بیماریوں کے خریدار

Published in Hilal Urdu

تحریر: یاسر پیرزادہ

مجھے بتائو کہ دنیا میں کامیاب ترین لوگ کیا اپنی دولت کی وجہ سے کامیاب قرار پائے ؟ہر گز نہیں … ان کی خداد اد صلاحیتیں اور اپنے اپنے شعبوں میں ان کے کارناموں نے ان کو دوسروں سے ممتاز کیا ۔ بل گیٹس، جو دنیا کا دوسرا امیر ترین آدمی ہے ، ''ونڈوز'' جیسا سافٹ وئیر تخلیق کرنے کے باعث دولت مند ہوا، نہ کہ اس نے دولت کے بل بوتے پر ''ونڈوز'' تخلیق کیا!اسی طرح تم کوئی فلسفی، سائنس دان،ماہر ریاضی ،شاعر ،ادیب،مصور ،کھلاڑی یا کوئی بھی ایسا شخص بتا دو جو محض اپنی دولت کے بل بوتے پر کامیاب مانا گیا ہو؟میرے دوست! دنیا میں لیونارڈو ڈاونچی،افلاطون،کارل مارکس،نیوٹن ،ڈارون،نیلسن منڈیلا ،عبدالستار ایدھی جیسے لوگ کامیاب گردانے جاتے ہیں ۔پیاز کی آڑھت میں کروڑوں کمانے والے کو کبھی نوبل انعام نہیں ملتا!''

''ایکسکیوزمی ! مجھے ایک بیماری، کھانسی دے دیں اور ایک دائمی نزلے کا مرض عنایت کر دیں اور ساتھ میں سر دردکی تکلیف بھی پیک کر دیں ۔'' روائتی قسم کی پینٹ شرٹ میں ملبوس ،درمیانی عمر کے ایک شخص نے اطمینان سے سگریٹ سلگاتے ہوئے کیمسٹ سے کہا۔''جی…کیا فرمایا آ پ نے ؟'' کیمسٹ نے آنکھیں پھاڑ کر اس شخص کی طرف دیکھا ۔
''بھائی صاحب! میں نے کہا ہے کہ مجھے کھانسی،نزلہ اور سر درد …یہ تین بیماریاں چاہئیں،پلیز پیک کر دیں۔''اس دفعہ اس کے لہجے میں کسی قدر بیزاری تھی۔کیمسٹ نے سر تا پااس شخص کا جائزہ لیا کہ شائد وہ کوئی پاگل ہو لیکن اس کا اندازہ غلط ثابت ہوا کیونکہ اس شخص کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔میں نے بھی مڑ کر اس پر نظر ڈالی لیکن اس شخص کی سنجیدگی میں ذرا برابر فرق نہیں آیا۔ کیمسٹ نے رحم طلب نگاہوں سے میری طرف دیکھا ،میں نے کچھ سوچا اور پھربیماریوں کے اس طالب کو مخاطب کر کے کہا ''معاف کیجئے گا، غالباً آپ ان بیماریوں کی دوائیاں خریدنا چاہتے ہیں …!''
''جی نہیں '' اس نے فوراً میری بات کاٹی ''مجھے یہ بیماریاں درکار ہیں ،ان کی دوائیں نہیں !''اس نے غیر مبہم وضاحت کی،لہجے کی سنجیدگی برقرا ر تھی اور کیمسٹ کی بے بسی دیدنی۔''آپ ذرا میرے ساتھ آئیے ۔'' میں نے قدرے بے تکلفی سے اس شخص کا بازو پکڑا اور میڈیکل سٹور سے نزدیک ہی ایک کیفے میں لے گیا۔تھوڑی دیر بعد ہم دونوںچائے کی میزکے گردبیٹھے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے ۔''اب فرمائیے ،ان بیماریوں کی خریداری سے آپ کا کیا مطلب تھا؟''میں نے گویا جرح کا آغاز کرتے ہوئے پوچھا ۔
''سیدھی سی بات ہے۔''اس نے میرے جارحانہ لہجے کا برا منائے بغیر کہا ''یہاں لوگ شوگر،بلڈ پریشر،ہائپر ٹینشن اور دل کے امراض منہ مانگی قیمت دے کر خریدتے ہیں …میں تو صرف کھانسی ،نزلہ اور سر درد کا طلب گار ہوں!''
''میں کچھ سمجھا نہیں ،کیا آپ مزید وضاحت کریں گے ؟'' میں نے الجھے ہوئے لہجے میں اس سے پوچھا۔
''برادر عزیز! کیا تمہیں اپنے ارد گرد ایسے لوگ نظر نہیں آتے جو اندھا دھند دولت اور شہرت کمانے میں لگے ہوئے ہیں ؟''
''کیوں نہیں ،یہاں تو ہر دوسرا شخص اسی دوڑ میں ہے ۔'' میں نے جلدی سے اس آسان سوال کا جواب دیا ۔
''اور یقینا تم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہوں گے جو بے لگام خواہشات کی تکمیل میں دن رات یوں جُتے رہتے ہیں کہ انہیں کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا؟'' اس نے کسی استاد کے انداز میں سوال کا دوسرا حصہ پوچھا۔
''ہاں'' میں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے سر ہلایا'' ایسے لوگ بھی لا تعداد ہیں ۔''
''تو بس یہی لوگ ان موذی بیماریوں کے خریدار بھی ہیں ۔''اس نے اطمینان سے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
''وہ کیسے ؟'' میری آنکھوں میں الجھن تھی۔''وہ ایسے کہ اندھا دھند دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والے لوگ ،لا متناہی خواہشات کو پورا کرنے کے چکر میں شوگر،بلڈ پریشراور دل کی بیماریوں کے خریدار بن جاتے ہیں۔ انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس دوڑ میں در حقیقت ان کی تمام محنت ان بیماریوں کے حصول کے لئے ہے …!''
''ایک منٹ…!'' میں نے ہاتھ اٹھا کر اس کی بات کاٹی ''آپ کی باتوں میں جھو ل ہے ۔'' اس نے استفہامیہ نظروں سے میری طرف دیکھا ۔ میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا '' پہلا، صرف دولت اور شہرت کی دوڑ میں لگے ہوئے لوگ ہی نہیں بلکہ دیگر بے شمار لوگ بھی ،جو اس دوڑ سے باہر ہیں ،ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ۔دوسرا ،چونکہ آ پ اوروں کی طرح پیسہ بنا کر کامیاب نہیں ہو سکے لہٰذ اپنی ناکامی کی خفت مٹانے کی خاطر آپ کیمسٹ کی دکان پر جا کر جان بوجھ کر اس سے بیماریاں خریدنے کی بات کرتے ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواسکیں اور میرے جیسے کسی بندے کو پھانس کر اپنا نقطہء نظر ٹھونس سکیں ۔''
اس نے پورے تحمل سے میری بات سنی اور پھر پہلی دفعہ میں نے اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی جو فوراً ہی غائب ہو گئی اور اس کی جگہ وہی سنجیدگی امڈ آئی۔ ''پہلے میں تمہاری دوسری بات کا جواب دوں گا ۔'' اس نے کہا'' یہ درست ہے کہ میں کیمسٹ کی دکان پر جا کر بیماریوں کی خریداری کی بات کر کے لوگوں کو کنفیوز کرتا ہوں اور جب تم جیسا کوئی الجھ جاتا ہے تو اسے اپنے دلائل کے ساتھ اپنے نقطہ نظر کا حامی بنا لیتا ہوں ۔لیکن یہ بات قطعا ً غلط ہے کہ میں دوسروں کی طرح پیسہ بنا نے میں ناکام رہا ہوں لہٰذا میں نے اپنی خفت مٹانے کا یہ ذریعہ ڈھونڈا ہے ۔ بر خوردار! دولت مند ہونا ہمارے جیسے معاشرے میں جینے کی سہولت ضرور پیدا کر تاہے مگر محض دولت کے بل بوتے پر دنیا میںاپنے آپ کو نہیں منوایا جا سکتا۔''
''کیا مطلب؟میںنے گھور کر پوچھا۔
''مطلب بھی بتاتا ہوں ۔'' اس نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا''ذرا مجھے بتائو کہ دنیا میں کامیاب ترین لوگ کیا اپنی دولت کی وجہ سے کامیاب قرار پائے ؟ہر گز نہیں … ان کی خداد اد صلاحیتیں اور اپنے اپنے شعبوں میں ان کے کارناموں نے ان کو دوسروں سے ممتاز کیا ۔ بل گیٹس، جو دنیا کا دوسرا امیر ترین آدمی ہے ، ''ونڈوز'' جیسا سافٹ وئیر تخلیق کرنے کے باعث دولت مند ہوا، نہ کہ اس نے دولت کے بل بوتے پر ''ونڈوز'' تخلیق کیا!اسی طرح تم کوئی فلسفی، سائنس دان،ماہر ریاضی ،شاعر ،ادیب،مصور ،کھلاڑی یا کوئی بھی ایسا شخص بتا دو جو محض اپنی دولت کے بل بوتے پر کامیاب مانا گیا ہو؟میرے دوست! دنیا میں لیونارڈو ڈاونچی،افلاطون،کارل مارکس،نیوٹن ،ڈارون،نیلسن منڈیلا ،عبدالستار ایدھی جیسے لوگ کامیاب گردانے جاتے ہیں ۔پیاز کی آڑھت میں کروڑوں کمانے والے کو کبھی نوبل انعام نہیں ملتا!''
''تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ …''میں نے کچھ کہنا چاہا مگر اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا ''مجھے پتہ ہے اب تم وہی راگ الاپو گے کہ کیا دولت کمانا بری بات ہے یا پھر زیادہ پیسے یا اونچے عہدے کے حصول میں کیا برائی ہے ؟ کوئی برائی نہیں ہے ۔پیسہ بھی کمانا چاہئے اورکسی جائز عہدے کے حصول لئے جدو جہد بھی کرنی چاہئے مگر اپنی صحت کی قیمت پر نہیں۔پیسہ اتنا ہونا چاہئے کہ آپ نہ صرف ایک آرام دہ اور ٹینشن فری زندگی گزار سکیں بلکہ اس پیسے میں سے لوگوں کو نواز بھی سکیں۔تاہم اس دولت کے چکر میں شوگر،بلڈ پریشر اور دل جیسی بیماریاں نہیں خرید لینی چاہئیں۔اور رہی بات یہ کہ دوسرے لوگ بھی تو ان بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں تو محترم بات یہ ہے کہ اگر کوئی روزانہ کولیسٹرول سے لتھڑی ہوئی خوراک کھائے گا تو بھلے و ہ اس اندھا دھند دوڑ میں شامل ہو یا نہ ہو ،وہ تو بیمار ہو کر رہے گا۔''
''ایک آخری بات'' میں نے کلاس روم کے کسی بچے کی طرح ہاتھ اٹھا کر سوال کیا ۔
''ہاں ہاں پوچھو۔''اس نے خوش دلی سے چائے کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔
''جو لوگ ایک کے بعد دوسری فیکٹری لگاتے ہیں یا نئے سے نیا بزنس شروع کرتے ہیں ،ان کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق کو روز گار دے کر اس کا بھلا کر رہے ہیں ۔اس میں کیا برائی ہے ؟''
''پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو چاہئے کہ اپنی دولت اور آمدن پر بالترتیب زکوٰة اور ٹیکس پورا پورا ادا کر دیا کریں ،خدا کی مخلوق کا خود ہی بھلا ہو جائے گا اوردوسری بات یہ ہے کہ کوئی بھی اللہ کا بندہ نئی فیکٹری اس نیت سے نہیں لگاتا کہ اس سے وہ لوگوں کو روزگار دے گا کیونکہ سرمایہ دار مزدور کی محبت میں نہیں بلکہ اپنی ضرورت کی وجہ سے کسی کو نوکری دیتا ہے اور جونہی اسے کسی شخص کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے تو ساتھ ہی ڈائون سائزنگ کے نام پر اسے فارغ کر دیا جاتا ہے ۔آیا کچھ مزاج شریف میں ؟''اس نے طنزیہ لہجے میں گفتگو کو سمیٹا۔اس سے پہلے کہ میںمزید کچھ کہتا،اس نے مجھ سے الوداعی مصافحہ کیا اور یہ کہہ کر رخصت ہو گیا کہ ''شکر ہے ،آج میں نے ایک اور انسان کو بیماریوں کا خریدار بننے سے بچا لیا ہے!''

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 23 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter