ڈاکٹر لُدمیلاوسیلیئوا

تحریر: کوکب علی

اُردو نے مجھے ڈھونڈا۔۔۔ مجھے پکارا اور پھر میں اُردو کی ہو کر رہ گئی

ماسکو یونیورسٹی میں اردو زبان کی استاد، مترجم، دانشور، فیض احمد فیض کی کولیگ اور حکومت پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز کی حامل مصنفہ سے کوکب علی کا ہلال کے لئے خصوصی مکالمہ

ہوا کے پردے میں کون ہے جو چراغ کی لو سے کھیلتا ہے ۔
کوئی تو ہو گا جو خلعتِ انتساب پہنا کے وقت کی رو سے کھیلتا ہے۔
کوئی تو ہو گا

drludmela.jpg
حجاب کو رمزِنُور کہتا ہے اور پَرتو سے کھیلتا ہے
کوئی تو ہو گا
کوئی نہیں ہے
کہیں نہیں ہے
میری فرمائش پرڈاکٹر لُدمیلا وسیلئیوا
(Ludmila Vassilyeva)
نہایت شستہ لہجے میں معروف شاعر افتخار عارف کی نظم بعنوان(مکالمہ) سناتے ہوئے گویا ہوئیں کہ یہ نظم ایک طرح کی حمد ہے جس کو خدا تعالیٰ کی تعریف کے طور پر لکھا گیا ہے ،یہ نظم افتخار عارف کی اس کتاب میں درج ہے جو لندن میں تحریر کی گئی جس کا نام مہرِ دو نیم ہے۔
یہ خوش یقینوں کے ، خوش گمانوں کے واہمے ہیں
جو ہر سوالی سے بیعتِ اعتبار لیتے ہیں
اس کو اندر سے مار دیتے ہیں
تو کون ہے وہ جو لوحِ آبِ رواں پہ سورج کو ثبت کرتا ہے
اور بادل اُچھالتا ہے
جو بادلوں کو سمندروں پر کشید کرتا ہے اور بطنِ صدف میں خورشید ڈھالتا ہے۔
وہ سنگ میں آگ ، آگ میں رنگ ، رنگ میں روشنی کے امکان
رکھنے والا
وہ خاک میں صوت، صوت میں حرف ، حرف میں زندگی کے سامان
رکھنے والا
نہیں کوئی ہے
کہیں کوئی ہے
کوئی تو ہو گا۔۔۔۔۔
ڈاکٹر لُدمیلا وسیلئیواکی آواز میں خدا کی عظمت کا اعتراف کرتا یہ مکالمہ اُس وقت مزید بھلا معلوم ہوا جب وہ ساتھ ساتھ اس کے مطلب و معنی سے بھی آگاہ کر رہی تھیں اور اس مکالمہ میں موجود دو ان دیکھی آ وازوں کا فرق بھی واضح کر رہی تھیں۔۔۔
23 مئی 1942ء کو روس (ماسکو ) میں پیدا ہونے والی قابلِ احترام ڈاکٹر لُدمیلا وسیلئیوا اُردو زبان و ادب کا ایک ایسا درخشاں ستارہ ہیں جن کی علمی قامت ہماری عقل و دانش کو خیرہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ آپ کی شخصیت علم و ادب کاایک ایسا وسیع سمندر ہے جس کے توسط سے بین الاقوامی سطح پر اُردو ادب کا دامن کچھ مزید وسیع دکھائی دیتا ہے۔ آپ کا بنیادی کام اُردو ادب کا مطالعہ کرنا، روسی زبان میں ترجمہ کرنا، کُتب لکھنا اور اس طرح اپنے ہم وطنوں کواُردو ادب اور برِصغیر کی تہذیب سے روشناس کروانا ہے۔
ڈاکٹر لُدمیلا وسیلئیوا نے خصوصاً روس اور دنیا کے ہر اس خطے میں جہاںتک اُن کی رسائی ممکن ہوئی اُردو ادب کی ترویج و ترقی میں نمایاں ترین کردار ادا کیا۔ اُردو زبان سے محبت اور اس کے فروغ میں آپ کا کردار اُردو زبان و ادب پر ایک قرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر2006 ء میں پاکستانی حکومت نے آپ کو ستارئہ امتیاز سے نوازا۔ آپ نے 1965 میں ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔
1987 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ الطاف حسین حالی آپ کے ڈاکٹورل تھیسس کا موضوع رہے۔آپ نے فیض احمد فیض کی زندگی اور ان کے علمی وادبی کارناموں پر''فیض،حیات اور تخلیقات'' کتاب روسی زبان میںتحریر کی جس کو ''پرورشِ لوح و قلم''کے عنوان سے اُردو میں ترجمہ کیا گیا اور اب تک اس کتاب کادوسرایڈیشن بِک چکا ہے۔آپ ماسکومیں سوویت یونین کے زمانے میں ریڈیو کی اُردو سروس سے بھی وابستہ رہیں۔ آپ کے ریڈیو پروگرام پاکستانی سامعین میں نہایت مقبول تھے۔ ڈاکٹر لُدمیلا کی شخصیت اور ان کے مزید علم وادب کی تفصیل خصوصی طور پر ہلال کے قارئین تک پہنچانے کے لئے ان سے انٹرویو کی درخواست کی گئی جس کو اُنہوں نے خوش دلی سے قبول کیا۔ جس کے لئے ہم ان کے مشکور ہیں ، ان سے ہونے والی گفتگو آپ سب کی نذر۔۔۔


سوال : آپ کتنے عرصے سے اُردو زبان سے وابستہ ہیں؟ اپنے ابتدائی رجحان کے بارے میں بتایئے ؟
ڈاکٹر لُدمیلا :زمانۂ طالبعلمی میں جب میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیاتو میرا بنیادی مضمون ہندی اور سنسکرت تھا۔جس کو میں نے پانچ سال تک پڑھا۔ پھر مجھے ہندوستان زبان کی مشق کے لئے جانے کا موقع ملا تو وہاںلکھنٔو یونیورسٹی میںمجھے اُردو نے ڈھونڈ لیا۔۔۔
مجھے پُکارا۔۔۔
اور پھر میں اُردو کی ہو کر رہ گئی ، اردو میری جان بن گئی۔
چونکہ میری ہندی کافی اچھی تھی، اس لئے میرا اہم مسئلہ اُردو رسم الخط سیکھنا اور اپنی ہندی لُغت میںفارسی اورعربی کے الفاظ کا اضافہ کرنا تھا، پھر اُردو شاعری پڑھی اور میں اس میں اس حدتک محو ہو گئی کہ جب میں یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تو میں اُردو زبان پر مکمل طور پر فدا ہو چکی تھی اور پھر میرے دل میں میری پہلی دو محبتوں نے جنم لیا اور وہ تھیں۔
غالب اور فیض
جو ہمیشہ میرے ساتھ ساتھ رہیں۔
سوال :ماسکو یونیورسٹی میں آجکل اپنی مصروفیات اور خدمات کے بارے میں بتایئے ؟
ڈاکٹر لُدمیلا: ماسکو یونیورسٹی میں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد سے ہی میں دو برس پہلے تک لیکچرر کی حیثیت سے اضافی طور پر اُردو ادب پڑھاتی تھی جو طابعلم ڈپلومہ حاصل کرتے تھے اُن کی سپر وائزر تھی۔ مگر دو برس قبل اس کام سے چھٹی لے کر یونیورسٹی میں ہی مطالعے اور پڑھنے لکھنے کے کام میں مصروف ہوں میں اور میرے کولیگ مل کر اپنے ملک میں ایک ''اُردو دنیا'' بنا چکے تھے، مگر سوویت یونین کی تقسیم کے بعد سب کچھ بکھر گیا۔ طالب علموں کی تعداد کم ہو گئی ، ساری دنیا مغرب کی جانب مڑگئی ، اس بات کا افسوس تو ہے مگر ساتھ ساتھ اُمید بھی ہے کہ سب کچھ دوبارہ سے ٹھیک ہو جائے گا، اس لئے آج کل میرا بنیادی کام مطالعہ کرنا ، اُردو ادب اور تہذیب کو روشناس کروانا ہے، اُردو شعرااور مصنفین کا روسی زبان میں ترجمہ کر کے کُتب لکھتی ہوں، ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک کتاب مکمل کی ہے، اس سال چھپے گی اور اس کا ممکنہ نام ''ادب اجنبی دیار میں'' ہو گا۔


میں سب کچھ روسی زبان میں کر رہی ہوں ہمیں اپنی شناخت قائم کرنے کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔میری خوش قسمتی ہے کہ فیض پر میری کتاب اُردو میں ترجمہ ہوئی، اب تک دوسرا ایڈیشن چھپ چکا ہے۔
حال ہی میں لندن میں سلیمہ ہاشمی سے ملاقات ہوئی (جو فیض احمد فیض کی بیٹی ہیں) لندن میں ہر سال فیض کے اعزاز میں فیسٹیول منعقد کیا جاتا ہے۔ اُن کی دعوت پر اس بار میں نے بھی شرکت کی، سلیمہ ہاشمی نے بتایا کہ فیض پر میری کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ بک گیا اور اب تیسر ے ایڈیشن کے لئے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے بات کر رکھی ہے، یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے ۔


سوال : ماسکو یونیورسٹی میں اُردو زبان کا شعبہ کب قائم ہوا ؟
ڈاکٹر لُدمیلا :روس میںاُردو زبان کی تعلیم کی ابتدا1895 میں ہوئی۔ اس کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ سلسلہ ٹوٹتا جڑتا رہا، عالمی جنگِ عظیم ہوئی، پھر روس میں انقلاب آگیا 1917 میں سلسلہ ٹوٹا پھر 1922 میں لینن کے فرمان کے مطابق روس میں مشرقی زبانوں کی تعلیم شروع ہوئی جن میں اُردو، عربی اور فارسی نمایاں تھیں۔ پھر دوسری عالمی جنگ ہوئی سلسلہ پھر ٹوٹ گیا، اس کے بعد 1951 سے ماسکو یونیورسٹی میں اُردو زبان کا شعبہ باقاعدہ چل رہا ہے۔ سوویت یونین کے زمانے سے ہی مشرقی ادب کی عوامی سطح پرمانگ تھی۔ روسی ادب میں ہمارے لوگ قصوں کہانیوں کے کردار خوشی اور امن ڈھونڈنے کے لئے برِصغیر کا رُخ کرتے تھے، ان کے خیال میں برِصغیر سونا اُگلنے والی اور معجزوں کی سرزمین تھی، مگر بعد میں یہ حقیقت ان پر کھلی کہ اصل خوشی تو صرف اپنے ملک میں ہے، روسی دانشوروں کی توجہ برِ صغیر کی تہذیب و ثقافت اور زبان و ادب پر رہی، سوویت زمانے میں روس اور پاکستان کے سیاسی سطح پر روابط زیادہ خوشگوار نہیں تھے مگر عوامی سطح پر فیض صاحب کو روسی لوگ پاکستانی عوام کا سفیرمانتے تھے۔ پاکستان سے آئے ہوئے لوگوں کو روس میں محبت و عزت سے نوازا جاتا تھا، فیض کی کتاب ''ماہ و سالِ آشنائی'' سوویت یونین کے بارے میں تاثرات تھے۔

ادب کا مقابلہ کرنا مناسب نہیں، معاشرے کا مقابلہ کریں، بے شک کچھ چیزوں میں مغربی معاشرہ بہتر ہے مگر کچھ چیزوں میں مشرق قابلِ قبول ہے، مشرق کی روحانی نوعیت تسلیم شدہ ہے، مشرق میں رُوح ابھی باقی ہے، رشتے اور خاندانی اقدار موجود ہیں مگر مغرب میں یہ سب ٹوٹ چکا ہے۔


سوال :آپ ماسکومیں ریڈیو سے وابستہ رہیں، اس بارے میں قارئین کو آگاہ کیجیے ؟
ڈاکٹر لُدمیلا :جی میں ریڈیو میںاُردو براڈ کاسٹر تھی، اُس زمانے میں ریڈیو پر مختلف پروگرام ہوتے تھے، جن میں خبریں، سماجی، ادبی اور اسی نوعیت کے لوگوں کی معلومات اور دلچسپی کے لئے دوسرے پروگرام پیش کئے جاتے تھے۔ پاکستان کے لئے نشر کئے جانے والے پروگراموں کا دورانیہ کُل تین گھنٹے ہوتا تھا۔ہر پروگرام وقفے وقفے سے54 منٹ کے لئے نشر کیا جاتاتھا اور اسی طرح ہندوستان کے لئے پیش کئے جانے والے پروگرام ڈیڑھ گھنٹے پر محیط ہوتے تھے، اکثر پروگرام فرمائشی خطوط پر دوبارہ چلائے جاتے تھے، میں زیادہ ترادبی پروگراموں کا انتخاب کیا کرتی تھی۔ روسی ادیبوں کی کہانیوں پر ہم ایک طرح کا ریڈیو تھیٹر پیش کیا کرتے تھے، ہم سب براڈ کاسٹر اپنی اپنی باری پر اپنا اپنا کردار نبھاتے تھے، اس پروگرام کو پاکستان میں بے حد پسند کیا جاتا تھا، مشتاق علی خان صاحب، اٹک سے ہمیں باقاعدہ خطوط لکھا کرتے تھے اور ہمارے پروگراموں پر تبصرہ کیا کرتے تھے۔ یوں سمجھئے کہ ریڈیو کی یہ اُردو سروس پاکستان اور روس کے درمیان دوستی کا ایک پُل تھا اور پھر پی ایچ ڈی کے بعد جب
academic field
میں کام شروع ہوا تو میں نے ریڈیو اور مطالعے میں سے مطالعے کا انتخاب کیا اور پھر ریڈیو پر صدا کاری کا یہ سفر اختتام پذیر ہوا۔


 سوال : اپنے انعامات اور اعزازات کی کچھ تفاصیل سے ہلال کے قارئین کو آگاہ کیجئے ؟
ڈاکٹر لُدمیلا: 2006 میں پاکستان سے مجھے ستارئہ امتیاز ملا، جس کے لئے میں پاکستانی حکومت اور دانشوروںکی مشکور ہوں جنہوں نے اس اعزاز کے لئے میرا نام چُنا۔ یہ انعام میرے دل کے بہت قریب ہے۔
2013 میں فیض گھر کی جانب سے مجھے فیض احمد فیض ایوارڈ سے نوازا گیا، جو مجھے بہت عزیز ہے ۔


ہمدرد یونیورسٹی کراچی سے بھی ایوارڈ ملا، اُس زمانے میں حکیم سعید صاحب سے ملاقات کا موقع نصیب ہوا۔اُن کی بیٹی سعدیہ راشدسے ایک عرصے سے میری اچھی دوستی ہے۔
امریکہ لاس اینجلس میں ''اُردو مرکز'' سے قاضی شفیع محمد فخر انٹر نیشنل ایوارڈ ملا، یہ ایوارڈ میرے لئے بہت غیر متوقع تھا جس کی مجھے بے حد خوشی ہے۔
لندن میں رائیٹرز یونین کی طرف سے علی سردار جعفری ایوارڈ ملا۔
ترکی میں استنبول یونیورسٹی کی جانب سے
Life Long Achievement Award
ملا۔
اُردو مرکزسکاٹ لینڈسے قیصر تمکین میموریل ایوارڈ ملا، اُن کے ہاں اُردو زبان کے غیر ملکی محققوں کے لئے قائم کئے گئے بین الاقوامی ایوارڈ کی کیٹیگری میں پہلی بار اس ایوارڈ سے مجھے نوازا گیا، جو میرے لئے باعثِ فخر ہے۔
دوہا، قطر سے گولڈ میڈل حاصل کرنے کا شرف ملا۔
سوال : اُردو ادب میں آپ کو کونسی صنف زیادہ پسند ہے ؟
داکٹر لُدمیلا : پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ غالب اور فیض کی شاعری میری پہلی محبت ہے، کلاسیکل غزل پسند ہے، اُردو غزل میری جان ہے۔جیسا کہ غالب کا ایک شعر ہے :
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
یعنی جب اچھے اُردو اشعار پڑھتی ہوں تومجھے لگتا ہے کہ یہ بھی میرے دل میں ہے ۔


 سوال : اُردو زبان و ادب میں کوئی ایسا کام جو آپ کے خیال میں اب تک نہیں ہوا اور اُسے ہونا چاہئے ؟
ڈاکٹر لُدمیلا : اُردو بذاتِ خود زبان اور ادب ایک ایسا کام ہے جس کے لئے یہی کہہ سکتی ہوں کہ
کارِ جہاں دراز ہے۔۔۔۔
خدا کرے عمر کچھ اور ملے اور میں یہی زبان و ادب کی خدمت انجام دیتی رہوں، دوسری اور تیسری زندگی بھی مل جائے تب بھی کافی نہ ہو گا، کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ادب کے رجحانات اور مسائل بدلتے رہتے ہیں، زاویہء نگاہ تبدیل ہوتا رہے گا اور ادب ترقی کرتا رہے گا۔ آپ خود دیکھ رہی ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ اُردو میں کتنی تبدیلیاں آرہی ہیں، یہ کسی بھی زبان کی ترقی کا ثبوت ہے ۔


سوال : آپ اُردو زبان کا کیا مستقبل دیکھتی ہیں ؟
ڈاکٹر لُدمیلا:اُردو زبان میں اگر ایسے ہی ترقی ہوتی رہی جیسے ہورہی ہے تو مستقبل روشن ہے، ایک جملہ جو ہم سب سنتے آرہے ہیں کہ اُردو کا زوال ہو رہا ہے، کہتے ہیں کہ ہو گا مگر شکر ہے کہ ابھی ہوا نہیں۔
فیض، اقبال، رابندر ناتھ ٹیگوریہ تین برِ صغیر کے بڑے نام ہیں جو عالمی سطح پر پہچانے گئے، اس کے علاوہ پروین شاکر، احمد فراز، انتظار حسین، یہ سب نام اُردو کی اُٹھان ہیں، جب تک یہ نام رہیں گے تب تک اُردو باقی رہے گی۔
-9 سوال : کہتے ہیں کہ تحریر انسان کی اندرونی کیفیات کی عکاسی کرتی ہے، کیا آپ کی تحریریں بھی آپ کی کیفیات کی ترجمان ہیں ؟
ڈاکٹر لُدمیلا :جی بالکل ایسا ہوتا ہے مثال کے طور پر سوویت یونین کے زمانے میں میرا کام مواد (مینیو سکرپٹ) دینا ہوتا تھا اور کتاب چھپ جاتی تھی، پیسے کی بات زبان پر لاتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی جبکہ اب نئے لکھنے والے بات ہی پیسے سے شروع کرتے ہیں، اس کے علاوہ ہمارے زمانے میں کتاب میںنا مناسب بات کہنے کی پابندی تھی مگر اب ایسا کچھ نہیں، یہ چند باتیں ہیں جو تحریر پر بھی اثر ڈالتی ہیں۔


 سوال:آج کا زمانہ ذرائع ابلاغ کا ہے، فاصلے اور جدائیوں کے کٹھن مراحل
sms, email, skype
وغیرہ نے سمیٹ دئیے ہیں تو کیا آنے والے وقت کا شاعر اور ادیب ہجر اور فراق کے درد سے محروم رہے گا ؟ یا اس کی شدت برقرار رہے گی ؟
ڈاکٹر لُدمیلا: ہجر اور فراق کا اصل مدار غم و خوشی ہے ممکن ہے الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے اس کی نوعیت بدل جائے مگرانسانی،جذبات وہی رہیں گے شاعری ہو، نثر ہو یا تنقید۔ سب کچھ خونِ دل سے لکھا جاتا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔


 سوال : اُردو ادب کیا معاشرے میں سیاسی، سماجی اور معاشی تحریک کا باعث ہے ؟
ڈاکٹر لُدمیلا :یہ سب تب ہی ممکن ہے جب لوگ آئینہ میں اپنا عکس دیکھیں اور اپنا کردار بہتر بنائیں، مگر میں ادب کو اس کا باعث نہیں سمجھتی۔

drludmela1.jpg
 سوال : پاکستانی ادب میں بہترین روایات اور اقدار کے باوجود ہم اقوامِ مغرب سے پیچھے ہیں۔ آپ کے خیال میں کیا اُردو ادب ترقی پسند معاشرے کی تشکیل میں ناکام رہا ہے ؟
ڈاکٹر لُدمیلا:ادب کا مقابلہ کرنا مناسب نہیں، معاشرے کا مقابلہ کریں، بے شک کچھ چیزوں میں مغربی معاشرہ بہتر ہے مگر کچھ چیزوں میں مشرق قابلِ قبول ہے، مشرق کی روحانی نوعیت تسلیم شدہ ہے، مشرق میں رُوح ابھی باقی ہے، رشتے اور خاندانی اقدار موجود ہیں مگر مغرب میں یہ سب ٹوٹ چکا ہے۔


 سوال : آپ کے خیال میں اُردو ادب اتنا طاقتور ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کوئی کردار ادا کر سکے ؟
ڈاکٹر لُدمیلا؛ جی بالکل کر چکا ہے اور آگے بھی کرے گا، اقبال، فیض، فراز، پروین شاکر، انتظار حسین، قراہ العین حیدر، ساقی فاروقی، فہمیدہ ریاض، یہ سب جانے پہچانے نام ہیں۔


سوال : آپ نے ممتاز شاعر فیض احمد فیض کے ساتھ کام کیا، ان کی زندگی پر کتاب بھی لکھی، چند جملوں میں ہمارے قارئین کو ان کی شخصیت کے بارے میں بتائیں؟
ڈاکٹر لُدمیلا؛میں اُن خوش قسمت لوگوں میں سے ایک ہوں جن کو فیض کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا،17 سال تک ہماری ملاقات رہی، میں اُن کی ترجمان تھی، اُ ن کے لئے ترجمہ کیا کرتی تھی۔ روس نے فیض صاحب کو پلکوں پر بٹھایا، روس میں فیض کا بڑا نام تھا، وہ اُردو میں شعر پڑھتے تھے۔ میں جلدی سے روسی میں ترجمہ کر دیتی تھی۔ لطف دوبالا ہو جاتا تھا، ایک تو فیض کے افکار اور انداز اور اوپر سے وہ اتنے بڑے شاعر۔ گویا سونے پر سہاگا اور اُن کی شخصیت کے بارے میں تو ایک بڑے سے بڑا پروگرام بھی کم ہو گا۔میں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا اُن کی شاعری کی پرستش کرتی ہوں۔ اُن کے خاندان سے ابھی بھی مراسم ہیں اُن کی بیٹیاںسلیمہ اور منزہ میری سہیلیاں ہیں، کبھی کبھی فیض صاحب کی شریکِ حیات بھی اُن کے ہمراہ ہوتی تھیں۔ 

 

 سوال : کوئی پسندیدہ شعر سنائیں
ڈاکٹر لُدمیلا،:
رات یوں میرے دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحرائوں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
اور آخر میں ڈاکٹر لُدمیلا نے کہا کہ ویسے تو ہر ملک کی فوج اپنے وطن کی محافظ ہے، مگر پاک فوج کے لئے خصوصی طور پر اُن کی طرف سے بہترین تمنائیںاور پاکستانی عوام کے لئے امن اور خوشحالی کی دعائیں اور یوں اُن خوبصورت لمحوں کا اختتام ہواجو ڈاکٹر لُدمیلا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے، اُن کے ماضی کے پُررونق سفر اور حال کی اچھی باتوں کا عنوان بنے ۔

مضمون نگار مختلف اخبارات و رسائل کے لئے لکھتی ہیں۔۔ آپ ان دنوں یوکرائن میں مقیم ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 270 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter