گلگت بلتستان۔ جنت ِ نظیر

Published in Hilal Urdu

تحریر: حماس حمید چوہدری

سفر سے بڑا شائد کوئی استاد نہیں اور دوران سفر آپ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ آپ کی روز مرہ کی زندگی آسان بنا دیتا ہے۔ پاکستان کی قدر کرنی ہے تو سب سے پہلے اسے دریافت کرنا ہوگا اور دریافت کرنے جب نکلو تو صرف ایک خیال رکھنا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور پاکستان ہمارا گھر ہے اور اپنے گھر کو گندہ نہیں کرتے بلکہ صاف رکھتے ہیں۔

ایک مشہور قول ہے کہ دنیا ایک کتاب کی مانند ہے اور جو لوگ سفر نہیں کرتے انہوں نے اس کتاب کا صرف ایک صفحہ پڑھا ہوتا ہے۔2009ء میں مجھے بھی شوق ہوا کہ اس کتاب کے باقی صفحوں کو پڑھا جائے۔ بچپن میں جب بھی قدرتی حسن سے مالامال علاقوں کا ذکر ہوتا تھا تو سوئٹزرلینڈ کے دیوقامت پہاڑوں، ناروے کی رنگ برنگی جھیلوں اور یونان کی تاریخی عمارتوں کی وہ تصاویر جو انٹرنیٹ پر دیکھی ہوتی تھیں دماغ میں گردش کرنا شروع کر دیتیں او ر اس کی وجہ تھی کہ ہمیں بتایا ہی یہ گیا تھا کہ سارا قدرتی حسن اور دماغ اللہ نے مغربی ممالک کو دیا ہوا ہے اور ہم اﷲکے مسکین بندے ہیں۔ اس کے باوجود دل چاہا کہ ایک بار پاکستان کے کچھ علاقے گھوم لئے جائیں، شائد ہمارے پاس بھی یورپ کے مقابلے کی کوئی جھیل، کوئی وادی ، کوئی پہاڑی سلسلہ ہو اور اس طرح آغاز ہوا ایک نہ ختم ہونے والے سفر کا جو کشمیر کی جنت نظیر وادٔ نیلم سے شروع ہوا۔ یہ سلسلہ گلگت بلتستان میں موجود دنیا کے دو بلند ترین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ اور قراقرم کا سینہ چیرتی جدید شاہراہ قراقرم سے ہوتا ہوا، خیبر پختونخوا کی سبز پوش وادیوں، جنت کا ٹکڑا کہلانے والی بلوچستان کی وادی زیارت چولستان کے تاریخی عمارتوں سے بھرے ہوئے صحرا سے ہوتا ہوا ، اولیاء کے شہر ملتان میں داخل ہو ا اور نہ جانے کہاں جارہا ہے، ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔


اب تقریباً آ ٹھ سال ہونے کو آئے اور تجسس ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ خاص طور پر گلگت بلتستان کی توَلَّت سی لگ گئی ہے اور جو کہ جائز بھی ہے۔اب ہر تین چار ماہ بعد جب بھی وقت ملتا ہے تو شمال کی جانب نکل پڑتا ہوں۔ گلگت بلتستان بھی خطۂ کشمیر کی طرح جنت کے ٹکڑے سے کم نہیں۔ کم ازکم مؤرخ تو یہی لکھتے چلے آئے ہیں ۔ جب آپ مانسہرہ سے آگے دریا کنہار کے ساتھ ساتھ وادٔ ناران اور پھر کوہستان سے گزرتے ہوئے اس خطے میں داخل ہوتے ہیں تو منظر یکسر تبدیل ہوجاتا ہے۔ باقی شمالی علاقہ جات میں منظر کچھ یوں ہوتا ہے کہ سڑک کے چاروں جانب درخت اور سبزہ ہوتا ہے اور سڑک کے بالکل ساتھ ساتھ کھائی میں دریا بہہ رہا ہوتا ہے اور دریا کے اس پار پھر سے ایک پہاڑ ہوتا ہے جس پر درخت ہی درخت ہوتے ہیں اور مجموعی طور پر وادی تنگ ہوتی ہے لیکن گلگت بلتستان میں آپ جوں ہی داخل ہوتے ہیں تو ایک دم سے پہاڑوں پر سے درخت ختم ہوجاتے ہیں اور درختوں کی جگہ دیو ہیکل پتھر نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں جبکہ وادی کی چوڑائی بھی کئی کلومیٹر بڑھ جاتی ہے اور دریائے سندھ کی رفتار اور گہرائی بھی بڑھ جاتی ہے۔ درخت نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور جس علاقے کی مٹی میں معدنیات زیادہ ہوں وہاں درخت نہیں اگا کرتے بلکہ نایاب پودے اور قیمتی جڑی بوٹیاں اگتی ہیں۔

gilgitbaltistan.jpg
رائے کوٹ پل کراس کرنے کے بعد دنیا کا آٹھواں عجوبہ کہلانے والی شاہراہ قراقر م شروع ہو جاتی ہے ، ویسے تو شاہراہ قراقرم مانسہرہ سے ہی شروع ہو جاتی ہے لیکن جو رائے کوٹ سے آگے کی سڑک ہے، وہ اپنے آپ میں ایک معجزے کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہ سڑک کئی سالوں سے اس خطے کا سخت موسم اور لینڈ سلائڈنگ کی صورت میں قدرتی عذاب جھیل رہی ہے لیکن ٹس سے مس نہیں ہوئی اور آگے جا کر خنجراب کے مقام پر چودہ ہزار فٹ بلندی تک پہنچ جاتی ہے۔ گلگت شہر کی جانب جاتے ہوئے آپ کو نانگا پربت کی برف پوش چوٹی دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے جبکہ گلگت سے پہلے جگلوٹ کے علاقے میں آپ کو دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلوں ہمالیہ ، قراقرم اور ہندوکش کے ملنے کا مقام بھی نظر آتا ہے۔


اگر آپ خزاں کے موسم میں آئے ہیں تو گلگت سے آگے وادٔ ہنزہ ایسا مسحور کن منظر پیش کر رہی ہوتی ہے کہ انسان الجھن کا شکار ہوجاتا ہے کہ وہ اس توبہ شکن منظر کو دیکھ کر خوش ہو یا اس کی دلفریبی میں ڈوب کر غرق ہو جائے کیونکہ پوری وادٔ ہنزہ پیلے رنگ میں ڈوبی ہوتی ہے جیسے کسی نے آکر مہندی لگا دی ہو۔ جب آپ خنجراب بارڈر کی جانب جا رہے ہوتے ہیں تو سڑک کی دوسری جانب قدیم شاہراہ ریشم کی باقیات واضح انداز میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ تاریخ کے طالبعلم یہ سوچ کر بھی حیران ہوتے ہوں گے کہ سیکڑوں سال پہلے اس قدرخطرناک روٹ سے کیسے جنگی کمانڈر اپنی افواج کے ساتھ سفر کرتے ہوں گے اور کیسے ہزاروں سالوں سے یہاں تجارت کا سلسلہ جاری رہا ہو گا۔ جب آپ خنجراب بارڈر پہنچتے ہیں تو یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ دو ممالک کا بارڈر ہے ، دونوں ممالک کی عوام آپس میں مل رہی ہوتی ہیں ، باتیں کررہی ہوتی ہیں اور ساتھ تصاویر بنوا رہی ہوتی ہیں اور یہ مناظر پاک چین دوستی کی زندہ دلی کی عکاسی کرتے ہیں۔


گلگت بلتستان تاریخی اور ثقافتی پہلو سے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اس خطے کی کل آبادی تقریباً اٹھارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے اور یہاں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں شینا ، بروشسکی اور بلتی زیادہ عام ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش سیاحت سے منسلک ہے۔اس خطے میں آپ کو بہت سی تاریخی عمارتیں بشمول محل اور قلعے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں وادٔ ہنزہ کے بلتت اور التت قلعے، بلتستان میں شِگر اور خپلو کے قلعے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کو مختلف مقامات جیسا کہ گوجال،ست پارہ اور وادٔ شگر میں تاریخی اہمیت کے حامل ایسے پتھر ملیں گے جن پر قدیم زبانوں میں جملے لکھے ہوئے ہیں۔ اس خطے کی سب سے خوبصورت بات یہاں کا پُرامن ماحول اور جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہونا ہے۔ یہاں پر مختلف عقائد کے لوگ ایک ساتھ جس طرح امن سے رہتے ہیں اور جس طرح ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کرتے ہیں اس کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔
دنیا کے چودہ بڑے پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ اس خطے میں موجود ہیں جن میں دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ کے۔ٹو بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ بہت سے گلیشئرز اس خطے میں موجود ہیں جو دریائے سندھ میں تازہ پانی کی فراہمی کا ذریعہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ اس خطے میں ان گنت دلکش جھیلیں بھی موجود ہیں۔ وادٔنلتر گلگت سے کچھ فاصلے پر ہے اور اپنی جھیلوں کی وجہ سے شہرت رکھتی ہے۔ اس وادی میں ایک ست رنگی جھیل بھی موجود ہے جو دوپہر کے وقت سات رنگوں کا منظر پیش کرتی ہے۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس پورے خطے میں ایسی کون سی جگہ ہے جہاں میں اپنا دل چھوڑ آیا ہوں تو میں کہوں گا کہ وہ دیوسائی ہے۔ میں جب پہلی بار دیوسائی گیا تو وہ اکتوبر کا مہینہ تھا اور میں خدا کے فضل سے لاہور سے دیوسائی موٹر بائیک پر گیا تھا۔دیوسائی سطح سمندر سے تیرہ سے چودہ ہزار فٹ بلند اور ستر ہزار مربع ایکڑ پر مشتمل ایک میدانی سلسلہ ہے جو کہ سال میں تین سے چار ماہ کے لئے کھلتا ہے اور باقی پورا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔


یہاں کی سب سے دلچسپ اور خوبصورت جھیل، گوجال میں واقع عطا آباد جھیل ہے۔ یہ جھیل ایک قدرتی آفت کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔ جس وقت یہ جھیل وجود میں آئی تو لوگوں نے اسے منحوس جھیل کا نام دیا کیونکہ اس جھیل کے اندر پورا ایک گائوں دفن ہے او ر اس نے بیس لوگوں کی جان لی ہوئی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اسی جھیل کی وجہ سے خطے کے لوگوں کو روزگار بھی ملا۔ دنیا بھر سے لاکھوںسیاح اس جھیل کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں اور مقامی لوگوں کی روزی روٹی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس جھیل کی لمبائی اکیس کلومیٹر اور گہرائی چار سو فٹ ہے۔ اس جھیل کی وجہ سے شاہراہ قراقرم کا پندرہ کلومیٹر لمبا ٹکڑا ڈوب گیا تھا اور لوگ کشتیوں کے ذریعے اسے پار کرتے تھے لیکن چین کی مدد سے تین سال کی قلیل مدت میں وہاں سرنگیں تعمیر کر کے زمینی راستہ بحال کیا گیا ہے۔


پاکستان کی سب سے چوڑی آبشار منتھوکھا بھی اسی خطے میں ہے۔اس کے علاوہ منتھوکھا سے کچھ فاصلے پر خاموش آبشاربھی موجود ہے جو کہ شام کے وقت انتہائی دلکش منظر پیش کرتی ہے۔ اس خطے کی سب سے انوکھی چیز جو کہ پاکستان کے دوسرے شمالی خطوں میں موجود نہیں، وہ ہیں سرد صحرا۔ چولستان کے تپتے صحرا کا تو سب کو علم ہے لیکن بلتستان کے خطے میں سرد صحرا موجود ہے اور وادٔ شِگر کے ان سرد صحرائوں کے درمیان موجود روڈ سے جب آپ گزرتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی افسانوی فلم کا منظرہو۔


اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس پورے خطے میں ایسی کون سی جگہ ہے جہاں میں اپنا دل چھوڑ آیا ہوں تو میں کہوں گا کہ وہ دیوسائی ہے۔ میں جب پہلی بار دیوسائی گیا تو وہ اکتوبر کا مہینہ تھا اور میں خدا کے فضل سے لاہور سے دیوسائی موٹر بائیک پر گیا تھا۔دیوسائی سطح سمندر سے تیرہ سے چودہ ہزار فٹ بلند اور ستر ہزار مربع ایکڑ پر مشتمل ایک میدانی سلسلہ ہے جو کہ سال میں تین سے چار ماہ کے لئے کھلتا ہے اور باقی پورا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ ادھر جانے کے دو راستے ہیں ایک استور سے اور دوسرا سکردو سے۔ ایڈونچر کے شوقین حضرات کو سکردو والا راستہ زیادہ مزا دے گا جبکہ کمزور دل کے مالک حضرات استور سے جائیں۔ جولائی میں جب برف پگھلتی ہے تو پورا دیوسائی پھولوں سے بھر جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسا کہ آپ جنت کی سیر کر رہے ہوں۔ ستمبر کے بعد خزاں کے آتے ہی تمام پھول مرجھا جاتے ہیں اور ایسے ختم ہوتے ہیں جیسے کبھی یہاں تھے ہی نہیں اور مجھے دیوسائی خزاں میں ہی پسند ہے کیونکہ خزاں کی فضا میں ایک خوبصورت سی پراسراریت کا احساس ہوتا ہے اور لوگوں کا رش تقریباً ختم ہوگیا ہوتا ہے۔


دیوسائی کو نیشنل پارک کا درجہ ملا ہوا ہے کیونکہ یہاں بہت سے نایاب جانور اور پرندے بستے ہیں جن میں برفانی چیتے، بھورے بھالو، کالے بھیڑئیے، مارخور، آئی بیکس وغیرہ شامل ہیں۔ ابھی چند دن پہلے نومبر میں سکردو گیا تو پتہ لگا کہ دیوسائی ابھی تک کھلا ہوا ہے۔ یہ سننے کی دیر تھی اسی وقت دیوسائی جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ نومبر کے مہینے میں دیوسائی کا کھلا ہونا بھی ایک معجزہ ہی ہے۔ سکردو میں بلتستان کانٹیننٹل میں رہائش تھی تو وہاں میرے دوست اشرف نے کہا کہ کیوں نہ ٹرائوٹ کا شکار کیا جائے۔اگلی صبح ہم نے مچھلی پکڑنے کا پرمٹ لیا اور دیوسائی کے لئے نکل پڑے۔دیوسائی پہنچے تو دھوپ کے باوجود درجہ حرارت منفی میں تھا اور پانی منجمد۔ خزاں کی وجہ سے دیوسائی مکمل طور پر سوکھا ہوا تھا اور شائد ہم پانچ انسانوں کے علاوہ پورے دیوسائی میں صرف جانور ہی ہوں گے اور ہمارے اکیلے ہونے کا یہ فائدہ ہوا کہ پہلی بار میں نے بھورے بھالو کو کہیں آزاد گھومتے دیکھا جو کہ کچھ لمحے کے لئے تھا کیونکہ وہ واپس ویرانے میں کہیں غائب ہو گیا لیکن وہ چند لمحے دماغ میں ہمیشہ کے لئے نقش ہو گئے۔ خیر ! کوئی دس گھنٹے لگا کر ہم نے آٹھ کے قریب مچھلیاں پکڑیں اور جوں ہی شام ہوئی تو واپسی کے لئے نکل پڑے کیونکہ درجہ حرارت ناقابل برداشت ہوتا جارہا تھا۔ واپس آکر ہلکی سی کالی مرچ لگا کر ان کو بھون کر کھایا اور یہ میرا گولڈن ٹرائوٹ کا پہلا تجربہ تھا جو کہ انتہائی لذیذ تھا۔


میں نے ان آٹھ سالوں میں قدرت کے جتنے جلوے دیکھے ہیں ان کو محدود الفاظ میں بیان کرنا انتہائی مشکل کام ہے اور جو منظر آپ کی آنکھ دیکھ رہی ہوتی ہے اسے اس انداز میں نہ دنیا کا کوئی کیمرہ قید کر سکتا ہے نہ کوئی قلم تحریر کر سکتاہے۔ اس لئے میں دوست احباب کو بھی یہی کہتا ہوں کہ روز مرہ کے کام ہوتے رہتے ہیں تھوڑا سا وقت نکالیں اور خدا کی قدرت کو ایکسپلور کریں۔ سفر سے بڑا شائد کوئی استاد نہیں اور دوران سفر آپ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ آپ کی روز مرہ کی زندگی آسان بنا دیتا ہے۔ پاکستان کی قدر کرنی ہے تو سب سے پہلے اسے دریافت کرنا ہوگا اور دریافت کرنے جب نکلو تو صرف ایک خیال رکھنا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور پاکستان ہمارا گھر ہے اور اپنے گھر کو گندہ نہیں کرتے بلکہ صاف رکھتے ہیں۔ اللہ میری اس ارض پاک کو سلامت رکھے۔آمین۔

مضمون نگار فری لانس صحافی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 101 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter