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کی دعوت کا اصل مقصد بھی مسلمانوں کو ان خطرات سے بچانا تھا جو ہندوستان کے افق پر منڈلا رہے تھے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریروں سے مترشح ہوتا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے دین اور قومی تشخص کو بچانے کے لئے اس علاقہ کے کسی نہ کسی حصے میں مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت اور اقتدار کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ملک اور حکومت کے خواب کی جڑیں ہماری تاریخ میں نہایت گہری تھیں لیکن ہندوستان پر برطانوی اقتدار نے سیاسی منظر ہی بدل دیا۔ لہٰذا مسلمانوں نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ چنانچہ وہ مشترکہ دشمن یعنی برطانیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہندومسلم اتحاد کے بارے میں سوچنے لگے۔ سر سید پہلے مسلمان رہنما تھے جنہوں نے ہندومسلم اتحاد کے لئے کام کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہندو اور مسلمان ایک خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں ہیں۔ ان میںسے کسی ایک کو بھی نقصان پہنچا تو دلہن کا حسن ماند پڑ جائے گا۔ لیکن جوں جوں ان پر ہندوئوں کے عزائم کھلے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ دونوں اقوام زیادہ عرصے تک اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔ ایک دن انہیں الگ ہونا ہو گا اور یہ امر مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں ہو گا۔ انہوں نے ہندوستان میں برطانوی جمہوری اداروں کے قیام کی اسی لئے مخالفت کی کہ ان سے ہندو اکثریت کے اقتدار کو دوام حاصل ہو جائے گا۔ سرسید کے یہ الفاظ ان کے تاریخی

 

شعور اور فہم کا بہترین ثبوت ہیں۔
''یہ ممکن نہیں کہ ان میں سے ایک قوم حاکم رہے اور دوسری محکوم بن جائے۔''
قائداعظم محمد علی جناح نے بھی اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز ہندو مسلم اتحاد کے ایک مخلص حامی کی حیثیت سے کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے 1906ء میں مسلم لیگ کے قیام اور مسلمانوں کے جداگانہ نیابت کے نتیجے سے محض اس لئے مخالفت کی کہ ان کے نزدیک مسلمانوں کے اس اقدام سے اتحاد کے تصور کی پیشرفت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ ہندومسلم اتحاد کے لئے ان کی پرجوش مساعی کے نتیجہ میں 1916ء کے مشہور لکھنئو پیکٹ پر دستخط ہوئے اور قائداعظم کو ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کا خطاب ملا۔ اگلی دو دہائیوں میں انہوں نے اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے اور یقینی بنانے کے لئے بھرپور کوشش کی جس پر معاہدہ لکھنئو میں اتفاق رائے ہوا تھا۔ دہلی کی مسلم تجاویز (1917ئ) کل جماعتی مسلم کانفرنس کی قرارداد (1929ئ) قائداعظم کے چودہ نکات گول میز کانفرنس میں پیش کی جانے والی شرائط (1930تا1933) اور کانگریسی رہنمائوں سے مذاکرات کا صرف ایک ہی مقصد اور مدعا تھا کہ مسلمانوں کے لئے ایسے تحفظات حاصل کئے جائیں کہ جن کے ذریعے ان کی جداگانہ دینی اور ثقافتی حیثیت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروفیسر شریف المجاہد کے الفاظ ہیں:
''ان کا مطالبہ تھا۔۔۔ آئین وفاقی ہو جس کے تحت فاضل اختیارات صوبوں کے پاس ہوں۔ مرکزی اسمبلی اور کابینہ میں مسلمانوں کی نیابت کم از کم ایک تہائی ہو۔ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی مستقل اکثریت تسلیم کی جائے۔ شمال مغربی سرحدی صوبہ اور بلوچستان میں اصلاحات جاری کی جائیں۔ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر دیا جائے۔ مسلمانوں کے لئے جداگانہ نیابت کو اور فرقہ وارانہ امور میں دوہرے ووٹ کی شق کو برقرار رکھا جائے اور آئین میں وفاق میں شامل تمام اکائیوں کی رضامندی کے بغیر کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔''
''ان تمام مطالبات کے پس منظر میں یہ خواہش کار فرما تھی کہ ایک صحیح وفاقی آئین کے تحت جس میں تحفظ و حقوق کا مناسب اہتمام ہو، توازن قائم کرنے کے لئے چھ ہندو صوبوں کے مقابلے میں پانچ مسلم صوبے تشکیل دیئے جائیں۔ لیکن ان تمام مطالبات پر کانگرس کا رد عمل شرانگیز، غیرمنطقی بلکہ توہین آمیز تھا۔''


دریں اثنا قائداعظم کانگرسی رہنمائوں سے بتدریج مایوس ہوتے چلے گئے۔ اس مایوسی کا آغاز کانگرس کے اجلاس منعقدہ ناگپور (1920) سے ہوا تھا جس میں قائداعظم نے کانگرس کی طرف سے گاندھی کے زیراثر نئی سیاسی حکمت عملی اپنانے کے فیصلے کی نہایت جرأت مندی سے مخالفت کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب قائداعظم ناگپور سے روانہ ہوئے تو ان کی طبیعت میں تلخی اور غم و غصہ پیدا ہو چکا تھا۔ بعد ازاں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی شدھی اور سنگھٹن تحریکوں سے شروع ہو کر گاندھی کی ستیہ گرہ، نہرو رپورٹ، کل جماعتی کلکتہ کنونشن اور سات صوبوں میں کانگرس راج کے واقعات نمودار ہوئے جن سے فرقہ وارانہ فسادات کو فروغ ملا اور لکھنئو پیکٹ کی پیدا کردہ دوستانہ فضا ختم ہو کر رہ گئی۔ ان واقعات نے مسلمانوں پر ہندوئوں کے اصل عزائم بے نقاب کر دیئے۔


برطانوی راج کے جانشین کی حیثیت سے چونکہ ہندوئوں نے ہندوستان میں ''ہندوراج'' قائم کرنے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا اس لئے دونوں قوموں کے درمیان اختلافات میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ قائداعظم نے نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بجا طور پر ''راستے الگ''
(Parting Ways)
ہونے کی دستاویز قرار دیا تھا۔ اسی طرح کانگرسی وزارتوں نے مسلمانوں میں یہ تکلیف دہ احساس پیدا کیا کہ اگر صوبوں میں کانگرسی راج کے تحت رونما ہونے والے واقعات ہندو قومی حکومت کی ایک تصویر ہیں تو پھر یقینا اس حکومت میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔ اس صورت حال کا حتمی تجزیہ انتہائی مایوس کن اور تکلیف دہ تھا اور اسی تجزیئے نے ہندی مسلمانوں کو مطالبہ پاکستان پر مجبور کیا۔


ہندی مسلمان ابھی جداگانہ ملک کے دھندلے خواب ہی دیکھ رہے تھے کہ علامہ اقبال نے 1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس الٰہ آبادسے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبہ میں ایک جداگانہ مملکت کا ایک واضح اور جامع تصور پیش کر دیا۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کا جو تصور پیش کیا وہ جغرافیائی اور نظریاتی عوامل پر مبنی تھا۔ انہوں نے فرمایا:


''میرے نزدیک پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کے صوبوں کو ایک واحد مملکت میں ضم کر دینا چاہئے۔ جسے برطانوی ایمپائریا اس سے باہر مکمل خودمختاری حاصل ہو۔ کیونکہ میرے نزدیک شمال مغربی ہندوستان میں آزاد مسلم ریاست کا قیام ہی شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے لئے واحد ذریعۂ نجات ہے۔''
اس ریاست کے نظریاتی جواز پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے کہا:


''مسلم مملکت کا میر ایہ مطالبہ ہندوئوں اور مسلمانوں دونوں کے لئے منفعت بخش ہو گا۔ ہندوستان کو اس سے حقیقی امن اور سلامتی مل جائے گی اور اسلام کو اس سے ایسا موقع میسر آ جائے گا کہ جس سے یہ اپنے قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے زندگی اور حرکت عطا کر سکے اور انہیں عصر حاضر کی روح کے قریب آنے کے قابل بنا سکے۔''
گویا علامہ اقبال نے پاکستان کی صورت میں ایک ایسی مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تھا جہاں قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے حقیقی اسلامی سانچے میں ڈھالا اور عصر حاضر کی روح کے قریب لایا جائے گا۔


پاکستان کا تصور یکایک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی اچانک آسمان سے اترا تھا بلکہ اس نظریئے نے بتدریج ارتقاء پایا۔ اکثریتی اور اقلیتی صوبوں کے مسلم رہنمائوں کے اتفاق رائے کے لئے اس پر تفصیلی بحثیں ہوئیں تاکہ اسے ہندی مسلمانوں کا اجتماعی، واحد اور آخری مطالبہ قرار دیا جا سکے۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938ء میں جو قرارداد منظور کی تھی وہ مسلم رہنمائوں کے اذہان کی ٹھیک ٹھیک اور صحیح صحیح عکاسی کرتی تھی کہ وہ کیا سوچتے تھے۔ قرارداد میں مسلمانوں کے ساتھ کانگرس کی زیادتیوں اور ناانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا:
''اس فرقہ وارانہ ذہنیت اور مسلم کش پالیسی کے باعث اکثریتی قوم سے کسی نیکی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔''
قرارداد میں زور دیا گیا:


''مسلمانوں کا ہندوئوں سے جو اختلاف ہے اس کا اصل منبع دین، زبان، رسم الخط، ثقافت، معاشرتی قوانین اور زندگی کے بارے میں اندازِ فکر ہے۔''
پروفیسر خالد بن سعید کے الفاظ ہیں:


''اس قرارداد میں مسلم لیگ نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر مسلمانوں اور ہندوئوں کو دو مختلف اقوام قرار دیا تھا۔''
چنانچہ سندھ مسلم لیگ کانفرنس نے آل انڈیا مسلم لیگ سے سفارش کی وہ ایسی آئینی سکیم تیار کرے جس کے تحت مسلمانوں کو مکمل آزادی حاصل ہو جائے۔ چنانچہ سندھ مسلم لیگ کی 1938کی اس قرارداد کو 23مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور سمیت اس مسئلہ پر منظور کی جانے والی تمام قراردادوں پر سبقت اور فوقیت حاصل ہے۔
بہرحال 1939ء میں تقسیم ناگزیر نظر آتی تھی۔ اس وقت مسلم رہنمائوں کی اکثریت اس کی قائل ہو چکی تھی۔ ستمبر 1939ء میں قائداعظم نے وائسرائے سے دوران گفتگو فرمایا: ''وہ قائل ہو چکے ہیں کہ ہندوستان کے مسئلے کا حل اس کی تقسیم ہے۔'' آل انڈیامسلم ورکنگ کمیٹی نے اپنے مارچ 1939ء کے اجلاس میں قائداعظم کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کی تاکہ علامہ اقبال، چودھری رحمت علی، ڈاکٹر عبداللطیف اور دوسرے لیڈروں کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام تجاویز اور مسودوں کا جائزہ لیا جائے۔ شاہ نواز ممدوٹ کے علاوہ اس کمیٹی کے دوسرے دو ممبران عبداﷲ ہارون اور سکندر حیات نے بھی اپنی طرف سے تجاویز پیش کیں۔ لیگ کمیٹی نے ان تمام تجاویز اور منصوبوں پر تفصیل سے غور وخوض کیا جس کے بعد مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے مسلم لیگ کے لاہور اجلاس سے کچھ دیر پہلے ہونے والی میٹنگ میں ایک سکیم کی منظور دے دی جو 23مارچ 1940 کو منظور ہونے والی ''قراردادِ لاہور'' کی بنیاد بنی۔


قائداعظم نے اجلاسِ لاہور میں اپنی صدارتی تقریر میں ہندی مسلمانوں کی تاریخ کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے کہا:
''ہندواور مسلمان الگ الگ فلسفۂ مذہب رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت جدا جدا ہے اور دونوں کا ادب ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان میں باہمی شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے۔ وہ دو الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر قائم ہیں۔ ان کا تصور حیات اور طرز حیات الگ الگ ہے۔ یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف تاریخوں سے وجدان اور ولولہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کا رزمیہ ادب الگ ہے۔ ان کے مشاہیر الگ الگ ہیں اور ان کا تاریخی سرمایہ جدا جدا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے ہیرو دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں اور اسی طرح ان کی فتح اور شکست ایک دوسرے کے لئے مختلف حیثیت رکھتی ہے۔
دو ایسی قوموں کو ایک نظامِ سلطنت میں جمع کر دینا، جہاں ایک قوم عددی لحاظ سے اقلیت ہو اور دوسری اکثریت، نہ صرف باہمی مناقشت کو بڑھائے گا بلکہ بالآخر اس نظام کی بربادی کا باعث ہو گا جو ایسے ملک کی حکومت کے لئے وضع کیا جائے گا۔ مسلمان ہر اعتبار سے ایک مستقل قوم ہیں اور انہیں ان کا الگ وطن ان کا اپنا علاقہ اور اپنی حکومت ملنی چاہئے۔''
قراردادِ لاہور مولوی فضل الحق نے پیش کی اور 23مارچ 1940ء کو منظور کر لی گئی۔ اس میں ایسی آزادمسلم ریاست یا ریاستوں کا مطالبہ کیا گیا تھا جو ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی منطقوں میں جغرافیائی لحاظ سے متصل ایسے علاقوں پر مشتمل ہوں جہاں مسلمان ہر اعتبار سے بہ تعداد آبادی اکثریت رکھتے ہوں۔ اس قرارداد میں ترمیم اس وقت کی گئی جب مسلم لیگ نے منتخب ارکان اسمبلی کے اجلاس منعقدہ دہلی 1946ء میں واحد مسلم ریاست کا مطالبہ کیا۔ بہرحال قراردادِ لاہور نے اسلامیان ہند کو تصورات سے نکال کر ان کے سامنے ان کی منزل متعین صورت میں پیش کر دی جو ان کے گزشتہ نصف صدی کے خوابوں کی تعبیر تھی۔ ابھی تک وہ تاریکی میں بھٹکتے رہے تھے لیکن اب انہیں غار کے دوسرے سرے پر روشنی کی کرن نظر آنے لگی تھی۔


مارچ 1940ء کے بعد ان کی تمام توانائیاں اس مینارۂ نور تک پہنچنے کے لئے وقف ہو گئیں اور انہوں نے اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ گویا یہ ان کی زندگی میں ایک انقلاب آفریں دور کا نقطۂ آغاز تھا۔ ان کا یہ کاروانِ شوق اپنے قائد کی قیادت میں ''اتحاد، ایمان اور تنظیم'' کے جذبے سے سرشار اس طرح آگے بڑھا کہ بالآخر اپنے تصورات اور اپنے خوابوں کے جزیرے۔۔۔ پاکستان۔۔۔ تک پہنچ کر ہی دم لیا۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

''خیالی دنیا سے نکل آئیں اور اپنے دماغ ایسے پروگراموں کے لئے وقف کردیں جن سے زندگی کے ہر شعبہ میں ہمارے لوگوں کے حالات بہتر ہو سکیں، صرف اس ہی صورت میں ہم اتنے مضبوط اور طاقتور ہو سکیں گے جو ان مخالف اور ضرر رساں قوتوں کا مقابلہ کرسکیں جو ہمارے خلاف کام کررہی ہیں۔ ''
(قائدِاعظم کا طلبہ کے نام پیغام، 13 جنوری1941)

قائدِاعظم کی نگاہ میں علامہ اقبال کا مقام
''اقبال نے آپ کے سامنے ایک واضح اور صحیح راستہ رکھ دیا ہے جس سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوسکتا۔ وہ دورِ حاضر میں اسلام کے بہترین شارح تھے کیونکہ اس زمانے میں اقبال سے بہتر اسلام کو کسی نے نہیں سمجھا۔ مجھے اس کا فخر حاصل ہے کہ آپ کی قیادت میں ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع مل چکا ہے۔ میں نے اس سے زیادہ وفادار رفیق اور اسلام کا شیدائی نہیں دیکھا۔''
(ہفت روزہ حمایتِ اسلام، لاہور 6مارچ1941)

''آپ کی ریاست کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے نہایت تیزی سے تعمیر کریں۔ اتنا اچھاجتنا کہ ممکن ہے۔''(قائدِاعظم محمدعلی جناح)
٭٭٭٭
''اگرہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خوش اورخوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی پڑے گی۔''
(قائدِاعظم ۔خطبۂ صدارت دستو ر ساز اسمبلی1947)

*****

 
Read 425 times

6 comments

  • Comment Link zahir zahir 26 March 2018

    Great work.... reflects the best analytical skills....

  • Comment Link farrukh farrukh 26 March 2018

    Amanzing Artical

  • Comment Link Nadeem Nadeem 26 March 2018

    thanks for sharing very informative Article

  • Comment Link m nisar m nisar 26 March 2018

    INFORMATION IS SO USEFUL KEEP IT UP

  • Comment Link shaid shaid 26 March 2018

    Nice and positive efforts. جزاك الله خيرا

  • Comment Link abbass abbass 26 March 2018

    اسلام علیکم اللہ آپکو بلند رتبہ اور وسیع ذہن عطا کرے بہت ہی عمدہ اور حقیقت پر مبنی تحریر اور خوبصورت اور علی انداز میں قلم بند بھی کیا آپ نے جس انداز میں ویلی کے قدرتی حسن کی عکاسی کی قابل داد ہے آپ کی اجازت ہو تو اس تحریر کو شیئر کر نا چایوں گا

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter