ٹارگٹ، ٹارگٹ، ٹارگٹ

Published in Hilal Urdu

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

آخری قسط

غلطی پہ غلطی
چٹھیاں اور سندیسے کئی اقسام کے ہوا کرتے ہیں۔ محبوب کی چٹھی کے تصور سے ہی چراغ جل اُٹھتے ہیں جبکہ یاروں کے سندیسے خزاں کو بہار میں بدل دیتے ہیں۔ فوج کی دنیا میں البتہ 'محبت ناموں' کا تصور ذرا مختلف سا ہے۔ سرکاری ڈاک کا خاکی لفافہ ہمیشہ''جل تُو جلال تُو'' پڑھتے ہوئے ہی کھولنا پڑتا ہے کہ خدا جانے اس میں سے کون سا جن برآمد ہو جائے۔ کسی غلطی پر وارننگ ملنا تو معمول کی بات ہے لیکن بسا اوقات ناکردہ گناہوں کی سزا میں بھی خاکی پیرہن میں ملبوس محبت ناموں کا دیدار ہو جاتا ہے۔ فوج میں سکھایا جاتا ہے کہ سخت سے سخت بات بھی نرم الفاظ میں بیان کی جائے اور اس مقصد کے لئے
kindly, excuse me request, please ,
اور اسی قبیل کے دیگر الفاظ کا وافر استعمال کیا جاتا ہے یعنی بالفرض اگر کسی سے باز پرس کرنا مقصود ہے تو فقرہ کچھ یوں تراشا جائے گا۔
You are requested to explain the reason of this omission, please.
اب بھلا اس سادگی اور پُرکاری پر کس کا دل مرنے کو نہ چاہے گا۔
پہلے پہل کوئی
explanation
ملتی تو ہم اپنے تئیں اس کا مفصل جواب دیا کرتے جسے چوری اور سینہ زوری کے مترادف گردانا جاتا اور معاملہ مزید بگڑ جاتا۔ جب لاتعداد خاکی لفافوں کے الٹے سیدھے جواب تحریر کر کر کے ہم اپنی نوکری کافی حد تک خراب کروا چکے تو ہمیں ایک بزرگ نے ہر قسم کی سرکاری باز پرس کے اس یک سطری شافی اور کافی جواب سے روشناس کروایا۔
Omission is highly regretted and will not be
repeated in future.
مطلب یہ کہ میں اس غلطی پر از حد نادم ہوں اور آئندہ اسے نہیں دہرائوں گا۔ اگرچہ اس کے بدلے میں ہمیں ان بزرگوار کو

PC

میں لنچ کروانا پڑا تاہم ہماری نظر میں یہ سودا بالکل بھی مہنگا نہ تھا کیونکہ اس کے بعد ہم نے اس مجرب نسخے کو بارہا آزمایا اور ہمیشہ تیر بہدف پایا۔
انہی دنوں ہمیں یونٹ سے دس دن کی چھٹی پر اپنے گھر جانا پڑا اور چند خانگی معاملات کی وجہ سے چٹ منگنی پٹ بیاہ کی نوبت آ گئی۔ سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ ہم یونٹ میں اطلاع بھی نہ کر سکے۔ واپس لوٹے تو ڈرتے ہوئے ایڈجوٹینٹ کو اس ''ناگہانی حادثے'' کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے چھوٹتے ہی کال ملائی اور تمام معاملہ سی او کے گوش گزار کر دیا چنانچہ ہمیں فی الفور سی او آفس میں طلب کر لیا گیا ۔ ہم دفتر میں داخل ہوئے تو موصوف غصے سے بھرے بیٹھے تھے۔ بجائے مبارکباد دینے کے فرمانے لگے کہ قواعد کے مطابق شادی سے پہلے افسر کو یونٹ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس طرح سے اچانک شادی کر کے آپ ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں، جس کی مجھے ہرگز امید نہ تھی۔ ہم نے عرض گزاری کی کہ حضور موت اور شادی دونوں کا کچھ پتہ نہیں ہوتا، جانے کب اور کہاں پالا پڑ جائے، لیکن انہوں نے نہ ماننا تھا نہ مانے۔ بہرحال ہم نے ان کی ڈانٹ ڈپٹ سر جھکا کے سنی اور سلیوٹ مار کر آفس سے نکل آئے۔ یقین مانیں کہ ایسے کسی قاعدے ضابطے کے بارے میں ہمیں تو کیا ہمارے فرشتوں کو بھی چنداں خبر نہ تھی۔ ابھی کچھ ہی دور پہنچے تھے کہ اردلی ایک عدد خاکی لفافہ ہمارے ہاتھ میں تھما گیا۔ کھول کر پڑھا تو اس میں نہایت میٹھے انداز میں ہم سے شادی کرنے پر جواب طلبی کی گئی تھی۔ ہم نے بھی جھٹ سے اپنا آزمودہ فقرہ
Omission is highly regretted and will not be
repeated in future.
ٹائپ کیا اور دستخط کر کے جوابی خط سی او کے پاس روانہ کر دیا۔ ا س پر ہمارا وہ مذاق بنا کہ مت پوچھئے ۔ ہمیں تمام یونٹ افسروں کو اچھا سا ڈنر کروانا پڑا تب جا کر جان بخشی ہوئی۔ وہ لیٹر اور اس کا جواب اب یونٹ کے ریکارڈ کا حصہ ہیں اور ہر نئے لفٹین کو خصوصی طور پر پڑھائے جاتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کہ ہم جواب میں یہ نہیں تو اور کیا لکھتے؟


سلام
فوج کے نامہ بر حضرات کی بھی اپنی الگ ہی زبان ہوتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ دفتر پہنچ کر روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہیں کہ یکایک سی او کا اردلی نمودار ہو کر پیغام دیتا ہے ''سر! صاحب آپ کو یاد فرما رہے ہیں۔'' جی میں آتا ہے کہ اسے جواب دیں کہ ان سے کہیے کہ اللہ کو یاد کریں مگر چار و ناچار دل پر جبر کر کے درِ دولت پر حاضری دینا ہی پڑتی ہے۔

salam.jpg
ہم یونٹ میں نئے پوسٹ ہوئے تو ایک دن سی او کے اردلی نے ہمیں پیغام دیا کہ ''سر! سی او صاحب سلام کہہ رہے ہیں۔'' ہم نے بھی زور سے 'وعلیکم السلام' کہا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ ایڈجوٹینٹ کیپٹن ارسلان، دوڑتے ہوئے ہمارے پاس پہنچے اور کہنے لگے ''سی او وہاں دفتر میں انتظار کر رہے ہیں اور تم ادھر بیٹھے گپیں ہانک رہے ہو۔'' ہم نے معصوم سی صورت بنا کر کہا ''سر! ہمیں تو سی او کا کوئی پیغام نہیں ملا۔'' اس پر وہ مزید غصے سے گویا ہوئے ''تو کیا سی او کا اردلی تمہارے پاس پیغام لے کر نہیں آیا تھا؟۔'' ''جی وہ آیا تو تھا لیکن سلام کہہ کر لوٹ گیا'' ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا۔ یہ سنتے ہی انہوں نے اپنا سر پیٹ لیا اور زور سے چلائے ''مائی ڈئیر! سلام کہنے کا مطلب ہے کہ سی او تمہیں فوراً دفتر میں بلا رہے ہیں۔'' ہم نے عرض کی کہ یہی بات وہ آسان الفاظ میں بھی کہہ سکتا تھا تو فرمانے لگے ''فوج میں یہی دستور ہے کہ ہر بات سلیقے سے بیان کی جائے۔''

 


ڈاک ڈاک، کس کی ڈاک
یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ فوج میں ہر کام ایک ضابطے کے تحت کیا جاتا ہے۔ فوجی ڈاک مختلف ہیڈکوارٹروں سے ہوتی ہوئی سگنل سنٹر کی وساطت سے یونٹ تک پہنچتی ہے۔ بالا ہیڈکوارٹروں میں عموماً پالیسیاں اور ان سے متعلق ہدایات تشکیل دی جاتی ہیں جبکہ یونٹ کا کام ان احکامات پر عمل درآمد کرنا اور انہیں عملی جامہ پہنانا ہوتا ہے۔ ہماری یونٹ 137میڈیم رجمنٹ آرٹلری جب پشاور میں تعینات تھی تو ان دنوں وہاں ایک یونٹ 137 میڈیکل بٹالین بھی ہوا کرتی تھی۔ میڈیم اور میڈیکل کے لئے فوج میں ایک ہی مخفف یعنی

Med

استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ دونوں یونٹوں کی ڈاک اکثر آپس میں گڈ مڈ ہو جایا کرتی تھی۔ توپوں کی صفائی ستھرائی کے احکامات 137 میڈیکل بٹالین کو ملتے تھے اور ملیریا سے بچائو کی ہدایات ہم وصول کیا کرتے تھے۔

dakkiskidak.jpg
ایک مرتبہ ہم نے ایک کال ریسیو کی ۔آپریٹر نے بتایا کہ کمانڈر بات کریں گے۔ یہ سنتے ہی بے ساختہ بدن پر کپکپی طاری ہو گئی اور زبان پر ''جل تُو جلال تُو'' کا ورد جاری ہو گیا۔ ذرا دیر میں دوسری جانب سے ایک بھاری آواز سنائی دی۔ آپ 137 سے بول رہے ہیں؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا۔ یہ سنتے ہی موصوف غصے سے بولے، آپ کی یونٹ سے مجھے بہت شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ آپ ہیڈکوارٹر کی ہدایات پر ٹھیک سے عمل درآمد نہیں کرتے اور رپورٹس بھی وقت پر نہیں بھیجتے۔ آئندہ ایسا ہوا تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔ ہم بھی چپ چاپ ان کی ڈانٹ ڈپٹ سنتے رہے۔ آخر میں فرمانے لگے کہ ابھی چند دن پہلے ہم نے ملیریا اور ہیٹ سٹروک سے بچائو کے بارے میں ہدایات جاری کی تھیں اس کے باوجود بیماروں کی تعداد کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟ یہ سنتے ہی ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ ہم نے ڈرتے ہوئے عرض کی کہ سر! آپ ہم سے توپوں کے بجائے بیماروں کی دیکھ بھال کیوں کرانا چاہتے ہیں؟ یہ سن کر فرمانے لگے کیا یہ 137 نہیں ہے؟ ہم نے کہا سر ہے تو سہی لیکن میڈیکل نہیں میڈیم ہے۔ اس پر دوسری جانب سے ایک زوردار قہقہہ بلند ہوا اور فون رکھ دیا گیا۔


یونٹ کی کمانڈ کے دوران ہمیں ایک لیٹر موصول ہوا جس میں ہیلی کاپٹروں کو گرمی سے بچانے کی ہدایات درج تھیں اور تین دن کے بعد
Completion report
مانگی گئی تھی۔ یہ لیٹر جی ایچ کیو کے ایوی ایشن ڈائریکٹوریٹ سے جاری ہوا تھا اور مختلف ہیڈکوارٹروں کے چکر لگاتا ہوا آخر کار ہماری یونٹ میں پہنچ گیا۔ ہم ابھی سوچ میں تھے کہ آرٹلری ہیڈکوارٹر فون کر کے تفصیل دریافت کریں کہ ٹو آئی سی کے اس نوٹ پر نظر پڑی
Sir, medical officer should deliver a lecture to troops on the subject, please.
ہم نے انہیں بلا کر دریافت کیا کہ میڈیکل کا ہیلی کاپٹروں سے کیا تعلق ہے تو موصوف فرمانے لگے کہ سر اس کا تعلق ہیلی کاپٹر سے تو نہیں لیکن گرمی سے بچائو سے ضرور ہے۔ ہم نے ان کی بات کو ہنسی میں اڑا دیا۔ چند دنوں کے بعد ہمیں
completion report
نہ بھجوانے پر ہیڈکوارٹر کی جانب سے وارننگ موصول ہو گئی۔ چارو ناچار ہم نے ٹو آئی سی کی بات پر عمل کر کے رپورٹ اوپر بھجوائی تب کہیں جا کر ہماری جان بخشی ہوئی۔ جو ہوا سو ہوا لیکن اس کے بعد ہم نے کسی بھی قسم کے لیٹر پر
completion report
بھیجنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 

مکھّن
''مکھّن کہاں ہے؟''
''مکھّن ختم ۔ خلاص''
''سارا مکھّن کھالیا''
''نہیں سارا لگا دیا۔ یہ کھانے کی چیز تھوڑا ہی ہے۔ لگانے کی ہے ۔ جس کو لگائو پھسل پڑتاہے''
''جو پھسلے گا اُس کی ٹانگ ٹوٹے گی''
''یہ سوچنا اس کا کام ہے۔ ہمارا کام تو لگانا ہے''
ابنِ انشاء کی ''اُردو کی آخری کتاب'' سے اقتباس

*****

 
Read 216 times

1 comment

  • Comment Link Nauman Nauman 16 February 2018

    Salam
    Uncle ap bohat zabardast likhty hain.

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter