تحریر: نورین نجم

 

گاڑی کا انڈی کیٹر' ٹک ٹک ٹک !fojikibevi.jpg

ارے بس اب گھر چلتے ہیں۔ اتنے بڑے شہر میں نکلنا بھی کس قدر تھکاوٹ کا باعث ہے۔ میاں نے فوراً موقع دیکھ کر تیر داغ دیا۔ تھکاوٹ کیسی؟ تمہیں توکھانا بھی نہیں بنانا پڑتا ہفتے میں دو تین دن کبھی کہیں تو کبھی کہیں۔

جی جناب! یہی تو مزے ہیں بڑے شہروں کی پوسٹنگ کے۔

اچھا بیگم' خیر منائو پھر تم۔ پوسٹنگز نکلنے ہی والی ہیں۔ میاںنے فوراً ہی یہ کہہ دینا غنیمت جانا۔ لیکن ہم' کمال بے نیازی کے عروج پہ' اگلے ہی لمحے ان کی نفی کرگئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔

جی ہاں ! کچھ یہی گفتگو کا مرکز ہر فوجی خاندا ن میں رہا کرتا ہے۔ لفظ 'پوسٹنگ' اور وہی ہوا' دھماکہ ہوگیا اور لڑائی شروع ۔

آپ کے فلانے دوست تو بارہ سال سے بیٹھے ہیں' انہیں تو کوئی نہیں ہلا سکا اور وہ حسینہ' ان کے بچے تو اب کالج میں آگئے ہیں وہ کب پوسٹنگ جائیں گے۔ فوج کی اتنی ناانصافی۔ ہم ہی پہ ظلم کیوں ؟ ہم نہیں جائیں گے۔ نوکری جاتی ہے تو جائے۔ سفارش ڈھونڈنی چاہئے تھی۔ گائوں میں پوسٹنگ کردی۔ ہم نے بڑی دیدہ دلیری سے ایک شہر کو گائوں قرار دے دیا۔ اور کیوں نہ کہتے۔ چُن کے سب سے عجیب جگہ بھیج دیا۔ ہائے اﷲ! کیسے رہیں گے نظر بند ہو کے۔ کسی اچھی جگہ ہی بھیج دیتے۔اگر اتنا ہی پوسٹنگ کا ارمان تھاآ پ کی' تو کبھی امریکہ' انگلینڈ نہ آئی پوسٹنگ۔ شام دیر تک تو آپ بھی رہتے ہیں آفس میں، بس اب بندربانٹ مچی ہوئی ہے۔ میں نہیںجائوں گی۔ میرا آدھا جہیز ان آٹھ آٹھ ماہ کی پوسٹنگز میں برباد ہو چکا ہے۔ اتنی چھوٹی سی جگہ ' بڑا شہر؟ کہاںکا بڑا شہر۔ میاں کو ایک جرح کا حق بھی نہ دیا ہم نے۔نام تو کوئٹہ ہے نا! اﷲ میاں کے پچھواڑے۔ اس سے تو چکوال بھیج دیتے ۔ موٹر وے پر پڑے رہتے۔ نہ بابا! میں نہیں جائوں گی۔

احتجاج… کچھ احتجاج یوں بھی ہوتے ہیں۔ جن میں احتجاج کرنے والوں کا سر کچلنے کی ضرورت نہیں پڑتی نہ ہی کوئی مفاہمتی عمل درپیش ہوتا ہے۔ بس احتجاج کرنے والا خود ہی تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ فرق ہے تو اتنا کہ اس بار یہ احتجاج کسی سیاسی جماعت نے نہیں فوجی کی بیوی نے کیا ۔ معصوم سا احتجاج…

جی ہاں فوجی کی بیوی 'یہ ایک ایسی مخلوق کانام ہے جو اپنی نوعیت کا ایک ہی نمونہ ہے۔ یا یوں کہئے کہ ایک چابی سے چلنے والا کھلونا … جو شور مچاتا جاتا ہے اور چلتا جاتا ہے۔ پھر اگلی چابی ' پھر شور' پھر خاموشی' کبھی گرتا' کبھی اٹھتا' کبھی چلتا رہتا ہے اور تماشائی کو محظوظ کرتا ہے۔ ہر نئی جگہ نئے سرے سے گھر بسانا' اسے سجانا' ہنسی کی پھواریں کرنا' پھر بہت سی یادیں اکٹھی کرکے سامان سمیٹ کے' پُھر سے اڑ جانا' فوجی کی بیوی ہی جانتی ہے۔

جی! یہ وہی فوجی کی بیوی ہے جو کل تک اپنے ماں باپ کی ننھی سی کلی تھی۔ نخرے دکھاتی' ہنسی کی کلکاریاں بکھیرتی' ہر بات پہ خوش ہونے والی' اپنے ماں باپ کی ننھی کلیاں' جو خود کو اور اپنے سپاہی کو خوش رکھنا جانتی ہیں۔ کبھی اجنبی پہاڑوں سے' کبھی رنگ برنگ پھولوںسے' کبھی بن موسم برسات سے' تو کبھی برف کے گالوں سے ' مگر افسوس ان کلیوں کو ایک آہ کی اجازت نہیں وگر نہ تمام لوگ دوست' احباب' سسرال ایسے طنز کے تیر برساتے ہیں کہ وہ ننھا سا دل اکیلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ آرام طلبی جیسے طعنے' کبھی کچھ نہ کرنے کے طعنے' مختصر یہ کہ فوجی کی بیوی ہونا ایک اعزاز سے زیادہ معاشرے میں ایک طعنہ بن چلا ہے۔

تو ایسے میں یہ لفظ ''پوسٹنگ'' جلے پر نمک کا کام کرتا ہے۔ کہیں تو فوجی کی بیوی محدود روزگار میں اپنے سپاہی کے شانہ بشانہ چل کے نوکری کرتی ہے کہ رشتے داروں میں افسری کا بھرم قائم رہے۔ تو کہیں اپنے معصوم سے شوق کو قربان کرتی چلی جاتی ہے۔ پھر نئی جگہ ' پھر نیا امتحان' پھر خود کو منوانا' تو کہیں افسران بالا کی بیگمات کو خوش رکھنے کی تگ و دو کرتی ہے۔ گھر کا دسترخوان سجانے سے لے کر نئے ماحول کے خوف سے بچاتی' ان ننھی کلیوں کی ذمہ داریاں اَن گنت ہیں۔ اس کے احتجاج میں دبے ہزاروں سوال۔ ایک جنگ تو فوجی کی بیوی بھی لڑتی ہے اوراسے تو ٹرانسفر بھی نہیں ملتی۔ اسے تو اگلے محاذ پر جا کے پھر اپنی قسمت آزمانی ہے۔ اسے نئے سرے سے اپنی صلاحیتیں گِنوانی ہیں۔ کبھی تو یہ ننھی گڑیا بھی تھکن سے چُور ہو جاتی ہوگی۔ کبھی تو انہیں بھی سُنے کوئی!!

یہ غم کیا دل کی عادت ہے؟ نہیں تو

کسی سے کچھ شکایت ہے؟ نہیں تو

واہ! جون ایلیا!!!

ننانوے ناٹ آئوٹ

بڑی مشکلوں سے ہم نے وہ میچ جیتا یا یوں کہئے کہ ہارتے ہارتے بچے۔ سب سے زیادہ سکور مقصود گھوڑے کا تھا۔ اس نے صبح سے کھیلنا شروع کیا، کوئی سٹروک ایسا نہ تھا جو اس نے نہ دکھایا ہو۔ بولرز کو خوب سزا دی اور دو گھنٹے بعد تین رنز بنائیں۔ اس کے بعد جو اچھل اچھل کر کھیلا ہے، تو دوپہر تک تین سے دس تک سکور پہنچا دیا۔ لنچ کے  بعد وہ بے حد تیز کھیلا۔ آگے بڑھ بڑھ کر وہ ہٹیں لگائیں کہ پانچ رنز کا اضافہ اور کر دیا۔ جب ہم شام کو روپیٹ کر جیتے اور آخری کھلاڑی نے آخری ہٹ لگائی تو مقصود گھوڑا بیس رنز بنا چکا تھا۔

ہمارے مخالف بھی کافی گئے گزرے تھے وہ بھی اسی طرح کھیلے تھے۔ ان کی بولنگ کا یہ حال تھا کہ گیارہ کھلاڑیوں میں سے دس نے بولنگ کی تھی اور گیارھواں وکٹ کیپر تھا، لہٰذا مجبور تھا۔ ورنہ وہ بھی حسب توفیق مدد کرتا۔ کھیل دیکھنے والوں کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ دونوں ٹیموں کو یہ ڈر نہیں ہے کہ کہیں ہار نہ جائیں، بلکہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں جیت نہ جائیں۔

شفیق الرحمن کی کتاب ''حماقتیں'' سے اقتباس 

*****

 
Read 300 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter