آٹزم سے متاثرہ بچوں کے بہن بھائیوں کی تربیت

تحریر: میجرمحمد قیصر ندیم (ر)، مسزغزل ندیم

آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر
(Autism Spectrum Disorder)
ایسی علامات کا مجموعہ ہے جس سے سماجی تعلقات، بات چیت اور رویے متاثر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس کے اثرات بہت خفیف سے لے کر شدید نوعیت تک ہو سکتے ہیں۔ اس کی علامات پیدائش کے پہلے تین سال میں ظاہر ہو جاتی ہیں جو کہ زندگی بھر کسی نہ کسی صورت رونما ہوتی رہتی ہیں۔ سماجی تعلقات، بات چیت میں مشکلات کے ساتھ ان بچوں میں محدود یاکئی بار دہرائے جانے والے رویے پائے جاتے ہیں۔ اپنے مسائل کی وجہ سے ان بچوں کا دوسروں کی مدد پہ انحصار ایک لمبے عرصے یا پوری عمر تک ہو سکتا ہے۔
آٹزم سے متاثرہ والدین کی مشکلات کا احاطہ کرنا ایک دشوار عمل ہے۔ مگر یہ مشکلات اس وقت مزید بڑھ جاتی ہیں جب دوسرے لوگ ان مشکلات یا مسائل کو نہ سمجھتے ہوں۔ یہ مشکلات خاندان کے ہر رکن پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہیں جن میں والدین کی ازدواجی زندگی کا متاثر ہونا، دیگر بچوں کی تعلیم و تربیت، کام کاج کے معمولات، مالیاتی مسائل، ذاتی تعلقات اور ذمہ داریاں ہو سکتی ہیں۔ آٹزم سے متاثرہ بچوں کی بحالی کا عمل ایک لمبے عرصے بلکہ اکثر اوقات پوری زندگی پر محیط ہوتا ہے۔ اس لئے ان کا کسی نہ کسی کے زیرکفالت رہنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ ذمہ داری والدین کی زندگی میں یا ان کے بعد ان بچوں کے بہن بھائیوں
(Siblings)
کو ادا کرنا پڑتی ہے جو ہمارے معاشرے کا ایک نہایت ہی روشن پہلو ہے۔ اس صورت میں ان
Siblings
کی تربیت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ذہنی، معاشی اور معاشرتی دبائو میں پرورش پانے کی وجہ سے ان بچوں کے بہن بھائی اکثر کچھ مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چند اہم مسائل سے آگاہی اور
Siblings
کو مدد بہم پہنچانا اس مضمون کا مقصد ہے جو درج ذیل ہیں۔


شخصی مسائل
بچے کی پیدائش سے لے کر جوانی تک اس کی شخصیت میں کئی حیاتیاتی، نفسیاتی اور جذباتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اس مسلسل عمل کے نتیجے میں بچہ انحصاری سے خود مختاری کی منزلیں طے کرتا ہے۔ بچے میں رونما ہونے والی حیاتیاتی تبدیلیاں اسے جسمانی ترقی کی طرف لے جاتی ہیں جبکہ اس کے اردگرد کا ماحول اور لوگ اس کی نفسیاتی اور جذباتی نشوونما کے ذ مہ دار ہوتے ہیں۔ ماں باپ کے لئے اولاد کا وجود اور نشوونما ان کی شخصیت کی تکمیل کا باعث ہوتا ہے۔ وہ اپنی بھرپور توجہ اور پیار سے ان کی تربیت کرتے ہیں لیکن جب کبھی انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کا کوئی بچہ خصوصی توجہ کا طالب ہے تو غیرارادی طور پر ان کی زیادہ تر توجہ اس کی طرف مبذول ہو جاتی ہے جس سے ان کے دوسرے بچے متاثر ہو سکتے ہیں۔ کم عمری میں خصوصی بچوں کے بہن بھائی یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ان کے والدین ان کی نسبت خصوصی بہن بھائی کو کیوں زیادہ اہمیت اور پیار دے رہے ہیں؟ ان کی ضروریات کو کیوں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے؟ ہماری جانب توجہ کیوں کم ہے؟
جیسے ہی یہ سوالات ان کے ذہن میں ابھرتے ہیں وہ فوراً والدین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کا سامان تیار کر لیتے ہیں۔ جسے عرف عام میں
Attention Seeking Behaviour
کہتے ہیں۔ اگر اس مقام پر والدین خطرے کی گھنٹی نہ سُنیںاور توازن کی طرف نہ آئیں تو یہی بچے الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر یہ الجھن انہیں ذہنی دبائو کی طرف لے جا سکتی ہے جس سے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بچے ماں باپ کے اس رویے پر غصے کا اظہار شروع کر دیتے ہیں جس میں بات بات پر جھگڑا کرنا، اپنے ہم عمر بچوں کو مارنا، چیزیں توڑنا اور پڑھائی پر توجہ نہ دینا وغیرہ شامل ہیں۔ وجہ صرف والدین کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانا ہوتا ہے۔ یہ رویے تبدیل ہو سکتے ہیں اور پختہ ہونے سے پہلے ان کا تدارک والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔

atermismse.jpg
معاشرتی مسائل
شخصی مسائل کی وجہ سے یہ بچے معاشرتی مسائل میں گھر جاتے ہیں ۔ انہیں اپنے ہم عمر بچوں سے ایڈجسمنٹ میں کافی مشکل آتی ہے۔ ہمارا معاشرہ خصوصی بچوں کو قبول نہیں کرتا۔ انہیں طرح طرح کے القابات اور ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ خصوصی بچوں کے بہن بھائی اس سے اپنے سوشل گروپ میں سبکی محسوس کرتے ہیں اور یہ خصوصی بچے بہن بھائی کی موجودگی میں سماجی میل جول سے گریز کرنے لگتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ گوشہ نشینی کی کیفیت میں بھی جا سکتے ہیں۔
خصوصی بچوں کی اضافی ضروریات والدین کے لئے ذہنی پریشانی کا سبب بنتی ہیں جس سے پورے گھر کے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ نارمل بچے والدین کی اس ذہنی کیفیت سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔ والدین کی یہ مالی پریشانی ان کی ذات پر کئی طرح سے اثر انداز ہو سکتی ہے۔


تعلقاتی مسائل
خصوصی بچوں کے بہن بھائیوں کو صرف معاشرے میں تعلقات استوار کرنا ہی مشکل نہیں ہوتا بعض اوقات انہیں یہ مسئلہ اپنے خصوصی بہن بھائی کے ساتھ تعلق میں بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ان بچوں سے حسد، مارنا پیٹنا، بہت زیادہ حکم چلانا اور انہیں خود سے کم تر سمجھ کر ناروا سلوک کرنا وغیرہ وغیرہ۔
خصوصی بچوں کے
Siblings
کی تربیت کے حوالے سے والدین کے لئے چند ہدایات۔
-1 سب سے پہلے والدین اپنے تمام بچوں سے برتائو میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ تمام بچے توجہ اور اہمیت کے مستحق ہوتے ہیں۔ خصوصی بچوں کی خصوصی ضروریات اور دوسرے بچوں کی عام ضروریات کو خصوصی توجہ دی جائے۔
-2 چھوٹے بچے جب خصوصی بہن بھائی کے بارے میں کوئی سوال کریں تو ان کی عمر کی مناسبت سے اس کا جواب دیں۔ مثلاً اگر کوئی چار سال کا بچہ آپ سے خصوصی بچے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو آپ اسے زندگی کا فلسفہ نہیں سمجھا سکتے۔
-3 خصوصی بچے کے متعلق اس کے سامنے گفتگو کرنے سے گریز کیا جائے اور دورانِ گفتگو ہمیشہ درست اور مناسب الفاظ کا استعمال کریں۔
یادرکھیں! آپ اپنے بچوں کے بہترین نگران اور وکیل ہیں۔ ان کے حقوق کی حفاظت آپ کا اولین فرض ہے۔ اگر آپ ان کے لئے نامناسب الفاظ یا رویہ اختیار کریں گے تو ان کے بہن بھائی اور عزیزواقارب بھی اسی طرح پیش آئیں گے۔
-4 اپنے نارمل بچوں کے ساتھ کچھ وقت علیحدگی میں گزاریں۔ چھوٹی عمر میں ہم ان میں معاشرتی کہانیوں کے ذریعے خصوصی بچوں کے مسائل سے متعلق آگاہی پید اکر سکتے ہیں۔ ہمارے سکولوں کے نصاب میں چند سبق آموز اخلاقی کہانیوں کی گنجائش موجود ہے۔
-5اپنے نارمل بچوں میں خصوصی بہن بھائی کے لئے قبولیت پیدا کریں۔ انہیں احساس دلائیں کہ یہ ہم سے کچھ مختلف ہیں۔ ان کی ضروریات ہم سے زیادہ ہیں اور یہ ہماری زندگی کا اہم حصہ ہیں اور یہ کہ ان کی اہمیت گھر میں نمایاں ہے۔
-6 بچوں پر خصوصی بہن بھائی کے حوالے سے اضافی بوجھ کم سے کم ڈالیں۔ ان کی ذہنی او رجسمانی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں خصوصی بہن بھائی کی کوئی ذمہ داری دیں۔ (اگر وہ بخوشی قبول کریں تو۔۔۔)
-7 اس سے پہلے کہ آپ ان سے اپنے خصوصی بچے کے لئے کوئی مدد لیں، جہاں مناسب ہو وہاں ان کی بھی مدد کریں۔ مثلاً کوئی اسائنمنٹ، ہوم ورک، خریداری وغیرہ میں۔
-8اپنے نارمل بچوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوشش کریں اور ان کی پسند و ناپسند، جذبات اور احساسات کا ہمیشہ احترام کریں۔
-9 انہیں
Super Sibling
ہونے کا احساس دیں کہ اﷲتعالیٰ نے آپ کو اور انہیں ایک خصوصی بہن بھائی کی نگہداشت کی ذمہ داری دی ہے۔
-10 ایسی گفتگو سے گریز کریں جس میں بچوں کی صلاحیتوں کا موازنہ ہو یا احتمال ہو کہ بچہ احساس کمتری کا شکار ہو جائے گا۔
-11 خصوصی بچوں کے
Siblings
کی طرف سے اُن کے لئے کی جانے والی کسی بھی مدد کو بہت زیادہ سراہیں اور ہو سکے تو انہیں اضافی انعام دیں۔
-12خصوصی بچوں کی تربیت کے سلسلے میں کی جانے والی اپنی کوششوں کا اور
Siblings
کی خدمات کا کبھی موازنہ نہ کریں۔
یاد رکھیں! خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کی بنیادی ذمہ داری والدین پر ہے۔ اس عمل میں
Siblings
آپ کے مددگار بنتے ہیں یا نہیں، یہ ان کی مرضی ہے لیکن ان پر یہ فرض نہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ان کو کتنی
Motivation
دے پاتے ہیں اور انہیں خصوصی بہن بھائی کی تربیت میں کتنا
Involve
کر سکتے ہیں۔
-13 Normal Siblings
کی تربیت ایک سلسلہ وار عمل ہے۔ عمر کے ہر حصے میں انہیں بتدریج خصوصی بہن بھائی کی ضروریات اور مسائل سے آگاہی اور مدد کرنے کی تربیت کی ضرورت رہتی ہے۔ تب ہی سمجھدار ہونے پر آپ ان بچوںکو اپنے بعد خصوصی بچوں کے نگران مقرر کر سکتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

آسمان
ذرا نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھو، کتنا اونچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے گرے تو بہت چوٹ آتی ہے۔ بعض لوگ آسمان سے گرتے ہیں تو کھجور میں اٹک جاتے ہیں۔ نہ نیچے اُتر سکتے ہیں، نہ دوبارہ آسمان پر چڑھ سکتے ہیں۔ وہیں بیٹھے کھجوریں کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن کھجوریں بھی تو کہیں کہیں ہوتی ہیں۔ ہر جگہ نہیں ہوتیں۔ کہ
کہتے ہیں پہلے زمانے میں آسمان اتنا اونچا نہیں ہوتا تھا۔ غالب نام کا شاعر جو سو سال پہلے ہوا ہے۔ ایک جگہ کسی سے کہتا ہے :
کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں؟
جوں جوں چیزوں کی قیمتیں اونچی ہوتی گئیں، آسمان ان سے باتیں کرنے کے لئے اوپر اٹھتا چلا گیا۔ اب نہ چیزوں کی قیمتیں نیچے آئیں۔ نہ آسمان نیچے اُترے۔
ایک زمانے میں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے۔ پھر ہما شُما جانے لگے جو خود نہ جاسکتے تھے ان کا دماغ چلاجاتا تھا۔ یہ نیچے زمین پر دماغ کے بغیر ہی کام چلاتے تھے۔ بڑی حد تک اب بھی یہی صورت ہے۔
پیارے بڑو ! راہ چلتے میں آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے تاکہ ٹھوکر نہ لگے۔ جو زمیں کی طرف دیکھ کر چلتا ہے اس کو ٹھوکر نہیں لگتی۔ !
ابنِ انشاء کی ''اُردو کی آخری کتاب'' سے اقتباس

*****

 
Read 561 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter