مصنوعی ذہانت کے کرشمے

Published in Hilal Urdu

تحریر: صائمہ بتول

مصنوعی ذہانت مشینوں کے علاوہ جانوروں میں بھی دکھائی جاتی ہے۔ (اے آئی) کے نام سے مشہور ہونے والی یہ صلاحیت قدرتی ذہانت
natural intelligence
کے ہم پلہ ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلقہ علم کو
Intellgence Agent
یعنی ذہین جاسوس بھی کہا جاتا ہے اور زبانی اعتبار سے مشینی نقالی جو انسانی دماغ سے قریب ترین وجدانی حصے سے کی جاتی ہے، کو بھی کہا جاتا ہے۔ جیسے مشین اپنے ماحول اور مطلوبہ ہدف میں ایسے عوامل کو اپنا لے جو کامیابی کے کسی معیار کو ضرور پہنچ جائے مثلاً سیکھنے کا عمل، مسائل کو حل کرنے کی تدبیر، زبان اور انسانی بات چیت سیکھنے کی صلاحیت، حکمت عملی کا کھیل (شطرنج) خود کار گاڑیاں، فوجی تنصیبات، خود کار ترسیلی حال جو نہایت مستعد نیٹ ورک کے طور پر آپ کی گزارش کو آناً فاناً آپ تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ عمل بھی مصنوعی ذہانت ہی کا کارنامہ ہے۔
مصنوعی ذہانت کی باقاعدہ آگہی کا سال 1956 ہے اور مصنوعی ذہانت سے پہلے دس سال کے دور کی مایوسیوں اور ناکامیوں کو ''مصنوعی ذہانت کی سردی کا موسم'' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی تاریخ اور باقاعدہ سائنسی چھان بین کے عمل کو نئی اختراع اور لائحہ عمل کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جس کو حرکاتی
Robotics
اور مشینی طرز سے سیکھنے کی صلاحیت
Machine Iearning
کہا گیا ہے اور اس کے ذیلی شعبوں کو بھی معاشرتی، درسی اور نصابی حقائق کی بنیاد پر ہی بنایا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے عمل اور مسائل میں استدلال، وجوہات، علم، یادداشت، سیکھنے کا عمل، باقاعدہ منصوبہ، قدرتی زبان کے مراحل، حرکت کرنے کی صلاحیت اور سمجھنے وغیرہ جیسی صلاحیت شامل ہیں۔ علاوہ ازیں مصنوعی ذہانت کے نقطۂ نظر میں اعداد و شمار، مشینی ذہانت کی روائتی علامات کے علاوہ اعصابی جال حساباتی اصلاحات، شماریاتی درجہ بندی، فلسفہ، نیوروسائنس، مصنوعی جسمانی نظام اور مصنوعی نفسیات شامل ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا یہ دعویٰ ہے کہ انسانی ذہانت کی تشریح آسانی سے بذریعہ مشین کی جا سکتی ہے۔ بلکہ مشین بھی انسانی ذہن سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس دعوے نے ایک فلسفیانہ مباحثے کا آغاز کیا۔ وہ بات جو ایک طلسماتی کہانی کے طور پر سنی اور سنائی جاتی ہے وہ انسان کی حقیقی خصوصیات میں کیسے شامل کی جا سکتی تھی۔ اسی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں لوگوں کی اکثریت نے اسے انسانیت کے لئے خطرہ قرار دے دیا او رکئی ایک نے مصنوعی ذہانت کے فروغ کو ملازمت اور نوکری کے پیشے میں رکاوٹ بنا دیا۔ کارل بینڈکٹ فریکہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں امریکہ میں ملازمت کے شعبے سے وابستہ تقریباً آدھی آبادی مشینوں کی ہو گی۔ یوں تو نہ جانے کب یہ مصنوعی کردار کسی کے خیال سے ٹکرایا مگر
Ramon Llull
نے اس سے 1300میںmasnoizahanat.jpg

Calculus Ratiocinator
بنا کر اس مافوق الفطرت خیال کو حقیقت کے ابتدائی نمائندے کے طور پر پیش کر دیا جس کو
Gottfried Leibniz
نے 1623 میں ایک باقاعدہ گنتی کرنے والی مشین بنا دیا۔ اس کو
Calculating Machine
کہا جاتا ہے۔ اسی طرح انیسویں صدی تک مصنوعی اجسام کے کردار مختلف کہانیوں میں بھی ملتے رہے جن میں
Merry Shelley
اور
Frankstine
کے یونیورسل روبوٹ زیادہ مشہور ہیں۔ مشینوں کی باقاعدہ سمجھ بوجھ اور تعلیم ماضی کے فلاسفروں اور ریاضی دانوں کے زیربحث رہی جسے باقاعدہ منطق کے تحت تھیوری آف کمپیوٹیشن
Theory of Computation
میں ایلن نے پیش کیا جس کا نقطۂ بیان کچھ ایسے ہے کہ ''صفر سے ایک (0-1) کے ہیئتی نمونے حسابی کٹوتی کو ایسی بناوٹ میں بدل سکتی ہے جو مشین کے لئے قابل برداشت اور قابل قبول ہو سکتی ہے۔'' اس کے علاوہ نظریہ اطلاع اور اعصابی نظامِ ذہانت جیسی دو بیک وقت دریافت ہونے والی معلومات نے ایک ''برقی دماغ'' کے امکانات کو واضح کیا۔ 1943میں
Pitts
اور
Mc Culloch
نے ایک مکمل مصنوعی اعصابی نظام متعارف کروا دیا اور پھر یہ سلسلہ وار جستجو، جدوجہد اور تحقیق 1956 میں
Dartmouth College
تک پہنچ گئی جہاں ایک تحقیقاتی دستے نے جس میں ایلن نیوویل
،ہربرٹ سائمن ، جان میکارتھی اور آئی بی ایم کے ناظم اعلیٰ آرتھر سیموئیل شامل تھے، اپنی پیش کردہ رپورٹ (1959)میں مزید دعویٰ کیا کہ مشین ایک عام انسان سے زیادہ بہتر ثابت ہو رہی ہے۔ اس رپورٹ کے ساتھ ہی یونائیٹڈ سٹیٹس کے شعبۂ دفاع نے 1960میں اس منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر امداد دی اور دنیا بھر میں اس کی لیبارٹریاں اور تحقیقی ادارے قائم کئے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے موجد سائنسدان اور کارکن اس سے مطمئن اور پرامید تھے۔ اسی اثنا میں 1974 میں اس کی رفتار ایک بار پھر کم ہو گئی۔ جس کی وجہ سرجیمز لائٹ ہل کی تنقید اور کانگریس پر شدید دبائو تھا یہاں تک کہ جاپان کا
Fifth Generation
کمپیوٹر منظر عام پر آ گیا۔ اس سائنسی آلے نے امریکہ اور برطانیہ کی حکومت کو ایک بار پھر چوکنا کر دیا اور رکی ہوئی تحقیق پہلے سے زیادہ رفتار سے چل پڑی۔
1990کے آخر اور اکیسویںصدی کے شروع میں مصنوعی ذہانت کو
masnoizahanat1.jpgData Minig
اعدادوشمار،
Logistics
فوجی نظام کا علم اور طبی تشخیص
Medical Diagnostics
سمیت دوسرے اہم اور مفید کاموں میں استعمال میں لایا گیا اور تقریباً ہر جگہ کامیابی حاصل ہوئی۔ ڈیپ بلو نامی شطرنج کے کھیل نے 11مئی 1997کو شطرنج کے عالمی چیمپیئن گیری کیسپروف کو چت کر دیا۔ 2010میں (مشین سیکھنے کا عمل) ساری دنیا میں استعمال ہونے لگا جس میں آئی بی ایم کے سسٹم

Watson

نے دو بڑے دماغی فاتحین

(Bred Ritter)
اور
Ken Germings
کو ہرا دیا۔
Kinetic
(حرکاتی نظام) جو 3 ڈی کو جسم اور حرکت دیتا ہے، نے
X Box 360
اور علم ترکیب یعنی
(Algorithm)
اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے سمارٹ فون متعارف کروایا جوانتہائی قابل مددگار کے طور پر مارچ 2016میں مارکیٹ میں آیا۔
اس طرح 2015 کا سال مصنوعی ذہانت کے سفر میں سنگ میل ثابت ہوا۔ سکائپ نے بھی ایک نظام دیا جو بینائی سے محروم انسانوں کو رہنمائی مہیا کرتا ہے۔ مئی 2017 میں چین میں منعقد ہونے والی سمٹ
Future of the Go Summit
میں چین کی گو ایسوسی ایشن نے صوبہ
Zhejiang
میں گوگل کی تاریخ کا سب سے بڑا عوامی نمائشی شطرنج کا کھیل پیش کیا جس میں دنیا کے تین مرتبہ مسلسل فاتح گرینڈ ماسٹر
Ke Jie
کو ہرا کر الفاگو
AlphaGO
نے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا۔ ان فتوحات کے سلسلے نے مصنوعی ذہانت کے اس بے مثل کھلاڑی کو اتنا اعتماد دیا کہ سمٹ کے بعد ڈیپ بلو نے 50ایسے کھیل متعارف کروائے جس میں الفاگو خود ہی اپنا حریف کھلاڑی بن کر کھیلے گا۔ جاپانی سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے دماغ کو پڑھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے لئے
Kyoto University
میں دسمبر 2017 سے کام شروع کر دیا ہے جس میں اعصابی نظام کے ذریعے
Decoding
زیادہ آسان اور مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ کمیٹی کے سربراہ
Guohua Chen
کا کہنا ہے کہ بنیادی طریقہ وہی علم ترکیب، حساب، الجبرا اور بائینری ہی ہے۔

مضمون نگار سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

sbatool This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 34 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter